توہین رسالت کا قانون اور سزا - حافظ محمد زبیر

بہت سے دوست توہین رسالت کے قانون اور اس کی سزا کے بارے سوال کرتے ہیں۔ یہاں تین سوال اہم ہیں۔ ایک یہ کہ دین اسلام میں اس شخص کی سزا کیا ہے کہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے؟ تو دین اسلام میں ایسے شخص کی سزا موت ہی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سزا اپنی زندگی میں خود نافذ کروائی ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذات کے دفاع کے لیے حساس تھے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ جس ذات سے دین صادر ہو رہا ہے، اس کے داغدار ہونے کا مطلب پورے دین کا داغدار ہو جانا ہے، اور یہی تو وجہ ہے کہ مشرکین مکہ دین اسلام کو کرپٹ دین ثابت کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر طعن کرتے تھے کہ آپ شاعر ہیں، مجنون ہیں وغیرہ وغیرہ

البتہ یہ بات درست ہے کہ جب تک قوت اور اقتدار نہیں تھا تو یہ سزا نافذ نہیں کی گئی یعنی مکہ میں اور وہاں صبر کا رویہ اختیار کرنے کے عمومی حکم پر عمل کیا جاتا رہا البتہ جب قوت اور اقتدار حاصل ہوگیا تو پھر مدینہ میں جا کر اس سزا کا نفاذ ہوا۔ دوسری بات یہ کہ ائمہ میں اس بات میں اختلاف ہے کہ توہین رسالت کی یہ سزا حد ہے یا تعزیر۔ تو امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل اور ان کے متبعین اور حنفیہ کی ایک جماعت کے نزدیک یہ حد ہے جبکہ بعض حنفی فقہاء کے نزدیک یہ تعزیر ہے لیکن یہ لفظی اختلاف ہے۔ حد کا مطلب ہے کہ توہین کے مرتکب کا قتل شرعا جائز ہے اور تعزیز کا مطلب ہے کہ اس کا قتل سیاستا اور مصلحتا جائز ہے۔ پہلے کمنٹ میں ہم ایک مضمون کا لنک شیئر کر رہے ہیں کہ جس میں ایسے واقعات کا تذکرہ ہے کہ جن میں توہین کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے موت کی سزا کا تذکرہ ہے۔

دوسرا یہ کہ پاکستان میں توہین رسالت کی سزا موت کا جو قانون [Whoever by words, either spoken or written, or by visible representation or by any imputation, innuendo, or insinuation, directly or indirectly, defiles the sacred name of the Holy Prophet Muhammad (peace be upon him) shall be punished with death, or imprisonment for life, and shall also be liable to fine [295 C]] نافذ ہے تو وہ نہ صرف اسلام بلکہ جمہوریت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ اور اگر اسلام میں یہ سزا نہ بھی ہوتی تو بھی دین جمہور کے تحت اس قانون کا بنایا جانا اور اس کا نفاذ عین عقلی اور منطقی قرار پاتا۔ پاکستان میں مسلمانوں کی تعداد 96 فی صد ہے اور سروے یہ بتلاتے ہیں کہ پاکستانی شہریوں کی اکثریت نہ صرف اس قانون کے حق میں ہے بلکہ اس کی پرجوش حامی ہے کیونکہ وہ توہین رسالت کو اپنے خلاف جرم (offense) سمجھتے ہیں تو توہین رسالت ایک شخص کے خلاف نہیں بلکہ پوری قوم کے خلاف جرم ہے اور فساد فی الارض کی بنیاد ہے۔ یعنی اس سے نہ صرف قوم کے جذبات مجروح ہوتے ہیں بلکہ اس قدر مجروح ہوتے ہیں کہ زمین میں فساد برپا ہو جاتا ہے لہذا اس کی یہ سزا سو فی صد شرع اور عقل کے مطابق ہے۔

اب رہی یہ بات کہ اس قانون کا غلط استعمال ہوتا ہے تو اس کا حل یہ نہیں ہے کہ جس قانون کا غلط استعمال ہو تو وہ قانون ہی ختم کر دیں بلکہ اس کا حل یہی ہے کہ اس کا غلط استعمال روکیں اور اس کے لیے مزید قانون سازی کریں۔ اب یہاں تیسرا سوال یہ ہے کہ کیا فرد کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ توہین رسالت کی سزا نافذ کرے؟ تو اس کا جواب یہی ہے کہ یہ حق ریاست ہی کا ہے کہ وہ یہ سزا نافذ کرے لیکن ریاست ایک طرف تو مذہبی انتہا پسندی کے خلاف ایکشن میں اپنی آخری حد تک چلی جاتی ہے اور دوسری طرف لبرل انتہا پسندی اور فساد فی الارض میں ہلنے کو تیار نہیں ہوتی تو لوگ قانون ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔ اب یہاں مسئلے کا حل یہ نہیں ہے کہ ریاست مولویوں کی منتیں کریں کہ عوام کو سمجھائیں۔ بھئی، مولوی تو عوام کو کب سے سمجھا رہے ہیں کہ چوری ڈکیتی جائز نہیں لیکن پھر بھی ہو رہی ہے اور خوب ہو رہی ہے۔

مسئلے کا اگر سنجیدہ حل چاہیے تو توہین رسالت کے قانون کو اسی طرح موثر کریں جیسے نیشنل ایکشن پلان کو مؤثر کیا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینے والے، خدا کا مذاق اڑانے والے اور مذہب کی توہین کرنے والے کو ریاستی سطح پر دہشت گرد ڈیکلیئر کریں اور اسے اسی طرح عقوبت خانوں میں رکھیں جیسے مذہبی انتہا پسندوں کو رکھا جاتا ہے تو نہ توہین ہو گی اور نہ ہی فساد برپا ہو گا۔ یہ توہین کرنے والے بہت خبیث اور کمینے ہیں، اب معاملہ یہ نہیں ہے کہ کسی کی زبان سے غلطی سے کوئی لفظ نکل گیا تو آپ کہیں کہ چھوڑو معاملہ رفع دفع کرو۔ اب تو یہاں سوشل میڈیا پر ہی ان کا انداز دیکھ لیں کہ صرف توہین نہیں کرتے بلکہ بار بار کرتے ہیں اور مجمعے کو اکساتے ہیں، توہین کرنے کے بعد مذہبی دوستوں سے پوچھتے ہیں کہ کتنی مرچیں لگیں؟ تو ایسے فسادیوں کو کھلی چھوٹ دینا معاشرے کو تباہی کی طرف دھکیلنا ہے۔

بعض دوستوں نے یہ سوال کیا ہے کہ اگر کوئی توہین رسالت کے مرتکب کو قتل کر دیتا ہے تو اس کی کیا سزا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کا کیس عدالت میں جائے گا اور اگر عدالت یہ فیصلہ سنائے کہ مقتول نے گالی دی تھی تو مقتول کا خون رائیگاں ہے اور قاتل کو قانون ہاتھ میں لینے کی کوئی تعزیری سزا مثلا قید یا جرمانہ کیا جائے۔ اور اگر عدالت یہ فیصلہ کرے کہ مقتول نے توہین نہیں کی تھی تو پھر قاتل سے قصاص لیا جائے اور سرعام لیا جائے۔

Comments

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر نے پنجاب یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ کامسیٹس میں اسسٹنٹ پروفیسر اور مجلس تحقیق اسلامی میں ریسرچ فیلو ہیں۔ متعدد کتب کے مصنف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.