ازدواجی زندگی کی کامیابی کے راز - عادل سہیل ظفر

ازدواجی یعنی شادی شدہ زندگی کی کامیابی کے راز میاں بیوی کے ایک دُوسرے کے احساسات کو ذہانت کے ساتھ سمجھ کر اُن کے مُطابق ایک دُوسرے کے ساتھ پیش آنے میں پوشیدہ ہیں۔ اِنسانی زندگی کے کسی بھی اور پہلو کی طرح اِنسانوں کے مابین ہونے والے اِختلافات کی طرح میاں بیوی کے تعلقات میں بھی کہیں نہ کہیں اِختلاف کا ہونا عین فطری سی بات ہے، لیکن ذہین اور سمجھ دار میاں بیوی وہ ہوتے ہیں جو اپنے درمیان موجود اِختلافات کو سمجھ لیں اور اُنہیں اِس طرح ختم کریں یا اِس طرح ایک دُوسرے کو سمجھا لیں کہ اُن کی ازدواجی زندگی میں اِن اِختلافات کا کوئی منفی اثر مرتب نہ ہونے پائے۔

لیکن، ہم اپنی معاشرتی زندگی میں دو قِسم کے جوڑے پاتے ہیں، ایک تو وہ جو اپنے اِختلافات کو غلط طور پر ختم کرنے والے طریقے اپناتے ہیں،

اور، دُوسرے وہ جو اپنے اِختلافات کو ختم کرنے کے لیے اچھے اور دُرُست طریقے اپناتے ہیں۔ اور ہر کوئی اپنے اپنائے ہوئے طریقے کے مُطابق نتیجہ پاتا ہے۔ اِن شاء اللہ، ہم یہاں اِس مضمون میں اُن غلط طریقوں کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔

غلط طریقے

عام طور پر میاں بیوی اپنے اپنے احساسات اور جذبات کے اِظہار کے لیے تین ایسے طریقے اپناتے ہیں جو اُن کے درمیان پائے جانے والے اِختلافات کو ختم کرنے کی بجائے مزید ہوا دیتے ہیں، اور کبھی تو اُن کی ازدواجی زندگی کے خاتمے کا سبب بن جاتے ہیں اور کبھی اُن کی ازدواجی زندگی کو مسلسل عذاب بنائے رکھتے ہیں، دونوں ہی صورتوں میں نُقصانات صِرف اُن دونوں یعنی میاں بیوی کی زندگیوں تک ہی محدود نہیں رہتے بلکہ کم از کم ایک پورے خاندان کو اپنی لپیٹ میں لیتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ وہ تین غلط طریقے کون سے ہیں:

(1) کسی غلط کام کو غلط کہنے کی بجائے کام کرنے والے کی شخصیت پر حملہ آور ہونا

ہم میں سے کوئی بھی یہ پسند نہیں کرتا کہ اُس کی ذات کو عیب دار کہا جائے خواہ واقعتاً وہ غلطی پر ہی ہو۔ یہ ایک فِطری عمل ہے کہ جب کسی شخص کی ذات کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو اُس کے اندر منفی جذبات متحرک ہو جاتے ہیں اور اُس شخص کے خلاف متحرک ہوتے ہیں جو اُس کی ذات کو تنقید کا نشانہ بنا رہا ہو، اور عموماً وہ، جسے نشانہ بنایا جاتا ہے اپنے مقابل کی ذات پربالکل اُسی طرح بلکہ اُس سے بھی زیادہ شدت سے حملہ آور ہونا چاہتا ہے، اور جہاں جب جیسا موقع ملے وہ اپنی یہ خواہش پوری کرتا ہے۔

مثلاً اگر کوئی بیوی اپنے خاوند سے یہ کہے کہ "تُم لا پرواہ ہو، کبھی اپنے بچوں کو سیر وغیرہ کروانے کے لیے باہر لے جانے کی سوچتے ہی نہیں”تو اُس بیوی کو ننانوے فیصد یہ اُمید نہیں رکھنی چاہیے کہ اُس کا خاوند اُس کی یہ بات مان لے گا اور اُسے کہنے گا کہ "چلو بیگم بچوں کو تیار کرو میں تُم لوگوں کو سیر کروا لاؤں”اور پھر اُسے اور بچوں کو سیر سپاٹے کے لیے لے جائے گا یا مُستقبل میں اِس بات کا خیال رکھنے لگے گا۔

بلکہ خاوند اُس بیوی سے بڑھ کرسخت اور ترش طور پر ذاتی شخصیت پر حملہ آور ہوتا ہوا جواب دے گا کہ "تُم ہو ہی کم عقل اور نا شُکری، تُم میری اُس محنت کو جو میں تمہاری اور بچوں کی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے کرتا ہوں، اُس محنت کو سمجھتی نہیں یا اُس کی قدر نہیں کرتی”اور یُوں بات بننے کی بجائے بگڑ جائے گی، اور اِختلاف دُور ہونے کی بجائے مزید بڑھ جائے گا۔

بیوی کے اِس غلط رویے کا نتیجہ صرف میاں بیوی کی حد تک ہی نہیں رہے گا بلکہ اولاد بھی اپنی ماں کی اِس طرح کی باتیں سُن کر اپنے ہی باپ کو بُرا جاننےلگے گی، اور باپ اُن کے لیے کچھ پسندیدہ شخصیت نہ رہے گا۔ جواباً خاوند کی تُرش گوئی کا نتیجہ بھی کچھ اِسی قسم کا رہے گا اور غیر محسوس طور پر یہ خاندان گروہ بندی کا شکار ہو جائے گا، کہ اولاد میں کچھ ماں کے حق میں ہوں گے اور کچھ باپ کے، یا سب ہی دونوں سے بیزار ہوں گے۔

اب اِسی مسئلے کو دُوسری طرح سے حل کرنے کی کوشش کی مثال دیکھیے:

اگر بیوی اپنے خاوند سے یہی بات کچھ اس طرح کہے کہ "میں اور بچے آپ کے ساتھ باہر جانا پسند کرتے ہیں "اور صِرف بات ہی نرم نہ ہو بلکہ بات کرنے کا انداز بھی نرمی والا ہو، تو اِن شاء اللہ خاوند اِس خوبصورت انداز شکایت پر شرمندہ ہوگا اور اسے اپنی غلطی کا، اپنی طرف سے واقع ہونے والی کوتاہی کا، یا بیوی بچوں کی پریشانی کا کچھ احساس تو ہو گا، اور وہ اپنی اس غلطی یا اپنی طرف سے واقع ہونے والی کوتاہی کی درستگی کی کوشش کرے گا۔ اپنے وقت میں سے کچھ وقت بیوی بچوں کی تفریح کے لیے بھی نکالنے لگے گا۔ اس طرح میاں بیوی کے درمیان پائی جانے والی ایک مشکل کا خاتمہ ہو جائے گا اورکوئی نئی بدمزگی پیدا نہ ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں:   میاں بیوی کا باہمی تعلق اور سوشل میڈیا - عائشہ جدون

لہٰذا میاں بیوی کو ایسے کسی بھی انداز، طریقے، اور کوشش سے مکمل گریز کرنا چاہیے جو براہ راست، یا بالواسطہ دُوسرے کی شخصیت اور ذات پر اِلزام کی صُورت میں ہو۔ صِرف کیے جانے والے غلط کام کو غلط کہا جائے اور وہ بھی ادب اور مُحبت کو ملحوظءِ خاطر رکھتے ہوئے، نہ کہ کام کرنے والے کو غلط کہا جائے۔

(2) اپنے دفاع کی بے جاکوشش کرنا

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان ہونے والی شکایات کی صورت میں ہر ایک خود کو ہی بے قصور ثابت کرنے کی کوشش میں کچھ اِس طرح اپنا دفاع کرتا ہے جو مزید مُشکلات کو جنم دیتا ہے، اِس بات کو سمجھنے کے لیے ہم اوپر بیان کی گئی مثال والے معاملے کو ہی لے کر آگے چلتے ہیں، میاں بیوی میں کچھ اِس طرح کی گفتگو ہوتی ہے :

بیوی : ایک مدت سے آپ ہمارے ساتھ باہر نہیں گئے۔

خاوند : کیا تُم دیکھتی نہیں ہو کہ میں کس قدر مشغول رہتا ہوں، اور کسی غلط یا وقت ضائع کرنے والے کام میں مشغول نہیں ہوتا۔

بیوی : مشغول، مشغول، مشغول، آپ ہر وقت مشغول ہی رہتے ہیں، گویا کہ میں اور بچے تو آپ کی زندگی میں موجود ہی نہیں۔

خاوند : تُم بات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتی یا سمجھ کر بھی انجان بنتی ہو، میری مجبوری کیا تُمہیں دِکھائی نہیں دیتی ؟

اِس قسم کی گفتگو جس میں میاں بیوی دونوں ہی اپنی اپنی جگہ پر اپنا دفاع کرتے ہوئے خود کو بے قصور ثابت کرنا چاہیں۔ باوجود اِس کے کِسی وقت یہ کوشش صحیح اور سچ بھی ہوتی ہے پھر بھی یہ رویہ دُوسرے ساتھی کے دِل میں یہ احساس پیدا کرتا ہے، یا اُبھارتا ہے کہ میرا ساتھی ہمیشہ خود کو ہی دُرُست ثابت کرنے کی کوشش میں رہتا ہے اور اپنی غلطی کوتسلیم کرنےکی طرف یا خاموشی سے ہی سہی اِس کی درستگی کی طرف نہیں آتا۔

جب کہ ایسی شکایت کی صُورت میں ہونا یہ چاہیے کہ خاوند اپنی صفائی پیش کرنے کی بجائے، اپنا دفاع کرنے کی بجائے اپنی شریک ء حیات اور اپنے بچوں کے جذبات کا احساس کرے اور اچھے طریقے سے اور سچی نیت سے اُن کی دُرُست اور جائز شکایت کو دُور کرنے کا وعدہ کرے اور اُس کی عملی طور پر کوشش بھی کرے۔

اِسی طرح اگرخاوند کو بیوی سے کوئی ایسی شکایت ہو جائے تو بیوی کو بھی خوامخواہ کی صفائیاں پیش کرنے کی بجائے خاوند کی ضروریات اور جذبات کا لحاظ رکھتے ہوئےایسی ہی بات اورکوشش کرنا چاہیے جو اُس کی اپنی صفائی اور دفاع کی اورخود کو دُرُست ثابت کرنے کی کوشش نہ ہو بلکہ خود کو دُرُست کرنے کی کوشش ہو۔

(3) دُوسرے ساتھی کی بات بے پروائی سے سُننا

کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ میاں بیوی ایک دُوسرے کی شکایت یا ترش روئی پر خاموش رہتے ہیں لیکن وہ خاموشی کسی مثبت جذبے کی آئینہ دار نہیں ہوتی بلکہ وہ دُوسرے کو یہ باور کرواتی ہے کہ “مجھے تُمہاری اور تُمہاری کسی بات کی کوئی پرواہ نہیں لہذا مجھ پر اس کا کوئی اثر ہونے والا نہیں۔ یہ رویہ اکثر اوقات جواب دینے سے زیادہ خطرناک نتائج کا سبب بنتا ہے،

مثال کے طور ایک بیوی خاوند سے بالکل ٹھیک اور جائز شکایت کرتی ہے اور بار ہا کرتی ہے اور کسی بدتمیزی اور بدتہذیبی کے بغیر کرتی ہے، لیکن خاوند اُس کو لا پرواہی والاخاموش جواب دیے جاتا ہے، یا اِسی قِسم کا معاملہ بیوی کی طرف سے خاوند کے ساتھ پیش آتا ہے تو ایک وقت ایسا آتا ہے کہ شکایت کرنے والا ساتھی، اپنے دُوسرے ساتھی کے بارے میں اِس منفی احساس کا شکار ہو جاتا ہے کہ اِس کے ساتھ بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، اِسے میری پرواہ نہیں پس مجھے بھی اِس کی فکر میں نہیں رہنا چاہیے، اور دونوں کے دِلوں کی راہ الگ الگ ہو جاتی ہے جس کا عمومی نتیجہ زندگی کی راہیں بھی الگ ہوجانے کی صورت میں نکلتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   میاں بیوی کا باہمی تعلق اور سوشل میڈیا - عائشہ جدون

(4) دُوسرے ساتھی کے ساتھ سرد مہری اور جمود کے ساتھ پیش آنا

یہ انداز لاپرواہی کے مُظاہرے سے اگلا مرحلہ ہوتا ہے۔ اِس میں کوئی ایک کسی دُوسرے کے ساتھ کسی قِسم کی کوئی تلخ کلامی بھی نہیں کرتا، بظاہر کوئی جھگڑا نہیں ہوتا، کوئی لڑائی نہیں ہوتی، لیکن میاں بیوی کا رشتہ کچھ اِس طرح سے نبھایا جا رہا ہوتا ہے گویا کہ وہ ایک گھر میں رہنے والے میاں بیوی نہیں بلکہ کسی دفتر میں کام کرنے والے ساتھی ہیں جنہوں نے چند کاموں کو مل جل کر کرنا ہے، یا کسی ہوٹل میں رہنے والے دو پڑوسی ہیں جنہیں اپنی مشترکہ ذمہ داریاں پوری کرنے کے بعد کچھ وقت اُس ہوٹل میں ایک دُوسرے کے سامنے گذارنا ہوتا ہے اور بس۔

بظاہر نظر آنے والا یہ پر سکون ماحول در حقیقت پہلے بیان کیے گئے تین غلط طریقوں کا خاموش شور ہوتا ہے جسے صِرف وہ میاں بیوی ہی سن رہے ہوتے ہیں، اور اِس خاموش شور کی بنا پر اُن کے درمیان نظر آنے والا یہ سکون ایک سرد جنگ ہوتی ہے جواُن کے اندر ایک ایسا آتش فِشاں تیار کر رہی ہوتی ہے جس کے اندر اُکتاہٹ اور نفرت کالاوا پکتا رہتا ہے اور جب یہ آتش فِشاں پھٹتا ہے، لاوا پھوٹتا ہے تو تقریباً نا ممکن ہی ہوتا ہے کہ جس گھر میں وہ نکلے اُس گھر کی گرہستی برقرار رہ جائے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو یہ معاملات سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائے، اور ہم یہ یاد رکھیں کہ اللہ تبارک و تعالٰی نے میاں بیوی کا رشتہ اس لیے بنایا ہے کہ وہ دونوں ایک دُوسرے میں سے سکون حاصل کریں "اور اللہ کی نشانیوں میں سے (یہ بھی ) ہے کہ اُس نے تُم لوگوں کو جوڑا جوڑا بنایا تا کہ تُم لوگ اُس (یعنی اپنے جوڑے کے ساتھی ) کی طرف سکون حاصل کرو اور اللہ نے تُم لوگوں کے (جوڑوں کے) درمیان مودت اور رحمت بنائی ہے بے شک اِس میں غور کرنے والے لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔" (سورت الروم /آیت 21) اور اللہ تعالیٰ کے اِس فرمان کی روشنی میں یہ بھی سمجھ سکیں ہمارے جوڑوں یعنی میاں بیوی کے درمیان مؤدت اور رحمت کو نفرت اور زحمت میں تبدیل کرنے والا کوئی بھی کام اللہ کے ہاں پسندیدہ نہیں۔ کیونکہ میاں بیوی کے درمیان اِختلاف پیدا کرنے والے کام، اور لوگ شیطان کو پسند ہوتے ہیں جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اس کی خبر دیتے ہوئے اِرشاد فرمایا : "ابلیس (شیطان)اپنا تخت پانی کے اوپر رکھتا ہے اور پھر اپنے کارندے اِدھر اُدھر بھیجتا ہے جب وہ واپس آتے ہیں تو اُس کے قریبی ترین رتبے والا وہ ہوتا ہے جو سب سے زیادہ فتنہ پھیلا کر آئے، (جب )اُن میں سے کوئی ایک (واپس) آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے یہ یہ کام کیا تو ابلیس کہتا ہے تُم نے کچھ نہیں کِیا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا : "اس کے بعد ایک اور آتا ہے اور کہتا ہے میں نے اُس (آدمی) کو اُس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک اُس کے اور اُس کی بیوی کے درمیان جدائی نہیں کروادی ۔" پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا: "پس ابلیس اُسے(یعنی میاں بیوی میں جدائی کروانے والے کو)اپنے قریب کرتا ہے اور کہتاہے تُم سب سے بہتر ہو ۔"

أعمش رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ میرا خیال ہے کہ انہوں نے یعنی (ابی سفیان یا جابر نے) کہا: "تو وہ ابلیس اپنے اُس شیطان کو گلے لگا لیتا ہے۔" (صحیح مُسلم حدیث2813 /کتاب الصفۃ الجنۃو النار /باب 16)

اللہ تعالیٰ کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کےمذکورہ بالا فرمان کی روشنی میں ہمیں یہ خیال رکھنا چاہیے کہ میاں بیوی کا رشتہ ایک دُوسرے کے سکون کے لیے بنایا گیا ہے، اور ان میں تفرقہ ڈالنا ابلیس کا کام ہے پس ہم کسی ایسے کام کا نہ خود شکار ہوں نہ کسی اور کے لیے اُس کا سبب بنیں، اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کی ازدواجی زندگی اس کے دین دنیا اور آخرت کے لیے با برکت بنائے۔

Comments

عادل سہیل ظفر

عادل سہیل ظفر

عادِل سُہیل ظفر جیاد ، معاشی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے ملٹی فنگشن پراڈکٹس ٹیکنیشن کے طور پر ملازمت کرتے ہیں۔ اللہ عزّ و جلّ کا دِین ، اللہ ہی کے مُقرر کردہ منہج کے مُطابق سیکھنے اور جو کچھ سیکھا اُسے نشر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں