اے ترک حسیناؤ! رعایت اللہ فاروقی

کچھ دوست ترک لڑکیوں کی ٹائٹ جینز اور شرٹ والی تصاویر لگا کر پاکستانی اسلامسٹوں سے کہتے ہیں کہ اردگان کا اسلام تو یہ ہے۔ اس ”انکشاف“ کے ذریعے وہ درحقیقت اسلامسٹوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اردگان آپ کی حمایت کا اہل نہیں۔ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کمال اتاترک کی آمریت میں ”آزادی اظہار“ کی ماں، بہن اور بیٹی سب کا ریپ کردیا گیا تھا۔ ترکی میں اسلامی شناختوں کو مٹانے کی مہم اس منظم انداز سے چلائی گئی کہ رسم الخط تک کو نہ بخشا گیا۔ ملک کو ڈنڈے کے زور پر مکمل مغربی رنگ میں رنگ دیا گیا اور وہاں بھی شرم حیا کو طعنہ بنا کر ملک سے نکال دیا گیا۔ اس ماحول میں پیدا ہونے والی چوتھی نسل سے آپ کیا توقع رکھتے ہیں کہ عبایا اوڑھ کر ذکر و اذکار کرتی نظر آئے گی؟ اسے سرے سے اسلامی تعلیمات اور اسلامی تہذیب و تمدن کی خبر ہی نہیں ہے میرے عزیز!۔ اس ماحول کو تبدیل کرنے کے اب دو طریقے ہیں، ایک یہ کہ کمال اتاترک کی طرح اسے ڈنڈے کے زور پر بدلا جائے اور دوسرا یہ کہ اسے تعلیم و تربیت کے ذریعے ٹھیک کیا جائے۔ اردگان نے یہی دوسری راہ چنی ہے کیونکہ یہ فطرت کے اصولوں سے ہم آہنگ ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ترکوں کو قرآن مجید کی درست تلاوت سکھانے کے لیے کس بڑے پیمانے پر ترکی میں کام ہو رہا ہے؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ عرب و پاکستانی علماء کو مدعو کرکے ترکی میں بڑے پیمانے پر علمی مجالس کا انعقاد شروع ہو چکا ہے جن سے ترک علماء بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ کیا آپ نے کبھی انھی ٹائٹ جینز والی لڑکیوں کو حسن قرات کی مجالس میں اللہ کے کلام کی سماعت کے دوران روتے دیکھا ہے؟

یہ بھی پڑھیں:   بھٹ پئی شاہی - ابوبکرقدوسی

ان ٹائٹ جینز و شرٹ والی لڑکیوں کو اگر آپ نے جناح سپر والی لڑکیاں سمجھ رکھا ہے تو بہت بڑی غلط فہمی میں ہیں آپ، کیونکہ ان کی گاڑیوں کے ڈش بورڈ سے کنڈوم نہیں قرآن مجید کے نسخے برآمد ہوتے ہوں۔ ان کا دینی شوق و ذوق میری اور آپ کی عبایا پہننے والی بیٹی سے بدرجہا بڑھ کر ہے، بس انہیں ابھی وہ ملنے کا مرحلہ باقی ہے۔ ترک سوسائٹی کو بدلنے میں ابھی کم از کم بھی 30 سال اور لگیں گے لیکن بتدریج آنے والی یہ تبدیلی آپ دیکھ کر رہیں گے۔ آپ کہتے ہیں کہ اردگان کے دور میں ترک مساجد کے ساتھ شراب خانے بنے ہوئے ہیں۔ بالکل بنے ہوئے ہیں لیکن شراب خانے اردگان نے نہیں بنائے بلکہ اس سیکولزم نے بنائے ہیں جس کی عمارت پچھلے پندرہ سال سے ترکی میں گرائی جا رہی ہے۔ آپ آج شراب خانے بند کرائیں گے تو شراب کے نشے کی عادی ترک قوم کا نشہ توٹنے پر ردعمل کیا ہوگا؟ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے پنڈی میں گٹکا بند کرایا ہے تو میری حالت خراب ہو رہی ہے کیونکہ مجھے تو اس کی طلب ہوتی ہے، اب میں نے کراچی میں بھائی سے کہا ہے کہ فورا گٹکا بھیجیے میرے دماغ کی حالت خراب ہو رہی ہے اور سوچ یہ لیا ہے کہ آنے والے رمضان میں پان گٹکے کے نشے سے بتدریج جان چھڑا لی جائے۔ ترکی میں شراب خانے گرانا مسئلے کا حل نہ ہوگا، اگر اردگان یہ کرے گا بھی تو خود میں اس کی مخالفت کروں گا۔ مسئلے کا حل یہ ہے کہ تعلیم و تربیت کے ذریعے لوگوں کو شراب کے نشے سے نکلنے پر آمادہ کیا جائے اور جب یہ ہو جائے گا تو یہ شراب خانے خالی ہوتے چلے جائیں گے اور ان کے مالکان خود ہی انہیں بند کرتے چلے جائیں گے کیونکہ جس کاروبار میں نفع ہی نہ رہے، وہ بند ہوجاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   حضرت مولانا شیرانی اور اراکین کونسل کے عجیب بیانات - سید خالد جامعی

ترکی کے یہ شرابی اور جینز پہنی لڑکیاں مجھے بہت ہی عزیز ہیں کیونکہ یہ سیکولرزم کی اینٹ سے اینٹ بجا رہی ہیں اور جب یہ ایسا کرتی ہیں تو میرے دل سے ان کے لیے یہی آواز نکلتی ہے کہ اے ترک حسیناؤ ! کیا تم جانتی ہو؟ جب تم ٹائٹ جینز پہنے استبول کی سڑکوں پر نکل کر سیکولرزم کے خلاف نعرے کی عبادت ادا کرتی ہو تو میری رات کے پچھلے پہر کی نمازیں تم پر رشک کرتی ہیں!