بادشاہ اور درویش - پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

عزت شہرت اور اقتدار کا سورج جب بھی کسی مٹی کے بنے انسان پر طلوع ہو تا ہے تو مشتِ غبار حضرت انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ کر ہ ارض پر اس سے زیا دہ خو ش قسمت طاقتور اور عقل و شعور کا اور کوئی مالک نہیں ہے اور پھر اِس نشے میں غرق وہ ناکامی کمزوری یا شکست بھو ل جاتاہے لیکن جب قدرت ایسے انسان کو ٹھو کر لگا تی ہے اوقات یا د دلاتی ہے تو پھر یہ اقتدار کے 'کے ٹو' سے نیچے بھی اُترتا ہے اور دائیں بائیں بھی دیکھتا ہے ایسا ہی ایک کمزور لمحہ تاریخ انسانی کے عظیم فاتح سلطان محمود غزنوی پر بھی آیا۔ محمود غزنوی جو سمجھتا تھا کہ پوری کائنات اُسی کے دم سے دھڑکتی ہے اُس کی اپنی نبض ڈوبنا شروع ہو گئی اور پھر سلطا ن محمو د غزنوی جیسا عظیم پر جلال فاتح ایک خاک نشین درویش کے در پر سوالی بن کے کھڑا تھا۔

سلطان محمود ہندوستان پر کئی کامیاب حملے کر چکا تھا لیکن ایک شہر میں آکر فتح اُس سے روٹھ چکی تھی ناکامی بار بار اُس کامنہ چڑا رہی تھی کئی کوششوں کے با وجود سومنات کی بت شکنی کر نے میں ناکام رہا تھا۔ ناکامی کے بعد اُس نے امید بھری نظروں سے دائیں بائیں دیکھنا شروع کر دیا، سہا رے ڈھونڈنا شروع کر دیئے۔ مشکل کے اس وقت میں اسے ایک صاحب کرامت درویش کا پتہ چلا جس کی دعائیں با رگاہ الٰہی میں قبول ہو تی تھیں لیکن بادشاہ وہاں جانا تو ہین سمجھ رہا تھا اِس لیے اُس نے سوچا پہلے درویش کی ولا یت کو آزمایا جائے اگر وہ اس آزمائش کی کسو ٹی پر پورا اُتر ے تو پھر اُس سے مدد مانگی جائے اب سلطان نے اپنے خاص غلام ایاز کو بلایا اور کہا میں ایک صاحب کرامت بزرگ سے ملنا چاہتا ہوں، لوگوں کے بقول اُس کا دوسرا ثانی کر ہ ارض پر موجود نہیں ہے لیکن میں اُس سے ملاقات سے پہلے اُس کے روحانی کمالات اور مقام کا امتحان لینا چاہتا ہوں، اِس کے لیے تمام انتظامات تم کرو گے، یہ تمام خفیہ طور پر ہوں گے، خدام اور کنیزوں کو ساتھ لیا جائے گا، ہم اُس کی درگاہ سے کچھ دور قیام فرمائیں گے۔

ایاز نے سلطان کے حکم کی تعمیل شروع کر دی اب سلطان کنیزوں غلاموں اور ایاز کے ساتھ اُس درویش کی طرف روانہ ہوا اور قریب جاکر خیمے لگا دیے۔ خیمے لگ گئے تو سلطان نے درویش کی طرف اپنے چند آدمی روانہ کئے اور انہیں یہ پیغام بھجوایا ‘خدا کا فرمان ہے کہ اللہ کی اطاعت کرو اُس کے رسولوں کی اطاعت کرو اُس کے بعد حاکم وقت کی اطاعت کرو پھر میرا سلام دینا اور کہنا سلطان محمود غزنوی نے آپ کو یاد کیا ہے۔ درویش نے جب بادشاہ کا پیغام سنا تو ادائے بے نیازی سے فرمایا مجھے اللہ نے با دشاہ کی آمد کی اطلاع پہلے ہی دے دی ہے دوسری با ت اُس کے پیغام کی ہے تو میں اللہ کی اطاعت میں اس قدر گم ہوں کہ مجھے کسی اور کی اطاعت کا ہوش ہی نہیں ہے اِن حالات میں امیر کی اطاعت کی پرواہ بھی نہیں ہے اِس لیے بادشاہ کو ضرورت ہے تو وہ خود فرش نشین کے پاس آجائے۔ سلطان محمود غزنوی نے جب یہ پیغام سنا تو برملا پکار اُٹھا یہ واقعی کوئی صاحب کرامت کامل بزرگ ہیں۔ غلام ایاز نے ادب سے کہا شہنشاہ حضور میں تو پہلے ہی فکر مند تھا کہ کہیں یہ بزرگ آپ کے پاس آنے سے انکار ہی نہ کر دیں کیونکہ میرا دل گوا ہی دے رہا تھا کہ یہ کو ئی اللہ کے حقیقی بے نیاز بزرگ ہیں۔ ایاز کی بات سن کر محمود نے فیصلہ کیا کہ درویش وقت کی بارگا ہ میں بنفس نفیس جایا جائے۔ اب بادشاہ نے ایاز کو حکم دیا کہ میری جگہ وہ شاہی لباس پہن لے اور خود ایاز کا غلامانہ لباس محمود نے پہن لیا اور صحت مند کنیزوں کو مردانہ لباس پہنا دیا گیا اور سب کو حکم جاری کیا کہ وہ اپنی زبان بند رکھیں اور ایاز کو تاکید کی کہ وہ فقیر کے حضور بطور بادشاہ پیش ہوگا اور محمود بطور غلام پیش ہوگا۔ بادشاہ ابھی بھی بزرگ کی ولایت آزمانے کے چکر میں تھا اب جب ایاز اور محمود درویش کے دربار میں پہنچے تو ایاز نے بادشاہوں کی طرح سلام کیا۔ اب درویش نے ایاز کے سلام کا جواب تو دیا لیکن اصل توجہ محمود کو دی ایاز کو تو جہ نہ دی اور زیادہ گفتگو محمود سے کی ۔ آخر محمود نے کہا حضرت آپ ہمارے با دشاہ پر توجہ کیوں نہیں دے رہے تو درویش نے دھیمے و دلنشیں لہجے میں فرمایا میں تیرے بادشاہ سے نہیں تجھ سے با ت کرنا چاہتا ہوں۔ محمود نے حیرت سے پوچھا حضرت کیوں؟ تو درویش نے گہری نظروں اور تبسم بھرے لہجے میں کہا اِس لیے کہ تمہارا بادشاہ چند لمحوں کا ہے اور اُسے مجھ سے کچھ دریافت بھی نہیں کرنا لہٰذا میں اس سے بات کیا کروں۔ محمود حیرت سے بولا حضور میں آپ کی با ت سمجھا نہیں تو درویش کے لہجے میں اب ہلکا سا جلال آگیا اورکہا فریب کا جال تو بن سکتے ہو مگر میری آسان بات نہیں سمجھ سکتے، تم نے میرا امتحان لینے کے لیے اپنے غلام کو شاہی لباس پہنا کر بادشاہ بنایا ہوا ہے تا کہ تم مجھے اپنے سامنے شرمندہ کرسکے، لیکن یہ تمہاری حما قت ہے تو ایسے ہزاروں شاطرانہ جال بن لے میرا خدا مجھے سرخرو ہی کر ے گا۔ بادشاہ اپنے ہی عرق ندامت میں ڈوب گیا اور شرمندہ معذرت خواہانہ لہجے میں بولا میں نے جال ضرور بچھا یا مگر آپ جیسا شہباز میرے جال میں نہیں پھنس سکا۔ پھر درویش نے پر جلال آواز میں کہا اِ ن غیر محرم عورتوں کو با ہر نکال دو تا کہ تمہارے ساتھ کوئی بات کی جا سکے۔ محمو د نے شرمندہ ہو کر کنیزوں کو با ہر بھیج دیا تو درویش نے دعا دی اور کہا خدا تمہا ری عاقبت سنوار دے۔ محمود نے آپ کی خدمت میں اشرفیوں کی بوری پیش کی تو فقیر نے کہا پہلے تم میر ی یہ خشک روٹی کھاؤ۔ بادشاہ نے روٹی منہ میں ڈالی مگر کوشش کے با وجود اُسے نگل نہ سکا معذرت کی کہ روٹی مجھ سے نگلی نہیں جا رہی۔ اب درویش نے فرمایا جس طرح میری خشک روٹی تم نہیں نگل سکتے۔ اِسی طرح تمہا ری اشرفیاں میرے حلق میں پھنس جائیں گی لہٰذا اِن کو واپس لے جاؤ۔ با دشاہ نے کہیں زیادہ منت سماجت کی لیکن بے نیاز درویش نے انکار کیا پھر با دشاہ نے دعا کی درخواست کی کہ دعا کر یں خدا مجھے سومنات کا قلعہ فتح کرنا نصیب کر ے۔ درویش با کمال نے دعا فرمائی اور اپنا پیراہن با دشاہ کو دیا اور پر جلال لہجے میں کہا اب جب تم حملے کی غرض سے ہندوستان جاؤ تو نماز کے بعد میرا یہ پیراہن ہاتھ میں پکڑ کر خدا کی با رگاہ میں دعا کر نا خالق کائنات تمہیں عظیم الشان فتح سے ہمکنار کر ے گا اور پھر ایسا ہی ہوا محمود ہندوستان گیا تو درویش خدا کے پیراہن کی بدولت فاتح سومنات بن کر لوٹا اور آنے کے فورا بعد درویش کی برگاہ میں حاضر ہو کر شکریہ ادا کیا۔ بہت سارے تحائف اور اشرفیاں پیش کیں اور درخواست کی کہ کو ئی حکم ہو تو میں بجا لانے میں خو شی محسوس کروں گا۔ سلطان نے فقیر کی خانقاہ کی بہت زیا دہ تعریف کی تو بے نیاز فقیر نے فرمایا محمود تم اتنی وسیع و عریض سلطنت کے اکلوتے وارث ہو دنیا جہاں کی نعمتیں تمہارے قدموں میں ڈھیر ہو چکی ہیں اِس کے باوجود تمہا ری ہوس کم نہیں ہو رہی وسیع و عریض سلطنت کے ہوتے ہو ئے تم پھر بھی درویش کی جھونپڑی پر نظر رکھتے ہو با دشاہ شرمندہ ہوا اور رخصت ہونے لگا تو درویش اُس کے احترام میں کھڑے ہو گئے۔ محمود بو لا حضرت جب میں پہلے حاضر ہوا تو آپ نے یہ عزت مجھے بالکل بھی نہیں دی اب کیا وجہ ہے تو آپ نے فرمایا پہلے تمہا رے ساتھ شاہی غروراور جلال تھا اور تم میرا امتحان لینے آئے تھے جبکہ اِس بار تمہارا ظاہر و باطن عاجزی انکساری سے بھرا ہوا ہے اِس لیے اب تمہا ری تعظیم لازم ہو گئی ہے۔ بادشاہ سلطان محمود غزنوی جس درویش کے در پر دامن مراد پھیلا ئے حاضر ہوا وہ اپنے وقت کے مشہور و معروف حضرت صاحب ولایت کرامت بزرگ حضرت ابو الحسن خرقانی ؒ تھے جو روحانی فیض کے لیے حضرت با یزید بسطامی ؒ کے مزار پر سالوں سال حاضر ہو تے رہے اُن سے آپ کا خصوصی روحانی تعلق تھا۔