متبادل بیانیہ، خلافت اور دہشت گردی - سید معظم معین

پاکستان کے معتدل اسلام پسند حلقے جس اسلامی ریاست یا حکومت کی بات کرتے ہیں وہ نہ تو تھیاکریسی ہے جس کی مثال سولھویں صدی کی مغربی پاپائیت ہے اور نہ اکیسویں صدی میں داعش کی ظالمانہ سوچ و فکر اور نہ ہی وہ مغربی تہذیب و تمدن سے مرعوب غلامانہ رویے پر مشتمل ہے۔ ہمارے اصحاب متبادل بیانیہ اپنا بیانیہ بیان کرتے ہوئے ان سب چیزوں کو آپس میں الجھا کر قاری کو ذہنی دباؤ کا شکار کر کے اپنے مؤقف کی تائید پر مجبور کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو علم کے میدان میں کوئی قابل تعریف عمل نہیں۔ یہ سمجھنا اور اس پر کسی قابل عمل نتیجے پر پہنچنا نہایت ضروری ہے کہ آج کے دور میں اسلام کے بیان کردہ احکامات کی کیا صورت ہوگی مگر اس کے لیے درست طور پر تمام تصورات کی جانچ ضروری ہے۔

مثلا مولانا مودودی کے ہاں خلافت یا اسلامی ریاست کا قیام ایک ہی چیز ہے۔ متبادل بیانئے والے اصحاب اسلامی ریاست اور خلافت کی ہجو کرتے ہوئے ان کا اس بارے میں درست تصور سامنے نہیں لاتے۔ پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جس خلافت کی بات کی جاتی ہے اس کا اصل تصور کیا ہے۔

سب سے پہلا نکتہ سمجھنے کا یہ ہے کہ اسلام انسانوں کے لیے ”حاکمیت“ کی اصطلاح کے بجائے ”خلافت“ کی اصطلاح استعمال کرتا ہے کیونکہ وہ حاکمیت Sovereignty کو خدا کی طرف منسوب کرتا ہے اور اسے اس کا حق بتلاتا ہے۔ چونکہ انسان زمین پر خدا کے نائب کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا ہے اسی لیے اسے نائب یا خلیفہ کہا جائے گا۔ مولانا مودودی خلافت کو تمام مسلمانوں کی مشترکہ ذمہ داری بیان کرتے ہیں، خلافت کو خدا کی نیابت کے معنوں میں لیتے ہیں جیسا کہ قرآن پاک میں اللہ تعالی نے فرمایا انی جاعل فی الارض خلیفہ (میں زمین میں اپنا خلیفہ بنا رہا ہوں)، خلافت کسی تنظیمی ہیئت organizational structure کا نام نہیں جس کا قیام مقصود ہے بلکہ یہ ایک تصور ایک نظریہ ہے جس سے مراد اللہ کے نائب کی حیثیت سے زمین پر اللہ کے احکامات کو نافذ کرنا ہے اور قرآن میں دیے گئے احکامات کو پورا کرنا ہے۔

اسلامی ریاست میں امام یا خلیفہ کی حیثیت اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے کہ عام مسلمانوں کو جو خلافت حاصل ہے، اس کے اختیارات وہ اپنے میں سے ایک بہترین شخص کا انتخاب کر کے امانت کے طور پر اس کے سپرد کرتے ہیں. گویا خلافت اپنے معنوں میں ایک اجتماعی فریضہ ہے جس کا مطلب اللہ کے دیے ہوئے نظام زندگی کو معاشرے میں نافذ کرنا ہے۔ پھر یہ بھی یاد رہے کہ اسلام میں فقط یہ مطلوب نہیں کہ سربراہ مملکت کا نام ”خلیفہ“ رکھ کیا جائے اور اس کے سارے کام بدترین حکمرانوں والے ہوں۔
بقول اقبال
الفاظ کے پیچوں میں الجھتے نہیں دانا
غواض کو مطلب ہے صدف سے کہ گہر سے

یہ بھی پڑھیں:   جمہوریت کو لاحق خطرات: تشخیص و حل - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

اسلامی حکومت کے سربراہ کو سلطان، امیر، امام بھی کہا جا سکتا ہے اور اسی طرح کے دیگر نام صدر وزیر اعظم وغیرہ بھی رکھے جا سکتے ہیں، اصل جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ ریاست کی بنیاد نظریہ خلافت پر قائم ہو، اور نظریہ خلافت اور کچھ نہیں، بس قرآن و سنت کی روشنی میں حکومت چلانے کا نام ہے۔ ایک ایسی ریاست جس کے حکمران کا نام خلیفہ ہو اور وہ قرآن و سنت کے بجائے کسی دوسرے نظام کے تحت نظام حکومت چلا رہا ہو، مسلمانوں کے حق میں کسی بد ترین نظام سے کم نہیں ہے۔

ایک صحیح ریاست نہ تو آمریت ہو سکتی ہے اور نہ ایسی جمہوریت جہاں افراد کا مجموعہ اقتدار اعلی کا مالک ہوتا ہے۔ اگر ایک شخص اپنی ذات میں مقتدر اعلی نہیں ہو سکتا، جسے ہم آمریت کہتے ہیں، تو انہی اشخاص کا مجموعہ جمہوریت کے نام پر کیسے اقتدار اعلی کا مالک ہو سکتا ہے۔ یہاں عقل کہتی ہے کہ پھر کوئی ایسا نظام ہونا چاہیے جو اقدار اور افراد کے مجموعے سے بلند و بالاتر ہو، جسے مقتدر اعلی مانا جائے۔ مسلمان اپنے عقیدے کی بنیاد ہر ایک ہستی کو بلند و بالا مانتے ہیں، اسے اقتدار اعلی کا مالک تصور کرتے ہیں اور اگر یہ بات متفقہ طور پر آئین کی کتاب میں درج کر رکھی ہے تو اس پر متبادل بیانیے والوں کا اعتراض کیونکر بجا کہلا سکتا ہے۔

یہاں ایک اور ظلم جو متبادل بیانیے والے کرتے ہیں، وہ اسلامی حکومت اور تھیاکریسی کو باہم خلط ملط کرنا ہے۔ اسلامی حکومت کا دور دور تک تھیاکریسی سے کوئی واسطہ نہیں۔ اسلام اتنا ہی تھیاکریسی سے بدظن ہے جتنا آج کا کوئی ترقی پسند ہو سکتا ہے۔ تھیاکریسی دراصل مذہبی طبقے کی حکومت پر اجارہ داری کا نام ہے۔ اسلام کسی بھی طبقے کی مسلم معاشرے پر اجارہ داری کے خلاف ہے، خواہ وہ مولوی اور عالم دین ہی کیوں نہ ہوں۔ تھیاکریسی میں مذہبی پروہت جو کہہ دے، وہ قانون ہوتا ہے، اور اسے کسی کے سامنے کچھ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی جبکہ اسلام میں ہر قدم پر دلیل چاہیے حتی کہ خلیفہ کو بھی اپنے احکامات کے لیے قرآن و سنت سے دلیل لانا پڑتی ہے، اور ایک عام عورت یا ریاست کا کوئی بھی عام شہری قرآن و سنت کی بنیاد پر اس کو چیلنج کر سکتا ہے۔ متبادل بیانیہ پیش کرتے ہوئے اسلامی ریاست کو تھیاکریسی بنا کر پیش کرنے کو پرلے درجے کی علمی بد دیانتی ہی کہا جا سکتا ہے۔ اصل اسلامی حکومت کے لیے ضروری یہ نہیں کہ کسی مدرسے کا فارغ التحصیل ہی مسند اقتدار پر بٹھایا جائے بلکہ اصلا جو شے مطلوب ہے وہ پابندی شریعت اور روح محمدی کے مطابق امور سلطنت سرانجام دینا ہے۔ اسلامی ریاست کی بنیاد مشورے پر ہوتی ہے جو امرھم شوری بینھم کا الہی حکم ہے۔ یہاں تمام فیصلے اور تقرریاں باہم مشاورت اور رائے دہی کی بنیاد پر ہوتی ہیں جس میں نسل انسانی کی فلاح و بہبود پیش نظر رکھی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ہاتھیوں کا کھیل - محمد عرفان ندیم

متبادل بیانیے والوں کا دوسرا مغالطہ یہ ہے کہ شاید اسلام کا مطمح نظر ایک مرکزی خلافت کا قیام ہے اور اس میں مختلف ملکوں کی مقامی حکومتوں کی گنجائش نہیں اور مسلمان اس کے لیے جدوجہد کرنے پر مجبور ہیں۔ سردست یہ مسئلہ مسلمانوں کے پیش نظر نہیں ہے۔ اس وقت تو مختلف ملکوں میں خالص اسلامی سوسائٹی کا قیام ایک خواب ہے۔ مولانا مودودی کے الفاظ میں اگر تمام مسلمان ملکوں میں اسلامی حکومتیں قائم ہو جائیں تو تب ممکن ہے کہ ان سب کی ایک فیڈریشن بھی بن سکے مگر فی الحال تو اپنے ملک میں شریعت کے قوانین کا مکمل نفاذ ایک مرحلہ ہے جو طے ہونا باقی ہے۔

اور یہ جو جاوید غامدی صاحب ساری دنیا میں گھوم پھر کر کیمروں کی روشنی و چکا چوند میں مغرب کو یہ باور کروانے کے کوششیں فرماتے ہیں اور ان کے حاشیہ نشین اسی کی قوالی اخبارات کے کالمز اور فیس بک کی پوسٹوں پر کرتے پھرتے ہیں کہ مسلمانوں کے مدرسوں میں پڑھایا جانے والا نصاب دہشت گردی کو غذا فراہم کرتا ہے، یہ مسلم امت کی کوئی قابل قدر خدمت نہیں ہے۔ دہشت گردی کی جڑیں تلاش کرنے کے لیے محض مدرسوں اور مسجدوں کا نصاب نہیں بلکہ اعلی اداروں اور عسکری ایوانوں کی غلام گردشوں میں جنم لینے والے پالیسیوں کو بھی ٹٹولنا ہوگا، اور اس سے بھی آگے بڑھ کر عالمی استعماری طاقتوں کے اعمال و پالیسی کو بھی، مگر کیا کریں کہ مسجد کے کمزور مولوی پر تو ان کا زور چلتا ہے لیکن دوسری طرف کی بات کرنے پر سب کے پر جلتے ہیں۔

Comments

سید معظم معین

سید معظم معین

معظم معین پیشے کے اعتبار سے مہندس کیمیائی ہیں۔ سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ مشینوں سے باتیں کرتے کرتے انسانوں سے باتیں کرنے کی طرف آئے مگر انسانوں کو بھی مشینوں کی طرح ہی پایا، وفا مگر مشینوں میں کچھ زیادہ ہی نکلی۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں