رہنما کی تلاش - سخاوت حسین

اس دنیا میں ہر شخص کو لیڈر کی تلاش ہوتی ہے۔ ہم سب کسی رہنما کے تعاقب میں آدھی زندگیاں ضائع کرتے ہیں اور باقی آدھی زندگی وہ رہنما ہماری ضائع کرتا ہے۔ میں جب پیدا ہوا، مجھے سب کی باتوں سے لگا کہ مجھے کسی رہنما کی ضرورت ہے، کسی راہبر کی۔ میں نے آنکھ کھولیں تو سب سے پہلے جس شفیق ہستی کو مسکراتے اپنی نظروں کے سامنے پایا۔ سب اسے میری ماں کہہ رہے تھے۔ وہ گھنٹوں ٹک ٹک نظریں جمائے پیار سے مجھے دیکھ رہی تھی۔ اس کے پورے وجود میں مجھے سوائے محبت کے کوئی جذبہ نہیں ملا۔ اس کی آنکھوں میں ہمیشہ میں نے زندگی دیکھی۔ پھر ایک اور شخص نے محبت کے گھونٹ میرے حلق میں اتارے، لوگوں نے اسے میرا باپ کہا۔ اس کی شقیق نگاہیں میرے ننھے سے وجود پر ساکت تھیں۔ کیا یہی تھے میرے رہنما۔

ایک دن میری ماں نے کہا کہ بیٹا اصلی رہنما درسگاہ میں ملتا ہے۔ وہ زندگی کا درس پڑھاتا ہے۔ وہ زندگی کے معانی سمجھاتا ہے۔جب میں اس کے پاس گیا تو معلوم ہوا اس کا نام استاد ہے۔ اس نے لفظوں اور بڑے سے بورڈ پر مجھے آویزاں کر دیا۔ میں اس کا نصاب بن گیا۔ وہ میرا حساب بن گیا۔ اس نے شہد کی گھٹی بنائی۔ اس میں علم کا تڑکہ لگایا اور میرے حلق سے نیچے اتار دیا۔ اس نے مجھے سکھایا۔ دنیا میں انسان سب کچھ سہہ سکتا ہے لیکن ظلم نہیں سہہ سکتا۔ وہ نفرت نہیں سہہ سکتا نہ ہی وہ نفرت کر سکتا ہے۔ میں اس کی ذات سے جب اترا تو میرے اندر اس کی ذات کے سارے اثرات تھے۔

میری ماں نے بتایا۔ بیٹا تمھیں ابھی بھی رہنما نہیں ملا۔ جب تم کوئی کام دھندہ کرو گے نا، وہاں رہنما ملے گا۔ میں نے ایک گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں ملازمت شروع کردی۔ اب وہاں موجود غصیلا شخص میرا رہنما تھا۔ اس نے مجھے سکھایا کہ دولت انسان کی اصل رہنما ہے۔ میں نے اس کا درس لیا اور اپنے حلق سے نیچے اتار لیا۔ اس نے مجھے بتایا کہ مجھے کس طرح ذاتی جائیدادیں بنانی ہیں۔ کس طرح اپنی زندگی بہتر بنانی ہے۔ مجھے صرف اپنا سوچنا ہے۔ یہ میرا رہنما کس طرح ہوسکتا تھا۔

میں نےایک پرائیویٹ کمپنی میں جاب شروع کردی۔ مجھے بتایا گیا کہ یہاں کا باس میرا رہنما ہے۔ مجھے اس سے رہنمائی لینی ہے۔ اس نے مجھے بتایا۔ میں نے ہمیشہ کسٹمر کو صحیح کہتے ہوئے اسے لوٹنا ہے۔ میں نے جھوٹ بولنا ہے، جسے اس نے مارکیٹنگ کہا۔ میں نے ہر صورت میں چیزیں بیچنی ہیں۔ مجھے صرف منافع سے غرض ہونی چاہیے۔ انسانیت اور فلاح جیسی باتیں بےمعنی ہیں۔ ایسی باتوں کی اس دنیا میں کوئی حیثیت نہیں۔ میں وہاں سے بھی تنگ آگیا۔

میں اسے چھوڑ کر عبادت خانے میں گھس گیا۔ کسی نے مجھے کہا کہ میرا رہنما وہ پگڑی والا ہے۔ میں نے اپنے آپ کو وہاں پیش کیا اور اس کی شاگردی اختیار کی۔ مجھے بتایا گیا کہ یہاں صرف فرقے کا نظام ہے۔ یہاں فرقوں کا اکھاڑہ لگتا ہے۔ مجھے بھی فرقوں کی ریسلنگ لڑنی ہے، مجھے اکھاڑ پچھاڑ کرنی ہے، مخالف فرقوں کو پچھاڑنا ہے۔ کیا یہ شخص تھا میرا رہنما۔ لیکن یہاں بھی وہی نفرت ہی تھی۔

چلتے چلتے میں ایک جلسہ گاہ پہنچا، وہاں ایک شخص تقریر کر رہا تھا۔ وہ بڑی خوبصورت باتیں کر رہا تھا۔ شاید یہ تھا میرا رہنما۔ میں اس کے قدموں میں بیٹھ گیا اور اس کی شاگردی اختیار کرلی۔ جلد ہی مجھے پتہ چلا کہ اس کے بعد مجھے اس کے بیٹوں کی شاگردی کرنی ہوگی اور یہ نسل در نسل سلسلہ چلے گا۔ یہ شخص ایک بڑی سی گاڑی میں بیٹھا ہوا تھا اور میں اس کے تعاقب میں زمیں پر۔ وہ بہترین گھر میں رہ رہا تھا اور میرے پاس چھت بھی نہیں تھی۔ میں رہاں سے بھی تنگ آگیا۔

کسی نے مجھے بتایا کچھ دانشور جو علم اور عقل کی باتیں کرتے ہیں، وہ ہیں اصل رہنما۔ میں دانشوروں کے پاس چلا گیا۔ انہوں نے بہت سی خوبصورت باتیں کہیں، لیکن ان کا طرز بھی سیاستدانوں والا ہی تھا۔ ان کا کام دنیا کے انسانوں کو آپس میں لڑانا تھا۔ محبتوں کے پیغام کے لبادے میں نفرتیں پھیلانا تھا۔ انسان کو انسان سے لڑانا تھا۔ کیا یہ تھے میرے رہنما۔

ایک دن سڑک پر میں نے ایک بھوکے انسان کو آدھی روٹی دوسروں میں تقسیم کرتے دیکھا۔ ایک اندھے کو جانوروں سے محبت کرتے دیکھا۔ ایک مفلس کو غریبوں کو کام آتے دیکھا۔ ایک بےکس کو بےسہاروں کا سہارا بنتے دیکھا۔ ایک جانور کو انسانوں کا احترام کرتے دیکھا۔ ایک کانے کو قدرت کی تعریف کرتے دیکھا۔ ایک معذور کو انسانیت بانٹتے دیکھا۔ ایک مرتے ہوئے انسان کو احترام انسانیت کرتے دیکھا۔ لیکن سب کہتے تھے کہ رہنما علم، حلم، تدبر اور عقل کی بنیاد پر منتخب ہوتا ہے۔

میں تنگ آگیا تھا۔ ماں تو کہتی تھی کہ اس دنیا میں جو بھی تمھارا رہنما ہوگا، وہ مخلص ہوگا، ہمیشہ خطروں کو مجھ سے پہلے اپنے سینے پر لے گا، وہ خود تو بھوکا سوئے گا لیکن مجھے بھوکا سونے نہیں دے گا، وہ بہت سادہ سا شخص ہوگا، اس کے لفظوں میں مٹھاس ہوگی، اس کا عمل بہترین ہوگا، وہ انسانیت کا طرفدار ہوگا، وہ انسانیت کی بات کرے گا، وہ صرف محبتیں پھیلائے گا، وہ اخلاص کی مٹی سے گوندھا گیا ہوگا، اس کی آنکھوں میں میرے لیے درد ہوگا، وہ سچائی کی بات کرے گا، وہ جنگ سے نفرت کرے گا، وہ ہتھیاروں سے نفرت کرے گا، وہ انسانوں کو ایک لڑی میں پرو کر رکھے گا، وہ انسانوں کے درمیاں انسانوں کے لیے رہے گا۔

یہی سوچ کر کہ وہ پھر کہیں ملے گا، میں پھر تلاش پر نکل کھڑا ہوا ہوں.

Comments

سخاوت حسین

سخاوت حسین

سخاوت حسین نے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹر کیا ہے، دل میں جہاں گردی کا شوق رکھتے ہیں، افسانہ، سماجی مسائل اور حالات حاضرہ پر لکھنا پسند ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */