مختار مسعود، آواز ِ دوست اور میں - عبدالوہاب سلیم

مختار مسعود بھی ہمارے درمیاں نہیں رہے۔ ان کی وفات کا سن کے ان کی کتب کے ساتھ پہلا تعارف ذ ہن میں گردش کرنے لگ گیا ہے۔ یہی 2009ء کا سال تھا، یونیورسٹی کا پہلا سمسٹر تھا، سارا دن اکاؤنٹنگ اور بزنس مضامین پڑھ پڑھ طبیعت میں عجیب سی تھکان اتر جاتی تھی۔۔۔ ایسے میں ہم جیسے پردیسی یونیورسٹی کی لائبریری کا رخ کر لیتے۔۔۔ کیونکہ اس وقت تک ہم سوشل میڈیا کی "افادیت" سے ناواقف تھے۔۔۔ کرکٹ دیکھنے کے علاوہ کوئی کھیل دیکھنے اور کھیلنے میں دلچسپی نہ تھی۔۔۔ یونیورسٹی کی لائبریری میں اردو سیکشن ایک کونے میں سہما سا مقیم تھا۔۔۔۔ اردگرد خشک قسم کی بزنس، اکاؤنٹگ اور سائیکولوجی کی ان گنت کتب کی صورت اردو سیکشن کی جسامت میں اضافہ ناممکن سا دکھائی دیتا تھا لیکن ہم سے پردیسی اور دیسی طلبا کے لئے یہ ایک سائباں کی طرح تھا۔۔۔ یونیورسٹی لیول تک پہنچتے ہم ٹارزن، عمرو عیار کی کہانیوں سے عمران سیریز اور عمران سیریز سے نسیم حجازی اور طارق اسماعیل ساگر کے ناولز تک سفر کر چکے تھے۔۔۔ اسی بیچ عمیرہ احمد کے ناول، جاسوسی اور سسپنس ڈائجسٹ بھی نظروں سے گزر چکے تھے اور ہم اسے ہی ادب سمجھتے تھے۔۔۔ اگرچہ گھر میں ابا جان کی بدولت ہم سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور تاریخ اسلام کی کتب بھی چاٹ چکے تھے لیکن وہ ایک طرح سے دینی مطالعہ ہی تھا۔۔۔ لائبریری میں موجود سب ناولز جب ہم پڑھ چکے تو ایک دن نظر "لوح ایام" پہ پڑی۔۔۔ کتاب کھولی دو چار صفحے پڑھے من کو بھائے نہیں تو دوبارہ جہاں سے اٹھائے تھے واپس رکھ آئے۔۔۔ انھی دنوں ہمارے عزیز دوست اور میٹرک فیلو سہیل اطہر گوجرانوالہ مقیم تھے۔۔۔ ابھی واٹس ایپ کا زمانہ آیا نہیں تھا اور فری کال پیکچز کا زمانہ بھی دور تھا۔۔۔ بدقسمتی سے ہمیں گوجرانوالہ کینٹ آنے کی دعوت دے بیٹھے۔۔۔ ویک اینڈ شروع ہوا اور ہم گوجرانوالہ کی کوچ پہ بیٹھ گئے۔۔۔ اب بھلا دو کسی کے گھر مہمان بن کے گھس جائیں تو میزبان بھی بور ہو ہی جاتا ہے۔۔۔ گوجرانوالہ کینٹ گھوما اور خوب گھوما۔۔۔ گپ شپ کی بھی انتہا ہو گئی تو ہمارا دل لگانے کو سہیل ایک کتاب پکڑ لایا۔۔۔ پیلے سے سرورق میں کتاب کا نام تھا۔۔۔ "آواز دوست"۔۔۔ نام اچھا لگا، مصنف مختار مسعود کوئی خاص واقفیت نا تھی۔۔اسی دوران سہیل صاحب بھی کتاب کی تعریف میں کافی کچھ فرما چکے تھے۔۔۔ ہم نے کتاب کھولی تو انتساب تھا "پرکاہ اور پارہ سنگ کے نام" الفاظ نے چونکا دیا کیونکہ ہمیں پرکاہ اور پارہ سنگ دونوں سے ہی واقفیت نہیں تھی۔۔ وہ تو اچھا ہوا نیچے ہی اسکی وضاحت موجود تھی کہ پرکاہ مختار مسعود مرحوم کی والدہ کی قبر پہ اگنے والی گھاس کی پتی اور پارہ سنگ ان کے والد کی قبر کی تختی تھی۔۔ اسکے بعد اپنی طرف سے بوریت سے نجات کے لئے کتاب کا مطالعہ شروع کیا تھا لیکن رات گئے کتاب جو پڑھنا شروع کی تو فجر کی اذانوں کی آواز نے ہی چونکایا۔۔۔ آواز دوست میں کے دو حصے ہیں۔۔۔ مینار پاکستان اور قحط الرجال۔۔۔ بقول مختار مسعود مرحوم " اس کتاب میں صرف دو مضمون ہیں ایک طویل مختصر اور دوسرا طویل تر" طویل مختصر کا جو خوبصورت امتزاج ہے وہ اسی کو معلوم ہو سکتا ہے جو یہ کتاب پڑھ چکا ہو۔۔۔ اس مضمون "مینار پاکستان" میں قوموں کا عروج و زوال بالعموم اور مسلمانوں کا بالخصوص مینار کے استعارے کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔۔۔ سب سے خوبصورت مقام وہ ہے جہاں کہتے ہیں:

"میں مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھا ان تین گم شدہ صدیوں کا ماتم کر رہا تھا۔ مسجد کے مینار نے جُھک کر میرے کان میں راز کی بات کہ دی، جب مسجدیں بے رونق اور مدرسے بے چراغ ہوجائیں، جہاد کی جگہ جمود اور حق کی جگہ حکایت کو مل جائے، ملک کے بجائے مفاد اور ملت کے بجائے مصلحت عزیز ہو، اور جب مسلمانوں کو موت سے خوف آئے اور زندگی سے محبت ہو جائے، تو صدیاں یوں ہی گُم ہو جاتی ہیں"

مینار کے ذریعے امت مسلمہ کا زوال بیان کرتے فرماتے ہیں: " اندلس میں مینار مٹ گئے، وسط ایشیا میں ان پر کائی جم چکی ہے، کچھ مینار ایسے ہیں جو مٹے تو نہیں مگر گم ہو گئے ہیں۔ ان میناروں میں غزہ کی جامع مسجد کا مینار، الخلیل کا مینار اور قطب مینار شامل ہیں"۔

مینار پاکستان مضمون کا دلچسپ حصہ مولانا آزاد کی جامعہ علیگڑھ میں گاڑی روکنا اور قائد اعظم کی بگھی طلبا کا خود کھینچنا بھی شامل ہے یہاں وہ رقمطراز ہیں: " تحریک پاکستان کی بگھی کے کتنے ہی گھوڑے اب ملازمت کی بیل گاڑی میں جتے ہوئے ہیں۔"

" آواز دوست" کے دوسرے مضمون"قحط الرجال" کا آغاز مختار مسعود کے اس شہرہ آفاق جملے سے ہوا جو بعد میں ان کی پہچان بن گیا: "قحط میں موت ارزاں ہوتی ہے اور قحط الرجال میں زندگی۔ مرگ انبوہ کا جشن ہو تو قحط، حیات بے مصرف کا ماتم ہو تو قحط الرجال۔ ایک عالم موت کی ناحق زحمت کا، دوسرا زندگی کی ناحق تہمت کا"

اس مضمون میں مختار مسعود نے بہت دلچسپ انداز میں خاکہ نگاری کی ہے اور شاید خاکہ نگاری کو اوجِ کمال تک پہنچایا ہے وہ اس طرح کے خاکہ نگاری بھی کر ڈالی اور اتنی منظم انداز میں کی کے معلوم ہی نہیں پڑتا کہ تاریخ ہے، نثر ہے، تجزیہ ہے یا شخصیات کا تذکرہ۔۔۔ مختار مسعود نے ان شخصیات کا ذکر کیا جن سے انھیں آٹو گراف لینے کا شرف حاصل ہوا۔۔۔ یہ داستان مشہور چینی عالم محمد ابراہیم شاکیو کے دستخط سے شروع ہوتی ہوئی مشہور مورخ ٹائن بی، قائداعظم، اقبال، حسرت موہانی، پلوٹارک، بہادر یار جنگ، مولانا ظفر علیخاں، مشہور انگریز ادیب و فلاسفر ای ایم فوسٹر، صوفی ملا واحدی، عطا اللہ شاہ بخاری، نواب اف بھوپال حمیداللہ، راجا آف محمودآباد، اور سروجنئی نائیڈو کے دستخط کی داستاں تک پہنچتی ہے۔۔۔ مختار مسعود نے اس سب داستاں کو ایک ولندیزی ننھے سے لڑکے کے قصے کے ساتھ ساتھ بیاں کیا جو اپنے لوگوں سے ڈوبنے سے بچانے کے لئے بند کے آگے جم کے کھڑا ہو گیا تھا۔۔۔ مختار مسعود نے اس مضمون میں ان شخصیات کا ذکر اس طرح کیا کہ تنقید بھی کی اور تعریف بھی۔۔۔ ان کے کارنامے بھی ذکر کئے تو ان کے بدلتے رویے بھی۔۔۔ اسی بیچوں بیچ ان کے بعض جملے حیرت زدہ کر دیتے ہیں، مثال کے طور پہ شاعروں پہ تبصرہ کرتے مختار مسعود کہتے ہیں: " اردو میں شعر کہنا سہل اور اچھا شعر کہنا بڑا کٹھن ہے، اسی لئے اردو کو ہر زمانے میں شعر گو بے شمار میسر آئے اور شاعر گنتی کے" ساتھ تاریخ کے حوالے دئیے تو مذہب کو بھی دلیل بنایا۔۔۔ الغرض صبح اذان فجر تک یہ کتاب مجھے اپنے سحر میں ایسے گرفتار کر چکی تھی کہ اسکے بعد یہ کتاب تو دوست سے میں چھین چکا تھا اور یہ کتاب مجھے مجھ سے چھین چکی تھی۔۔۔

وہ دن اور آج کا دن لاہور سے گھر، اور اب بیرون ملک یہ کتاب میرے بستر کے آس پاس ہی رہی اور بلامبالغہ میں اس کتاب کو بیسیووں بار پڑھ چکا اور ہر بار ایک نیا لطف اور سبق دے گئی۔۔۔

اس کتاب کو کیوں پڑھنا ہے اور کچھ کتابیں کیوں نہیں پڑھنی خود مختار مسعود نے ہی کہہ دیا تھا: "رزق نہیں کتابیں بھی ایسی ہوتی ہیں جن کے پڑھنے سے پرواز میں کوتاہی آجاتی ہے" دو صد سے کچھ زائد صفحات پہ مشتمل اس کتاب میں مختار مسعود وہ کچھ کہہ گئے جو کئی لوگ بڑی بڑی کتابوں میں بھی بیان نہیں کر سکے، حیرت ہوتی ہے کہ بیوروکریسی جیسے سرد اور بے رحم ماحول میں کیسے مختار مسعود اتنی گہرائی میں سوچتے تھے، شاید علی گڑھ کا اثر تھا یا پھر وہ بیوروکریسی کے آدمی ہی نہیں تھے اسی لئے کبھی وہاں ٹھیک سے فٹ نا ہو سکے۔۔۔ آواز دوست کے بعد لوح ایام اور سفر نصیب بھی پڑھ ڈالیں لیکن جو رومانس آواز دوست سے قائم ہوا وہ دوسری کسی کتاب سے نہ ہو سکا۔۔۔ 2011 میں ایک دن شادمان جانا ہوا دوست نے بتایا یہاں مختار مسعود مقیم ہیں جی میں آیا کے مل لوں لیکن صدا کا حجاب آڑے آیا اور خاموشی سے پلٹ آیا دل میں سوال تھا آپ نے مزید کیوں نہی لکھا لیکن کچھ سوالوں کے جواب ادھورے ہی بھلے لگتے ہیں شاید اسکا جواب بھی مختار مسعود امتیاز علی تاج کا ذکر کرتے دے چکے ہیں کہ "انارکلی" کے بعد امتیاز علی تاج کچھ اور اچھا نا لکھ سکے!!

کتاب کا اختتام اس خوبصورت فارسی شعر کے ساتھ ہے

گفتم کہ یافت می نشود جستہ ایم ما
گفت آنکہ یافت می نشود آنم آرزوست

ترجمہ: میں نے کہا کہ ہم ڈھونڈ چکے ہیں وہ نہیں ملتا۔ اس نے کہا جو نہیں ملتا میں اسی کا آرزومند ہوں

رہے نام اللہ کا۔۔۔ خدا تعالی مختار مسعود مرحوم کو بلند مقام سے نوازے!!!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */