عشق کی عدالت کے کیسز - رعایت اللہ فاروقی

محترمہ بینظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں ان پر امریکہ اور یورپ کی طرف سے توہین رسالت کی سزا والا قانون منسوخ کروانے کے لیے شدید دباؤ ڈالا گیا۔ محترمہ نے اپنے وزیر قانون اقبال حیدر مرحوم سے دھول بہت اڑوائی لیکن اس قانون کو منسوخ یا تبدیل کرنے کے حوالے سے کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی۔ انھی دنوں محترمہ نے ایک عجیب بیان دیا جو تمام بڑے اخبارات میں چھپا اور مولانا فضل الرحمن نے اس پر شدید رد عمل بھی دیا۔ محترمہ نے فرمایا تھا کہ توہین رسالت کے مجرموں کو سزا دینے کے لیے قانون کی کوئی ضرورت نہیں، انہیں عوام خود سزا دے سکتے ہیں۔ محترمہ بہت اعلیٰ پائے کی سیاستدان تھیں جس کا ثبوت ان کا یہ بیان بھی ہے۔ اگر ہم ان کے اس بیان کا مخاطب و سامع دونوں خود کو سمجھ لیں تو یہ اس وقت کی وزیراعظم کی جانب سے لاقانونیت کو فروغ دینے والے بیان کے طور پر نظر آتا ہے لیکن محترمہ ہم سے صرف مخاطب تھیں، سنا وہ ان طاقتوں کو رہی تھیں جو ان پر دباؤ ڈال رہی تھیں، اور محترمہ درحقیقت یہ کہہ رہی تھیں کہ اگر مغرب یہ سمجھتا ہے کہ اس قانون کو منسوخ کرنے سے توہین رسالت کے مجرم بچ جائیں گے تو یہ ان کی خوش فہمی ہے۔ یہ اتنا سنگین جرم ہے کہ اس کا مجرم قانون کی عدم موجودگی کے سبب بچ نہیں سکے گا بلکہ قانون نہ ہونے کی صورت میں عوام خود جج اور جلاد بن جائیں گے۔

محترمہ کا وہی بیان آج یوں ایک سچائی بن کر سامنے کھڑا ہے کہ پاکستان کے موجودہ ماحول میں پانچ چیزیں نظر آ رہی ہیں۔
(1) سوشل میڈیا پر توہین رسالت، توہین صحابہ، توہین قرآن اور توہین مذہب ایک مہم کی صورت جاری ہے۔
(2) لبرلز کہہ رہے ہیں کہ توہین رسالت کے خلاف قانون نہیں ہونا چاہیے۔
(3) غامدی ٹولہ توہین رسالت و مذہب جیسے قوانین سے نجات کے لیے ملک کو سیکولر بنانے کی دعوت پر مشتمل مربوط مہم چلا رہا ہے۔
(4) جوں ہی توہین رسالت یا توہین مذہب کا کوئی ملزم پکڑا جاتا ہے راتوں رات یہ منظم شور بلند ہوجاتا ہے کہ ضرور اسے ”ذاتی وجوہ“ کے تحت پھنسایا گیا ہوگا۔
(5) حکومت اس طرح کے کیسز چلانے میں اولا سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرتی اور گر سزا ہوجائے تو اس پر عمل در آمد نہیں کرتی یعنی عملا توہین رسالت کے قانون کی موجودگی اور عدم موجودگی برابر ہو چکی ہے۔

اب ان پانچ حقیقتوں کا جائزہ اس بڑی سچائی کے تناظر میں لیجیے کہ ہمارے تعلیمی و تربیتی نظام کی تباہی کے باعث مذہب عملی شکل میں تو غائب نظر آتا ہے لیکن قلوب میں عشق کی انگیٹھیاں آج بھی پوری طرح گرم ہیں۔ آپ اَپر کلاس سے ہی اس کی دو مثالیں دیکھ لیجیے۔

٭ ذوالفقار علی بھٹو سے کسی نے پوچھا کہ وہ کون سا موقع تھا جب آپ اس نتیجے پر پہنچے کہ قادیانیوں کو پارلیمنٹ سے کافر قرار دلوانا ہے؟ بھٹو مرحوم نے فرمایا کہ یہ وہ موقع تھا جب آغا شورش کاشمیری مجھے طویل ملاقات میں اس فیصلے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتے کرتے اچانک اٹھے اور میرے قدموں میں آ بیٹھے اور مجھ سے کہا کہ مسٹر وزیراعظم! میں آپ سے تحفظ ختم نبوت کی بھیک مانگتا ہوں۔ میں لرز کر رہ گیا کیونکہ وہ شخص میرے قدموں میں آ بیٹھا تھا جس نے دس سال قید انگریز کے دور میں بھگتی تھی، اور دس سال آزادی کے بعد پاکستان میں، اور جسے ایوب خان نے سزائے موت سنوائی مگر اس کی استقامت میں فرق نہ آیا۔ بھٹو ایک سیاستدان تھے وہ پوری بات نہیں بتا سکتے تھے۔ پوری بات آغا شورش کاشمیری نے بتائی ہے۔ آغا صاحب کہتے ہیں کہ جب میں نے دیکھا کہ ان پر میری دلیلیں کوئی اثر نہیں کر رہیں تو میں اٹھا اور ان کے قدموں میں جا بیٹھا اور کہا، مسٹر وزیراعظم ! فاظمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بابا کی ختم نبوت پر ڈاکہ پڑ گیا ہے، آپ قیامت کے روز حضرت فاطمہ اور ان کے بابا ﷺ کا سامنا کیسے کریں گے؟ میں آپ سے تحفظ ختم نبوت کی بھیک مانگتا ہوں۔ بھٹو بہت ہی آزاد خیال انسان تھے، وہ خود کو سوشلسٹ باور کراتے اور روایتی معنیٰ میں مذہب بیزار انسان بھی تھے لیکن حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے عشق کی انگیٹھی ان کے دل میں بھی پوری طرح گرم تھی، جس کا نتیجہ ہم نے 1974ء میں پارلیمنٹ کے فیصلے کی صورت دیکھا۔

٭ دو روز قبل ملک کے ممتاز ادیب مستنصر حسین تارڑ نے روزنامہ 92 نیوز میں اپنے کالم کا آغاز یوں کیا ہے۔
”جیسے ایک مویشی کے بدن کو سلگتے ہوئے ایک سانچے سے داغا جاتا ہے تاکہ لوگ جان جائیں کہ یہ کسی کی ملکیت ہے، ایسے ہی غار حرا میں ایک رات بسر کرنے سے بہت پہلے میرے بدن کو بھی داغ دیا گیا تھا اور یہ اسم محمد ﷺ تھا جو ثبت کردیا گیا تھا تاکہ جو بھی اسے دیکھے وہ جان جائے کہ یہ مویشی کسی کی ملکیت ہے۔ اسے چوری کر کے اپنی ملکیت میں نہیں لیا جا سکتا کہ ہر جانب ڈھنڈھیا پٹ جائے گی کہ اس کے بدن پر تو کالی کملی والے کی مہر ثبت ہے۔ قصویٰ کے سوار کا تو یہ ذاتی مویشی ہے اور ذرا احتیاط کہ یہ وہ مویشی نہیں جو بلا چوں و چرا آسانی سے چوری ہو جائے۔“

آپ کو کیا لگتا ہے، تارڑ صاحب ادبی شیخی بھگار رہے ہیں؟ نہیں ! یہ عشق رسالت کی انگیٹھی ہے جو ان کے دل میں پوری طرح روشن ہے۔ جس ملک کے اعلیٰ ترین سیاستدانوں و ادیبوں کے دلوں میں عشق کی انگیٹھیاں یوں روشن ہوں تو عام آدمی کی ایسی انگیٹھیاں تو ویسے بھی ایٹمی توانائی سے روشن ہوتی ہیں۔ اب آپ ہی بتائیے کیا اس بات میں کوئی شک ہے کہ توہین رسالت کا جرم عشق والوں کا کیس ہے؟ اور اس بات میں کوئی شک ہے کہ عشق والوں کی دنیا میں ”دلیل“ کا داخلہ ممنوع ہے؟ اگر ان کی دنیا میں دلیل کا زور کا چلتا تو عشق حضرت ابراہیم علیہ السلام کی صورت نمرود کی آگ میں کیوں کودتا؟ اور عشق منصور بن کر سولی کیوں چڑھتا؟ اسی لیے محترمہ نے فرمایا تھا کہ توہین رسالت کے مجرم کے لیے قانون کی ضرورت نہیں، ایسے مجرموں کو عوام خود انجام تک پہنچا سکتے ہیں۔ مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں جو بھی ہوا، وہ دلیل کی دنیا میں بالکل غلط ہوا۔ میں بھی اس کی مذمت کرتا ہوں لیکن اس تحریر میں پیچھے جو پانچ باتیں بیان کی گئی ہیں، آپ سے ان پر غور کی درخواست ہے۔ جب آپ صرف توہین رسالت کے کیسز میں ”ذاتی وجوہ“ کا پروپیگنڈا کر کے توہین رسالت کے ملزمان کو بچانے کی مہم شروع کریں گے تو پھر ایسے کیسز دلیل کی عدالت سے نکل کر عشق کی عدالتوں میں پہنچنے لگیں گے، اور مت بھولیں کہ پچھلے سو سال کے دوران برصغیر میں ایسے کیسز کے فیصلے عشق والوں کو ہی سنانے پڑے ہیں۔ اگر آپ نے عشق والوں سے ان کیسز کے فیصلوں کا اختیار واپس لینا ہے تو پھر آسیہ اور ایاز نظامی کو ان کے انجام تک پہنچا کر ثابت کیجیے کہ آپ ان کیسز کے بارے میں بھی رد الفساد والے تقاضوں کے مطابق سنجیدہ ہیں !

پھنسانے کی منطق !
اندلس میں چرچ کی جانب سے توہین رسالت کی ایک مہم چلی تھی جس کا دورانیہ پانچ برس پر محیط رہا۔ اس مہم کی شکل یہ رہی کہ پادری چرچ میں اس بات کی دعوت دیتے کہ جو بھی توہین رسالت کرے گا، اسے خداوند یسوع اعلیٰ مقام سے نوازیں گے۔ اس دعوت سے متاثر ہونے والے کسی پبلک مقام پر آ کر علانیہ توہین رسالت کر ڈالتے۔ اس پورے عرصے میں 54 گستاخوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا لیکن تمام ملزمان پر عدالت میں مقدمات چلے، تمام ملزمان کو عدالت نے سزا سنائی اور تمام ملزمان کی سزاؤں پر ریاست نے عملدرآمد کیا۔ کسی ایک بھی گستاخ کو عوام نے قتل نہیں کیا۔ چونکہ اس زمانے میں یو ایس ایڈ تھی اور نہ ہی ڈالر، اس لیے کسی نے یہ نہیں کہا کہ ملزمان کو ذاتی وجوہ کے تحت پھنسایا جا رہا ہے۔ یہ پورا معاملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب ریاست اور اس کے تمام ادارے ٹھیک طرح سے کام کر رہے ہوں تو عام شہریوں کو قانون ہاتھ میں نہیں لینا پڑتا۔ چلیے مان لیا کہ آج کی تاریخ میں کسی کو ناحق بھی اس طرح کے کیسز میں پھنسایا جاتا ہوگا لیکن سوال یہ ہے کہ عدالت کا کیا کام ہوتا ہے؟ اس کا فیصلہ کرنے کا بہترین فورم بھی تو عدالت ہی ہے۔ عدالت کوئی سزائیں سنانے والا ادارہ تو نہیں، اس کا کام ”انصاف“ فراہم کرنا ہے۔ اس میں دو فریق ہوتے ہیں جن میں سے ایک ملزم کو مجرم اور دوسرا ملزم کو معصوم ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور عدالت یہی دیکھتی ہے کہ جس پر الزام لگایا گیا ہے وہ جرم میں ملوث ہے بھی یا اسے ”پھنسایا“ گیا ہے؟ اگر ملوث ثابت ہو جائے تو سزا سنا دیتی ہے اور بے قصور ثابت ہو جائے تو با عزت بری کردیتی ہے۔ قتل، ڈکیتی، چوری اور رہزنی جیسے واقعات میں بھی تو لوگوں کو ”پھنسا“ دیا جاتا ہے تو لبرلز یہ کیوں نہیں کہتے کہ ان جرائم کی سزائیں بھی منسوخ کردی جائیں؟ ”نظر کرم“ صرف توہین رسالت والے قانون اور اس کے ملزمان پر ہی کیوں؟ اور پھر سب سے اہم بات یہ کہ ان مذکورہ جرائم میں تو آئے روز پولیس ہی لوگوں کو پھنسانے کی کو کوشش کرتی نظر آتی ہے تو کیوں نہ پولیس کا محکمہ بھی ختم کردیا جائے تاکہ وہ لوگوں نہ پھنسا سکے؟

Comments

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی سوشل میڈیا کا جانا پہچانا نام ہیں۔ 1990ء سے شعبہ صحافت سے وابستگی ہے۔ نصف درجن روزناموں میں کالم لکھے۔ دنیا ٹی وی کے پروگرام "حسبِ حال" سے بطور ریسرچر بھی وابستہ رہے۔ سیاست اور دفاعی امور پر ان کے تجزیے دلچسپی سے پڑھے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.