ایک سے زائد شادیوں کی ضرورت کیوں؟؟؟؟ - بنت طاہر قریشی

دین اسلام دین فطرت ہے اور بحیثیت ایک مسلمان ہمارا عقیدہ اور ایمان ہے کہ اسلام کا کوئی بھی حکم چاہے وہ دینی امور کے متعلق ہو یا دنیاوی امور کے متعلق، اپنے اندر حکمت و فوائد کا ایک سمندر پوشیدہ رکھتا ہے۔ اس حکم کے باطنی فوائد اور حکمتیں تو جو ہوتی ہیں سو ہوتی ہیں مگر اس حکم کے ظاہری فوائد بھی بے انتہا ہوتے ہیں۔ جو اس حکم پر عمل پیرا ہونے کے ذریعے ہمارے مشاہدے میں آتے رہتے ہیں اور اگر اس حکم کو ترک کیا جانے لگے تو پھر اس کے نقصانات بھی ہمیں محسوس ہونے لگتے ہیں۔

ایسے ہی احکامات جنہیں ہم متروک بناچکے ہیں اور اب ہمیں ان کے نقصانات بھگتنا پڑ رہے ہیں "استطاعت رکھنے والے مسلمان کی ایک سے زائد شادی کا حکم" ہے۔ جو کہ ہمارے معاشرے میں قریباً قریباً متروک بلکہ اب تو سخت ناپسندیدہ اور مکروہ تحریمی سمجھے جانے والا عمل بن چکا ہے۔ ہم مانتے ہیں کہ یہ کوئی فرض یا واجب عمل نہیں ہے بلکہ سنت متواترہ کا بہت اہمیت، افادیت اور خیر والا عمل ہے۔ یعنی پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی طرح ایک اچھی اور دین و دنیا کے بیشتر فوائد و ثمرات رکھنے والی انتہائی عظیم سنت۔

آج ہمار مزاج بن چکا ہے کہ ہم دین کے صرف ان احکامات پر عمل کرتے ہیں جو ہماری خواہشات سے مطابقت رکھتے ہیں اور ان احکامات کو ترک کردیتے ہیں جن پر عمل ہمارے نفس پر شاق گزرتا ہے، چاہے وہ احکامات فی نفسہ کتنے ہی اہم اور دینی و معاشرتی اعتبار سے کتنے ہی فائدہ مند کیوں نہ ہوں۔

جی ہاں ایسا ہی ایک حکم جس کو ہم فقط اس لیے چھوڑ چکے ہیں کہ وہ ہماری دنیاوی، نفسانی خواہشات سے میل نہیں کھاتا وہ ہے "ایک سے زائد شادی یعنی مرد کا ایک سے زائد نکاح کرنا"۔ ستم ظریفی تو دیکھیے کہ اس سنت کی سب سے زیادہ مخالفت ہی ہم خواتین کرتی ہیں۔ حالانکە اگر اس سنت پر عمل ہونے لگے تو سب سے زیادہ فائدہ ہی کیا بلکہ فوائد کثیرہ خواتین کو ہی حاصل ہوں گے۔

یہ انتہائی دکھ درد اور افسوس کی بات ہے آج ہم خواتین اسلام کا کلمہ پڑھتی ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی بات کرتی ہیں اور جب ہمارے سامنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت پر عمل کرنے کی کسی کی خبر یا کسی کے شوہر، بیٹے یا داماد تقاضا آتا ہے تو ہم خواتین کا حال یہ ہے کہ شادی شدہ خواتین کو تو چھوڑیے غیر شادی شدہ خواتین بھی دوسری شادی کا ذکر سنتے ہی لاحول ولا قوة پڑھنے لگتی ہیں، گویا کسی گناہ کبیرہ کے بارے میں سن لیا ہے۔

ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے:

"میری امت کے فساد کے زمانے میں میری کسی ایک (متروک ) سنت کو زندہ کرنے والے کو 100 شہیدوں کا اجر ملے گا"

اور ایک اور حدیث کا مفہوم ہے کہ: "ایک زمانہ ایسا آئےگا کہ اس میں اسلام کے کسی حکم پر عمل کرنے والا ایسا ہوگا گویا اس نے ہاتھ میں انگارہ پکڑ رکھا ہو" اور موجودہ زمانہ اس حدیث میں مذکور زمانہ ہی ہے۔

ذرا نہیں، مکمل سوچیے!!! موجودہ زمانے میں کوئی بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ( جیسا کہ ایک سے زائد شادی) پر عمل کرتا ہے تو وہ مفت میں اپنے آخرت کے اکاؤنٹ میں کئی سو شہیدوں کے برابر اجر کا مستحق ہوجاتا ہے۔ کئی سو اس لیے کہ ایک تو شادی کرنا سنت، دوسرا اس پر الگ سو شہیدوں کاثواب۔ پھر ایک سے زائد شادی کرنا یا خواتین کا ایک سے زائد شادی کرنے والے مرد کی دوسری تیسری اور چوتھی بیوی بننے کے لیے آمادہ ہوکر اپنے شوہر کی دلہن بننا یوں گویا ہر سنت پر سو' سو شہیدوں کا ثواب حاصل ہورہا ہوتا ہے۔ پھر نکاح کی سنت، مسجد میں نکاح کی سنت، کھجورو چھوہارے کی تقسیم کی سنت، مہر کی سنت، ایجاب وقبول کی سنت، ولیمے کی سنت، فضول خرچی سے بچنے کی سنت۔ سادگی سے شادی بیاہ کرنے سنت اور مکمل صحیح شرعی طریقے سے شادی کی سنت وغیرہ۔

یوں یہ ایک شادی کرنے پر سینکڑوں سنتیں زندہ ہوجاتی ہیں۔ صرف شادی کے مواقع پر ذرا اندازہ لگائیں ہم اللہ سے کتنا زیادہ اجر اور کتنے زیادہ شہیدوں کی ہزاروں نیکیاں کماتے ہیں۔

اگر ہمارے دل میں اللہ کے حکم اور نبی صلی اللہ علیہ وسکم کی اس عظیم سنت کی عظمت ہوگی اور ہم اپنے مردوں کو ہنسی خوشی اپنے پیارے نبی کی اس مبارک سنت پر عمل کرنے کی راہیں ہموار کریں گی اور انہیں ہر لحاظ سے مکمل سپورٹ کریں گی تو یقین جانیے نیکی و صدقہ جاریہ اور آخرت کے اکاؤ نٹ کو بڑھانے اور نیکیوں کا ذخیرہ کرنے کا یہ کوئی معمولی عمل اور اجرو ثواب نہیں ہے۔ یہ اس دور کی بہت بڑی نیکی ہے اور اس اجروثواب بھی بہت بلندتر ہے۔

دینی نقطہ نظر کے بعد اس اہم مسئلے پر کچھ دنیاوی مشاہدات پہلو سے بات وضاحت سے کرتے ہیں:

اگر ہم حقیقت سے نظریں چرانے کی بجائے حقیقی آنکھ سے دیکھیں تو ہمارے معاشرے میں دن بدن بڑھتی ہوئی فحاشی اور بے حیائی کا ایک اہم ترین سبب ایک سے زائد شادی کی اس سنت عظیمہ کا ترک بھی ہے۔ حقیقت واضح ہے کہ آج نوجوان لڑکیوں کی جب مناسب وقت پر شادیاں نہ ہوں تو لازماً ان کا میلان برائی کی طرف ہوگا اور یہ فطری بات ہے۔ جس میں قصور ان کا نہیں بلکہ ہمارے معاشرے اور سماج کا رویہ اور رواج ہے۔

ہمارے معاشرے میں چونکہ اولاد کے کرتا دھرتا والدین ہوتے ہیں اور بعض والدین اپنی بیٹیوں کی شادی کے لیے کڑے اور سخت معیار قائم کرتے ہیں۔ ان کو ہوش تب آتا ہے جب بیٹیاں دہلیز پر بیٹھے بیٹھے بوڑھی ہونے لگتی ہیں۔ ان کے بالوں میں چاندی اتر آتی ہے۔ تب ان کا کوئی معیار برقرار نہیں رکھتا۔ پھر ان کو بڑی عمر کے اور شادی شدہ اور طلاق شدہ مرد بھی قبول ہوتے ہیں۔ تو اگر یہی فیصلہ صحیح وقت پر کرلیتے تو بیٹیوں کی زندگی کے اتنے قیمتی سال ضائع نہ ہوتے۔

اس سنت عظیمہ کے ترک کا دوسرا نقصان دہ پہلو: بیوہ اور مطلقہ خواتین ہماری ہندومت سے متاثرہ روایات کی وجہ سے معاشرے میں اچھوت سمجھی جاتی ہیں۔ اگرچہ منہ سے ہم ان کو اچھوت نہ کہیں مگر ان کے ساتھ امتیازی رویہ اور سلوک انہیں معاشرے کے ناقابل قبول افراد میں ہی شامل کرتا ہے۔

اگر یہ مطلقہ اور بیوہ خواتین جوان ہوں تو ان کے لئے دوہری پریشانی ہوتی ہے۔ ایک تو عفت و عصمت کی حفاظت اور دوسری اپنے دین و ایمان کو فتنوں سے بچانا۔ ان کی پریشانی کا خاتمہ صرف اسی صورت ممکن ہے کہ جب اس سنت کی اہمیت کو سمجھا جائے اور اس پر عمل پیرا ہو کر ایسی خواتین سے نکاح کیا جائے اور انہیں معاشرے کے گدھوں کا نوالہ بننے کے لیے نہ چھوڑا جائے۔ ورنہ قیامت کے دن مجرمین کی صفوں میں ان کے ساتھ بہت سارے صاحب حیثیت لوگوں کی گردنوں میں بھی طوق ڈالا جاسکتا ہے۔

مختصر یہ کہ آج اگر ہمارے مسلمان بھائی اس سنت پر عدل و انصاف کے ساتھ مضبوطی سے عمل کی ٹھان لیں اور کم از کم ایک زائد نکاح کرلیں کسی بھی بیوہ، مطلقہ یا بڑی عمر کی غیر شادی شدہ خاتون سے، تو میں حلفاً کہہ سکتی ہوں کہ بے حیائی اور فحاشی کا طوفان اپنے آپ تھمنے لگے گا۔

بس!!! تھوڑی سی ہمت، ارادے کی پختگی اور ان مجبور خواتین سے ہمدردری بلکہ سب سے بڑھ کر پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت کہ فساد امت کے دور میں سنت کو زندہ کرنے والے کو 100 شہیدوں کا اجر ملےگا، ذہن نشین کرنے اور اس کی اہمیت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ان شاء اللہ راہیں خودبخود آسان ہوتی چلی جائیں گی اور ایک وقت ایسا آئے گا کہ یہ معاشرے میں کوئی سنت معیوب عمل نہیں رہے گی بلکہ اس کے جو فوائد و ثمرات ہمیں حاصل ہوں گے وہ ہمارے وہم و گمان سے بھی بڑھ کر ہوں گے!

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

  • آپکے پیش کردہ دلائل سے صد فیصد متفق ہوں مگر ایک بیوی ہونے کے ناطے میرے دل میں قطعا گنجائش نہیں کہ میں کسی دوسری عورت کو بحیثیت سوتن برداشت کرسکوں،اور میرا دعوی ہے کہ آپ بھی جب ہماری اسٹیج پر ہونگی تو آپکے جذبات واحساسات بھی ایسے ہی ہونگے،ابھی آپ کم عمر ہو، غیر شادی شدہ ہو ،آپکو نہیں علم کہ کیا کیا مسائل پیدا ہوجاتے ہیں، میں نے دیکھا ہے دوسری بیوی کے آنے پر پہلی کا گھر اجڑتے اور سہاگ چھنتے ہوئے،کم از کم ہمارے معاشرے میں یہ زائد شادیاں، بربادیوں سے کم نہیں ہیں.