عطرگِل (2) – سائرہ ممتاز

سالوں بعد پھر سے گنگا اور ہمالیہ میں ٹھن جاتی ہے. گنگا ندی کو اعتراض ہے کہ دھرتی، ہمالیہ اور دوسرے دیوہیکل پہاڑوں کا آپس میں گٹھ جوڑ ہے. اور دھرتی پرانی تاریخ کے دھارے موڑ دیتی ہے یا اجاڑ دیتی ہے. اس گٹھ جوڑ نے ہندوستان کے سینے پر بھی ہزاروں میل تک پھیلا ہوا صحرا بنا ڈالا ہے جہاں محبت ریت کی صورت میں بکھر چکی ہے. اور جہاں کے باسی اپنی زندگی کو، بھوک پیاس کو بھوگ لگا کر راضی رکھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں.

ہمالیہ اس مرتبہ چپ نہیں رہتا. ایک قیامت خیز انگڑائی لیتا ہے جس سے سینکڑوں من وزنی پتھر اس کے وجود سے سرک کر پانیوں میں گرنے لگتے ہیں یوں ندیاں اور جھرنے بلبلا اٹھتے ہیں.
’’یہ کیا کیا تم نے، ابھی آگ اگلتے تو ہمارا وجود خاک ہو جاتا. تم تو زندگی اور قدرت کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئے ہو.‘‘
اور ہمالیہ مسکراتا ہے! اچھا خوب! یعنی بات سمجھ لی تم نے. یہی اصول ہے، زندگی تغیرات کے رتھ پر سوار ہے، یہاں کسی کو ثبات نہیں، یاد کرو کیا جس دن ہمارا جنم ہوا تھا اس دن ہم ایسے ہی تھے جیسے اب ہیں؟ نہیں نا. یہ تو قدرت ہی طے کرتی ہے. جنم، پرورش، حادثے، تصویریں اور واقعات پیدا کرتی ہے یوں ہر ایک کے حصے میں تھوڑا تھوڑا سب آ جاتا ہے، زندگی، موت، ہنسی، رونا، دکھ سکھ، خوشی غمی، محبت نفرت ہر جیوت شے کو ہر ایک احساس کا مزہ چکھنا ہے، یہی اس دنیا کا قانون ہے. ہمالیہ سکوت اختیار کرتا ہے.
گنگا کے وجود میں جذبات سے ارتعاش پیدا ہوتا ہے اور پھر سینکڑوں زندگیاں پانی کی نذر ہو جاتی ہیں. ہمالیہ سوال کرتا ہے.
’’ کیا یہ ظلم و ستم اور ناانصافی نہیں ہے کہ چشم زدن میں لاکھوں اقسام کی زندگیاں تم نے اپنے پیٹ میں انڈیل دی ہیں.‘‘
گنگا کہتی ہے.
’’جو محبت دیتا ہے اسے مارنے اور مربے کا حق بھی حاصل رہتا ہے. میں اس دھرتی کو اپنا لہو اپنا وجود اور محبت دیتی ہوں. اس لیے اس کی. زندگی پر میرا اختیار ابھی باقی ہے!‘‘
……………………………………
ست بائی سے شادی کی خواہش لیے منتظر بیٹھے اللہ یار کو قسمت ایک بار پھر موقع دیتی ہے. وہ اپنی تائی تاجو سے ست بائی کو مانگ لیتا ہے. یوں ان کے گھر سانوری پیدا ہوتی ہے جو ست بائی سے زیادہ اللہ یار کو پیاری ہوتی ہے. وہ اسے سائیں فرید کی دعا سمجھ کر بہت دیکھ ریکھ سے اس کی پرورش کرتا ہے. ریت پر رہنے والوں کے ناز و نعم یہی ہوتے ہیں کہ انھیں پینے کے لیے صاف اور تازہ پانی ملتا رہے، کھانے کے لیے جو مرضی مل جائے، ان کا ہر لقمہ سجدہ شکر ہوتا ہے. یوں تو سانوری کو بھی یاد تھا کہ ایک مرتبہ سخت قحط سالی میں جب ہر طرف دھول نما ریت اڑتی تھی اور اس کے باپ کی سوتیلی پھوپھی تھر کے کسی دور دراز گاؤں سے انھیں ملنے آئی تھی اس رات وہاں صرف تلا ہوا گوشت تھا جس سے اس کی مہمان داری نبھائی جانی تھی، اور وہ گوشت ٹڈی دل کے حملے کے بعد پکڑے جانے والے ٹڈوں کاگوشت تھا! جو مفلس اور پران ہارتے لوگوں پر حلال ہو جاتا ہے.

حق نواز جوئیہ کا اکلوتا بیٹا دن رات ماں کو یاد کرتا تھا، چڑچڑے پن اور بدمزاجی نے اسے بگاڑ دیا تھا، آہستہ آہستہ اس نے اسکول جانا چھوڑ دیا، کھانے کے وقت ضد کرنے لگتا، بلاوجہ گھر کے برتن توڑ دیتا اور نوکروں کو مارپیٹ کرتا. یوں اسے بھی بالآخر دوسری شادی پر رضامند ہونا پڑا، بلاول نواز جوئیہ کی خوش قسمتی کہ اسے ماں کا نعم البدل نصیب ہوا. اس گرہستن نے اپنا آپ مار کے حق نواز کے مکان کو گھر بنا دیا لیکن ایک دن لوگوں نے دیکھا کہ حق نواز مجذوب بن کر سائیں فرید کے در پر بیٹھ گیا. گھر والوں نے لاکھ جتن کر لیے لیکن وہ انھیں پہچاننے سے انکاری ہو جاتا، کبھی گھر کا کوئی فرد لینے جاتا اور وہ مزار پر بیٹھا مل جاتا تو جانے والا سبکی اور شرمندگی لے کر لوٹ آتا اور کبھی ایسا ہوتا کہ ڈھونڈنے والا ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک جاتا لیکن اس کا دور دور تک پتا نہ چلتا. تن کے جن کپڑوں میں وہ گھر سےگیا تھا وہ بالآخر چھیتڑوں میں بدل گئے اور گھر والے بھی صبر کر کے بیٹھ گئے. سانوری ایک مرتبہ اپنے باپ کے ساتھ سائیں فرید کے میلے پر گئی تھی، جہاں اس نے ایک مجذوب دیکھا، اس کے پاس ایک کاسہ تھا اور قریب ہی ایک کتا بیٹھا تھا. مجذوب نے اسےگڑ کی ڈلی کھانے کے لیے دی لیکن اس کے باپ اللہ یار نے یہ منظر نہیں دیکھا. البتہ سانوری کو یہ پورا منظر جزئیات سمیت ازبر تھا..
……………………………………
ہمالیہ کھڑا ہوتا ہے اور خدائے لم یزل سے سوال کرتا ہے. پالنے والے! اگر یہ صحرا تیرے رازوں میں سے ایک راز ہیں تو انھیں دریاؤں اور پانیوں بھرے چشموں پر عیاں کر دے تاکہ ان کے دل کی خلش دور ہو سکے. اور یہ تیری قدرت سے شاکی رہنا چھوڑ دیں. اگر تو ہمارا سینہ چیر کر ہریالی اُگا سکتا ہے تو بے شک ریت میں گل و گلزار بھی کھلا سکتا ہے.! پالنے والے ہواؤں کا رخ موڑ دے کہ وہ انسانوں کے دلوں میں انسان کی محبت پیدا کرنے والی خوشبو لے اڑیں.
……………………………………
اللہ یار دیکھتا ہے کہ روہی کے مشرق پر کالی گھٹا چھا جاتی ہے. وہ ست بائی کو بستر پر ڈال کر باہر لے آتا ہے جہاں جھونپڑے سے باہر سانوری اونٹنی کا دودھ نکالنے کی کوشش کر رہی تھی. لیکن وہاں تو بدن میں خون کی جگہ بھی پیاس دوڑ رہی تھی اور دودھ کے سوتے خشک ہو چکے تھے. آسمان کی نیلاہٹ یک بیک کالک میں بدل جاتی ہے،گویا اللہ یار کے اپنی بیوی سے کیے گئے وعدے پر لبیک کہنے آئی ہو! شوق کہتا تھا کہ برس جاؤ اور جوش جنوں کہتا تھا کہ ہالی نہ وس کالیار! ابھی پھولوں کے رنگ کالے ہونے دے! ست بائی افق کے تیور دیکھتی ہے اور پھولوں کے رنگ کالے سے سرخی مائل ہو جاتے ہیں. جوش جنوں یہ برداشت نہیں کر پاتا اور پھکیرو پنجرہ خالی کر جاتا ہے. ست بائی کی آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں، شمال کو دیکھتی جاتی ہیں. اللہ یار اور سانوری رونے کی کوشش کر رہے تھے لیکن آنسو سارے کالیار پی چکا تھا. پھر امبر سے کہیں ایک قطرہ گرتا ہے اور اللہ یار کے جھریوں بھرے گال پر عین آنکھ کے نیچے لڑھک جاتا ہے. گویا آنسو دان ہوتا ہے. دان کرنے کا اصول ہے قطرہ دان کرنے لگو تو سمندر خود ہی جھولی الٹ دیتا ہے.

یوں پھر ریگزار میں چھم چھم مینہ برسنے لگتا ہے. اور اس چھتنار جیسی برسات میں شمال کی سمت جانے والا گھڑ سوار اپنی منزل مقصود تک پہنچ جاتا ہے. اللہ یار نے دیکھا کہ اس کے پیچھے ایک مجذوب تھا جس کا کاسہ پانی سے بھر چکا تھا. ریگزار سے ریت اور مٹی کی ملی جلی خوشبو اٹھ رہی تھی. سوندھی مہک جس سے مشام جاں معطر کرنے کا یہ وقت مناسب نہیں تھا لیکن مجذوب گھوڑے سے اترتا ہے اور ست بائی کی بےکفن لاش کے پاس پہنچ کر کچھ دیر دیکھتا رہتا ہے جیسے کہنا چاہتا ہو کہ وعدہ وفا کرنے میں اتنی دیر تو نہیں ہوئی تھی. پھر اپنا کاسہ میں مٹی سے بھرا پانی ست بائی پر انڈیل دیتا ہے،گویا بے کفن لباس پر عطر گِل چھڑک رہا ہو. اللہ یار نے سنا مجذوب کہہ رہا تھا. روہیلوں کی میت پر مشک کافور نہیں مٹی کا عطر سجتا ہے!

پہلی قسط یہاں ملاحظہ کریں

Comments

FB Login Required

سائرہ ممتاز

سائرہ ممتاز کو تاریخ، ادب، ثقافت، زبان، تصوف، معاشرے، اور بدلتی ہوئی اقدار جیسے موضوعات میں دلچسپی ہے۔ صحافت اور اردو میں ماسٹرز کیا ہے۔ نسل نو کو زیورتعلیم سے آراستہ کرنا ان کا شوق ہے

Protected by WP Anti Spam