جنت، دوزخ اور ہولی، ایک نیا بیانیہ - متین فکری

وزیراعظم میاں نواز شریف دنیا کو اپنا لبرل چہرہ دکھانے کے لیے اب اقلیتوں کے مذہبی تہواروں میں بھی جانے لگے ہیں، پچھلے سال بھی انہوں نے ہندوؤں کے مذہبی تہوار ہولی کی تقریب میں شرکت کی تھی اور اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ انہیں دیوالی کی تقریب میں بھی بلایا گیا تو وہ ضرور آئیں گے۔ اب ہمیں نہیں معلوم کہ ہندو برادری نے انہیں دیوالی میں بلایا تھا یا نہیں البتہ ایسی کوئی خبر ہماری نظر سے نہیں گزری جس سے پتا چلتا کہ وزیراعظم دیوالی کی تقریب میں بھی شریک ہوئے تھے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا وزیراعظم صرف مسلمانوں کا ہی نہیں، وطن عزیز میں بسنے والی اقلیتوں ہندوؤں، سکھوں، عیسائیوں، پارسیوں سب کا وزیرعظم ہے اور اسے ان کے دُکھ سکھ میں بھی شریک ہونا چاہیے لیکن کیا یہ ضروری ہے کہ وہ ان کے مذہبی تہواروں میں بھی شریک ہو اور اس بات کا اعلان کرے کہ جنت اور دوزخ کا فیصلہ کرنا ہمارا کام نہیں ہے۔ وزیراعظم میاں نواز شریف کو یہ کہنے کی ضرورت آخر کیوں پیش آئی، کیا پاکستان میں جنت اور دوزخ کی کوئی بحث جاری ہے حالاں کہ یہ وہ ملک ہے جہاں ہر شخص اپنی جنت اور اپنی دوزخ میں جی رہا ہے اور اس کی یہ زندگی اتنی مصروف ہے کہ وہ کسی دوسرے پر انگلی اٹھانے کی فرصت ہی نہیں پاتا۔ میاں صاحب نے یہ بات ہندوؤں کی ایک تقریب میں کی ہے اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ شاید پاکستان کے مسلمان ہندوؤں کے بارے میں یہ فیصلہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں کہ وہ انہیں دوزخ میں بھیج کر دم لیں گے، اس لیے میاں صاحب نے انہیں سمجھایا ہے کہ جنت اور دوزخ کا فیصلہ کرنا ہمارا کام نہیں ہے۔ یقیناًیہ مشورہ بہت صائب ہے ہم کون ہوتے ہیں جنت اور دوزخ کا فیصلہ کرنے والے، یہ فیصلہ کرنا تو اس ذات باری تعالیٰ کا حق ہے جس نے انسان کو پیدا کیا ہے اسے ہدایت اور گمراہی کا راستہ دکھایا ہے اور اسے یہ اختیار دیا ہے کہ چاہے تو ہدایت کا راستہ اختیار کرلے اور چاہے تو گمراہی کے راستے پر چلتا چلا جائے۔ یہ دونوں الگ الگ راستے ہیں دونوں کی منزلیں بھی الگ ہیں، ایک کی منزل جنت ہے، دوسرے کی دوزخ۔

یہ بھی پڑھیں:   جنت کے پھول - ڈاکٹر بشری تسنیم

وزیراعظم میاں نواز شریف نے ہندو کمیونٹی کی تقریب میں جو تقریر کی اس میں جنت اور دوزخ کا ذکر بالکل بے محل تھا اسی طرح یہ بات بھی قطعی بے محل اور بے جوڑ تھی کہ کسی کو زبردستی مذہب تبدیل کرنے کا کہنا جرم ہے۔ یہ بات بھی چوں کہ ہندوؤں کے اجتماع میں کہی گئی تھی اس لیے اس کا بھی یہ اشارہ نکلتا تھا کہ شاید ہندوؤں نے وزیراعظم سے یہ شکایت کی ہے کہ انہیں زبردستی مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے یا پاکستان میں ہندوؤں کو زبردستی مسلمان بنانے کی کوئی مہم چلی ہوئی ہے جس کا تدارک ضروری ہے، حالاں کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے، سندھ میں تبدیلی مذہب کے اکا دکا واقعات ہوتے رہتے ہیں لیکن اس میں زور زبردستی کا کوئی دخل نہیں ہوتا، ہم جس وقت یہ سطور لکھ رہے ہیں تو اخبار میں خبر آئی ہے کہ کنری میں دس ہندوؤں نے رضا کارانہ طور پر اسلام قبول کرلیا ہے، تو کیا انہیں اس لیے اسلام قبول کرنے سے روک دیا جائے کہ اس سے مخالفین غلط پروپیگنڈا کرسکتے ہیں اور ان کے رضا کارانہ قبول اسلام کو زبردستی کا رنگ دے سکتے ہیں. پوری دنیا میں یہ کام صرف بھارت میں ہورہا ہے جہاں مسلمانوں کو زبردستی ہندو بننے پر مجبور کیا جارہا ہے. اسلام میں زبردستی کا کوئی عمل دخل نہیں، قرآن پاک میں ہمیشہ کے لیے یہ اصول طے کردیا گیا ہے ’’لااکراہ فی الدین‘‘ یعنی دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے، یہ دلوں کا سودا ہے۔ مسلمانوں نے کم و بیش ایک ہزار سال تک برصغیر پر حکومت کی، اگر وہ دین کی دعوت و تبلیغ کا کام ایک مشن سمجھ کر کرتے تو آبادی کی اکثریت مسلمان ہوچکی ہوتی اور بٹوارے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی، لیکن مسلم حکمرانوں نے اپنے دینی فریضے سے غفلت برتی اور خطے میں جتنا بھی اسلام پھیلا، وہ بزرگان دین اور صوفیائے کرام کی اپنی کوششوں کا نتیجہ تھا، اب اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمران لبرلزم کے نام پر اسلام کو نعوذباللہ ریورس لگانے پر تلے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   بچے،جنت کے پھول- ڈاکٹر ساجد خاکوانی

اب آخری بات ہولی کے بارے میں میاں نواز شریف نے اپنی تقریر میں ہولی کو موسم کی تبدیلی کا تہوار قرار دیا ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ اس تہوار پر سب کا حق ہے اس کو ہندوؤں کا مذہبی تہوار قرار دینا درست نہیں۔ یہ سراسر مغالطہ ہے ہندو اسے اپنے مذہبی تہوار کے طور پر مناتے اور ایک دوسرے پر رنگ پھینک کر خوش ہوتے ہیں البتہ بسنت کو اہل پنجاب بجا طور پر ایک موسمی تہوار کے طور پر مناتے ہیں اسی لیے یہ مثل مشہور ہے کہ ’’آئی بسنت پالااڑنت‘‘ یعنی بسنت آتے ہی جاڑا رخصت ہو جاتا ہے۔ اہل پنجاب پتنگ اڑا کر بسنت مناتے اور اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ بسنت پر کوئی مذہبی چھاپ نہیں ہے، اسے ہندو بھی مناسکتے ہیں لیکن ہولی تو سراسر ہندوؤں کا مذہبی تہوار ہے اس کا تعلق موسم کی تبدیلی سے نہیں۔ اگر میاں صاحب کو اس سلسلے میں کوئی شبہ تھا تو وہ اپنے کسی ہندو دوست سے پوچھ سکتے تھے۔

ان دنوں ایک دانشورانہ اصطلاح ’’بیانیہ‘‘ کا بہت چرچا ہے۔ جنت، دوزخ، تبدیلی مذہب اور ہولی کے بارے میں وزیراعظم کے افکار عالیہ شاید لبرلزم کا نیا ’’بیانیہ‘‘ ہے جسے وہ پاکستان میں رائج کرنا چاہتے ہیں۔