گھر کی تاریکیاں مٹانے کو - محسن حدید

گھر کی تاریکیاں مٹانے کو گھر جلانا ہی کیا ضروری ہے.

میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں زندہ ہوں، میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں ابھی مایوس بھی نہیں ہوا. مجھے لگتا ہے کہ دیا جلانے سے ہی روشنی ہوگی، نوحہ گری جتنی بھی کرلی جائے بہرحال مسئلے کا حل نہیں. کیا صرف غلطیوں کی نشاندہی سے مسائل حل ہو جاتے ہیں؟ صاحب! ایسا نہیں ہے اور یہ آپ بھی جانتے ہیں. آپ کہتے ہیں ہم جھنجھوڑ رہے ہیں، مجھے لگتا ہے کہ آپ جھنجھوڑ نہیں بھنبھوڑ رہے ہیں.

آپ کہتے ہیں عوام کی چند خوبیاں بیان کرنا انہیں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانا ہے، مجھے لگتا ہے کہ ایک بچے کو مسلسل اس کی خامیاں ہی بتاتے جائیں تو وہ کبھی بھی اپنے اندر بہتری نہیں لا سکتا. تادیب سے بہتر مجھے ترغیب لگتی ہے. آپ کو اس قوم میں مسائل نظر آتے ہیں، مجھے بھی آتے ہیں کیونکہ بہرحال مسائل موجود تو ہیں. چلیں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت امریکہ کی مثال ہی دے دیتے ہیں، 18 ویں صدی کے آخر میں امریکی ایک ملک کے طور پر متحد ہوئے لیکن صر ف60-70 سال بعد وہ وہ ایک بڑی خانہ جنگی کا شکار ہوگئے، جس میں لاکھوں لوگوں نے ایک دوسرے کا خون بہایا لیکن آپ کے ساتھ مسئلہ ہے، سو آپ صرف بنگلہ دیش کی مثال دو گے.

آپ طعنہ دیتے ہیں کہ سیاسی شعور کی کمی ہے. ہم کیسے کیسے لوگوں کو منتخب کر لیتے ہیں، لیکن آپ نے کبھی یہ نہیں بتایا کہ مودی اور جوگی آدتیا ناتھ کون سے آسمان سے ٹپکے تھے. آپ کبھی یہ بھی نہیں بتائیں گے کہ دنیا کی سب سے پڑھی لکھی قوم کیسے ڈونلڈ ٹرمپ جیسے مسخرے کو اپنا لیڈر منتخب کر لیتی ہے. آپ کو لگتا ہے کہ یہ 20 کروڑ ذہنی غلاموں کا ملک ہے، جی یہ ذہنی غلام ہی ہیں جو 4 بار آمریت کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے، ایوب جیسے آمر کے سامنے کھڑے ہوگئے اور مشرف والی مثال تو ابھی کل کی بات ہے. ایک جائز بات پر پوری قوم جس طرح ایک شخص کے پیچھے کھڑی ہوگئی اور مشرف جیسے بیٹی فروش کا اقتدار جڑ سے اکھاڑ پھینکا، ایسی کوئی مثال مجھے کہیں اور سے دکھا دیں، لیکن نہیں آپ کا مسئلہ یہ ہے ہی نہیں، آپ کو تو منفیت پھیلانا ہے.

یہ بھی پڑھیں:   ناچ میری قوم - طاہرہ فاروقی

آپ کے بقول ننگ و افلاس میں ڈوبی ہوئی قوم کا کچھ نہیں ہو سکتا، لیکن جب میں اس قوم کے کارنامے دیکھتا ہوں تو حیرت زدہ رہ جاتا ہوں. اس قوم نے کھیل کے میدان میں اپنی سب سے بڑی فتح حاصل کی، ہاکی ہو، کرکٹ ہو، سنوکر ہو یا سکواش، ہم نے دنیا کو بتایا کہ ہم ہیں، ہم بھی ہیں. اپنے قیام کے چند دن بعد ہی اس قوم نے ہر سطح پر اپنا لوہا منوانا شروع کر دیا تھا. اسی نظام کے تحت ہی اپنا سب کچھ گنوا کر آنے والی قوم اپنے پاؤں پر کھڑی ہو گئی، جس قوم کی فوج کے پاس بندوقیں تک نہیں تھیں آج وہ دنیا کی چھٹی بڑی فوج ہے، پوری دنیا آپ کے تعاون کی محتاج ہے. اب یقیننا آپ امریکی غلامی کا ڈھول پیٹیں گے تو حضور امریکہ بہادر کو تو آپ کے جرمنی، فرانس اور برطانیہ بھی جواب نہیں دے سکتے لیکن تبریٰ صرف پاکستان پر، کیونکہ یہاں آپ جیسوں کو بولنے کی آزادی جو ہے. بس اتنی شفقت کریں کہ ہمیں کچھ وقت دے دیں، کم ازکم اتنا وقت تو ضرور کہ جب تک آپ کا ممدوح ہندوستان ایک اچھا میزائل ہی بنا سکے.

آخر میں ایک اور اہم بات کہ آپ کو کیسے لگا کہ ملک ریاض جیسے لوگ گلیوں میں پانی کے کولر لگاتے ہیں. صاحب! ملک ریاض جیسے لوگ اتنا چھوٹا کام کیوں کریں گے. خاص کر جب انہیں اس میں مشہوری ملنے کا ذرا بھی امکان نظر نہیں آئے. حضور ہمیں گالیاں دینے سے بہتر ہے، آپ ایک گلاس ٹھنڈے پانی کا پی لیں یقین کریں. یہ کولر ملک ریاض کا نہیں، کسی نیک دل پاکستانی کا لگایا ہوگا.

Comments

محسن حدید

محسن حدید

محسن حدید میڈیکل پروفیشنل ہیں، لاہور میں میڈیکل لیب چلاتے ہیں۔ کھیلوں سے انتہا درجے کی دلچسپی ہے۔ روزنامہ دنیا اور دلیل کے لیے کھیل پر مستقل لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.