23 مارچ، مسلمان کے طور پر اپنی شناخت کرانے کا دن - حامد کمال الدین

14 اگست کی بات ابھی تھوڑی مختلف ہے۔ محض ’آزادی‘ تو آپ کو معلوم ہے، ایک دن کے فرق کے ساتھ بھارت بھی مناتا ہے۔ اور ویسا ایک دن تو تقریباً تیسری دنیا کے ہر ملک میں منایا جاتا ہے۔ مگر 23 مارچ کا واحد مطلب ’’مسلمان‘‘ کے طور پر جہان میں اپنی شناخت کرانا ہے۔ اپنا قومی وجہِ امتیاز: ’’مسلمان‘‘ ہونا۔ باقاعدہ اس بات کو ملک مانگنے کی ایک بنیاد بنانا کہ ہم ’’مسلمان‘‘ ہیں اور اس بنیاد پر ہم ہندو اکثریت کے علاقوں سے جدا اور خودمختار ہونا چاہتے ہیں۔ اِس ’23 مارچ‘ یعنی قراردادِ پاکستان کی تاویل میں اب کوئی جو مرضی کہہ لے، ’’مسلمان‘‘ اس کا مرکزی مضمون رہے گا۔ اِس مخلوق کو کسی اور قومی تہوار سے آپ ’منہا‘ کر بھی دیں، ’’23 مارچ‘‘ سے اِسے کسی صورت نہیں نکالا جا سکتا۔

’مذہب کا فرق‘ اِس تہوار سے باقاعدہ جڑا ہے۔ ٹھیک ہے اس کی وہ تفسیر آپ کو قبول نہیں جو مذہبی طبقے کے ہاں چلتی ہے۔ لیکن 23 مارچ باقاعدہ ’’منا‘‘ کر آپ اس کے کسی کم از کم مضمون اور اس کے لوازم کے پابند تو بہرحال ہوتے ہیں۔ چلیے دیکھ لیتے ہیں ’’مسلمان اور ہندو کا بٹوارہ‘‘ وہ کم از کم کیا مضمون رکھتا ہے جس کا انکار کسی بھی فریق کےلیے مشکل ہے۔

اِس دعوے کو لے لیتے ہیں کہ ’ہندو اور مسلمان‘ کے مابین علیحدگی اُس مفہوم سے نہیں جو مُلا کے ذہن میں آتی ہے، یہ تو محض کچھ معاشی جہتوں سے تھی۔ مان لیا، کئی کئی کروڑ پر مشتمل دو عظیم الشان گروہ اپنے مابین ’معاشی مفادات‘ کے سوا کوئی کھچاؤ یا ٹکراؤ نہیں رکھتے۔ مگر سوال تو یہ ہے کہ انہیں ’دو گروہ‘ کر دینے والی وہ کیا چیز تھی جو دونوں کو اس سنگین معاشی رقابت تک لے پہنچی؟ ظاہر ہے ایسا تو نہیں ہوا کہ معاشی رقابت پہلے ہوگئی اور پھر اِس چیز نے ایک فریق کو ہندو کر دیا اور ایک کو مسلم! سو یہ سوال تو جوں کا توں رہا، کس چیز نے انہیں ایک دوسرے کا حریف کر دیا جو یہ بات بات پر آپس میں الجھتے ہیں، یہاں تک کہ ان میں سے ایک فریق اپنے لیے الگ ملک مانگ لیتا ہے اور آپ اس کیمپ میں ہیں جس نے اس علیحدگی کا مطالبہ کیا، پھر اس کا جشن منا کر آپ علیحدگی کے اس فیصلے کو آج بھی درست قرار دے رہے ہیں۔

چونکہ ’معاشی مفادات‘ درست مان کر بھی اِس کہانی کی تفسیر بہرحال نہیں ہوتی، لہٰذا کچھ چھوٹ دینا پڑی: مسلمان کا ہندو سے الگ تھلگ ایک قوم ہونا جو ایک علیحدہ ملک مانگ لینے تک پہنچا محض ایک ’رہن سہن‘ (ثقافت) کے فرق کی بنیاد پر تھا جسے یار لوگوں نے باقاعدہ ادیان کا فرق بنا ڈالا!
اس پر ہم اپنی بات دو نقاط میں کریں گے:
1۔ یہاں آپ نے کم از کم یہ مانا کہ ’’مسلمان‘‘ اور ’’ہندو‘‘ کے مابین ’’رہن سہن‘‘ (ثقافت) کا فرق کوئی عام سا فرق نہیں۔ بلکہ یہ بجا طور پر اتنا بڑا فرق ہے کہ اس کی بنیاد پر دو قومیں ایک دوسرے سے الگ ہو جایا کریں اور ہمیشہ ہمیشہ کےلیے اپنے راستے جدا کر لیں۔ یہ تو آپ کو معلوم ہے ملک الگ کرنے کی نوبت آنا کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ کوئی عام سا فرق ہوتا تو دونوں کے پرسنل لاء الگ الگ بنا کر گزارہ ہو جاتا۔ آخر کیا مسئلہ ہے مسلمان عید کی چھٹی کر لیں، ہندو دیوالی کی۔ مسلمان کے نکاح، طلاق اور وراثت کے قوانین اور ہوں ہندو کے اور۔ مسلمان عبادت کےلیے مسجد میں جائے، ہندو مندر میں۔ اب بھی، کیا دونوں ملکوں میں ایسا ہو نہیں رہا؟ ہم پوچھتے ہیں وہ ’’رہن سہن‘‘ آخر ہے کیا جو ایک سانجھے ملک میں رہ کر برقرار نہیں رہ سکتا؟ مسلمان اور ہندو کے مابین رہن سہن کا فرق ہوگا، مگر آپ تو ماشاءاللہ ہمارے ساتھ یہ ماننے لگے کہ یہ ایک اتنا بڑا فرق ہے کہ دونوں فریق اس بنیاد پر اپنا اپنا ملک الگ کر لیں؟ ظاہر ہے، یہ وہ عام سا رہن سہن نہیں جو کسی بھی کمیونٹی کو کسی بھی ملک میں حاصل ہوتا ہے۔ وہ عام معنیٰ کا ’’رہن سہن‘‘ تو ان دونوں قوموں کا دونوں ملکوں میں اکٹھا اب بھی چل رہا ہے: ہندوؤں کا رہن سہن پاکستان میں آج بھی ویسے کا ویسا ہے اور مسلمانوں کا رہن سہن بھارت میں آج بھی جوں کا توں۔ تو پھر کیا یہ (عمومی معنیٰ میں رہن سہن کا فرق) کوئی ایسی بات تھی جو مسلمان دلی، کلکتہ اور لکھنؤ میں قائم نہیں رکھ سکتے تھے اور ہندو لاہور، حسن ابدال اور میانوالی میں قائم نہیں رکھ سکتے تھے؟ رہن سہن، یار! آپ ملک الگ کرنے چلے! اس کےلیے چلیے ’آزادیاں‘ مانگ لیں (یہ ’رہن سہن‘ کی آزادیاں دونوں ملکوں کے دستور میں درج بھی ہیں)۔ کیا اس کےلیے باقاعدہ ’’ملک‘‘ مانگ لیے جاتے ہیں؟!

یہ بھی پڑھیں:   اب مسلم کے معنی بھی تبدیلی کی نظر - اسماء اشفاق

اب یہ جو ’23 مارچ‘ آپ نے پورے قومی جوش و خروش کے ساتھ منایا.. یہاں آپ نے ہندو اور مسلمان کے مابین آخر کوئی تو غیرمعمولی فرق تسلیم کیا۔ آپ نے کہا: رہن سہن کی حد تک۔ ہم نے کہا: ’رہن سہن‘ کا ایک تو وہ (سیکولر) معنیٰ ہے جو آج بھی ہندوؤں کو پاکستان میں حاصل ہے (اپنے مذہب کے مطابق ’پرسنل لائف‘ گزارنے کی آزادی) اور جو آج بھی مسلمانوں کو بھارت میں حاصل ہے۔ یہ ’رہن سہن‘ کا فرق اگر اس (سیکولر) معنیٰ میں ہے.. تو آپ یہ گتھی ہمیں سلجھا دیجیے کہ ملک ایک ہونے کی صورت میں اس (’رہن سہن‘) کو فرق کیا پڑتا اور ملکوں کا بٹوارہ ہو جانے کی صورت میں اس کے ہاتھ کیا آتا؟ ہاں اگر ’رہن سہن‘ کا کوئی اور معنیٰ ہے اور وہ اس عمومی معنیٰ سے بڑھ کر ہے جو ہندو کو پاکستان میں حاصل ہے اور مسلمان کو بھارت میں حاصل ہے، اور جس کےلیے لازماً برصغیر کے دو ٹکڑے ہی ہو جانے چاہییں تھے، اور جوکہ مسلمان اور ہندو کی مشترکہ قومی زندگی کے اندر ممکن الحصول ہی نہیں تھا (’23 مارچ‘ کا واضح مدلول)... تو پھر باقی سب تعبیر کا فرق ہے، باعتبارِ مضمون آج آپ نے ہمارے ’’اسلامی پاکستان‘‘ ہی کا جشن منایا ہے۔

2۔ایسا کہہ کر آپ نے یہ بھی مانا کہ خود اِس ملک کی بنیاد ہی ہندو سے الگ رہن سہن رکھنا ہے۔ لہٰذا ہندو کے ساتھ اس رہن سہن کے فرق کو زندہ اور نمایاں کرنا اس ملک کے بنیادی ترین مقاصد میں سے ایک ہوا۔ اور اِس فرق کو حاشیائی کرنا یا ایسا معمولی سا کر دینا جو ہندوستان میں رہ کر بھی مسلمان رکھ سکتا ہے، اِس ملک کے وجود کو بےمعنیٰ کر دینا ہے۔ بتائیے لبرل ڈسکورس میں اس بات کی گنجائش بھی کب ہے؟
*****

’’معاشی مفادات‘‘ والے نقطے پر ابھی ہمیں تھوڑی گفتگو اور کرنی ہے۔ ہم خود مانتے ہیں، برصغیر کے مسلمان کے معاشی مفاد کو محفوظ کرنا ہندو سے اپنی راہ الگ کرنے کے پیچھے ایک بڑا مقصد تھا اور ایسا کرنا بالکل حق تھا۔ ہمارے نزدیک تو ہندو سے مسلمان کی ایک ایک چیز کو بچانا ضروری ہے۔ سوال صرف اتنا ہے، یہ معاشی مفادات آپ ’مذہب‘ کی بنیاد پر ہی کیوں الگ الگ کر رہے ہیں؟ آپ نتیجے پر تو بےشک پہنچ گئے ہیں لیکن اُس سبب کو طرح دے رہے ہیں جس نے سب سے پہلے ان کو دو الگ الگ جماعتیں بنایا اور پھر ان میں وہ بُعد پیدا کیا کہ دونوں کو ایک دوسرے کے مقابلے پر اپنےاپنے ’’مفاد‘‘ کی فکر کرا دی۔ ہم بھی تھوڑی دیر کےلیے کہہ دیتے ہیں، اور ویسے اصولاً بھی اس میں کوئی مانع نہیں کہ: اگر صرف مفادات ہی محفوظ ہو سکتے ہوں تو بھی مسلمان کو ہندو سے الگ ملک دے دیجیے۔ لیکن آپ تو اُس اصل نقطے کو گول کرانا چاہتے ہیں جس نے ’مفادات‘ کے اس فرق کو ’’ہندو اور مسلم‘‘ کے سوا کوئی اور عنوان دینا قبول نہ کیا۔

تھوڑا غور تو کیجیے۔ ظلم زیادتی انسانوں کی سرشت میں ہے۔ امتیاز discrimination کی بنیادیں انسانوں کے مابین بےشمار ہیں۔ اِس ہند کے اندر راجپوت کروڑوں میں ہوں گے۔ جاٹ کروڑوں میں ہوں گے۔ گوجر کروڑوں میں ہوں گے۔ یہاں ہندو بھی آپ کو راجپوت ملیں گے اور مسلمان بھی۔ ہندو بھی جاٹ ملیں گے اور مسلمان بھی۔ ہندو بھی گوجر ملیں گے اور مسلمان بھی۔ پنجابی اور مہاراشٹری میں بہت سا فرق ہو سکتا ہے۔ گجراتی اور آسامی میں پرایا پن کے بےشمار پہلو ہو سکتے ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے ’مفادات‘ کی یہ سوچ ہندو راجپوتوں اور مسلم راجپوتوں کو کبھی ایک نہیں کرتی؟ کیا ایک برادری نہیں؟ ہندو جاٹوں اور مسلم جاٹوں کو ایک نہیں کرتی؟ ہندو اور مسلم پنجابیوں کو مثال کے طور پر ہندو و مسلم مہاراشٹریوں کے مقابلے پر ایک نہیں کرتی۔ ہندو اور مسلم گجراتیوں کو ہندو و مسلم آسامیوں کے مقابلے پر ایک نہیں کرتی؟ شروع سے آخر تک وہ ایک ہی بات آخر یہاں کیوں ہے جو مسلم راجپوت کے مفاد کو ہندو راجپوت کے مفاد کے مقابلے پر لے آتی ہے، حالانکہ یہ ایک برادری ہیں؟ مسلم جاٹ کو ہندو جاٹ کے مقابلے پر ہی ’مفادات‘ کی فکر کرواتی ہے، حالانکہ یہ ایک ذات ہیں؟ مسلم گوجر کا ’مفاد‘ مسلم پٹھان کے ساتھ تو نتھی کرواتی ہے لیکن ہندو گوجر کے ساتھ اس کے ’مفاد‘ ہی کا بیر ڈال دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا کرۂ ارض کرسچین بن چکا ہے- پروفیسر جمیل چودھری

بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ایک بات پر غور کریں۔ دَلَت (نیچ ذات) اور اونچی برادریوں کے مابین مفادات کا ٹکراؤ ہندوستان کی پوری ایک تاریخ رکھتا ہے۔ لیکن یہ تاریخی ٹکراؤ بھی اس نوبت کو نہیں آتا بلکہ اس کا خیال تک پیدا نہیں ہوتا کہ دونوں کے مفادات الگ الگ ملک کا تقاضا کرنے لگیں۔ پس آپ نے جس بات کی ’نشاندہی‘ فرمائی وہ اپنی جگہ بجا، لیکن ہمارا تو سوال یہ ہے کہ ہندوستان کے اس جنگل میں جہاں انسانوں کے مابین امتیاز کے بےشمار عنوان ہیں مگر ان میں سے کوئی بھی امتیاز.. جی ہاں کوئی ایک بھی امتیاز ان کے باہمی مفادات اس حد تک متصادم نہیں ٹھہراتا کہ ان کے مابین ’ملکوں‘ کا فرق ڈال دینے کو خود آپ بھی جائز کہیں... وہاں ایک فرق ایسا ہے جس نے ان کروڑوں انسانوں کے مابین ’مفادات‘ کو اس حد تک متصادم اور حسّاس کر دیا ہے کہ خود آپ نے یہ فتویٰ دے ڈالا کہ ان کو ملک الگ الگ کر ہی لینے چاہییں تھے اور ایسا اعلیٰ مطالبہ قبول ہونے پر تاحیات جشن ہونے چاہییں! اور اس ایک ’’جائز فرق‘‘ کا نام ہے ’’ہندو بمقابلہ مسلمان‘‘ جس پر آج سارا دن الحمد للہ آپ جشن مناتے رہے ہیں! اس کو ’مفادات‘ کا فرق کہہ کر آپ نے درحقیقت کسی مسئلے کا حل نہیں کیا۔ وہ اصل سوال جوں کا توں ہے۔

اور اگر کچھ نکتہ ور یہ فرمائیں کہ ’مذہب‘ کا ڈالا ہوا یہ فرق جائز کب ہے، ہماری (لبرلز کی) نظر میں تو یہ افسوس ناک ہے کہ ان کروڑوں انسانوں کے مابین تفریق کے باقی سب عنوان پیچھے چلے گئے اور اس ایک ہی عنوان نے ان کو ’’دو قومیں‘‘ کر دیا۔ نیز یہ کہیں کہ یہ تو ایک المیہ ہے کہ ’مذہب‘ کے فرق نے دونوں کے مابین ایسی دوری ڈال دی کہ دونوں کے ’معاشی مفادات‘ ایک ساتھ نہ چل سکتے تھے، لہٰذا ہم (لبرل) اس کو ایک واقعے کے طور تو تسلیم کرتے ہیں مگر اصولاً تو ’مذہب‘ کی اٹھائی ہوئی اِس دوری کو ہم رد ہی کرتے ہیں... تو ہم ان سے کہیں گے کہ پھر یہ آپ کے عقیدے کے خلاف ایک واقعہ ہوا، سارا دن اس پر بھنگڑے کس بات کے ڈالے؟

ہماری مثال لے لو۔ بنگلہ دیش کے الگ ہونے کو ایک واقعہ کے طور پر تو ظاہر ہے ہم مانتے ہی ہیں۔ لیکن ’بنگلہ دیش‘ کی کسی قرارداد کے پیش ہونے کے دن ہم جشن نہیں منا رہے ہوتے بلکہ ایسا کوئی دن منایا جا رہا ہو تو ہمارے زخم ہرے ہو جاتے ہیں۔

پس ’مذہب‘ کے اٹھائے ہوئے ’مفادات‘ کے ایک نزاع پر تمہاری یہ خوشیاں سیکولرزم کے کئی ایک مضامین کی نفی ضرور ہے۔ اور فی الوقت یہ بھی کافی ہے۔