لبرلز کے ’’دفاع‘‘ میں کچھ باتیں - ابوبکر قدوسی

حیران نہ ہوں کچھ لبرل اتنا حق رکھتے ہیں کہ ان کا دفاع کیا جائے. اس تحریر کا سبب ہمارے ایک بھائی کی بھیجی ہوئی ایک تحریر بنی کہ بہت سے ’’لبرل‘‘ حضرات بھی دل میں محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا شدید جذبہ رکھتے ہیں اور فیصلہ تو اللہ نے کرنا ہے، ہم کون ہوتے ہیں کسی کے ایمان کا فیصلہ کرنے والے؟

بات تو درست ہے کہ ہم کون ہوتے ہیں؟ لیکن پھر کچھ سوال پیدا ہو جاتے ہیں جو ان ہمارے ’’معزز‘‘ اور مسلمان لبرل حضرات کی سوچ و فکر پر اٹھتے ہیں.
کہ ان جدید فکر و نظر کے حاملین کے ہاں لبرل ازم ہے کیا؟
لبرل ہونا ان کے نزدیک کس کو کہتے ہیں؟

محض آزاد سوچ و فکرکا حامل ہونا ہی لبرل ہونا نہیں. اگر ہمارا کوئی دوست ایسا سمجھتا ہے تو وہ پھر شوقیہ لبرل ہے اور اس کو اپنے نام کے ساتھ ’’لبرل‘‘ کا لفظ بطور فیشن جوڑنا مقصود ہے اور بس. اس سے پہلے کہ میں لبرل ازم کا ذکر کروں، ایک سوال آپ کے سامنے رکھوں گا. پڑھیے اور بتائیے کہ کیا یہ جملہ صحیح ہے یا لکھنے والے اور بولنے والے کے دماغ کا خلل جانا جائے گا:
’’جی میں بہت یہودی سا انسان ہوں لیکن ہوں اندر سے پکا مسلمان‘‘.
او ہو ہو .. ناراضگی نہیں ...
آپ کہیں گے کہ یہ کیا کہ یہودی بھی مسلمان بھی .
ہم کہیں گے کہ یہ کیا کہ مذہبی بھی اور لادینی بھی..
چلیے آسان سی مثال. آپ مسلمان ہیں ؟
عیسی علیہ السلام کو مانتے ہیں؟
پھر آپ عیسائی کیوں نہیں کہلاتے؟
پھر وہی دماغ کا خلل نہ کہیےگا.

چلیے اب لبرل ام کی طرف چلتے ہیں.. مثالوں کو چھوڑئیے آپ اکتا رہے ہیں.
لفظ ’لبرل‘، قدیم روم کی لاطینی زبان کے لفظ ’لائیبر‘ (Liber) اور پھر ’لائبرالس‘ (Liberalis) سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ہے’’آزاد، جو غلام نہ ہو‘‘۔ آٹھویں صدی عیسوی تک اس لفظ کے معنی ایک آزاد آدمی ہی تھا۔ بعد میں یہ لفظ ایک ایسے شخص کے لیے بولا جانے لگا جو فکری طور پر آزاد، تعلیم یافتہ اور کشادہ ذہن کا مالک ہو۔ اٹھارھویں صدی عیسوی اور اس کے بعد اس کے معنوں میں خدا یا کسی اور مافوق الفطرت ہستی یا مافوق الفطرت ذرائع سے حاصل ہونے والی تعلیمات سے آزادی بھی شامل کر لی گئی، یعنی اب لبرل سے مراد ایسا شخص لیا جانے لگا جو خدا اور پیغمبروں کی تعلیمات اور مذہبی اقدار کی پابندی سے خود کو آزاد سمجھتا ہو، اور لبرل اِزم سے مراد اسی آزاد روش پر مبنی وہ فلسفہ و نظام اور اخلاق و سیاست ہوا جس پر کوئی گروہ یا معاشرہ عمل کرے۔ یہ تبدیلی اٹلی سے چودھویں صدی عیسوی میں شروع ہونے والی تحریکِ احیاے علوم (یعنیRebirth of Renaissance) کے اثرات یورپ میں پھیلنے سے آئی۔ برطانوی فلسفی جان لاک (۱۶۲۰۔۱۷۰۴ء) پہلا شخص ہے جس نے لبرل اِزم کو باقاعدہ ایک فلسفہ اور طرزِ فکر کی شکل دی۔ یہ شخص عیسائیت کے مروّجہ عقیدے کو نہیں مانتا تھا کیونکہ وہ کہتا تھا کہ بنی نوعِ انسان کو آدم کے اس گناہ کی سزا ایک منصف خدا کیوں کر دے سکتا ہے جو انھوں نے کیا ہی نہیں۔ عیسائیت کے ایسے عقائد سے اس کی آزادی اس کی ساری فکر پر غالب آگئی اور ایک وقت آیا کہ خدا اور مذہب پیچھے رہ گئے۔

تو جناب یہ ہے اصلی لبرل ازم جس میں خدا کا وجود نہ مذہب کی قید، نہ دین نہ اسلام، تو آپ کس طرح خود کو اٹھتے بیٹھتے لبرل بھی کہتے ہیں اور مسلمان بھی. لبرل بھی کہتے ہیں اور اللہ اکبر بھی..
دو رنگی چھوڑ کر یک رنگ ہو جا
یا سراسر موم ہو جا یا سنگ ہو جا

اصل میں آپ کو شوق ہے ماڈرن بننے کا، آپ کو مولوی اور مذہبی طبقے دقیانوسی لگتے ہیں. آپ کچھ الگ سے نظر آنا چاہتے ہیں، سو صبح شام خود کو لبرل کہتے نہیں تھکتے، اور جو اصلی لبرل ہیں، جو اصل میں اس معاشرے کے ’چھٹے‘ ہوئے ذوالوجہین ہیں، آپ سادگی میں ان کے ساتھ جا بیٹھتے ہیں.

اب ذرا اصلی لبرلز کا حال بھی دیکھتے ہیں. ہمارے معاشرے میں یہ مخلوق بہت کم پائی جاتی ہے، لیکن اس کا وجود ہے ضرور. ان کی ’’مار‘‘ مولوی سے آگے نکل کے مذہب، شعار مذہب اور مقدسات تک جا پہنچی ہے. جو روز بروز جری ہو رہے ہیں، یہ لوگ حقیقتا مذہب کے منکر ہیں، خدا کے اور دین کے باغی ہیں، گو مسلمانوں والے نام رکھتے ہیں کہ کسی نہ کسی مسلمان کے گھر جنم لیا تھا، لیکن مغرب کے لبرلزم سے ان کا بھی کوئی لینا دینا نہیں، مغرب کے لبرل ازم میں ہزار خامیوں کے باوجود ایک خوبی تھی کہ وہ مذہب دشمن ضرور تھے، منافق نہ تھے، سو مذہب کا انکار کرتے، خدا کا انکار کرتے لیکن احترام انسانیت کا نعرہ بلند کرتے تھے. اسی احترم آدمیت اور شخصی آزادی کے تصور کو یہاں تک لے گئے کہ ان کا نظریہ ٹھہرا کہ:
’’بھلے ہم خدا کے مذہب کے منکر ہیں، لیکن ہم آپ کے احترم میں آپ کے خدا کا مذاق نہ اڑائیں گے نہ توہین کریں گے کہ یہ آپ کے انسانی حقوق کی مخالفت ہوگی.‘‘

لیں جی! یہ تھا مغرب کا لبرل ازم. اب ہمارے ہاں کے جو اصلی لبرل ہیں، میں ان کو بدتمیز اور بد اخلاق انسان تو کہہ سکتا ہوں، کم از کم مغرب والے لبرل نہیں.
اور رہے ’فیشنی‘ اور ’شوقیہ‘ لبرل.. آپ کی نذر ایک شعر ہے
معشوقِ ما بہ شیوہ ہر کس موافق است
باما شراب خورد و بہ زاہد نماز کرد
اور ساتھ یہ عرض ہے کہ خود کو لبرل کہنے کا مطلب ہے کہ آپ خدا اور رسول کا انکار کر رہے ہیں اور جو خدا اور رسول کا منکر ہوتا ہے وہ .......

جناب من ! اصطلاحات کے وہی مفاہیم و معانی لیے جاتے ہیں جو اس کے حاملین کے ہاں مقرر ہوتے ہیں. یہ نہیں کہ آپ کے نزدیک لبرل ازم کا مطلب ہے سوچ و فکر کی آزادی، مولوی سے آزادی، ملا اور اس کے افکار سے آزادی، تو آپ ’’مسلمان لبرل‘‘ ہوگئے.

اگر آپ اس اصطلاح کا ترجمہ اپنی مرضی کا کر کے لبرل ہو سکتے ہیں، تو اس کا کیا قصور جو خود کو ’’مسلمان عیسائی‘‘ بولے کہ جی میں عیسی کو بھی تو مانتا ہوں. یا کوئی عیسائی یہودی کہلائے کہ جی میں بائبل کے’’یہودا‘‘ پر بھی تو ایمان رکھتا ہوں، موسی کو بھی مانتا ہوں

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com