علامہ جاوید احمد غامدی کا بیانیہ - پروفیسر مفتی منیب الرحمن

13مارچ کو جنابِ شاہ زیب خانزادہ کے پروگرام میں، میں نے مختصر بات کی، اُس کے بعد علامہ جاوید احمد غامدی کو اپنی بات تفصیل سے کہنے کا موقع دیا گیا۔ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ بیانیہ جدید دور کی اصطلاح ہے۔ اصولی طور پر کسی ملک و قوم کا دستور ہی اُس کا اجتماعی میثاق اور بیانیہ ہوتا ہے، اور اُس میں ملک کو درپیش معاملات کو حل کرنے کا طریق کار موجود ہوتا ہے۔

جنابِ حبیب اکرم نے بجا طور پر لکھا ہے کہ کسی نئے بیانیے کی ضرورت نہیں ہے، اصل مسئلہ قانون کی حکمرانی ہے جو ہمارے ہاں مفقود ہے، جرم کو جرم سمجھا جائے اور مجرم کو عبرتناک سزا دی جائے۔ قرآن کریم نے فساد فی الارض، جسے آج کل دہشت گردی کہا جاتا ہے، کی سب سے سنگین سزا مقرر کی ہے اور رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ عُرَینہ کے دہشت گردوں کو عبرتناک سزا دی۔ یہی اصل بیانیہ ہے، جس کا اظہار الفاظ سے نہیں عمل سے ہونا چاہیے، مگر نہیں ہو رہا۔

متفقہ دستور سے انحراف کی کسی کو اجازت نہیں ہوتی۔ ہمارے دستور پر اگر لفظاً و معنیً عمل کیا جائے تو آج جو سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، اُن کا جواب مل جائے گا۔ کوئی ایسا حل جو دستوری میثاق کے منافی ہو، قبول نہیں کیا جاسکتا تاوقتیکہ دستور میں ترمیم کر کے اُس کی گنجائش نکالی جائے۔ بعض اوقات قوموں اور ملکوں کو مخصوص حالات درپیش ہوتے ہیں، دستور کے دائرے میں رہتے ہوئے ہنگامی نوعیت کے فیصلے کرنے ہوتے ہیں، اس کا طریقۂ کار بھی دستور میں درج ہوتا ہے۔ اس کی مثال پاکستان میں پارلیمنٹ کی دوتہائی اکثریت کی منظوری سے آئینی ترمیم کے ذریعے محدود مدت کے لیے فوجی عدالتوں کا قیام ہے۔

علامہ غامدی نے چند سوالات اٹھائے ہیں: پہلا سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ایک قومی ریاست ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ 14اگست 1947ء سے پہلے روئے زمین پر نہ پاکستان کے نام سے کوئی ملک تھا اور نہ پاکستانی کے نام سے کوئی قوم تھی تاکہ یہ کہا جائے کہ یہ ملک اِس قوم نے بنایا۔ ویت نام شمالی اور جنوبی کے نام سے تقسیم ہوا اور دوبارہ اسی نام سے ایک ملک بن گیا، یہی صورتِ حال شمالی اور جنوبی یمن، مغربی ومشرقی جرمنی کی ہے، اور اگر کل شمالی و جنوبی کوریا مل جاتے ہیں، تو ملک کا نام کوریا ہی رہے گا۔ الغرض منقسم ہوں تب بھی وہی نام اور مل جائیں تو بھی وہی نام، یعنی ویت نام، جرمنی، یمن اور کوریا وغیرہ، کیونکہ ان ممالک اور اقوام کا پہلے سے تاریخی وجود تھا۔ پاکستان اگر تاریخی اعتبار سے ہمیشہ سے ایک ملک اور پاکستانی ایک قوم ہوتے، تو مشرقی پاکستان علیحدگی کے باوجود مشرقی پاکستان ہی رہتا، لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ وہ بنگلہ دیش بن گیا۔ سو آج کسی کو پسند ہو یا ناپسند، ہند کی تقسیم کا مطالبہ مسلمانوں نے جداگانہ مسلم قومیت کی بنیاد پر کیا تھا، اگرچہ آج کل بعض دانشوراُسے متنازعہ بنا رہے ہیں۔ اس لیے یہ حقیقت تھی یا فریب، بہرصورت نعرہ تو یہی لگایا گیا تھا: پاکستان کا مطلب کیا: ’’لا اِلٰہ الا اللہ‘‘ اور آج بھی مقبوضہ کشمیر میں تحریک حریت کشمیر کے رہنماؤں کو ہم نے ٹیلی ویژن پر بارہا یہ نعرہ لگاتے ہوئے سنا ہے: پاکستان سے رشتہ کیا، لا الٰہ الا اللہ۔

ان کا دوسرا سوال یہ تھا: پاکستان اگر قومی ریاست ہے، تو کیا قومی ریاست اسلام کی رُو سے جائز ہے؟ ہمارا جواب یہ ہے کہ تحریک آزادی کی آدرش اور ہمارے دستوری میثاق کی رُو سے پاکستان ایک اسلامی جمہوری ریاست ہے اور اس حقیقت کا انکار دستورِ پاکستان کے انکار کے مترادف ہے۔ ہم سے مشابہت رکھنے والی ایک نظریاتی ریاست دنیا کے نقشے پر اسرائیل ہے اوراس کی پارلیمنٹ کا نام Knesset ہے، جس کے معنی ہیں: ’’عبادت گاہ یا کنیسہ‘‘۔ اسرائیل میں مذہبی سیاسی جماعتیں بھی ہیں اور حال ہی میں ایک سیاسی جماعت نے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل میں عبرانی شریعت یعنی تورات کا قانون نافذ کیا جائے، اس پر امریکہ اور پورے یورپ میں کہیں بھی شور برپا نہیں ہوا کہ یہ دقیانوسیت ہے، قدامت پسندی ہے اور مذہبی انتہاپسندی ہے۔ اگر علامہ جاوید غامدی دستورِ پاکستان کا مطالعہ فرمائیں، تو اس میں ریاست کو قرآن و سنت کے مطابق قانون سازی کا پابند کیا گیا ہے۔ پس اگر کوئی سیاسی جماعت جمہوری طریقے سے نفاذِ اسلام یا نفاذِ شریعت کا مطالبہ کرتی ہے تو یہ دستور پاکستان کا تقاضا ہے۔ ہاں! اس کے لیے مسلح جدوجہد کرنا یا ماورائے دستور کوئی طریقۂ کار اختیار کرنا، دستور کے خلاف ہے، اور ہم اس کے حق میں نہیں ہیں۔

ان کا تیسرا سوال یہ ہے کہ کیا مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ دنیا میں ایک ہی حکومت قائم کریں اور وہ خلافت کے نام پر ہو۔ اُس کا جواب یہ ہے کہ اپنے دائرۂ اختیار و اقتدار میں تو قرآن نے مسلمانوں کی یہ ذمہ داری قرار دی ہے: ’’اور جو اللہ کے دین کی مدد کرتا ہے، اللہ ضرور اُس کی مدد فرماتا ہے، بےشک اللہ ضرور قوت والا بہت غلبے والا ہے، اگر ہم ان لوگوں کو زمین میں اقتدار عطا فرمائیں، تو (اُن پر لازم ہے کہ) وہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اور نیکی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے ،(الحج:41)‘‘۔ البتہ قرآنِ مجید نے امتِ مسلمہ کو ’’خَیْرُ الاُمَم‘‘ اور ’’اُمَتِ وَسَط‘‘ قرار دیا ہے، اور اُن کی ذمہ داری قرار دی ہے کہ وہ نیکی کو پھیلائیں، اور برائی کو روکیں۔ لیکن یہ دعوت قرآنِ مجید کے اسلوبِ دعوت کے مطابق ہونی چاہیے، اس کے لیے مسلح جدوجہد کرنے یا داعش، القاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی طرح لوگوں کی گردنیں کاٹنے یا زمین پر فساد برپا کرنے کا حکم نہیں دیا گیا، اور ہم سب اس سے برات کا اعلان کرتے ہیں۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ریاستی طاقت سے اِن کا قَلع قَمع کرے اور انسانیت کو اِن کے فساد سے نجات دلائے۔ نظریاتی اعتبار سے خلافت کی بات کرنا نہ معیوب ہے اور نہ ممنوع، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ’’بنی اسرائیل کے امورِ سیاست انبیائے کرام انجام دیتے تھے، جب ایک نبی کا وصال ہوجاتا، تو دوسرا نبی اُس کی جگہ لے لیتا، مگر اب میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، سو میرے بعد خلفاء ہوں گے، (صحیح مسلم:1842)‘‘۔ اگر جمہوری اور پرامن طریقے سے کوئی کمیونزم یا سوشلزم یا لبرل ازم یا سرمایہ دارانہ نظام کی بات کرے، تو اس پر کسی کو نہ اعتراض ہوتا ہے اور نہ ہی اِسے معیوب سمجھا جاتا ہے، لیکن اِسی شِعار پر اگر کوئی نفاذِ اسلام یا نفاذِ شریعت کی بات کرے، تو اِسے ہدفِ ملامت بنایا جاتا ہے، یہ بات ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان کا خطاب، وابستہ توقعات اور میری رائے - منیم اقبال

علامہ غامدی کا ایک مطالبہ یہ ہے کہ ریاست واضح طور پر یہ مؤقف اختیار کرے کہ ’’کفر و شرک کے خلاف جنگ برپا کرنا اسلام کا مطالبہ نہیں ہے‘‘، ہم اس حوالے سے اُن کے ساتھ یک آواز ہیں، کیونکہ یہ فساد کا راستہ ہے اور اسلام کا شِعار اصلاح ہے۔ علامہ غامدی کہہ رہے ہیں کہ اگر علماء یہ مؤقف نہ دے رہے ہوں تو ریاست سامنے آئے، ہم ایک عرصے سے ببانگِ دہل یہ بات کر رہے ہیں، ریاست کی کمزوری یا بےعملی کا وبال علماء پر کیوں ڈالا جا رہا ہے۔ اسی طرح ریاست کے اندر جو طبقات ہماری فوج یا ریاست یا عوام کے خلاف آمادۂ فساد ہیں، اُن کی سرکوبی کرنا ریاست و حکومت کی ذمے داری ہے، ہم ان کے مُدافِع یا پُشتیبان یا سہولت کار نہیں ہیں اور اگر کوئی طبقہ ہے تو اُس کی نشاندہی کر کے سامنے لانا ریاست کی ذمے داری ہے، عمومیت اور ابہام کے ساتھ الزام لگانے کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہونا چاہیے ۔

علامہ غامدی سے جناب شاہ زیب خانزادہ نے سوال کیا :’’ریاست اپنی ہی ماضی کی پالیسیوں کا شکار (Victim) بن جاتی ہے‘‘۔ علامہ غامدی نے اس سوال کا جواب گول کر دیا، یہی سوال مولانا فضل الرحمن نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں کیا: ’’ہمیں بتایا جائے کہ ہمارے مدارس کے بچوں کو ہتھیار کس نے پکڑائے؟‘‘۔ یہ ایک مِلین ڈالر کا سوال ہے، لیکن اس سوال کا جواب دینے کے لیے کوئی تیار نہیں ہے۔ اگر ریاستی اداروں نے یہ کام کیا ہے، تو پھر انہیں سب کچھ معلوم ہوگا اور قوم کو سچ بتا دینا چاہیے۔ ہماری نظر میں اس کی آڑ میں کسی امتیاز کے بغیر تمام اہلِ مذہب کو ملامت کرنا یا ہَدف بنانا اور آئے دن میڈیا کا نشانے پر رکھنا غیر شرعی، غیر آئینی اور غیر اخلاقی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ سچ بولا جائے اور آئندہ کے لیے پالیسی دو ٹوک بنائی جائے۔ غامدی صاحب بتائیں کہ داعش اور القاعدہ کے بارے میں ان کے اور ہمارے مؤقف میں کیا فرق ہے؟، لیکن وہ میڈیا کے محبوب ہیں اور ہم ناپسندیدہ۔ حکومتوں کایہ تضاد پاکستان تک محدود نہیں ہے، اس میں امریکہ، پورا یورپ اور عالمِ عرب بھی شامل ہے۔ یہ ایک بیّن حقیقت ہے کہ ماضی میں القاعدہ جیسی تنظیموں کو سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک سے سرپرستی ملتی رہی ہے، آج یہ تپش اُن کی سرحدوں تک پہنچی ہے تو اب وہ انہیں خارجی اور تکفیری قرار دے رہے ہیں، اپنی ماضی کی اِن غلطیوں کو کوئی بھی کھلے عام تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

علامہ غامدی نے کہا: ’’میں نے بارہا عرض کیا: جامع مسجد ریاست کے کنٹرول میں ہونی چاہیے، دنیا بھر میں ریاست کے کنٹرول میں ہوتی ہے، ملائشیا میں ریاست کے کنٹرول میں ہے، عرب ممالک میں ریاست کے کنٹرول میں ہے، ہمارے ملک میں نہیں ہے، ریاست یہ اِقدام نہیں کرسکی، تو یہ بیانیہ کی توقعات کہاں سے رکھے‘‘۔ علامہ صاحب کی خواہش یہ ہے: ’’مذہب ریاست کی ملازمت میں آجائے، ظلِّ الٰہی کے خطبے پڑھے جائیں اور راوی ہر سُو چین لکھے‘‘۔ ہمیں بھی معلوم ہے کہ ملائشیا، عرب ممالک، ترکی حتیٰ کہ وسطی ایشیا میں بھی مذہب ریاست کے کنٹرول میں ہے، تو پھر سوال یہ ہے کہ القاعدہ اور داعش نے تو عرب ممالک میں جنم لیا ہے، جہاں مذہب ریاست کی ملازمت میں ہے، خطبے دربارِ سرکار سے لکھے ہوئے آتے ہیں، پھر یہ انہونی کیسے ہوگئی، استاد ذوق نے کہا تھا:
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مرجائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا، تو کدھر جائیں گے

جب امریکہ میں ہمارا مکالمہ ہوتا ہے ، تو وہ کہتے ہیں: ’’ریاست کو مذہب سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے، ہماری دوسری آئینی ترمیم اسی بات کی ضمانت دیتی ہے کہ ریاست کسی خاص مذہب کی مُرَبِّی نہیں بنے گی اور اُن کے بقول برطانیہ کے مقابلے میں امریکہ میں چرچ زیادہ آباد ہیں۔ برطانیہ میں مذہب ریاست کی سرپرستی میں ہے، آرچ بشپ آف کنٹربری یعنی ’’اُسقُفِ اعظم برطانیہ‘‘ کا تقرر وزیرِاعظم ایک طریقۂ کار سے گزرنے کے بعد کرتا ہے‘‘۔ لیکن چرچ ویران ہیں۔ یہی حال دوسرے ممالک کا ہے۔

ہماری نظر میں مذہب کو ریاست کے کنٹرول میں لینے کی خواہش نہایت سطحی ہے۔ جنابِ غامدی کے مؤقف میں ایک تضاد یہ ہے کہ وہ ریاست کو سیکولر بنانا چاہتے ہیں، اور پھر مذہب کو سیکولر ریاست کی ملازمت میں رکھنا چاہتے ہیں، یہ بیّن تضاد ہے، کیونکہ مذہب اور سیکولرازم دو متضاد چیزیں ہیں۔ جنابِ ایاز امیر کو مذہبی چہرے ناپسند ہیں۔ جب علامہ ڈاکٹر طاہر القادری انقلاب برپا کرنے اسلام آباد وارد ہوئے تھے تو تھوڑے عرصے کے لیے وہ ان کی پسندیدہ شخصیت تھے، مگر تحریک کے ناکام ہونے پر انہوں نے اُن کے قصیدے پڑھنے بھی چھوڑ دیے۔ حال ہی میں انہوں نے ’’اگر دہشت گرد صرف وحشی اور جاہل ہوتے‘‘ کے عنوان سے کالم لکھا، جس کا مفہوم یہ ہے کہ ’’انتہا پسندی، اذیت رسانی اور طاقت کے بل پر اپنے نظریات دوسروں پر مسلّط کرنا ایک Mindset ہے، اس کا غربت اور جہالت سے تعلق نہیں ہے‘‘۔ قرآن مجید نے یہی حقیقت بیان کی ہے:
’’پس کیا آپ نے اُس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا لیا اور اللہ نے اُسے علم کے باوجود گمراہ کر دیا اور اُس کے کان اور اُس کے دل پر مہر لگا دی اور اُس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا، پس اللہ کے بعد اُس کو کون ہدایت دے سکتا ہے، تو کیا تم نصیحت قبول نہیں کرتے،(الجاثیہ:23)‘‘۔ قرآنِ کریم نے یہ بھی بتایا کیا کہ مُفسِد مُصلِح کے روپ میں آتا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’اور جب اُن سے کہا جائے’’زمین میں فساد نہ کرو‘‘، تو وہ کہتے ہیں: ’’ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں، سنو! درحقیقت یہی لوگ فسادی ہیں، لیکن انہیں (اپنے جرم کا) شعور نہیں ہے. (البقرہ:11-12)‘‘۔

امریکہ اور اہلِ مغرب امن اور اصلاح کے نام پر ہی تو 1990ء میں عراق میں آئے اور تب سے اب تک عراق، شام، لیبیا، یمن، مصر اور افغانستان میں کئی لاکھ انسانی جانیں تلف ہوئیں، کئی ملکوں کو تہس نہس کیا، ہم بھی اس کا شکار رہے، مگر امن کی منزل اب بھی کوسوں دور ہے۔ یہی بات ہم ایک عرصے سے کہتے چلے آ رہے ہیں، لیکن پشتو کا محاورہ ہے:’’غریب مُلّا کی اذان پر کوئی کلمہ بھی نہیں پڑھتا‘‘۔ لیکن اگر وہی بات کوئی ’’دانشور ‘‘ کہہ دے، تو وہ ناقابلِ تردید حجت بن جاتی ہے۔ جنابِ ایاز امیر نے بطورِ مثال ہٹلر، اسٹالن، ماؤزے تنگ، کمبوڈیا کے خیمر روگ، امریکہ کی ویت نام پر یلغار اور پھر عالمِ عرب پر امریکہ اور یورپ کی یلغار کا حوالہ دیا کہ یہ سب کچھ جہالت اور غربت کے سبب نہیں ہوا، بلکہ یہ اپنے عہد کے اعلیٰ تعلیم یافتہ اورروشن خیال لوگ تھے، اور اِن میں سے اکثر اقتدار پر متمکن تھے۔ امریکہ اور اہلِ مغرب کی اتباع میں پاکستان میں دہشت گردی کو بلا استثناء اہلِ مذہب اور دینی مدارس وجامعات کے ساتھ جوڑنے کا نقصان یہ ہوا کہ اصل مسئلہ پسِ پشت چلا گیا اور مدارس ہدف پر رکھ لیے گئے۔ گزشتہ ربعِ صدی سے اس رُجحان کا سائنٹیفک تجزیہ اور مرض کی تشخیص کرکے اُس کا علاج تجویز کرنے کی نوبت ہی نہ آئی۔

یہ بھی پڑھیں:   مولانا فضل الرحمن کی خدمت میں - آصف محمود

امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر 1990ء سے عالمِ عرب پر یلغار شروع کر رکھی ہے اور 2002ء سے افغانستان پر فوج کشی کیے ہوئے ہے، افغانستان، عراق، لیبیا اور شام سمیت کون سا ملک ہے جہاں امریکہ نے اپنے مقاصد کے لیے اِن دہشت گرد تنظیموں کو استعمال نہیں کیا۔ جدید دہشت گردی سائنٹیفک طریقوں سے ہو رہی ہے اور تو چھوڑیے، جو خود کش حملہ آور بارود اور بال بیرنگ پر مشتمل خود کش جیکٹ پہن کر اپنے وجود کو اُڑاتا ہے، کیا یہ سارا سازوسامان وہ خود بناتا ہے۔ ہمارامیڈیا بھی مغرب کا مُقَلِّد اور اندھے کی لاٹھی ہے، ان کا کوئی نمائندہ کسی پُر خطر مقام پر موجود نہیں ہوتا۔ آج عالمِ عرب میں جو کچھ ہو رہا ہے، کیا ہمارے میڈیا کا ایک بھی نمائندہ وہاں موجود ہے، سو ہمارے پاس کوئی خبر اپنی اصل شکل میں نہیں آتی، بلکہ ہر خبر مغرب کی چھلنی سے چھَن کر آتی ہے۔ امریکہ تو بظاہر سیکولر دنیا کا امام ہے، تو جارج بش کی زبان پر کروسیڈ کا نام کیسے آگیا؟ یہ وہ جنگ ہے جو ختم ہونے کو نہیں آرہی، اگر ایک جگہ اس کے شعلے وقتی طور پر فرو ہوتے ہیں، تو دوسری جگہ بلند ہوجاتے ہیں، اس کا سبب کیا ہے؟

علامہ غامدی صاحب کی مذہب کو ریاست کا ملازم بنانے کی خواہش بجا، لیکن موجودہ حالات میں میری اور اُن کی زندگی میں پوری ہوتی نظر نہیں آرہی، مستقبل کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ دراصل حکومت کا کام بلا امتیاز قانون کو نافذ کرنا ہے، اگر ہمارے وطنِ عزیز میں قانون کی حکمرانی قائم ہوجائے اور عدل بلا امتیاز اور بلا قیمت دستیاب ہوجائے، تو ان شاء اللہ العزیز معاشرے میں فساد بہت حد تک ختم ہوجائے گا، سو فیصد تطہیر تو کہیں بھی ممکن نہیں ہے ۔

جنابِ غامدی کا ایک موقف یہ ہے:’’پہلے بارہ سال کی لازمی ریاستی تعلیم کے لیے ہماری ریاست میں کوئی بل بُوتا نہیں ہے اور اب تک نہیں کرسکی‘‘۔ ہماری دانست میں عربی لفظ کی فارسی لفظ کی طرف اضافت کرکے ترکیب بنانا درست نہیں ہے، جیسے ’’وسیع البنیاد‘‘، مگر ہمارے ہاں رائج ہے، اس کے بجائے ’’وسیع الاصل‘‘ہونا چاہیے، کیونکہ کسی چیز کی بنیاد کو اصل کہتے ہیں۔ مدارس کے تین فیصد بچوں کو توایک طرف رکھیں، کیا پاکستان میں ریاست نے آج تک یہ انتظام کیا ہے کہ ہر بچہ اسکول جائے اور قوم کے تمام بچوں کو ایک نصاب پر مشتمل اعلیٰ معیاری تعلیم دی جائے۔ پاکستان میں معیاری تعلیم تو سب سے منفعت بخش صنعت و تجارت بن چکی ہے، جنابِ جاوید غامدی کو اس پر بات کرنی چاہیے۔ غریب کا بچہ بالفرض ملک کا سب سے ذہین ترین انسان ہے، مگر وہ تعلیم جو قابلِ فروخت جنس بن چکی ہے، کیا وہ اُسے خریدنے کی استطاعت رکھتا ہے، جواب یہ ہے کہ ہرگز نہیں، سو پہلے ازراہِ کرم اس پر بات کیجیے۔ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ دینی مدارس میں جانے والے چند لاکھ بچے بھی کسی ورک شاپ پر کاکے اور چھوٹے بن کر استاذ کے پھینکے ہوئے سگریٹ کے کَش لگائیں اور گالیاں سن کراخلاق سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں۔ غریب والدین جو اپنے بچوں کو لوگوں کے گھروں میں ملازم کے طور پر بھیجتے ہیں، آئے دن اُن بچوں پر مظالم کی داستانیں میڈیا کی زینت بنتی ہیں، کیا حکومت نے یہ لازم کیا ہے کہ اُن بچوں سے خدمت لینے والے انہیں اسکول بھی بھیج دیا کریں ۔غامدی صاحب یہ بتائیں کہ کیا لوگوں کے بچوں کو جبراً دینی مدارس میں لایا جاتا ہے یا وہ اپنی خواہش پر آتے ہیں۔

حکومتی تعلیمی اداروں میں تعلیم کا حال کیا ہے، میں کسی دور اُفتادہ دیہات کی بات نہیں کروں گا، بلکہ جنابِ غامدی سے کہوں گا کہ وہ عروس البلاد کراچی، جسے پاکستان کا اقتصادی کیپٹل بھی کہاجاتا ہے، کے سرکاری تعلیمی اداروں کا اپنے ادارے ’’المورد‘‘ کے ذریعے اچانک دوچار بار معائنہ کرائیں، تو مجھے یقین ہے کہ وہ اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ اس خرابے میں بچوں کے مستقبل کو برباد نہ کیا جائے۔ حالانکہ عمارت بھی موجود اور رجسٹر پر اساتذہ کی طویل فہرست بھی نظر آئے گی، مگر کلاسیں ویران نظر آئیں گی۔

جنابِ عمران خان نے پختونخوا میں تعلیمی نظام کو یکساں کرنے کے بلند بانگ دعوے کیے تھے، انہوں نے سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی حاضری کو بہت بہتر بنایا ہے، لیکن اُن کی جماعت میں بھی تعلیم کے تاجر موجود ہیں اور پرائیویٹ سیکٹر میں انگلش میڈیم تعلیمی ادارے بڑی تعداد میں آج بھی صوبے میں موجود ہیں۔ ہماری مسلّح افواج نے نرسری سے لے کر یونیورسٹی کی سطح تک معیاری تعلیمی ادارے قائم کیے ہیں، لیکن کوئی سروے کرکے بتائے کہ اُن میں فوجی جوانوں کے کتنے بچے تعلیم پا رہے ہیں. فلسفیانہ باتوں کی بجائے حقیقت پسندی اور ملک میں دستیاب وسائل اور زمینی حقائق پر مبنی تجاویز دینی چاہییں۔ زمینی حقیقت تو یہ ہے کہ وزیرِاعلیٰ سندھ جناب سید مراد علی شاہ نے بارہا وعدہ کرنے کے باوجود اتحادِ تنظیماتِ مدارس کے وفد کو ملاقات کا وقت نہیں دیا۔گزشتہ دنوں سندھ حکومت نے ایک مکتبِ فکر کے 94 مدارس کو مشتبہ ڈکلیئرکیا، لیکن پھر ان کے ایک مرکزی رہنماکو دو گھنٹے ملاقات کا وقت دیا اور اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے کہا:’’مجھے بتایا گیا تھا کہ ایک فہرست موجود ہے، سو میں نے کہا: جاری کردو‘‘۔ یعنی یہ میڈیا کے دباؤ سے نکلنے کا حربہ تھا، برسرزمینِ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ سو یہ ہے ایپکس کمیٹی کے اجلاسوں کی حقیقت، جبکہ چند دن پہلے وہ عقیدت مند بن کر انھی میں سے ایک ادارے کے سربراہ کے قدموں میں بیٹھے نظر آئے تھے۔