عصرحاضر کے کتے - محمد عمیر

ایک وقت تھا کہ کتا وفادار جانور ہوتا تھا، یہ مالک کی حفاظت کے لیے ہر خطرے سے لڑ جاتا، جس گھر کے باہر کتا بندھا ہوتا لوگ اس گھر کی طرف جانے سے ڈرتے، لوگ کیا چور ڈاکو بھی اس گھر میں واردات سے کنی کتراتے تھے۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ کتے بھی اب کتے نہیں رہے۔ پہلے کتے وفادار ہوتے تھے اب کتے کیوٹ ہوتے ہیں۔ پطرس نے کہا تھا کہ ’’بھونکتے ہوئے کتے کاٹا نہیں کرتے‘‘. یہ بجا سہی لیکن کون جانتا ہے، کہ ایک بھونکتا ہوا کتا کب بھونکنا بند کردے، اور کاٹنا شروع کر دے۔ مگر اب یہ کاٹنے کا ڈر بھی نہیں رہا. پہلے لوگوں کو ڈر ہوتا تھا کہ کہیں ان کو کتا نہ کاٹ لے مگر اب مارکیٹ میں ایسے ایسے فینسی کتے دستیاب ہیں کہ مالک کو ڈر رہتا ہے کہ کہیں کتے کو نہ کوئی کاٹ لے۔

پہلے انسان اپنی حفاظت کے لیے کتے رکھتا تھا، اب کتے کی حفاظت پر سکیورٹی گارڈ معمور ہوتے ہیں۔ پہلے کتے گھر کے باہر اب کتے گھر کے اندر رکھے جاتے ہیں۔ پہلے کتے کو جانور ہی سمجھا جاتا تھا مگر ٓج کل بعض لوگ کتے کو اپنا بیٹا ہی تصور کرتے ہیں. میں نے کئی لوگوں کو کتے پر ہاتھ رکھ کہتے سنا ہے کہ
He is like my son.

عصر حاضر کے کتے بھی کافی تمیز دار ہیں۔ پہلے کتے ہر آتے جاتے پر بھونکتے نظر آتے تھے مگر پھر یہ بھونکنا صرف پتلون شرٹ پہنے شخص یا گلی کے نئے مکین کے لیے مختص کردیا گیا مگر اب یہ بھونکنا بھی مفقود ہوگیا ہے۔ اب کتے آرام سے پڑے رہتے ہیں نہ بھونکتے ہیں نہ کاٹتے بس مالک کے بلانے پر مالک سے بوس و کنار کر لیتے ہیں۔

جیسے شہروں اور دیہاتوں میں انسانی معیار زندگی کا فرق ہوتا ہے۔ بالکل ایسے ہی شہری اور دیہاتی کتوں میں بھی واضح تقسیم نظرآتی ہے۔ شہری کتوں کو خوراک کے لیے گھومنا نہیں پڑتا، خوراک بروقت اور بکثرت مل جاتی ہے اور خوراک ملنے کے بعد شہری کتوں کو سیر کراتے بھی نظر آتے ہیں۔ شہری کتوں کو پتھر پڑتے کا ڈر بھی نہیں ہوتا۔ موسم کی شدت سے بھی یہ محفوظ رہتے ہیں۔ اس کے برعکس دیہاتی کتوں کی زندگی سخت مشکلات کا شکار ہے۔ ان کو خوراک کی کمی، موسمی شدت، بچوں کی شرارتوں اور بڑوں کے غیض و غضب کا سامنا رہتا ہے۔ شہری کتے کھانے کے بعد اسے ہضم کرنے کے لیے گھومتے ہیں جبکہ دیہاتی کتے کھانے کی تلاش میں گھومتے ہیں۔ بیشتر دیہاتی کتے بہت ہی کتے ہوتے ہیں، یہ شدت پسند اور بنیاد پرست ہوتے ہیں۔ یہ اس گئے گزرے دور میں اپنے آباؤ اجداد کی بھونکنے اور کاٹنے کی روایت کے امین ہیں۔ ان کو دیکھ کر ہی یقین آتا کہ کتا واقعی بھونکنے اور کاٹنے والا جانور ہے ورنہ شہری کتوں نے تو کتوں کی ناک ہی کٹوا دی ہے۔ اب کتا کیوٹ ہوگا تو اس سے بھلا کون ڈرے گا اور جب کتے سے کوئی ڈرے گا نہیں تو اس کے کتے ہونے کا کیا فائدہ؟

Comments

محمد عمیر

محمد عمیر

محمد عمیر کا تعلق لاہور سے ہے۔ روزنامہ اہکسپریس لاہور سے بطور رپورٹر وابستہ ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی شعیہ ابلاغیات سے جرنلزم میں ماسڑ ڈگری کی ہوئی ہے۔ سیاست او حالات حاضرہ سے متعلق لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.