جج صاحب! خطبہ جمعہ نہ دیں - ابوبکر قدوسی

جج صاحب کے ریمارکس ان کے فیصلوں سے زیادہ اذیت ناک ثابت ہو رہے ہیں. کبھی وہ مولوی ٹھہرے، کبھی امام مسجد اور کبھی ان کے بیانات خطبہ جمعہ. بات تو درست ہے کہ ججوں کے فیصلے بولتے ہیں، جج نہیں بولتے.

لیکن کچھ پیچھے چلیے کہ جب ہمارے جج صاحبان ایسے بولتے تھے کہ موچی دروازہ یاد آ جاتا تھا. آپ کو جسٹس افتخار چوہدری یاد ہوں گے. ان کے تبصرے اخبارات کی شہ سرخیاں بنتیں، پھر ان تبصروں پر دس دس ٹی وی چینلوں پر ٹاک شو ہوتے. ان بیانات کی تفہیم کی جاتی، متوقع فیصلوں کے اندازے لگائے جاتے، جج صاحبان کی باڈی لینگویج پر تبصرے ہوتے، جملوں کی شرح کی جاتی لیکن اس بیچ کم ہی کسی کو خیال آیا کہ ٹوک کے کہے:
’’جج صاحب یہ موچی دروازے کا جلسہ نہیں، خاموش رہیے، آپ کے فیصلے بولنے چاہییں، آپ کو نہیں حضور‘‘

لیکن حرمت رسول کا معاملہ آیا تو سب کو یاد آ گیا کہ جج انسان نہیں ہوتے، مشینیں ہوتی ہیں. ان کے جذبات نہیں ہونے چاہییں. ان کو آنسو نہیں بہانے چاہیے. ان کی زبان نہیں ہوتی. ان کی قلم کی سیاہی ان کی زبان ہوتی ہے، ان کے فیصلے ان کی گفتار ہوتی ہے. ان کے سامنے دھرا کاغذ ان کا دماغ ہوتا ہے. سو جج صاحب کو نہیں بولنا چاہیے. ان کو خطبہ دینے کاگر شوق ہے تو کسی مسجد میں امام لگیں.

پیمانے جب بدلتے ہیں تو ضمیر بھی مر جاتے ہیں. آپ اس جلوس کو بھول گئے جو اسلام آباد سے نکلا تھا، اور جس کی قیادت محترم جج صاحب کر رہے تھے. گھنٹوں کو چھوڑتا ہوا دنوں کی طوالت اختیار کرتا جلوس اگلے روز رات کے پچھلے پہر لاہور پہنچا. مشرف کی آمریت سے نفرت تھی، سو ہم بھی اس جلوس کا حصہ تھے. مجھے آج بھی یاد ہے کہ جب جلوس بھاٹی چوک پہنچا تو میری طبیعت اوبھ گئی. دماغ میں خیال آیا کہ جج کو یوں سیاسی لیڈر کا انداز اختیار نہیں کرنا چاہیے. جلوس سے نکلا اور گھر جا پہنچا.

لیکن وہ لبرل طبقہ جو اس جلوس کے بعد جج صاحب کے دوبارہ ’داخل دفتر‘ ہونے تک ان کا ہم رکاب رہا، اور چیف تیرے جان نثار بےشمار کے نعرے بلند کرتا رہا، وہ آج کس منہ سے کہتا ہے کہ ’جج صاحب خطبۂ نہ دیجیے.‘

اور ہاں ایک بات کہوں کہ رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات، اس کی حرمت ایسی کسی بھی ’ججی‘ سے بالاتر شے ہے. اگر جج صاحب رو دیے، اگر غضب ناک ہوئے تو اس میں کوئی غلط بات نہیں کہ معاملہ نبی کی ذات کا ہے. غلط وہ تھا جو چند روز پہلے پانامہ کیس میں جج صاحبان بولتے رہے. غلط وہ تھا جو ماضی میں جج صاحبان نے جلسہ عام بپا کیے رکھا. رسول کی حرمت کے لیے کوئی ضابطہ اور پیمانہ محترم نہیں. ہاں! مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات محترم ہے، اور بس وہی محترم ہے.