نیند اور موت - نورین تبسم

’’اور وہی تو ہےجو رات کو (سونے کی حالت میں ) تمہاری روح قبض کر لیتا ہے اورجو کچھ تم دن میں کرتے ہو اس سے خبر رکھتا ہے پھر تمہیں دن کو اُٹھا دیتا ہے تاکہ معیّن مدت پوری کردی جائے پھر تم کو اُسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (اُس روز) وہ تم کو تمہارے عمل جو تم کرتے ہو بتا دے گا۔‘‘ سورہ الانعام، آیت(60)

زندگی دن اور رات سے عبارت ہے۔ دن نکلتا ہے، اپنا کام اپنی مزدوری شروع ہو جاتی ہے۔ اپنے حصے کا رزق تلاش کرتے ہیں، محنت کرتے ہیں۔ اور پھر رات آتی ہے، مزدوری کی قیمت ملتی ہے، رزق کی لذت نصیب ہوتی ہے، محنت کا ثمر ملتا ہے۔

ہم دیہاڑی دار مزدور ہیں۔ دن بھر کی مشقت کے بعد مزدوری کی قیمت نہ ملے تو انسان خالی ہاتھ اور خالی پیٹ گھر لوٹتا ہے، ہمارے جسم کی مزدوری کی قیمت نیند ہے۔ اگر کام کاج کے بعد نیند نہ آئے تو اس سے بڑا عذاب، اس سے بڑی سزا اور کوئی نہیں۔ ہمارا مالک ہمیں کام کے بغیر بھی شام کو مزدوری کی قیمت ادا کر دیتا ہے، پھر بھی ہم اس کا احسان نہیں مانتے۔

زندگی کی حقیقت جاننا چا ہتے ہو تو موت کے فلسفے پر نظر رکھو۔ اگر زندگی گزارنے کا فن سیکھنا چا ہتے ہو تو نیند کے عمل پر غور کرو۔ انسان روز مرتا ہے اور روز ہی زندہ بھی ہو جاتا ہے۔ موت زندگی کی اصل طاقت ہے۔ اُس کی خوراک ہے۔ ہمارا نظام ِجسم اس انداز سے بنایا گیا ہے کہ ہر چوبیس گھنٹے کے اندر اُسے موت کی ایک خوراک لازمی چاہیے۔ ہم اپنے آپ کو مضبوط جان کر اس ’بیماری یا معذوری‘ سے لڑنےکی اکثر کوشش کرتے ہیں اور کڑوی دوا سے بچنےکے لیے ان چوبیس گھنٹوں کو مزید کئی گھنٹوں تک محیط کرنے میں بسا اوقات کامیاب بھی ہو جاتے ہیں۔ درحقیقت یہ وہ حیات بخش اور کیف آور خوراک ہے جو چند لمحوں کو سہی، ہر دکھ درد سے بیگانہ کردیتی ہے۔ اور تو اور ہر قسم کی بھوک سے نجات دلا کر اتنا معصوم اتنا بےجان بنا دیتی ہے کہ بڑے سے بڑا ظالم و جابر فرشتوں جیسا دِکھتا ہے تو دُنیا کی خدائی کا دعوے دار بھی عام چیونٹی سے زیادہ بےبس ہو جاتا ہے۔ یہ اور بات کہ عارضی موت کی اس خوراک کے بعد انسان پہلے سے بھی زیادہ جوش و ولولے سے اپنی مثبت یا منفی صلاحیتوں سے کاسۂ لیس ہو کر زندگی کے میدانِ کارزار میں اُترتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   اُڑتے پہاڑ - مومنہ گل

انسان بھی عجیب ہے۔ نیند کی چاہ کرتا ہے لیکن موت سے ڈرتا ہے۔ ہمیشہ کے لیے آنکھ بند ہونے سے بھاگتا ہےجبکہ رات ڈھلتے ہی اُس کی آنکھیں اِس خمارِ قاتل کی گواہی دینے لگتی ہیں۔ جسم اس کے وصال کی آرزو میں ہر حدودوقیود پھلانگنے کے درپے ہو جاتا ہے اور پھر یہ مدھم سی خواہش مجسم صورت میں پلکوں کو چوم لیتی ہے۔ نیند ایسا خودغرض محبوب ہے جو اپنے طلب گار کو ہر رشتے ہر احساس سے بے پروا کر دیتا ہے۔

نیند اور موت ایک ہی سکّے کے دو رُخ ہیں۔ نیند کے حصول کے بعد جاگنا ہماری اوّلین ترجیح ہوتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ نیند سے جاگنا ہمارے اختیار میں ہے اور موت سے جاگنا ہمارے اختیار بلکہ ہماری سوچ سے بھی باہر ہے۔ نیند سے جاگ کر وہی یکسانیت وہی کام ہمارا مُنتظر ہوتا ہے۔ کولہو کے بیل کی طرح ہم اپنے اپنے راستے پر چل پڑتے ہیں۔ جبکہ موت کے بعد ایک نئی دُنیا نئے کام نئے دوست ہمارے سامنے آتے ہیں۔ اگر انسان ہر لمحہ تبدیلی کا خواہش مند ہے وہ نئے کام نئی دُنیا دیکھنا چاہتا ہے۔ اپنی مصائب بھری دُنیا سے فرار کی آرزو رکھتا ہے تو وہ موت سے کیوں بھاگتا ہے؟ وجہ یہ ہے کہ ہماری تیاری نہیں ہوتی۔ ہم کنویں کےمینڈک ہیں۔ باہر کی دُنیا دیکھنے کےلیے شور مچاتے رہتے ہیں۔ لیکن عملی طور پر اپنے اندر اتنی صلاحیت ہی پیدا نہیں کر پاتے کہ باہر نکل سکیں۔ جیسے کسی بڑی تقریب میں جانے کی خواہش تو شِدّت سے ہوتی ہے۔ اگر بُلاوا آجائے تو پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ اپنے آپ کو اس قابل بنایا جائے کہ دوسروں کے مقابل کم از کم کھڑے تو ہوسکیں۔ اگراتنی اہلیت نہ ہو تو بجائے اپنے آپ کے ہم دوسروں کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ نہ جانے کے لیے عُذر تراشتے ہیں۔گرمی سے بےحال ہو کر سرد علاقوں میں جانے کا قصد کرتے ہیں تو تپتی دوپہروں میں بڑے ذوق و شوق سے گرم کپڑے نکالتے ہیں۔ لیکن ابدی سفر پر روانگی کے لیے تیاری کرنا ہمیں بوجھ لگتا ہے۔ اس میں ہمیں کسی قسم کا تھرل دِکھائی نہیں آتا۔ حالانکہ اُس دُنیا کی نعمتیں اور لذتّیں اس طرح کھول کھول کر بیان کی گئی ہیں کہ اگر عقل پر پڑے پردے ہٹ جائیں تو اس فانی دُنیا میں ہم ایک پل رہنا بھی گوارا نہ کریں۔
’’نیند عین الیقین ہے توموت حق الیقین ہے اور ان کی پہچان علم الیقین ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:   ادھورے ارادے - خواجہ مظہر صدیقی

حرفِ آخر
کچھ رشتوں، کچھ تعلق اور کچھ احساسات کی پائیداری نیند سے مشروط ہوتی ہے۔ بےخبری، بےفکری کے جھوٹے سچے خوابوں سے جُڑی ہوتی ہے۔ رات کی سفاک تاریکی کے بھیدوں میں چُھپی رہتی ہے۔ آنکھ بند ہونے، زبان خاموش رہنے اور صرف سانس کے زیروبم سے۔ زندگی کی علامت سے رواں چلتی ہے۔ رات کے پردے اگر عقل پر بھی پردے ڈالے رہیں تو رات کے یہی دھوکے زندگی کی کامیابی یا ناکامی کا تعین بھی کرتے ہیں۔ ایسی کامیابیاں کہ دن کی روشنی لمحوں میں جن کی اصلیت دکھا بھی دے پھر بھی اُنہیں ماننے میں راہِ نجات ہے۔
رات کی نیند انسان کی جبلت ہے تو اُس کی جسمانی مشینری کو رواں رکھنے کی بنیادی گریس بھی۔ وہ خوراک جو اُسے ہر چوبیس گھنٹے میں لازمی درکار ہے لیکن دن کی روشنی میں جان بوجھ کر آنکھ بند کر لینا انسان کی ذہنی مشینری۔ نفع نقصان کے کھاتوں کے گنجلک حساب کتاب سے فرار کے لیے ازحد ضروری ہے۔اس میں شک نہیں کہ رات کی نیند انسان کی زندگی کی بنیادی ضرورت اوروہ تحفہ ہے جو انسان کوجسمانی اور ذہنی ہر قسم کےمثبت یا منفی احساس سے بھی بےنیاز کر دیتا ہے۔

قصہ مختصر بند آنکھوں کی کہانی ہم سے ہر روز یہی کہتی ہے کہ ا نسان اپنے آپ کو جس قدر سمیٹ کر رکھے گا اُتنا ہی سکون اُسے نصیب ہوگا۔

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں