اب محبت جس سے بھی ہوگی - نصرت یوسف

’’چھوٹا ذہن یا محدود ذہنیت انسانوں پرگفتگو کرتی ہے، اوسط درجہ کی ذہنیت واقعات پر بات چیت کرتی ہے اور تخلیقی ذہن نت نئے تصورات پر اڑان بھرتاہے.‘‘
سندیلہ انعم کے ذہن میں یہ فلسفہ ہمیشہ ہی زندہ رہتا۔ وہ ہمیشہ اپنے آپ کو تخلیقی ہی رکھنا چاہتی، محدودیت اور عمومیت کے درجہ پر آ بھی جاتی لیکن جلد ہی اس کی اندرونی مزاحمت اسے بہتر سطح پر دھکیل دیتی، وہ اسی ہنر کی بدولت دو بچوں کی ذمہ داری بطور سنگل پیرنٹ بہتر انداز میں نبھا رہی تھی۔ جوانی کا موسم کچھ ہی سال میں ڈھلنے والا تھا، بالکل اسی طرح جیسے دنیا کی ہر شے فنا کی طرف محو سفر ہے، دھیرے یا تیز، بہرحال خاتمے کا عمل ہر ’موجود‘ کے ساتھ موجود ہے، سوائے ’خالق کل شئی‘ کے۔

وہ محض اکیس سال کی تھی جب عاصم محمود نے اسے پہلی طلاق دی۔ اس کو سندیلہ کا اپنی بات سے اختلاف کرنا پسند نہ تھا اور سندیلہ کو روشن دن کو رات کہنے کی عادت محض عاصم کے کہنے پرنہ تھی بلکہ وہ بات بڑھانے کے بجائے خاموش رہنا پسند کرتی تھی، لیکن ’ایمان‘ لانے والی کیفیت میں نہ تھی۔ عاصم محود کو خاموشی بھی کھل جاتی، اس کو ایک ’آمنا و صدقنا‘ کہنے والی بیوی چاہیے تھی جو سندیلہ بہرحال نہ تھی۔ وہ اگر ایسی ہوتی تو عاصم محمود ایک بہتر نوازشات کرنے والا مرد ہوتا جو اپنی فضول سی انا کی تسکین ایک ’صم بکم‘ قسم کی عورت سے پا کر اس کو مالا مال کرتے ہیں، ان سے سندیلہ جیسی عورت کو برداشت کرنا ممکن نہیں ہوتا جو سوچوں میں ہوا کے دوش پر اڑان بھرتی تھی۔ اس کے ہاتھ میں ذائقہ تھا،گفتگو میں دلائل اور سوچ میں تنوع، لباس میں وقار اور پیشکش میں جمال، خوبیاں عاصم میں بھی تھیں لیکن اس کی خوبیوں کا کوئی جوڑ سندیلہ کے ساتھ نہ تھا۔ دو مختلف، بلکہ انتہائی مختلف ذائقے ایک پلیٹ میں جمع ہو کر عجیب ہوگئے تھے۔ عاصم محمود کی سب سے پہلی طاقتور خوبی جو ہر ایک کو متاثر کرتی، وہ ’خوشحال مرد‘ کی تھی۔ بلاشبہ زندگی کی اہم ضرورت میں سے ایک تھی، دوسری ’خرچ کرنے میں فراخدلی تھی‘ مگر کس پر؟ یہ اس وقت پتہ چلا جب وہ اپنے کلی حقوق اس کے نام کر چکی تھی۔ تابعداروں کے لیے وہ کرم فرما تھا۔ لباس اس کی پسند کا، خوراک اس کی پسند کی، آرائش اس کی پسند کی، فکر اس کی منشا کی۔ بس پھر وہ حاتم طائی تھی۔

سندیلہ کا مطلب ہی خوشبو اور وہ واقعی خوشبو کی شوقین،گھر میں دھیمی لیونڈر اسپرے کی خوشبو عاصم محمود کو جیسے زچ کر دیتی، ’’یہ کیا اگربتی کی سی بو سے گھر کی فضا کا ستیاناس کرتی ہو! اپنا ذوق بہتر بناؤ میڈم !‘‘ماتھے پر ڈھیروں شکنیں بھرے اس نے گھر کی ساری کھڑکیاں دروازے زوردار آواز کے ساتھ کھول دیے۔ نومبر کے خنک خوشگوار جھونکوں کے ساتھ گھر کے کھلے حصے میں لگے درختوں میں سے ایک درخت موسم کے سفید پھولوں سے لدا ہو اتھا، اس کی تیز خوشبو سندیلہ کے سر میں ہمیشہ ہی بھاری پن پیدا کرتی تھی، تمام کھڑکیاں کھلتے ہی وہ پورے گھر میں جذب ہو جاتی۔ سندیلہ نے پھر خوشبو کا شوق ہی نہ کیا۔ ’’عاصم محمود کے ساتھ رہ کر یہ گھاس پھونس کھانا چھوڑو اور عمدہ کھانوں کا ذوق بناؤ۔‘‘ کانٹے میں آلو پروتی بیوی کو اس نے ابرو اچکا کر دیکھا جو سوئے کے ساگ کے ساتھ لپٹے آلو کے قتلوں کو بڑی رغبت سے کھا رہی تھی۔ اشتہا انگیز ہری مرچ قیمہ اور فش اینڈ چپس کی ٹرے بلاشبہ اس نے خود بڑی محنت سے تیار کی تھی، لیکن آلو چپس سویا ساگ میں لپٹے اسے بےحد مرغوب تھے۔ یہ اعتراض شادی کے پہلے ماہ ہی سامنے آگئے تھے۔ عاصم محمود کے گھرانے میں اول دن ہی سے شادی شدہ بیٹے بہو کا رہائشی پورشن جدا ہوتا تھا۔ سو ولیمہ کی صبح سے سندیلہ کو کچن کی بریفنگ دے دی گئی تھی۔ ’’مددگار یہاں تمہیں ہر لمحہ مل جایئں گے، لیکن میرے لیے کھانا تم نے خود ہی پکانا ہوگا، تم کو عادت ہی ہوگی ویسے‘‘ عاصم محمود نے جملہ تلخ نہ کہا تھا لیکن لہجے میں حاکمیت اور جتانے والا رنگ سندیلہ نے فورا ہی محسوس کر لیا تھا۔ بات کے اثرات اس نے دل تک نہ جانے دیے اور چہرہ کو بےتاثر ہی رکھنا چاہا،گو اسے ایسی مشق نہ تھی لیکن شادی بھی تو پہلی ہی مشق تھی۔ اسی کے یہ سارے لوازمات تھے، تقریبات کی جھلملاہٹیں اور رنگینیاں تو شادی شدہ زندگی کی کتاب کے پہلے کیا آخری باب کے آخری سطر میں بھی جگہ پانے کی وقعت نہیں رکھتیں، یہ جتنی اعلیٰ پایہ کی ذمہ داری اور فرائض میں داخلے کی دنیا ہے، اس کی تقریب میں اتنا ہی وقار اور شائستگی کااظہار ہونے کے بجائے ایک طلسم سا پیدا کر دیا جاتا ہے۔

سندیلہ کے لیے بھی یہ سحر ٹوٹتا جا رہا تھا۔ ایک خواب کی سی کیفیت، ایک قدر دانی کا نشہ، الفتوں کا خمار بتدریج دھویں کے مرغولوں کی مانند غائب ہوتا جا رہا تھا۔ ’’ نہ جانے سنڈریلا اور شہزادوں کی زندگی شادی کی دعوتوں کے بعد کیسی ہوگی؟‘‘۔ وہ فالسی شیڈڈ پیور شیفون کے سوٹ کے ساتھ سلور گرے پینسل ہیل سینڈل پہنے ہوئے سوچنے لگی۔ اس کے اوسط قد کو ہیل خوبصورت بےشک بناتی تھی لیکن گھنٹوں پہنے سے اس کی ٹانگوں اور کمر کی دھکن بھی صرف اسے ہی برداشت کرنی ہوتی تھی۔ اس لیے سندیلہ نے کبھی ایسے شوق نہیں پالے جو ضرر رساں ہوں۔

’’لیکن اب!!!‘‘ اس نے آئینہ میں کھڑے ہوئے اپنے عکس پر ایک گہری سانس لیتے نظر ڈالی، ’’بیگم عاصم محمود تم پر یہ لباس بہت جچ رہا ہے‘‘ آئینہ نے تصدیق کردی تو وہ مطمئن ہو کر سامنے سے ہٹ گئی۔ عاصم محمود نے اسے ستائشی نظرں سے دیکھا اور دونوں شادی کی تقریب میں روانہ ہونے کے لیے اوپری منزل سے نیچے آگئے۔ یہاں اس کی جٹھانی اور ساس سسر رہتے تھے۔ خاندان کے رواج ہی کے حساب سے جٹھانی کے رہائشی حصہ کا ساس سسرکے حصے سے کوئی انتظامی تعلق نہ تھا۔ سو ان کے ہاں وہ روایتی شکوے اور شکایتیں خاصی حد تک نہ تھے جو عمومی طور پر راج پاٹ کے شوقین بزرگوں کی آل اولاد کے درمیان پیدا ہو جاتے ہیں۔ ایسے ساس سسر کی عنایتیں، کرم فرمائیاں ایک دوسرے کو جانبدرانہ لگنے لگتی ہیں۔ ہر ایک اولاد اپنے آپ کو زم زم سے دھلا سمجھ کر دوسرے کو خود غرض سمجھتی ہے اور وہ الفتیں جو بہن بھائیوں کے درمیان کبھی مثالی ہوتی تھیں، وہ شکووں کا لاوا بن کر کہیں نہ کہیں اور کبھی نہ کبھی بہہ نکلتی ہیں۔ عاصم کے گھر میں ایسے خاموش شکوے تو نہ تھے لیکن وہ اپنی بھابی سے سندیلہ کا مقابلہ ضرور کرتا رہتا تھا۔ اس بہو سے جس کی جڑیں خاندان میں اترے بارہ برس بیت چکے تھے۔ جو ایک کامیاب سوشل ورکر تھی اور مواقع جیتنے کا ہنر بھی رکھتی تھی۔

عاصم محمود سندیلہ سے پندرہ برس بڑا تھا۔ یہ اس کی دوسری شادی تھی۔ اس کا پہلا نکاح جس لڑکی سے ہوا تھا، اس کی رخصتی کچھ مہینوں بعد طے پائی تھی۔ اس سے پہلے وہ دوسرے شہر جاتے ہوئے حادثے کا شکار ہو گئی۔ طیارے کے حادثے میں اس کا پورا خاندان یکایک ختم ہو گیا اور عاصم محمود کی شادی بھی۔ اس کے جذبات بھی خاصے متاثر ہوئے، بالآخر پانچ سال کے وقفے کے بعد اس کا سندیلہ سے جوڑ بنا۔گویا قدرت کے نظام نے سندیلہ کو ہی اس کی منکوحہ اور شریک حیات بنانا تھا ورنہ بیس سالہ سندیلہ کا پینتیس سالہ مرد سے جوڑ کوئی مناسب نہ لگتا تھا۔ وہ چھوئی موئی سی پودے کی طرح نازک اور لچکیلی تھی، لیکن اس کے والد کا خیال تھا کہ بڑی عمر کے مرد کم سن بیویوں کے ناز نخرے اٹھانے میں طاق ہوتے ہیں۔ اس لیے سندیلہ عاصم محمود کے گھر پر راج کرے گی، لیکن سندیلہ کے والد کو یہ نہیں پتہ تھا کہ ان کی اکلوتی اولاد کا نصیب اور ان کے ارادوں اور توقعات میں کہیں مماثلت نہیں پائی جاتی، وہ واقعی راج کرتی اگر اسے عورت بننے کا ہنر بھی آتا، وہ خاموش تو رہ سکتی تھی لیکن ’ایمان‘ نہ لا سکتی تھی، جبکہ بادشاہ کی حقیقی ملکہ بننے کے لیے اس کی خواب گاہ تک جاتا اہم نہیں ہوتا بلکہ اس کے دل تک پہنچنا ضروری ہوتا ہے، باوجود اپنی سی کوشش کے وہ اپنی ماں کے قالب میں نہ ڈھل پا رہی تھی جس نے سندیلہ کے والد کو ان کی سخت مزاج کے باوجود بہت ٹھنڈے مزاج سے ساری عمر سہا۔

بے انتہا دوست پرور اور دعوتوں کے شوقین سندیلہ کے والد کو بیوی دن میں طعام اور رات میں قیام کے انتظامات کرتی ہی بھاتی تھی۔ دن بھر میں ان کا ہنر بہترین کراکری میں بہترین انداز سے پیش کیے کھانوں میں نظر آنا چاہییے اور رات میں ان کا وجود مہکتا اور ترو تازہ ہونا چاہیے۔ ’’مجھے لگتا ہے کسی دن بریانی کو ہی دم دیتے ہوئے میرا دم نکلے گا‘‘ ایک روز سندیلہ نے ماں کی کچن میں خود کلامی سنی تو اس نے دل سے اپنی زندگی کا ساتھی اپنے باپ جیسا نہ ہونے کی دعا کی۔ یہ تقر یباََ ہر روز کی کہانی تھی۔ تین سے چار اہتمام والے کھانے اس گھر میں پکتے، کسی بھی وقت اور کتنی بھی مقدار میں سندیلہ کے والد اپنے ساتھ مہمان لے آتے، جن کی مہمان نوازی میں سندیلہ کی والدہ کو ہر صورت سرگرم دیکھنا ان کو مرغوب تھا۔ اس دوران ان کے پاس سے نہ لہسن کی بو آئے اور نہ پیاز کی باس۔ ’’تم میں اور ماسی میں کیا فرق رہ جائے گا پھر‘‘ اتنی مصروف عورت کے ساتھ میاں کی یہ فرمائشیں بھی سندیلہ نے اپنی والدہ کو پوری کرتی دیکھیں لیکن پھر ایک دن وہ اتنا تھک گئیں کہ شارٹیکا کا مرض ساتھی بن گیا۔ بس سندیلہ کے والد نے انہی دنوں عاصم محمود کے لیے سندیلہ کا رشتہ قبول کر لیا۔ جو خیال کبھی بیوی کے لیے نہ نمو پائے، وہ بیٹی کے مستقبل کے لیے دن رات انھیں بےچین کرتے اور پھر ایک ’’خیال رکھنے والی عمر‘‘ کا انسان چمپئی سی سندیلہ کے لیے پسند کرلیا۔

یہ بھی پڑھیں:   ایک شادی کی داستان: شریعت کے حساب سے بالغ، قانونی اعتبار سے نابالغ

سندیلہ کے دل میں نہ کوئی ساز بجا نہ گیت ابھرا، اس نے ہمیشہ سوچا تھا کہ اس کی شادی جس سے ہوگی اس کی آنکھیں رضا احسان کی طرح ہنستی ہوں گی، اس کی پھوپھی کا بیٹا، جو بس تین برس ہی اس سے بڑا تھا۔ عاصم محمود کی تصویر پر رضامندی سے قبل پہلی اور آخری نظر ڈالتے ہوئے اس نے بےاختیار رضا کی ہنستی آنکھوں کا سوچا، ’’کیا ا چھا ہوتا پھوپھی ہی مجھے پسند کر لیتیں ‘‘۔ پھو پھو نے اسے پسند تو بیشک نہ کیا اپنے گھر لانے کے لیے لیکن اچھے نصیب کی دعائیں اس کا ماتھا چوم کر ڈھیروں ڈھیر دیں اور پھر وہ سندیلہ محمود بن گئی ۔

’’یا اللہ یا تو مجھے برداشت کی قوت دے یا پھر عاصم کی By Default setting بہتر کر دے‘‘۔ ہر روز اس نے ہاتھ اٹھا کر یہ دعا دل کی گہرائیوں سے مانگی۔ وہ اپنے شادی کو کسی سمجھوتے کی عمر قید کے طور پر نہیں گزارنا چاہتی تھی، اور نہ اس میں یہ کمال تھا کہ وہ ایسا کر لیتی اور پھر پہلے بچے کی پیدائش کے بعد دونوں کے درمیان دراڑیں کچھ اور گہری ہو گئیں. عاصم محمود کو اس کے ذوق کی خامیاں مزید نمایاں نظر آنے لگیں، ننھا معاذ دونوں کے درمیان میلان پیدا کرنے کے بجائے خلیج نمایاں کرتا گیا۔ وہ اس کو سلا کر جب تھک کر آنکھیں موندتی تو عاصم لاڈ دکھاتے ہوئے بچے کو اٹھا دیتا اور پھر معاذ جو رونا شروع کرتا تو چپ کرانا سندیلہ ہی کی ذمہ داری بنتا،گھر میں شور گونجتا تو ریموٹ سے ٹی وی چینیل بدلتے عاصم محمود کے ماتھے پر شکنیں آجاتیں. ’’بھابی کو اتنی دیر نہ لگتی تھی بچے چپ کرانے میں، تمھیں تو کوئی بھی چیز اچھے طریقے پر نہیں آتی‘‘ نیند سے سرخ ہوئی آنکھوں میں نمی سی تیر جاتی اور وہ کوئی سخت جواب دینا بھی چاہتی تو محض اس لیے نہ دیتی کہ گھر کی فضا میں معطر پن اگر نہیں ہے تو کڑواہٹ بھی نہ پھیلے۔
عاصم محمود آہنی اعصاب کا بےشک نہیں تھا لیکن کڑواہٹ کی فضا میں سندیلہ کی نسبت زیادہ آسانی سے جی سکتا تھا، سو چینیل پر چینیل بدل کر اس کا دل بہل گیا اور سمجھوتے بھری زندگی میں ایک اور باب کا اضافہ ہوگیا۔ ’’بڑی عمر کا مرد!!‘‘ وہ بھی معاذ کو چومتے اکثر بڑ بڑا جاتی جو بالکل اپنے باپ کی شکل کا تھا. ’’میرا تو اس چھوٹے سے مرد نے خیال رکھا ہے!!‘‘ معاذ کی روشن آنکھوں میں اس کو اپنا عکس جھلملاتا لگتا تو وہ محسوس کرتی جیسے وہ marry's wonderland پہنچ چکی ہے، معاذ کی ہر ادا اس کو تحیر اور محبت کے ہالے میں لپیٹ لیتی۔ ’’میری کا ونڈرلینڈ بھی اتنا حسین نہ ہوگا جیسا میرا بیٹا‘‘ سندیلہ وارفتگی سے چمٹائے ہوئے کہتی۔ اس وقت عاصم محمود اس کے گمان و خیال کی کسی بھی حد میں نہ ہوتا، سمجھوتے اور گلے کسی درجے پر سوچ میں نہ آتے، بس سندیلہ ماں ہوتی، اور محبت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر۔

معاذ آٹھ ماہ کا تھا اور سندیلہ اکیس برس کی، جب میاں بیوی میں اس لیے تلخی ہوئی کہ سندیلہ نے خاندان کی کسی شادی میں عاصم محمود کی پسند کا لباس پہننے سے معذرت کر لی تھی۔ ’’میں ساڑھی پہن کر معاذ کو نہیں سنبھال پاؤں گی‘‘۔ عاصم محمود نے اس وقت تو اسے کچھ نہ کہا لیکن بھابی کو سی گرین سلک کی ساڑھی میں دیکھ کر اسے سندیلہ پر دوبارہ طیش آگیا اور پھر اتنا بڑھا کہ گھر آ کر اس نے پہلا جملہ جو کہا، وہ یہ تھا ’’میں تمھیں طلاق دیتا ہوں‘‘۔ معاذ کو بستر پر لٹاتی سندیلہ لمحہ بھر کو ساکت ہوئی اور پھر جھٹکے سے پلٹ کر اس نے میاں کے ہاتھ میں منہ دکھائی میں دی انگوٹھی تھما دی جس میں نیلم جڑے تھے۔ ’’یہ پکڑو اور باقی گنتی پوری کر دو‘‘ اس کی آنکھوں میں خوف اور صدمے کے بجائے شیرنی کی سی خونخواری آگئی تھی۔ عاصم محمود نے انگوٹھی مٹھی میں دبا کر اس کو گھورا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔ نیلم سندیلہ کو راس کیا آتا، اس کے ہوتے بھی اس کی زندگی میں بھونچال آگیا۔ حالانکہ یہ وہ پتھر تھا جو کہنے کے مطابق سندیلہ کے لیے نیک شگون تھا، اس لیے ہی عاصم محمود نے منہ دکھائی کے لیے اسے پسند کیا تھا۔ اور پھر دو سال مزید وہ سندیلہ محمود رہی، عمر کے تیئسویں سال جبکہ دوسرا بیٹا طلال سال بھر کا تھا، تین طلاقوں کی گنتی کا اختیار عاصم محمود نے ختم کر دیا۔

’’یہ بھی مرد کی عنقا خصوصیات میں سے ہے کہ وہ اختیار کو یکدم استعمال کرنے کے بجائے ’احتیاط‘ سے برتے، میں نے بھی یہ کیا‘‘. عاصم محمود کو اپنے بارے میں یہ خیال واضح تھا اور منظر نامے پر بھی یہی ظاہر تھا۔ سندیلہ دونوں بیٹوں کے ساتھ اسی مقام پر آچکی تھی جہاں سے وہ راج کرنے کے تصور کے تحت بےجوڑ رشتہ میں جوڑی گئی تھی۔ عاصم محمود کتنا بھی اچھا تھا بہرحال سندیلہ جیسی روح کے ساتھ اس کا کوئی جوڑ نہ تھا اور سندیلہ کی سوچوں میں کتنی بھی وسعت تھی، بہرحال ایسی نہ تھی کہ عاصم محمود یا کسی بھی مرد جو فطری روایتی انا کی تسکین پا کر نہال ہوتا ہو، کو مطمئن کر سکے۔ آخری طلاق بھی عاصم محمود کی جانب سے وقفہ وقفہ سے طعنہ زنی کے بعد محض ایک جملہ کے جواب کے نتیجہ میں عمل میں آگئی تھی۔’’ٹھیک ہے میں ہوں ایسی، خاص تو آپ بھی نہیں‘‘ یہ جملہ سندیلہ انعم کو تیسری طلاق دے گیا۔

’’کیا شادی اپنے آپ کو فنا کر دینے کا نام ہے، اپنی ذات کی نفی کر کے دوسرے کو ضرب دینے کا نام ہے، کیا یہ محض سمجھوتوں کی لڑی ہے جو ایک بار بننی شروع ہون تو لامحدود ہو جاتی ہے؟‘‘ ڈبڈبائی آنکھوں سے وہ اکثر سوچتی۔ عاصم محمود اس سے اور بچوں سے اتنا لاتعلق ہو چکا تھا جیسے ان کا وجود حقیقی دنیا میں موجود ہی نہ ہو۔ تین کی تکرار نے اسے محرم سے نامحرم بےشک کر دیا تھا لیکن رحم کے رشتے نہ کسی دنیاوی دعووں سے بنتے ہیں اور نہ فنا ہوتے ہیں۔ آسمانی حکم ہی ان کو تخلیق کرتا ہے اور پھر وہ زمین سے آسمان تک ثبت ہو جاتے ہیں۔ کوئی مانے یا نہ مانے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، عاصم محمود کی اولاد عاصم محمود اور سندیلہ ہی کی تھی چاہے عاصم محمود نے اپنی زندگی سے بظاہر ان کو خارج کر دیا تھا۔ سندیلہ کی کمی اسے کبھی محسوس بھی ہوئی تو اس نے اس کمی کو پنپنے نہ دیا۔

ذمہ داریوں اور گھریلو فرائض سے آزاد زندگی عاصم کو نیر جاوید کی قربت میں بےحد بھلی لگنے لگی۔ وہ مصور کی بےحد دلکش تخلیق لگتی تھی، ایسی تصویر جس پر کسی قدردان کی نگاہ فی الحال نہ پڑی تھی ورنہ وہ اس فلورل شاپ کے کیش کاؤنٹر پر بیٹھنے کے بجائے کسی کے دل کے سنگھاسن پر بیٹھ کر راج کر رہی ہوتی۔ عاصم محمود کسی کاروباری تقریب میں شرکت کے لیے پھولوں کا گلدستہ خریدنے اپنی لگی بندھی دکان گیا تھا، نیر جاوید پھولوں کے درمیان، پھولوں کی مہارانی لگ رہی تھی۔ اس سے پہلے وہاں ایک عمومی سی وضع قطع کا شخص موجود ہوا کرتا تھا اور پھولوں کی قیمت بھی مناسب ہوا کرتی تھی۔ اب نہ وہ شخص تھا اور نہ پرانی قیمت۔ نیر جا وید تھی اور بلند قیمت جسے گاہک بڑی خوش دلی سے ادا کر رہے تھے، یہ قیمت صرف پھولوں کی نہ تھی بلکہ نیر جاوید کے وجود کی ہر دلکش ادا کی تھی۔ مترنم آواز سے لے کر مخروطی انگلیوں کے خوبصوت تراشے گئے ناخنوں کی ساخت کی۔

زنانہ نگاہوں میں مسابقت ابھر رہی تھی تو مردانہ نگاہوں میں مخصوص تاثر جس میں احترام اور وقار ناپید ہوتا ہے۔ مگر لگتا تھا کہ نیر جاوید کو نہ تو میخانہ نظر اثر ڈال رہی تھی اور نہ حریصانہ۔ ایک نرم سا رویہ تھاجو بنا کسی تغیر کے چہرے پر چسپاں گاہک کھینچ رہا تھا اور وہ ان کی جیب سے رقم سہولت سے نکال کر دکان چمکا رہی تھی۔ دکان کے دروازے کو باہر دھکیلتے، عاصم محمود نے اس کرخت تاثر والے گارڈ کو دیکھا، جو نیر جاوید کی طرح نئی تبدیلی تھی، اسے اندر موجود گل بہار وجود کی اطمینان بھری بےنیازی کی وجہ بہ خوبی سمجھ آگئی۔ پھول کی حفاظت رب کانٹے کی طاقت سے کرتا ہے۔ عورت کی بےحد قیمتی عزت و عصمت کی حفاظت رب نے اس کے محرم رشتوں کے حصار سے کروائی۔ اس حصار کے ساتھ اس کو محفوظ مزید رکھنے کے لیے اسے مخصوص دائرے کے سوا ہر ایک سے پوشیدہ کر دیا۔ قیمتی ہے مگر ہر ایک اس کو نہیں دیکھ سکتا، نازک ہے پر کوئی اسے چھو نہیں سکتا، دلکش ہے پر سب کی تفریح کا ذریعہ نہیں۔ نیر جاوید ان سب حصار کو پھلانگ کر اس دکان میں موجود تھی سو اس کی حفاظت کا بندوبست دکان کے مالک نے اس گارڈ کے ذریعے کرنے کی کوشش کی تھی۔گارڈ بس جسمانی حفاظت کر سکتا تھا، روح کو چھیدنے والی نگاہوں اور حرکات سے نگہبانی کرنے سے وہ قاصر تھا۔ وہ تو رب کے دائرے میں ہی ممکن ہوتا ہے ۔ نیر جاوید حفاظت کے اس بلند ترین معیار سے ناآشنا تھی، عاصم محمود کی شوقین نگاہوں سے اسے الجھن نہ ہوئی، اس کا لہجہ نیر جاوید کو معقول، انداز شائستہ لگا اور پھر دونوں میں تعلقات استوار ہوتے چلے گئے۔ سندیلہ خیال و خواب کے کسی حصہ میں بھی نہ ٹھہر سکی اور عاصم محمود ایک نئی دنیا میں مگن ہوگیا، بے فکر و آزاد پنچھی کی طرح۔

زندگی ایسی ہی گزرتی رہتی تو کیا تھا، سختیاں تو سندیلہ کے حصے میں تھیں، بچے اس کی ذمہ داری تھے۔ باپ کی خوشحالی رفتہ رفتہ زوال پذیر ہو رہی تھی، اچھے دنوں کی عادتیں تکلیف دہ بن گئی تھیں۔ عاصم محمود کے لیے اس کے پاس سوائے بڑبڑاہٹ کے کچھ نہ تھا۔ ’’زندگی عذاب میں ڈال دی اس خبیث آدمی نے میری‘‘ وہ اب ہر صبح نوکری کے اشتہارات اور ان کے لیے انٹرویو کے مراحل کی تیاری کرتے ضرور بڑ بڑاتی بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اس کے ہونٹوں سے جملے ادا ہوتے جو کہ اس شائستہ سی سندیلہ کے وجود کا کبھی حصہ نہ رہے تھے۔ معاذ، طلال کی نشیلی آنکھوں میں اسے لگتا تھا کہ اداسی جم سی گئی ہے یا شاید اس کے اپنے دل کی کیفیات تھیں جو اسے اپنے بچے بھی غمگین لگتے تھے۔ ’’باپ ہوتے بھی میرے بچے بنا باپ دنیا میں جی رہے ہیں، کوئی گھنا سایہ نہیں جو ان کو زمانے کی دھوپ سے بچا سکے، کمزور قدموں کو سنبھال سکے‘‘۔ وہ بے حد آزردگی سے سوچتی۔

یہ بھی پڑھیں:   طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح وجہ و حل؟ - حسان بن ساجد

نوکری تو اسے مل چکی تھی۔ حساب کتاب میں وہ فطری طور پر تیز تھی، اسے جاب بھی مقامی مصالحہ جات کمپنی میں اکاؤنٹنٹ کے شعبے میں مل گئی۔ معاش کا بوجھ اس نے اپنے اردگرد کسی عورت کو اٹھاتے نہ پایا تھا۔ یہ سب سہنا اس کے لیے آسان نہ تھا لیکن چمپئی سی رنگت میں سانولا پن گھلنے لگا، بالوں میں کھردراہٹ آنے لگی۔ معیاری کاسمیٹک جو ان سب کو تروتازہ کر دیتا، اس کو خریدنے میں وہ تنخواہ کا معقول حصہ خرچ کرنے کی متحمل نہ ہو سکتی تھی، اس کی جان اکیلی نہ تھی، اس نے اپنے بیٹے پالنے تھے اور وہ عادتیں بھلانی تھیں جن کی وہ عادی تھی۔ عمدہ معیار کی سبزی کا ذائقہ اسے سستی سبزی خریدتے یاد آتا تو وہ دل مسوس کے رہ جاتی۔ ’’کون کہتا ہے چقندر بےذائقہ ہوتے ہیں۔ اچھے دام دے کر اچھی سبزی لو۔ اچھے معیار کا تیل اور عمدہ مصالحہ جات میں اچھے گوشت کے ساتھ پکاؤ، سواد آئے گا‘‘۔ یہ اس کے ہی جملے تھے جو کبھی گفتگو میں سبزی کے مخالفین کو کہتی تھی۔

سندیلہ کے باپ کا مزاج دن بہ دن تیکھا ہوتا جا رہا تھا۔ طلال کے وقت بہ وقت رونے سے ان کو غصہ آنے لگا تھا۔ ’’اس کا باپ خود تو مزے کر رہا ہے، ہم پر مصیبت ڈال گیا‘‘ وہ بڑبڑاتے تو سندیلہ کا دل کٹ کر رہ جاتا۔ اس نے زندگی کے دو بہت قریبی رشتوں کے مردوں کو عورت کے ساتھ نا انصافی کرتے پایا تھا۔ وہ حاکم بن کو محکوم کا سا تعلق عورت میں دیکھنا چاہتے تھے۔ ہوش و حواس کے تمام دریچے بند کر کے ان کو بلند سے بلند کر دینے والی عورت ہی ان کو پسند تھی۔ گھر کی چار دیواری کی پسند باہر کی دنیا سے بےحد مختلف تھی۔ باہر وہ عورت کے ناز اٹھا کر خوش ہوتے تھے،گھر میں وہی مرد عورت سے جی حضوری کروا کر تسلی پاتے تھے۔ عجیب ہی پیمانے تھے اور عجیب ہی انداز۔ جو بیوی تھی، عاصم محمود نے اس کی ذاتی پسند کو کبھی گردانا نہیں مگر نیر جاوید کی پسند سے اس نے کبھی منہ موڑا نہیں۔ ایسے ہی سندیلہ کے والد نے اس کی والدہ کے لیے کبھی تعریفی کلمات کا تکلف نہ کیا، ہاں دوستوں کی بیویوں کے سگھڑ پن کی مثالیں وافر بیان کیں۔ دونوں ہی مردوں نے اپنی بیویوں کو سمجھوتوں کی صلیب پر چڑھا کر رکھا۔ سندیلہ کی والدہ نے اس صلیب کو تقدیر کا لکھا سمجھا اور کبھی کسی گاڑی میخ پر چوں تک نہ کی، وقت سرکا تو میخیں زنگ خوردہ ہو کر کچھ ڈھیلیں ہوئیں تو وہ اس پر بھی شکر بجا لائیں، لیکن اس وقت تک ان کے اپنے اعضا اور قویٰ زنگ خوردہ ہو چکے تھے۔ عاصم محود نے میخیں ٹھوکنے کے بجائے اسے زندگی ہی سے نکال پھینکا۔ اب زندگی سندیلہ کے لیے آزمائشوں کا دائرہ بن چکی تھی اور وہ بےحس اس میں چکر کاٹ رہی تھی۔

اس گردش کے چوتھے سال اس کا رشتہ کسی ’’باباجی‘‘ کے لے آیا جو بچوں کو بھی ساتھ رکھنے کو بہ خوشی تیار تھے۔ باباجی کا رشتہ لانے والی ان کی بہوئیں تھیں جو سندیلہ ہی کی ہم عمر تھیں لگ بھگ۔ ان کی چال ڈھال اور گفتگو ان کی خوشحالی کا واضح نشان تھی۔ حیرت تھی کہ سسر کے لیے وہ ایک جوان اپنی ہی ہم عمر ساس کیوں پسند کر رہی تھیں۔
’’ڈیڈی بڑے ترتیب پسند آدمی ہیں، ان کے معیار پر پورا اترنا کمال ہوتا ہے۔ اللہ بخشے ممی ہر وقت الرٹ رہتی تھیں، ہر چیزوقت پر اور بہترین طریقہ پر چاہیے‘‘۔ دونوں نے بڑے سبھاؤ سے باتیں بتائیں۔ ڈیڈی فوٹو میں قابل قبول کسی حد تک تھے لیکن سندیلہ کے والد سے بالمشافہ ملنے تک ’’بابا جی‘‘ بن گئے تھے۔ فوٹو شاید دس برس قبل کا تھا۔ بظاہر ان کی صحت قابل رشک تھی لیکن عمر کے تفاوت کے اثرات بہرحال سندیلہ نے دلی اور جذباتی دونوں سطح پر سہنے تھے۔

’عبداللہ ناصر‘ اس نے فوٹو پر واٹر مارک سے لکھا نام پڑھا اور دل میں گرتے آنسو پی کر ایک بار پھر منکوحہ بننے کا فیصلہ کر لیا، اب کی بار وجہ محض بچوں کا اچھا مستقبل تھا، گو اسے امید نہ تھی کہ وہ بیگم سے بیوہ بننے میں زیادہ وقت لگائے گی، یہ تو اسے اپنے بارے میں بھی نہ گمان تھا کہ وہ زیادہ جیے گی لیکن اوسط عمر اور انسانی توقعات کے ظاہری حساب کتاب نے اس کی بیوگی کے خدشات اس کے سامنے لا کھڑے کیے۔
’’ امی میرے دل میں کوئی گھنٹی نہیں بجی’ڈیڈی‘ کو دیکھ کر‘‘۔ سندیلہ نے ماں کی گود میں سر رکھ کر بھیگے لہجے میں کہا، حالانکہ دل و دماغ اسے حقیقت، حالات اور ضرورت کے آئینے بہ خوبی دکھا رہے تھے۔ ’’او بی بی دل کی گھنٹی نہیں، بنگلے کی گھنٹیاں سنو‘‘ کھنکتی سے آواز میں یہ جواب سن کر اس نے چونک کر آواز کو دیکھا ’’واؤ تم اچانک کیسے!!‘‘ آنے والی سندیلہ کی پھوپھی زاد کزن تھی۔’’بس تمھاری نیوز ملی اور میں یہاں آگئی‘‘۔ ’’صحیح بتا کہ تو کیسے آئی‘‘ سندیلہ نے دوستانہ جرح کی تو حنا ہنس پڑی۔ ’’ماموں نے فون پر تمہارے رشتے کا بتایا امی کو، میں نے سوچا مجھے تمھارے پاس موجود ہونا چاہیے، سو میں آگئی‘‘۔ اس کی پھوپھی زاد نے تازہ تازہ بلو ڈرائی ہوئے بالوں کو جھٹکا دیتے خوشگوار لہجے میں کہا تو سندیلہ ہنس پڑی اور پھر حنا نے اس کے ساتھ کئی گھنٹے گزارے۔ جب وہ لوٹنے لگی تو سندیلہ کے لیے ’’باباجی‘‘ کی بیگم بننا ناممکن سے ممکن دلی طور پر ہو گیا تھا۔

زندگی کا فلسفہ اس نے سندیلہ سمجھایا ’’ایسی شادیاں محض تجارت ہوتی ہیں ڈئیر کزن، کچھ تمھاری مجبوری اور کچھ ان کی طلب۔ یہی لین دین ان کی بنیاد بنتا ہے، محبت اور وفاداری پائی جاتی ہے، مگر بہت ممکن ہے نہ بھی پائے جائے، کیونکہ دل مار کر زندہ رہنا بہت کٹھن ہے۔ تمھارے بچوں کا سنہرا مستقبل ’’بابا جی کی بیگم‘‘ بننے سے جڑا ہے سو دان کر دو اپنے آپ کو۔ اپنے آپ کو فنا کر کے بھی وہ کچھ مہیا نہ کر سکو گی جو اس شادی سے تمہیں اپنے جذبات مار کر ملے گا اور بیوگی تمھارے لیے گولڈن شیک ہینڈ ہوگی اگر!!!!‘‘ یہاں وہ رک کر سندیلہ کے تاثرات دیکھنے لگی جو ہونق بنی اس کے اقوال سن رہی تھی۔ حنا نے ایک قہقہ لگایا۔ ’’اگر تمہیں ان سے محبت نہ ہوئی، ورنہ تو فیری ٹیلز میں بیوٹی کو بیسٹ سے محبت ہو ہی جاتی ہے‘‘۔ اس نے ایک بار پھر پرمزہ انداز میں ہنستے ہوئے سندیلہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور اسے گلے لگا لیا۔ سندیلہ کے خاموش آنسو اس کے کندھے پر ٹپک گئے۔ اس نے دل سے اٹھتے غم کو ایک بار پھر ہنسی میں اڑاتے سندیلہ کو بھینچا اور پھر اگلے لمحے بیگ سے سندیلہ کی پسندیدہ چاکلیٹ نکال کر اس کے ہاتھ میں تھما دی ۔ ’’یہ ایک تم کھا لو، باقی ہم محلے میں بانٹ دیتے ہیں تمھاری شادی کی خوشی میں‘‘۔ ڈبہ ہاتھ میں جھلائے وہ اتنی خوش لگ رہی تھی کہ سندیلہ کو بےاختیار ہنسی آگئی، یوں ایک اعصاب شکن فیصلہ کچھ ہلکا ہو گیا۔

ہفتہ بھر بعد بنی سنوری وہ نکاح نامہ پر دستخط کرتے لمحہ بھر کو ٹھٹک گئی۔ بازوؤں میں موجود چوڑیاں کھنک اٹھیں، ناک میں پہنی لونگ کے ہیرے نے رنگ بدلا، ایک کپکپاہٹ سی تھی جو اس کے وجود پر چھا گئی ۔
’’سندیلہ!‘‘ قریب میں موجود حنا جو اس کی کیفیت بہ خوبی جان رہی تھی، سرگوشی میں پکاری۔ ’’ہمت پکڑو‘‘ اس کی آواز اور سندیلہ کے کندھے پر رکھے ہاتھ کو محسوس کرتے ہوئے سن ذہن کے ساتھ سندیلہ نے تحریری اور زبانی مرحلے گزار دیے۔ ’’نہ جانے اماں جانی کدھر ہیں‘‘ سندیلہ کا ماں کی گود میں چھپ جانے کو دل چاہا۔ وہ اس منظر سے کہاں غیر حاضر تھیں، اس نے بے قرار نگاہیں دوڑائیں۔ ’’نہ معاذ نہ طلال!‘‘۔ پھر دل نے ان کو ڈھونڈا۔

’’کیا ہی اچھا ہوتا اگر میں آصف کی پیشکش قبول کر لیتی‘‘ ایک دم یہ خیال ابھرا اور اس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ آصف جمال اس کی کمپنی کے باس تھے، جو اسے خفیہ نکاح کی آفر کر چکے تھے جسے اس نے بلا تردد مسترد کر دیا تھا۔ ’’چھپے ہوئے خفیہ تعلقات انسان کے لیے کوئی خیر کبھی نہیں لاتے، میں اپنی اور بچوں کی زندگی مزید کسی مشکل اور دردسری میں ڈالنے کی ہمت نہیں رکھتی‘‘۔ آدمی ڈھنگ کا تھا۔ اس نے پھر اشارتاََ بھی سندیلہ سے اس موضوع پر کوئی بات نہ کی۔ وہ نہ جانے کیوں یاد آگیا۔ شاید اس لیے کہ وہ اپنا جوڑ محسوس ہوتا تھا، مجبوری نہیں خوشی، برداشت نہیں رغبت لگتا تھا۔ بظاہر ان خصوصیات کے وہ اس لیے بےجوڑ تھا کہ وہ سندیلہ کی زندگی کو مزید تماشہ کر دیتا۔ وہ یہ سب سمجھ رہی تھی لیکن دل پھر بھی بے چین تھا۔

منکوحہ عبداللہ ناصر بنتے ہی عبداللہ ناصر نے اس کے لیے دودھ کا گلاس بھجوایا جسے آدھا پی کر بھیجا گیا تھا۔ سندیلہ نے نگاہ اٹھا کر کچھ فاصلے پر موجود عبداللہ ناصر کو دیکھا اور پہلا گھونٹ بھر لیا۔ لپ اسٹک کا نشان اسٹرا کے کنارے پر ٹھہر گیا تھا۔ ’’بہت ممکن ہے سندیلہ انعم کو اس طرح عبداللہ ناصر سے محبت ہو جائے‘‘، گھونٹ در گھونٹ لیے وہ سوچ رہی تھی۔ گلاس خالی ہو رہا تھا اور اس کا سفر شروع۔ نہ جانے آگے صحرا تھا یا نخلستان، جو بھی تھا لیکن یہ بات طے تھی کہ اس کہانی میں بیوٹی کی محبت نے کسی پرنس کو وجود نہ دینا تھا۔

Comments

نصرت یوسف

نصرت یوسف

نصرت یوسف جامعہ کراچی سے فارغ التحصیل ہیں. تنقیدی اور تجزیاتی ذہن پایا ہے. سماج کو آئینہ دکھانے کے لیے فکشن لکھتی ہیں مگر حقیقت سے قریب تر. ادب اور صحافت کی تربیت کے لیے قائم ادارے پرورش لوح قلم کی جنرل سیکریٹری ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.