کاش کوئی اسے قرارداد مقاصد پڑھا دے - زبیر منصوری

کاش کوئی اس ’’باؤلی بڑھیا‘‘ کو قرارداد مقاصد پڑھا دے.
(مجھے معاف کر دیں، میرے رب کے قانون سے کھلواڑ کرنے والی کو مجھے باؤلی کہہ لینے دیں)

یہ خود وکیل ہے مگر کوئی اسے اس قرارداد کا ایک نسخہ لا دے،
لاہور ہائی کورٹ بار میں اسلام پسندوں سے شکست،
اسلام آباد ہائی کورٹ سے اس کے نظریات کی شکست،
کشمیر کورٹ کے چیف جسٹس سے نماز کا ذکر
سندھ میں شراب پر نمازی جج کی پابندی
یہ صدمہ در صدمہ کیا کم ہے کسی کمزور اعصاب کی خدا بیزار بڑھیا کے اعصاب چٹخانے کو؟

میرے رب کا قرآن کہتا ہے کہ ہم دونوں راستے دکھاتے ہیں اور پھر جو جس جانب بڑھتا ہے اسے اسی جانب بڑھاتے چلے جاتے ہیں۔

وسیم گل کہتا ہے کہ زبیر بھائی قرارداد مقاصد پر لکھیں.
میرے پیارے! کیا ان بد نصیبوں نے آئین کی پیشانی پر کوہ نور کی طرح جڑی اس قرارداد کو نہیں پڑھ رکھا؟
کیا یہ ٹانگیں قبر میں لٹکائے بیٹھی بڑی بی کو نہیں معلوم کہ یہ قراد داد آئین کا پڑھا ہوا کلمہ ہے؟ یہ اس کے ماتھے کا جھومر ہے؟ یہ قرارداد ہم مسلمانون کے اس ملک میں رہنے اوراس کی خدمت کرنے کا جواز ہے، یہ اپنے رب کے سامنے عذر پیش کرنے کا اک ذریعہ ہے کہ
اے رب ہمارے!
ہم تیرے دین کو بنکوں، بازاروں، عدالتوں، کارخانوں اور گھروں میں نافذ تو شاید نہ کر سکے مگر ہم نے، ہمارے دین داروں نے، ہمارے قائدین نے پورا زور لگا کر اس کو کلمہ پڑھوا لیا، اس کا نام مسلمانون والا رکھ دیا، اسے سب مسلمان کہنے اور ماننے لگے، اور مولانا طارق جمیل کے الفاظ میں ’’کہتے رہو، ممکن ہے اللہ تمہارے کہنے کی برکت سے تمہارے کرنے کو ٹھیک کر دے۔‘‘
کاش کوئی اس بڑی بی اور اس کے قبیلہ کو قرار داد مقاصد یاد دلا دے
کاش!

Comments

زبیر منصوری

زبیر منصوری

زبیر منصوری نے جامعہ منصورہ سندھ سے علم دین اور جامعہ کراچی سے جرنلزم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی، دو دہائیاں پہلے "قلم قبیلہ" کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ٹرینر اور استاد بھی ہیں. امید محبت بانٹنا، خواب بننا اوربیچنا ان کا مشغلہ ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ورکشاپس کروا چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.