قاری اور لکھاری – نورین تبسم

کسی لکھاری کے لفظ نظر کے لمس کو چھو کر دل پر دستک دیں تو اپنی محبت میں گرفتارکر لیتے ہیں۔ ہم اُن منظروں کےساتھی بن جاتے ہیں جو سوچ سفر کے موسم میں لفظ کی صورت کاغذ پر نکھرتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ منظر، یہ لہجہ اجنبی نہیں، ہمارے دل کی آواز بھی ہے۔ قربت کا احساس بڑھے تو محبت عشق میں بدل جاتی ہے۔

لفظ سچا ہو دل سے نکلا ہو تو عشق بھی سچا ہوتا ہے، پھر یہ عشق عقل وشعور کی آکسیجن بن کر ہماری آنکھ کے کینوس پربکھرتے رنگوں کو ایک مربوط پیکر میں ڈھال دیتا ہے۔سچا عشق زندگی برتنے،زندگی پرکھنے کا قرینہ سکھاتا ہے۔۔۔زندگی کا مفہوم اُجالتا ہے اور عمر کے بڑھتے سایوں میں قدم قدم پر رہنمائی کرتا ہے۔

لفظ سے عشق کرتے کرتے نہ جانے کب ہم لکھاری کے سحر میں گرفتار ہوجاتے ہیں۔ انجانے میں ہی سہی لفظ سے بڑھ کر شخصیت کی قربت کی چاہ بڑھ جاتی ہے۔ اُس کا ہمارے دور میں ہونا یا نا ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ لفظ کی صورت اُس کی قربت کی خوشبو ہمیشہ اپنے حصارمیں لیے رکھتی ہے۔ یہ خوشی بسا اوقات کسک اور خلش اس وقت بنتی ہے جب وہ ہمارے دور میں ہمارے قریب بھی ہو۔ اور مل نہ پائیں۔ اس چاہ کی جھلک اکثر دیکھنے کو ملتی بھی ہے۔ جب اچانک ہمارا پسندیدہ لکھاری ہمیں اپنے درمیان اپنے قریب نظر آجائے۔ اُس کے دستخط، اس کے ساتھ تصویر اور چند لمحے کی ملاقات ہی اس عشق کی کمائی ٹھہرتی ہے۔ یہاں ذرا سی غلطی ہو جاتی ہے کہ ہم لفظ کی طرح لکھنے والے کے وجود کو بہت اونچا مقام دے بیٹھتے ہیں۔ شخصیت کا بُت پہلی نظر یا پہلی ملاقات میں ٹوٹ بھی سکتا ہے۔ اس میں سراسر قصور ہمارا بھی ہے کہ لکھنے والا ہمارے جیسا عام انسان ہی ہوتا ہے، اپنے کردار میں اور افعال میں۔ کبھی بت یوں ٹوٹتا ہے جب ہم قول وفعل کا تضاد دیکھتے ہیں یا لفظ اور کردار میں کہیں سے بھی مماثلت دکھائی نہیں دیتی۔ اکثر کاغذی رشتے، صوتی ہم آہنگی، جب رسائی کی حدت میں جذب ہوتے ہیں تو خزاں رسیدہ پتوں کی طرح بےجان لگتے ہیں تو کبھی پُرشور ڈھول کی طرح اندر سے خالی۔ اس لمحے ہماری محبت ہمارا عشق چپکے سے دل کے مدفن میں اُتر جاتا ہے۔

لکھاری جس مٹی میں پلا بڑھا ہواس کی خوشبو سے کبھی فرار حاصل نہیں کر سکتا اور مٹی سے وابستہ اس کے پڑھنے والے بھی اسے اسی طور محسوس کرتے ہیں۔ بڑے ادب یا چھوٹے ادب کے فرق سے ناآشنا قاری معاشرے کا عام آدمی ہوتا ہے کوئی مستند نقاد نہیں۔کسی لکھاری کو پسند کرنے والوں کو درحقیقت اس کے لفظ میں اپنے دل اپنی سوچ سے قربت کی مہک آتی ہے۔ لکھاری کے لفظ اس کے عہد اور اس کے ماحول کے سائے میں پنپتے تو ہیں لیکن اُس کی ظاہری کردار سے تال میل نہیں کھاتے۔ایک لکھاری انسانوں کی چیختی چلاتی دُنیا میں اپنے اندر کے شور پر دھیان دیتا ہے تو اردگرد اٹھنے والے تلاطم اُس کے اندر ایک گہری خاموشی اُتار دیتے ہیں۔شخصیت کا یہ تضاد اس کی اصل طاقت ہوتا ہے تو اس کے باطن کی غمازی کرتے ہیں۔

محبت ہو یا عشق۔ رشتوں اورتعلقات کے پڑاؤ سے گزرتا ہو یا لفظ کے لمس سے بار آور ہوتا ہو جب تک ’’مجاز‘‘ سے نکل کر حقیقت کی دہلیز کو نہیں چھوتا، تکمیل کی خوشبو سے دور ہی رہتا ہے، ہمیشہ در کا بھکاری رہتا ہے سر کا تاج کبھی نہیں بن سکتا۔ اسی طرح ایک لکھاری کو معاشی ناہمواریاں اور عائلی ناکامیاں تخلیقِ فن کی معراج پر تو لے جا سکتی ہیں لیکن کامیاب انسان کا لیبل چسپاں نہیں کر سکتیں۔ وقت سب سے اہم پیمانہ ہے۔ جہاں ہم محبت کرنے اسے اپنانے میں اپنی زندگی کی قیمتی سوچ نذر کر دیتے ہیں وہیں مسترد کرنے میں ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرتے۔ یہی ہماری سب سے بڑی خامی ہے، جس کا احساس وقت پر ہو جائے تو ہمیشہ کے خسارے سے بچا جا سکتا ہے۔

رشتوں اور تعلقات کی محبت سفرِ زندگی کے ساتھ رنگ بدلتی ہے تو ہر رنگ میں خود کو بحسن وخوبی ڈھالتی بھی ہے۔ اسی طرح لفظ کی چاہ تتلی کی طرح ہرخوش رنگ پھول کی طرف راغب ہوتی ہے۔ بقدرِظرف اپنا حصہ سمیٹتی ہے اور پرواز کر جاتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ہر محبت، ہر عشق، ہر چاہ اور ہر لمس عارضی ہے، مجازی ہے، دنیاوی ہے۔ جب تک اس کا رُخ حقیقی لذت اور روحانی تسکین کی طرف نہیں مڑتا، تلاش کا عمل جاری رہتا ہے۔ انا کے رنگ گہرے اورعقیدے کے رنگ کچے ہوں تو تلاش کا یہ سفر لاحاصل رہتا ہے۔

زندگی کے رنگوں کی قوس قزح جب تک ایک ابدی اور الوہی رنگ کی نشاندہی نہ کرے، مکمل تصویر نہیں بنتی۔ لفظ کی تلاش کا سفر جب تک خالق کائنات کے لفظ تک رسائی حاصل نہیں کرتا کبھی اس کا مفہوم واضح نہیں ہوتا۔ اسی طرح جو انسان کے لفظ سے انجان ہو وہ رب کے لفظ کی پہچان سے بھی غافل رہتا ہے۔ حق یہ بھی ہے کہ جس کی محبت انسان تک آ کر رُک گئی یا جس کی تلاش انسان کے لفظ پر آ کر ختم ہو جائے وہ ہمیشہ بند گلی کا مسافر ہی رہتا ہے۔

آخری بات
حقیقی مسرت اورکامیابی انسان کے لکھے لفظ سے انسان کے لیے لکھے لفظ تک جذبیت میں پوشیدہ ہے۔

Comments

FB Login Required

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

Protected by WP Anti Spam