اسلامی بینکاری اور عمران احسن نیازی کی آراء (5) - محمد ابوبکرصدیق

اگر اسلامی بینک کا اکاؤنٹ مضاربہ پر مبنی ہوتا ہے تو متعدد سوال پیدا ہوتے ہیں:
1۔ اسلامی بینک مضارب اور کلائنٹ رب المال بنتا ہے۔ مضارب من وجہ رب المال کا وکیل بھی ہوتا ہے۔ اس صورت میں کلائنٹ وکیل کے متعلقہ افعال کا ذمہ دار بھی ہوتا ہے، حالانکہ یہاں وکیل یعنی اسلامی بینک کو تو تجارت کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ (کیونکہ اسلامی بینک تجارت نہیں کرتے۔ جب تجارت ہی نہیں کر سکتے تو مضاربہ کس بات کا؟)
2۔ اگر اسلامی بینک کو نقصان ہوجائے تو ساری ذمہ داری کلائنٹ پر آئے گی، اور کلائنٹ کو اپنی رقم سے واپس کچھ بھی نہیں ملے گا۔
3۔ کلائنٹ پر اسلامی بینک کے تمام دیون کا غیر محدود ذمہ داری کا بوجھ ہوتا ہے۔ اور یہ دیون کلائنٹس کے ذاتی اثاثہ جات سے پورے کیے جائیں گے۔
4۔ اسلامی بینک ان نقصانات کا ذمہ دار نہیں ہوتا۔

دعوے کا تجزیہ :
پچھلی قسط میں یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ اسلامی بینکوں کے انوسٹمنٹ اور سیونگ اکاؤنٹ مضاربہ کی بنیاد پر کھولے جاتے ہیں۔ مضاربہ دو طرح کا ہوتا ہے، ایک مضاربہ مطلقہ جس میں مضارب کو پیسہ انویسٹ کرنے کی کھلی اجازت ہوتی ہے اور اس پر رب المال یعنی پیسوں کے مالک کی جانب سے کسی قسم کی کوئی پابندی عائد نہیں ہوتی سوائے اس کے کہ وہ اُن پیسوں کو کسی حلال اور جائز کام میں لگائے۔ دوسرا مضاربہ مقیدہ ہوتا ہے جس میں پیسوں کا مالک مضارب پر مختلف قسم کی پابندیاں عائد کرتا ہے۔ اس لیے اسلامی بینک اپنے اکاؤنٹ مضاربہ مطلقہ کی بنیاد پر کھولتے ہیں اور اپنے لیے انوسٹمنٹ سے متعلق فیصلوں میں آزادی کو ترجیح دیتے ہیں۔

جہاں تک پہلی بات کا تعلق ہے تو وہ اس حد تک درست ہے کہ اسلامی بینک نارمل تجارت کی طرح تجارت نہیں کرتے، لیکن اسلامی بینک اسٹاک مارکیٹ یا سکوک کی خریداری پر پیسہ لگا سکتے ہیں، مشارکہ اور دیگر تمویلی طریقوں کے ذریعے انوسٹ کر سکتے ہیں۔ اور اس کے لیے ایک الگ پروسیجر ہے جو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب منظور شدہ ہے جس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔ مضاربہ مطلقہ ہونے کی بدولت اسلامی بینک یہ فیصلے کرنے میں آزاد بھی ہوتے ہیں اور یہ جائز بھی ہے۔

اسلامی بینکوں سے متعلق عوام و خواص میں یہ غلط فہمی عام ہے کہ اسٹاک مارکیٹ میں تو انویسٹمنٹ حرام ہے جو کہ ایک غلط تصور ہے۔ نیز سودی بینک وہاں انوسٹ کرتے ہیں، اگر اسلامی بینک بھی وہاں انوسٹ کر ے تو کیا فرق رہ جاتا ہے؟ اس پرگزارش ہے کہ اسٹاک مارکیٹ از خود بری یا حرام نہیں ہے۔ وہ ایک ایسی مارکیٹ ہے جہاں حلال و حرام سب کچھ بکنے کے لیے موجود ہوتا ہے۔ سودی بینک حلال و حرام کی تمیز کیے بغیر وہاں انوسٹ کرتا ہے اس لیے سودی بینکوں کی یہ انوسٹمنٹ حرام ہوتی ہے، جبکہ اسلامی بینک اسٹاک مارکیٹ میں انوسٹ کرنے کے فیصلے میں آزاد نہیں ہوتے۔ اس حوالے سے میں یہاں اپنے ایک آرٹیکل سے کراچی میزان انڈیکس کے نام سے درج ذیل اقتباس پیش کرتا ہوں جو قارئین کے لیے مفید ہوگا۔
کراچی میزان انڈیکس
کسی کمپنی میں اسلامی بینک کی سرمایہ کاری سے متعلق سوال یہ ہے کہ یہ پتہ کیسے چلے گا کہ کس کمپنی کا کاروبار جائز اور حلال ہے؟ اسلامی بینک کِس کمپنی کے سٹاک میں پیسہ لگائے گی؟ تو اِس کا جواب یہ ہے کہ کراچی اسٹاک مارکیٹ اور میزان اسلامک بینک نے 2009ء میں کراچی میزان انڈیکس (Karachi Meezan Index) کے نام سے ایک مشترکہ انڈیکس متعارف کرایا ہے جسے دونوں اداروں کے جدید مالیاتی امور کے ماہرین اور شرعی ایڈوائزر (مفتیانِ عظام) کی نگرانی میں تیار کیا جاتا ہے۔ اس انڈیکس میں مختلف کمپنیوں کے کاروبار کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ جس کمپنی کا کاروبار مکمّل طور پر جائز ہو یا کاروبار کا زیادہ حصہ جائز ہو توایسی تیس (30) کمپنیوں کو انڈیکس میں ترتیب سے شامل کیا جاتا ہے، اِس لیے اسے KMI30 کہتے ہیں، جو افراد یا ادارے صرف اُن کمپنیوں کے سٹاک؍شیئر خریدنا چاہتے ہوں جن کے کاروبار شرعاََ جائز ہوں تو وہ KMI30 میں شامل کمپنیوں کے سٹاک ؍شیئر خریدتے ہیں۔ یہ انڈیکس ہر چھ ماہ بعد Update کیا جاتا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ اگر اسلامی بینک نے سٹاک مارکیٹ میں پیسہ لگانا ہو تو اُسے KMI30 کی کمپنیوں میں ہی انوسٹ کرنا ہوگا۔

البتہ کمپنیوں کے بزنس کے حلال و حرام کے تعین میں جو اصول وضع کیےگئے ہیں، وہ اس طرح جامع و مانع نہیں ہیں جیسا کہ انھیں ہونا چاہیے، اس پر راقم خود بھی تنقید کرتا ہے کہ اسے مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے، لیکن یہ امر بھی بتدریج بہتری کی طرف گامزن ہے، اور حرام مارکیٹ سے کسی بزنس کو حلال کا راستہ دکھانے کے لیے یہ ایک بہترین طریقہ ہے۔ اس سے لوگوں کو یہ تحریص ملے گی کہ وہ اپنے بزنس حلال طریقوں سے کریں تاکہ اسلامی بینک ان میں انوسٹ کریں اور ساتھ ہی دوسرے لوگ بھی ان کی طرف متوجہ ہوں۔

آخری تین نکات اس حد تک تو ٹھیک ہیں کہ سارا نقصان کلائنٹ کوبطور رب المال برداشت کرنا پڑتا ہے اور یہی شرع کہتی ہے۔ کلائنٹ اپنے مضاربہ فنڈ کی شرح کی حد تک نقصان کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ لیکن اگر اسلامی بینک کی کوتاہی کی بدولت نقصان ہوا تو اس کی ذمہ داری اسلامی بینک پر ہی آتی ہے۔ نیز مضارب اگر حد سے زیادہ دیون اٹھائے گا تو اُس کی ذمہ داری مضارب پر ہی آئے گی، کلائنٹ اس کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔ یہ بات بالکل غلط ہے کہ کلائنٹ کو پیسہ واپس ہی نہیں ملے گا۔ یہ صرف اُس صورت میں ہوگا کہ اگر نقصان میں ساری انوسٹمنٹ ضائع ہوجائے۔ لہذا کوتاہی کی صورت میں اسلامی بینک نقصان کا ذمہ دار ہوتا ہے۔

Comments

محمد ابوبکر صدیق

محمد ابوبکر صدیق

محمد ابوبکرصدیق بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس، اسلامی بینکنگ میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ماسٹر، اسلامی یونیورسٹی سے ایم ایس اسلامک بینکنگ کیا، اب پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.