خالی نشست - دُرّ صدف ایمان

گھڑی کی طرف دیکھا کلاس کا وقت ہو گیا تھا۔ آج نہ جانے کیوں پڑھانے کا موڈ نہیں ہو رہا تھا۔ پھر بھی کلاس کی جانب چل پڑی۔ کلاس میں داخل ہوئی تو سب سے پہلے نشست خالی دیکھ کر حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔ بہرحال اپنی حیرت کو کمپوز کرتے ہوئے سلام احوال سے فارغ ہو کر اس خالی نشست کا حال پوچھا تو سب نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ مجھے تشویش ہوئی لیکن ظاہر کرنا مناسب نہ سمجھا اور چونکہ پڑھانے کا کوئی خاص موڈ نہ تھا تو طالبات سے ادھر اُدھر کی باتوں اور ملکی و غیر ملکی چیزوں پر بحث کر کے وقت گزار دیا۔ لیکن وہ خالی نشست خالی کیوں ہے؟ اس سوال سے میرا ذہن خالی ہو پایا، نہ جواب حاصل کر پایا۔

آپ سب سوچ رہے ہوں گے کہ خالی نشست میں ایسی کیا خاص بات ہے؟ کیوں ایک ٹیچر ہوتے ہوئے ایک خالی نشست کو اتنا سوچ رہی ہوں؟ خالی نشست جس کی تھی، وہ میری ہر دلعزیز اور قابل طالبہ ہونے کے ساتھ بےانتہا ذہین تھی، سوالات کا لامتناہی سلسلہ اس کے پاس موجود ہوتا تھا۔ مجھے اس کی ذہانت سے بھرپور سوالات کا جواب دینے میں مزہ آتا تھا، اور کلاس میں بھی ایک ماحول بن جاتا تھا۔ بہرحال وہ دن گزر گیا، وہ نہیں آئی۔ حیرت کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ طالبہ چاہے کتنا ہی ضروری کام ہو حاضر ہوتی تھی۔ بیماری ہو یا بارش، کوئی آئے نہ آئے، اس کی حاضری لازمی ہوتی تھی۔ آج کیوں نہیں آئی، کل آئے گی تو پوچھوں گی، یہ سوچ کر میں گھر آ گئی، مگر اگلے دن بھی وہ غیر حاضر تھی اور یہ حیرت کا دوسرا جھٹکا تھا۔ اب میری تشویش پریشانی میں ڈھلنے لگی تھی۔ فطری سی بات ہے کند ذہن طالب علم غیر حاضر ہو تو اس کی طرف دھیان نہیں جاتا مگر یہ تو کلاس کی رونق تھی۔ اگر میری زبان پر نہیں آتا تو کلاس میں سے کوئی طالبہ کہہ دیتی کہ آج مشعل نہیں آئی۔ بہرحال کلاس میں پڑھاتے پختہ ارادہ کر لیا کہ ریکارڈ فائل میں سے مشعل کا نمبر لے کر رابطہ کر کے پوچھوں گی اور اس ارادہ کو عملی جامہ بھی پہنایا اور کال بھی کی، مگر نمبر بند تھا. آپ کا مطلوبہ نمبر بند ہے، کی ریکارڈنگ سن کر دل چاہا کہ ریکارڈنگ کا منہ بند کر دوں ۔ مشعل کی غیر حاضری کا سوچ کر عجیب سی الجھن ہو رہی تھی۔ اسی طرح پورا ہفتہ گزر گیا، مشعل کی طرف سے کوئی خبر آئی نہ وہ۔ میرا احساس بھی ختم ہو گیا لیکن اس سوال کا جواب نہیں ملا کہ آخر مشعل کیوں نہیں آ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   آپ بیتی .... - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

اسی طرح دو تین ماہ گزر گئے کہ ایک دن اکیڈمی کی طرف سے ہونے والے درس قرآن میں مشعل کے علاقے کی ایک خاتون سے ملاقات ہوئی، وہ نہ صرف مشعل کے علاقے کی تھی بلکہ اس کی خالہ بھی تھی۔ یہ بات اسی دن مجھے معلوم ہوئی۔ ان سے درخواست کی کہ مجھ سے مل کر جائیے گا۔ بعد از درس قرآن سب سے ملتے ہوئے لاشعوری طور پر میرا دھیان مشعل کی خالہ کی طرف تھا۔ سب کو فارغ کرنے کے بعد مشعل کی خالہ کو لیکر آفس میں آ گئی اور رسمی حال احوال کے بعد مطلب کے سوال پر آ گئی اور مشعل کے بارے میں پوچھا۔ مگر مشعل کی خالہ کو تو جیسے چپ کی مہر لگ گئی، ان کے چہرے سے میں نے اندازہ لگایا کہ وہ کچھ بتانے کے موڈ میں نہیں ہیں، لیکن میں جس ذہنی الجھن میں تھی اس سے نکلنے کے لیے مجھے اس بات کا جواب چاہیے ہی تھا۔ میں نے اصرار و پیار دونوں سے کام لیتے ہوئے ان سے بار بار پوچھا، یہاں تک کہ وہ بتانے کے لیے آمادہ ہو گئیں، اس وعدے کے ساتھ کہ میں کسی کو کچھ نہ بتاؤں۔ اس کے بعد مشعل کی خالہ نے جو بتایا وہ نیا نہیں تھا۔ وہی پرانی کہانی تھی جو کئی دفعہ سنی تھی مگر اس دفعہ اس بار درد ہوا تھا۔ بات کچھ اس طرح تھی۔

مشعل کے والد کچھ اپنے اصولوں میں سخت تھے، ضرورتاً بھی کہیں آنے جانے کے خلاف تھے۔ مشعل کو اسلامک اکیڈمی آنے جانے کی اجازت بھی صرف اس لیے ملی کہ شریعت سیکھ سکے اور تعلیم کا یہ دروازہ بھی مشعل کے بہت ضد کرنے کے بعد کھلا تھا، اور اپنے پڑھنے کے شوق کو علمِ دین سیکھ کر تسکین دے رہی تھی۔ لیکن یہ مشعل کی بدنصیبی کہ چند اوباشوں نے اپنی وقتی تفریح کے لیے اس کی زندگی برباد کر دی. وہ مشعل کو آتے جاتے تنگ کرنے لگے، آوازیں کستے، اور ایک دن تو حد کر دی کہ اکیڈمی سے پیچھا کرتے ہوئے مشعل کے محلے تک پہنچ گئے۔ شومی قسمت کہ مشعل کے والد نے دیکھ لیا، اور مشعل پر نہ صرف تعلیم کے دروازے بند کر دیے بلکہ اپنی ہی بیٹی کی غلطی گمان کرتے ہوئے جلد بازی میں خاندان سے آئے ایک غیر مناسب رشتے کو قبول بھی کر لیا، اور دو ماہ میں شادی بھی کر دی جو ان کی ذہین اور خوبصورت بیٹی کے لیے کسی بھی طرح موزوں نہیں تھا۔ جو علم حاصل کر کے معاشرے میں اچھائی پھیلانا چاہتی تھی، معاشرہ سدھارنا چاہتی تھی، اس کی زندگی اب صرف شوہر کو ام الخبائث پینے سے روکنے، اور حلال و حرام کی تمیز سکھانے کے جرم میں مار کھاتے ہوئے گزر رہی ہے۔ ابا کے گھر شریعت کے اصولوں پر چلنے کی اجازت تو تھی، شوہر کے گھر صرف اس کے خود ساختہ اصولوں پر چلنے کی اجازت تھی۔ روگردانی کی صورت میں ہاتھ پیروں کا استعمال بے دریغ کیا جاتا ہے.

یہ بھی پڑھیں:   آپ بیتی .... - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

مجھے مشعل کے نہ آنے کی وجہ تو معلوم ہوگئی مگر معلوم ہونے بعد دل میں بےساختہ خیال آیا کہ کاش مجھے کچھ معلوم نہیں ہوتا۔ ساتھ ہی مشعل کے والد کے لیے کئی سوال آئے کہ کیا انہیں اپنی بیٹی سے زیادہ گلی کے آوارہ لڑکے عزیز تھے؟ شریعت کے پابند تھے مگر اپنی مرضی کی شریعت کے، انھیں کفو یاد رہا نہ بالغہ بیٹی کی رضا مندی۔ کیوں؟ یہاں ایسے آوارہ لڑکوں سے بھی سوال ہے کہ کیا ملتا ہے یہ سب کر کے، ان کی تفریح سے ایسی کتنی ہی لڑکیوں کی زندگی برباد ہوگئی۔

Comments

در صدف ایمان

در صدف ایمان

در صدف ایمان الایمان اسلامک اکیڈمی کراچی کی ڈائریکٹر ہیں۔ شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.