علماء سے تنافر کے بعد سیکولرازم کا نعرہ - شہیر شجاع

علمائے کرام سے اس قدر تنافر پھیلادیا گیا ہے جس وجہ سے لوگوں میں اسلام سے ہی دوری پیدا ہوگئی ہے۔ علماء کے لیے دلوں میں نفرت پیدا کرنے کا اصل مقصد یہی ہوسکتا ہے کہ اسلام سے ہی دور کر دیا جائے۔ شرعی احکام و مسائل کو ہر کس و ناکس نے یوں سمجھنا شروع کردیا ہے جیسے کسی ادبی شعر و نثر کی تشریح قاری اپنے فہم و ادراک و تجربات کی روشنی میں کرتا ہے۔ اکثر و بیشتر ”جدید تعلیم یافتہ حضرات“ کی جانب سے ایسی تشریحات سننے میں آتی رہتی ہیں، جن میں اجتہاد کو شرع سے ہٹا کر انسانی عادت پر قیاس کر لیا گیا ہو۔ ایسا ہی ایک واقعہ کسی صاحب کی تحریر میں نظروں سے گزرا۔ فرماتے ہیں ”میں حج پر گیا تو احرام باندھ کر اپنا ’انڈرگارمنٹ‘ نہیں اتارا کیونکہ اس کو اتارنا میری عادت کو گوارہ نہیں۔“ الفاظ مجھے مکمل یاد نہیں مگر اجتہاد کو لے کر یہی ان کا مدعا تھا کہ وہ بھی اجتہاد کے مکلف ہیں، محض علمائے کرام ہی ٹھیکیدار نہیں ہیں۔ شاید یہ بتانا چاہ رہے ہوں کہ ان کی حیاء آڑے آگئی۔ اسی تحریر میں یہ بھی فرمایا کہ انڈرگارمنٹ وہ صرف سوتے وقت بدلتے ہیں، جبکہ ہم نے اکابرین کی روداد سنی ہے کہ جہاں وہ غسل کے دوران بھی اپنی شرمگاہ کےگرد کپڑا لپیٹ لیا کرتے تھے۔ کیا حیاء کے پیکر تھے۔ اور یہاں حج کے دوران ان کی حیاء نے انھیں ”اجتہاد“ پر مجبور کر دیا۔

سورہ القیامہ کی آیت نمبر 75 کہ ”کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ اس کو بے کار چھوڑ دیا جائے گا؟“ کی تفسیر میں علماء فرماتے ہیں کہ سدی اس شخص کو کہتے ہیں جس کو کسی کام کے کرنے کا حکم دیا جائے نہ کسی امر سے روکا جائے۔ امام شافعی رحمہ اللہ اس کی تفسیر میں مزید فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے سوا کسی کو جائز نہیں کہ وہ اپنے جی سے کچھ کہے یا اپنی پسند کا اظہار کرے، یہ سب سے بڑی بدعت ہے، بلکہ نصوص سے استدلال کرے۔ (کتاب الرسالہ) امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اس وقت تک اپنی رائے کا اظہار نہیں کرتا یہاں تک کہ اس مسئلے میں کوئی ضعیف حدیث ہی کیوں نہ مل جائے۔ میری رائے کے مقابلے میں وہ ضعیف حدیث معتبر ہے۔ (اس کا حوالہ مجھے یاد نہیں)

علماء سے متنفر ہونے کا سب سے بھیانک نتیجہ یہ نکلا کہ عوام نے مسجد کو صرف نماز پڑھنے کے مقام کا درجہ دے دیا اور امام و معلم سے کنارہ ہوگئے۔ یہاں تک کہ شرعی علوم کی کتب کا درجہ ناقابل قبولِ مزاج قرار پاگیا۔ جب علم سے ہی ناآشنائی ہوگی تو عالم کی کیا پہچان ہوگی؟ یوں معاشرہ درجہ بدرجہ دین سے دور ہوتا گیا اور لادینی ”خوش کن نظریات“ کے سحر میں گم ہوتا گیا۔ اور پھر یہ وقت آیا کہ ریاست کے بیانیے سے مذہب کا باب ہی ختم کر دینے کا نعرہ بلند ہوا اور ”لبرل ازم و سیکولر ازم“ کے نظریے کو تقویت ملی۔ آج ”ملائیت“ کو مغربی ”پاپائیت“ کا ہم پلہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس نظریے کی قبولیت کی وجہ بھی درحقیقت حد سے زیادہ پھیلائی گئی نفرت ہے۔ ورنہ ہمارے معاشرے کی آج بھی شان بہترین علماء ہیں۔ جو یکے بعد دیگرے رخصت بھی ہوتے جا رہے ہیں مگر چونکہ ہمیں ان کی اہمیت کا اندازہ ہی نہیں۔ ہم تو ”ملائیت“ کے نعروں کی زد میں ان کی پہچان ہی کھو چکے۔ ان سے استفادہ کیا کریں گے؟ سو دین کا مذاق اڑانا بھی عادات میں شامل ہوتا جا رہا ہے جبکہ اللہ جل شانہ نے شعائر اسلام کی توہین کی سختی سے ممانعت فرمائی ہیں۔ سو اب جبکہ لوہاگرم ہے خصوصا تعلیم یافتہ طبقہ دین سے متنفر ہوچکا۔ اب مکمل طور پر عوام کی زندگی سے دین کو نکال دینے کا وقت آپہنچا، اور سیکولر ریاست کا نعرہ شدو مد سے در و بام میں گونج گیا ۔ کیا انسان اس قدر بھی اپنے شعور سے لا تعلق ہو سکتا ہے کہ وہ اللہ جل شانہ کی حاکمیت اعلی کا ہی منکر ہوجائے ؟ زبان سے تو ہم کئی ہندو پنڈتوں سے لے کر نصاری سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی مدح و ستائش سنتے رہتے ہیں۔ کیا یہ ان کے ایمان کے لیے کافی ہے؟ علم ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو خیر و شر کی تمیز میں معاون ہے۔ اس کے لیے علماء سے تعلق کو از سر نو استوار کرنا ہوگا۔ عقیدت عالم سے نہیں علم سے بنانی ہوگی تاکہ منبر پر اس کا صحیح حقدار ہی پہنچ سکے۔ اور علم و حکمت سے تعلق ایک مرتبہ پھر تعمیر ہو۔ سیکولر و لبرل، محبت و آزادی جیسے خوش کن نعروں کے لبادے میں لپٹے زہر کی پہچان ہو۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com