اللہ کی تلاش - حمزہ حنیف مساعد

اللہ کی تلاش شاید کبھی مکمل نہیں ہوسکتی. جتنا ہم اس سےغافل ہوتے جا رہے ہیں اتنا وہ ہم سے درو جا رہا ہے، اور اس کی تلاش مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے. تلاش کرو، آگے کے راستے خود مل جائیں گے، اس کی تلاش میں نکلو کہیں دیر نہ ہو جائے.
موسی کو مل گیا طور پہ پروردگار بھی
میں خود تلاش میں ہوں اس سے ہم کلام کے

محبت کے ہر ہر پردے میں اللہ کی تلاش ہے۔ کبھی آنسو کبھی دعا میں، کبھی ذرے کبھی کائنات میں، کبھی انسان کبھی حیوان میں، کبھی چڑیا کبھی چاند میں، کبھی موج کبھی جھیل میں، کبھی سمندر کبھی چراغ میں، کبھی سجدے کبھی مے میں، کبھی نیند کبھی خواب میں، کبھی کسب کبھی آرام میں، کبھی خامشی کبھی بات میں، کبھی مشکل کبھی راحت میں، کبھی صبح کبھی رات میں، کبھی معافی کبھی احسان میں، کبھی خالی کبھی سامان میں، کبھی تشنہ کبھی اسباب میں، کبھی ہجر کبھی وصال میں، کبھی مصیبت کبھی آرام میں، کبھی سردی کبھی گرمی میں ، کبھی برف کبھی آبشار میں، کبھی نیکی کبھی ثواب میں، کبھی گناہ سے بچنے کسی احساس میں، کبھی اس جا کبھی اس جا میں۔۔
محبت ہر ہر پردے میں اللہ کی تلاش ہے!

اور اللہ کی تلاش اسی پر عیاں ہوتی ہے جسے وہ اپنی تلاش کا احساس دینا چاہے۔ وہ اتنا خالص ہے کہ جس دل میں اپنی تلاش بھرنا چاہتا ہے اس دل کے مرکز کو ”میں“ سے پاک کرتا ہے، پھر دنیا کی ہر آلائش سے پاک کرتا ہے اور خواہش کے دھوکے سے نکال کر من کی دنیا کو نکھار دیتا ہے، پھر اپنی یاد سے ایسے مزین کرتا ہے جیسے اندھیرے میں ستارے جگمگاتے ہوں۔ پھر اشکوں سے پاک کی گئی نگاہ کو اپنی محبت کی روشنی کی جِلا خوبصورت قوسِ قزح بخشتا ہے۔ پھر یہ روشنی ارض وسما میں جا پڑتی ہے۔
کبھی وہ کسی”کُن“ سی کسی بچے کی مسکراہٹ میں دمکتی ہے،
کچھی اچانک چھپ کر کسی ستارے میں جگمگاتی ہے،
کبھی چاند کی اوٹ میں شرارت کرتی ہے،
کبھی بادلوں میں کوئی نقش بنا جاتی ہے،
کبھی دل میں محبت رحم سا بھر کر کسی کے لیے خاموش راتوں میں بےبسی سے اشک بہاتی ہے،
تو کبھی آنکھوں میں کسی کا عکس دکھا دیتی ہے،
محبت ایک بار روح میں اتر آئے تو ازل کے اس کیف سے جا ملتی ہے جو روح کا خاصانِ خاص ہے اور تبھی روح اپنی اصل سے آشنا ہوتی ہے، اس حلاوت سے اس لطافت سے آشنا ہوتی ہے کہ محبت کے کیف کو پاتی ہے۔ پھر وہ وجود کی قید سے بےنیاز کائنات سے بھی ماورا ہو جاتی ہے جو اس کی راہ میں آئے، محبت ہو جاتا ہے، ہر ذرہ دعا ہو جاتا ہے۔
الحمدللہ محبت ہر ہر پردے میں اللہ کی تلاش ہے۔۔!

کسی نے یہ ایک قصہ یوں بیان کیا ہے کہ ایک بےحد ذہین شخص تھا۔ وہ مستقل طور پر اس احساس میں مبتلا رہتا تھا کہ میں زندگی میں اپنے واقعی مقام کو نہ پا سکا۔ بالآخر اس نے خودکشی کر لی۔ اس نے اپنی خود کشی کی تحریر میں لکھا تھا: ’’میں اپنی زندگی کو ختم کر رہا ہوں کیونکہ میں شاید ایسی دنیا میں بھٹک آیا جس کے لیے میں پیدا نہیں کیا گیا تھا۔‘‘ کمی کا یہ احساس اکثر ان لوگوں کا پیچھا کرتا رہتا ہے جو فطرت سے غیر معمولی ذہن لے کر پیدا ہوئے ہوں، وہ یا تو مایوسی اور ناکامی کی زندگی گزار کر طبعی موت مرتے ہیں یا خود کشی کر لیتے ہیں۔ کم تر ذہن رکھنے والوں میں ایسے لوگ کافی مل جائیں گے جو بظاہر مطمئن زندگی گزارتے ہوں، مگر برتر ذہن رکھنے والوں میں مشکل ہی سے کوئی شخص ملے گا جو مطمئن زندگی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہو۔ اس کی وجہ انسان کی معیار پسندی ہے۔ ہر انسان فطری طور پر آئیڈیل کی تلاش میں ہے، مگر موجودہ دنیا میں آئیڈیل کو پانا اتنا مشکل معلوم ہوتا ہے کہ یہ مثل بن گئی ہے کہ ’معیار کبھی حاصل نہیں کیا جا سکتا‘۔

اب ہوتا یہ ہے کہ کم تر درجہ کا ذہن رکھنے والوں میں چونکہ شعور بہت زیادہ بیدار نہیں ہوتا۔ وہ آئیڈیل اور غیر آئیڈیل کے درمیان بہت زیادہ فرق نہیں کرپاتے۔ وہ اپنے موٹے ذوق کی وجہ سے غیر آئیڈیل میں بھی اس طرح مشغول ہوجاتے ہیں جیسے کہ وہ ان کا آئیڈیل ہو۔ مگر جو لوگ زیادہ ذہین ہیں، وہ آئیڈیل اور غیر آئیڈیل کے فرق کو فوراً محسوس کر لیتے ہیں، اور اس بنا پر آئیڈیل سے کم کسی چیز پر اپنے کو راضی نہیں کر پاتے۔

انسان کا آئیڈیل ایک ہی ہو سکتا ہے، اور وہ اس کا خالق اور رب ہے۔ اعلیٰ ذہن کے لوگ جس چیز کی تلاش میں ہیں وہ ربانی مشن کے سوا اور کچھ نہیں۔ خدا کا وجود ہی آئیڈیل وجود ہے۔ اور خدا کے مشن میں اپنے کو مشغول کر کے ہی ہم اس چیز کو پا سکتے ہیں جو ہماری پوری ہستی کو تسکین دے، اور آئیڈیل کے بارے میں ہمارے ذہنی معیار پر مکمل طور پر پورا اترے۔ انسان کا آئیڈیل اس کا اللہ ہے، مگر وہ اپنے اس آئیڈیل کو ناکام طور پر غیر اللہ میں تلاش کر رہا ہے۔