تذکرہ ایک ملاقات کا - نعیم الدین جمالی

انسان کو زندگی میں بہت سے لوگوں سے محبت وچاہت ہوتی ہے، لیکن اس رشتہ اخلاص و مودت کی وجوہات مختلف ہوتی ہیں، کبھی کسی کی خوبصورتی کا انسان گرویدہ ہوجاتا ہے، تو کبھی کسی کی علمیت، شخصیت یا کردار کا دلدادہ ہوتا ہے. ایسی چاہت کبھی کبھی غائبانہ بھی ہوتی ہے، اگرچہ محبوب شخص سے ملاقات نہ بھی ہوتی ہو لیکن دلی محبت اور جذبہ اخلاص اس کے لیے نمایاں ہوتا ہے.

2005ء کی بات ہے جب میں اپنے گاؤں سے تعلیم کے لیے سفر کر کے کراچی آیا تو اس وقت اخبار بینی کی لت لگ گئی تھی، مدرسے کی چھٹی کے بعد شام کو اخبار بینی میرا پسندیدہ مشغلہ تھا، دوست احباب مختلف کھیل کھیلتے تھے لیکن مجھے کھیلوں سے نفرت تھی، مختلف اخباروں سے بہت سے کالم نگاروں کو میں پابندی سے پڑھتا تھا، ان میں عرفان صدیقی، اوریا مقبول جان، جاوید چودھری، سلیم صافی وغیرہ. لیکن ایک دن کسی دوست نے ایک ایسے کالم نگار کا تذکرہ کیا جو بیک وقت سندھی اور اردو اخبارات میں اپنے الفاظ کی جادوگری کرتا تھا، مجھے اعجاز منگی کے نام سے ان کا پہلا تعارف کروایا گیا، امت اخبار سے ان کو پڑھنا شروع کیا.

اردو میں تو ان کو بہت پڑھا لیکن مجھے ان کی سندھی تحریریں بڑی پسند آتی تھیں، اگرچہ کراچی میں رہتے ہوئے ان کے سندھی کالم بہت کم پڑھنے کو ملتے، یوں ایک تعارف ہوا اور ہر نئے دن کے ساتھ یہ غائبانہ محبت روز افزوں ترقی کرتی گئی، جتنا ان کو پڑھتا اتنی ملاقات کی خواہش بڑھتی جاتی، لیکن ملاقات کی کوئی سبیل نظر نہ آتی، بس ایک خاموش قاری کے طور پر ہمارا دس سال کا ایک مضبوط تعلق بن گیا، جس دن امت میں منگی صاحب کا کالم ہوتا اس دن میں پہلے کالم پڑھتا باقی اخبار بعد میں دیکھتا. خیر یہ ملاقات کی خاموش خواہش دل میں ہی پنپ رہی تھی کہ محترم رعایت اللہ فاروقی، سجاد خان اور دیگر احباب نے ان کی ملاقات کا تذکرہ فیس بک پر کیا اور تصاویر بھی اپ لوڈ کیں، مجھے اپنی ملاقات کی سبیل نظر آنے لگی اور میں نے فورا سے بھی پہلے بھائی سجاد خان کو میسیج کیا کہ اعجاز منگی صاحب کا نمبر دیں، ان کا جواب آیا کہ فرصت ملتے ہی بھیج دوں گا، اسی دوران کمنٹ میں پیارے دوست پروفیسر سجاد پہنور نے بھی منگی صاحب سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی، اور وہ ہم سے زیادہ ان کے دلدادہ نکلے، زمانہ طالب علمی سے ہی ان کو پڑھتے آرہے تھے. نمبر ملنے پر اعجاز منگی صاحب سے رابطہ کیا اور ملاقات کی خواہش ظاہر کی، انہوں نے ہماری آسانی کے لیے کہا کہ جس دن آپ کو فرصت ہو رابطہ کر کے آجائیں.

جمعہ المبارک کے دن ایک گھنٹے کی ملاقات کا وقت طے ہوا، گیارہ بجے سجاد بھائی کے پاس پہنچا، انہوں نے بڑی کرم نوازی کی، اپنا قیمتی وقت عنایت کیا، اور ہم مقررہ وقت پر منگی صاحب کے گھر کے پاس پہنچ کر انھیں اطلاع دی، وہ خود گیٹ پر تشریف لائے اور ایسے پیارے انداز سے ملے جیسے ہمارا پرانا کوئی تعلق ہو، اور سالوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہوں. گفتگو میں ایسی دل نشینی کہ ایک گھنٹے کی ملاقات ڈیڑھ گھنٹے تک پہنچ گئی لیکن ہمیں پتا ہی نہ چلا، علمی موضوعات پر بہت مدلل اور مفید گفتگو ہوئی.

سائیں جی ایم سید، شیخ ایاز رح سے ان کی بہت گہری دوستی تھی، جب ان کی یادوں کے ورق کھلے تو اعجاز منگی صاحب نے ان کے متعلق ایسی سحر انگیز گفتگو کی، شاید وہ ہم برسوں کتابوں سے بھی حاصل نہ کر پاتے، شیخ ایاز اور فیض کی شاعری نے مجلس کو معطر کر دیا، انہوں نے کہا کہ علماء سے ہمارا بہت پرانا یارانہ ہے، میرے دادا بھی عالم تھے، علماء اور عورتوں سے میں بہت کچھ سیکھتا ہوں، دونوں نفیس اور کفایت شعار ہوتے ہیں. ان کی شخصیت عاجزی، ملنساری، سادگی، ہنس مکھ اور محبت و اخلاص کا مجموعہ ہے، بقول پروفیسر سجاد پہنور صاحب کے کہ ان کی شخصیت کے متعلق جو بت تراشا تھا وہ اس سے کئی گنا آگے کے نکلے.

اللہ نے محترم اعجاز منگی کو ایسا مضبوط قلم اور تخیل دیا ہے کہ انسان مقصدِ کالم کو بھول کر پیش کردہ مناظر میں کھو جاتا ہے، بلکہ میں تو دوستوں سے کہتا ہوں کہ جہاں ہمارے تخیل کی تمام راہیں ختم ہوتی ہیں، وہاں سے منگی صاحب کے تخیل کا آغاز ہوتا ہے. اردو کے مقابلے میں ان کی سندھی تحریروں میں چاشنی اور مٹھاس زیادہ ہوتی ہے، الفاظ ان کے قلم کے سامنے مدہوش رقص کرتے نظر آتے ہیں، بلکہ الفاظ ان کے نوک قلم کے نیچے آکر فخر محسوس کرتے ہیں، تعبیرات میں الفاظ کا بناؤ سنگھار اور خوبصورتی ایک نئی نویلی دلہن کی خوبصورتی اور سنگھار کا منظر پیش کرتی ہے، جا بجا شاعری، اقوال، مکالمے اور تخاطب ان کی تحریروں کا مزہ دوبالا کر دیتے ہیں. ان کے وسعت مطالعہ کی جھلکیاں خوب دیکھنے کو ملتی ہیں، سندھی، اردو اور انگلش کے ادب کو وہ کنگھالے ہوئے ہیں. ہر موضوع پر ان کی نکتہ رسی بذلہ سنجی قابل داد ہے.

اس مختصر سی علمی ملاقات کے بعد تشنگی مزید بڑھ گئی. ان کی محبت مزید پختہ ہوگئی. اللہ رب العزت انہیں عزت و عافیت اور صحت و تندرستی والی زندگی عطا فرمائے.

Comments

نعیم الدین جمالی

نعیم الدین جمالی

نعیم الدین جمالی نے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی سے سند فراغت حاصل کی ہے، سندھ یونیورسٹی میں ایم اے فائنل ائیر کے طالب علم ہیں۔ تدریس اور مفتی کی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ دلیل کےلیے لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.