مرنے والے بس ایک مذمتی بیان ہیں - ارشد علی خان

وطن عزیز کاصرف چہرہ ہی نہیں پورا بدن ایک بار پھر لہو لہو ہے۔ رواں ماہ کے گزشتہ چار دنوں میں چاروں صوبوں کے درالحکومتوں سمیت قبائلی علاقوں میں دہشت گردی اور خودکش دھماکوں کے چھ واقعات سامنے آئے ہیں جس میں اعلی سیکیورٹی اہلکاروں سمیت پچیس افراد شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔ روئے زمین کی بدبخت مخلوق جسے ہم دہشت گرد کہتے ہیں، اور جن کی کمر ہماری سیاسی و عسکری قیادت کے بیانوں میں کئی بار توڑی جا چکی ہے، اب بزدلوں کی طرح پھر سے سافٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

رواں ماہ کی 12 تاریخ کو نامعلوم مسلح افراد نے روشنیوں کے شہر کراچی میں ایک نجی ٹیلی وژن کی گاڑی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں چار بہنو ں کا اکلوتا بھائی اسسٹنٹ کیمرہ مین تیمورخان جان کی بازی ہار گیا۔ کراچی اب روشنیوں کے شہر کے بجائے انسانوں کے کسی جنگل کا منظر زیادہ پیش کرتا ہے اور جنگل بھی وحشی انسانوں کا، تو ایسے میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر چھبیس ادارے کیا کریں، اب ہرگاڑی اور ہر فرد کو تو وہ سکیورٹی فراہم کرنے سے رہے۔ پولیس بےچاری سیاسی اقلیت کی سیکیورٹی کی فکر کرے یا عوام کی۔ ویسے بھی سیاسی ایلیٹ کی سکیورٹی زیادہ آسان ہے، گنتی کے چند لوگ ہی تو ہیں جن کو سیکیورٹی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے (اپنے ہیوی بائیک پر رائڈ کا لطف لیتے ہوئے اگر کسی سیاسی رہنما کے عقب میں سیکیورٹی اور پروٹوکول کی چار، چھ گاڑیاں جا رہی ہوں تو زیادہ حیران اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں)۔

13 فروری کو لاہور میں صوبائی اسمبلی کی عمارت کے بالکل سامنے چیئرنگ کراس پر ایک بزدل خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اُڑا دیا جس کے نتیجے میں ڈی آئی جی ٹریفک کیپٹن ریٹائرڈ احمد مبین اور ایس ایس پی آپریشنز زاہد محمود گوندل سمیت 14افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہوئے۔ اسی دن جنوبی وزیرستان میں 3 ایف سی اہلکار بارودی سرنگ کے دھماکے کا نشانہ بنے جبکہ کوئٹہ میں بم ڈسپوزل سکواڈ کے دو اہلکار بارودی مواد کو ناکارہ بناتے ہوئے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ چلیں بم ناکارہ بناتے ہوئے کسی غلط تار کے کٹ جانے کو تو ہم قسمت کا لکھا کہہ سکتے ہیں، تاہم لاہور جیسے شہر میں صوبائی اسمبلی کی عمارت کے سامنے خودکش دھماکہ، بزدل دشمن کی ایک اور بزدلانہ کارروائی ہے۔ (پیارے پاکستان میں وفاقی درالحکومت اسلام آباد کے بعد اگر کوئی شہر سب سے زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے تو وہ صوبہ پنجاب کا درالحکومت لاہور ہے، اور اسی لیے پاکستان کرکٹ بورڈ نے پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں کرانے کا اعلان کر رکھا ہے)۔

میرے خیال میں 14 فروری کو دہشت گرد بھی کہیں ویلنٹائن منا رہے تھے، اس لیے وہ دن مملکت خداداد میں خیریت اور امن و امان سے گزرا لیکن 14 فروری کی کسر اگلے دن یعنی 15 تاریخ کو پوری کر دی گئی۔ 15 فروری کی صبح مہمند ایجنسی کے باسیوں کے لیے دہشت کا پیغام لے کر آئی (یہاں کے باشندوں کے لیے دھماکے اور فائرنگ کی آوازیں ناآشنا نہیں، کبھی یہ فائرنگ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ہوتی ہے اور کبھی دہشت گرد اپنا غصہ نکالنے کے لیے دھماکے کرتے ہیں)، صبح سویرے جب لوگ غلنئی ہیڈکوارٹر میں داخلے کے لیے قطار میں کھڑے تھے تو دو بزدل دہشت گردوں نے فائرنگ شروع کر دی اور ہیڈکوارٹر میں داخل ہونے کی کوشش کی تاہم سیکیورٹی اہلکاروں نے ان کی یہ کوشش ناکام بنا دی، ایک دہشت گرد کو لیویز اہلکاروں نے فائرنگ کر کے مار دیا، دوسرے نے خود کو بارودی مواد سے اُڑا دیا جبکہ ایک بزدل کامیابی سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ اس دہشت گرد حملے میں لیویز اہلکاروں سمیت پانچ افراد جان کی بازی ہار گئے۔ بزدلوں نے دوسری کارروائی پشاور کے پوش علاقے حیات آباد کے فیز 5 میں کی اور عدالتی عملے کی ایک گاڑی کو خودکش حملے کا نشانہ بنایا جس میں سول ججوں سمیت دیگر عملہ سفر کر رہا تھا۔ اس حملے میں وین کا ڈرائیور جاں بحق ہوا جبکہ سول ججز سمیت 15 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے جن میں تین خواتین سول جج بھی شامل ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی دہشت گرد آرام سے نہیں بلکہ اپنا کام پوری تندہی کے ساتھ سرانجام دیتے رہے۔ کوئٹہ کی سریاب روڈ پر سویلین گاڑی کو فائرنگ کا نشانہ بنایاگیا اور کامیاب کارروائی کے بعد کامیابی سے فرار ہو گئے۔ (کوئٹہ شہر کے ہر چوراہے پر ایف سی کے اہلکار چوکس کھڑے ہوتے ہیں تاہم پھر بھی بزدل دشمن فائرنگ بعد میں کرتا ہے اور فرار ہونے کے لیے راستے کا تعین پہلے کرچکا ہوتا ہے)۔ اب کسی ولی اللہ کے مزار سے زیادہ سافٹ ٹارگٹ کون سا ہوگا، جہاں بزدل دہشت گرد وں نے کارروائی کرتے ہوئے لعل شہباز قلندر کے مزار پر خودکش دھماکہ کیا اور آخری اطلاعات تک اس دھماکے میں خواتین اور بچوں سمیت 75سے زائد افراد شہید جبکہ 200 سے زائد زخمی ہوئے ہیں، (شاہ نورانی کے مزار پر دھماکہ بھی ایک بزدلانہ کارروائی تھی، جس کے بعد ہماری عسکری و سیاسی قیادت مذمتی بیان جاری کرکے سوگئی.)

ایک طرف تو بزدل دشمن ہے جو ہمیشہ کسی سافٹ ٹارگٹ کی تاک میں رہتا ہے اور جیسے ہی اسے کوئی سافٹ ٹارگٹ نظرآتا ہے، وہ اپنی کارروائی کرگزرتا ہے، (اب اگر دہشت گردوں کے لیے چاردنوں میں چاروں صوبائی درالحکومتوں میں ایسی جگہوں پر کارروائی کرنا، جہاں کی سکیورٹی سب سے زیادہ ہو، بھی سافٹ ٹارگٹ ہو تو پھر کون محفوظ رہے گا)۔ جبکہ دوسری جانب ہماری سیاسی اشرافیہ (حکومتی اور اپوزیشن) کے لیے سب سے اہم مسئلہ اگر کوئی ہے تو وہ پانامہ کیس کا مسئلہ ہے اور دہشتگردی میں مرنے والے لوگ ان کی ترجیح ہی نہیں کیونکہ ان کی طرف سے ان کا پی آر او ایک مذمتی بیان جاری کر دیا کرتا ہے اور بس بات ختم ۔(سیاسی اشرافیہ کے لیے مرنے والے بس ایک مذمتی بیان ہیں جو اس سے زیادہ رتی برابرکی اہمیت نہیں رکھتے)۔ ایسے میں وطن عزیز سے دہشت گردی ختم ہونے کا خواب دیکھنا ایسا ہے جیسے بندہ کیکر کے درخت پر انگور کی امید لگائے بیٹھا ہو۔

Comments

ارشد علی خان

ارشد علی خان

خیبر نیوز سے بطور نیوز اینکر، سب ایڈیٹر، خصوصی رپورٹر وابستہ ہیں۔ دلیل کےلیے دہشت گردی، فاٹا اور خیبرپختونخوا کی صورتحال پر لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */