زندگی کیا ہے؟ نورین تبسم

زندگی حرکت کا نام ہے۔ کائنات کی ہر شےکا بلا رُکے، مسلسل اپنے مقررکردہ افعال سرانجام دینا زندگی ہے۔ انسان اس کائنات کا ایک پُرزہ ہے۔ اس کا ہر کام بھی پہلے سے طےشدہ ہے۔ پلک کی جُنبش سے لے کر آخری سانس کی آخری سوچ تک ایک روبوٹ کی مانند جیتا ہےاور کام ختم کر کے چلا جاتا ہے۔ قضا و قدر کی بیڑیاں پہنے زندگی کی بند گلی میں ”می رقصم“۔ کولہو کے بیل کی طرح گھومتے جانا اگر قسمت ہے تو فرار کی ازلی خواہش ”بھاگنا“جبلت تو اس سے ڈرنا فطرت ہے۔ وہ جبلت جو ماں کی کوکھ میں محفوظ و مامون ہوتے ہوئے بھی بےقراری سے باہر آنے پر اُکساتی ہے تو انجان رستوں کا خوف چِلّانے پر مجبور کر دیتا ہے۔ قید انسان کی سب سے بڑی مایوسی، سب سے بڑی خلش اور سب سے بڑا ناکامی کا احساس ہے۔ یہ احساس جو نومولود کی آکسیجن کے حصول کے لیے پہلی چیخ سے شروع ہوتا ہے۔ یہ چیخ اگر سلامتی کی گواہی ہے، بقا کا اعلان ہے تو انسان کی کمزوری اور بے بسی کا اظہار بھی ہے۔ آزادی زندگی کی پہلی نعمت، اور وہ گراں قدر عطیہ جو ایک بار مل جائے تو انسان ساری زندگی اس کی قدر سے بےنیاز ہو جاتا ہے۔ پھر انسانوں کے درمیان رہتے ہوئے قدم قدم پر جسمانی اور جذباتی سمجھوتوں کی قید میں زندگی گزارتا چلا جاتا ہے۔ اپنی زندگی اپنی مرضی سے جینے اور اپنے فیصلے خود کرنے کے سرابِ صحرا میں کھو جاتا ہے۔ وہ بچہ جو اپنے وجود کی تکمیل کے بعد اپنے گوشۂ عافیت سے نکل بھاگا، ذرا بڑے ہونے پر اپنے قریبی رشتوں سے بھاگ کر انجان رستوں کی جانب بھاگتا ہے۔ سمجھدار ہوتا ہے تو معاشی اور معاشرتی تقاضے اُسے کسی اور سمت بھاگنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ جسم کی تسکین کی جستجو کرتا ہے تو روح کی پیاس بےچین رکھتی ہے، روح کی آواز پر کان دھرتا ہے تو جسم کی ناآسودگی تھکاوٹ میں بدل جاتی ہے۔ سمجھوتوں کی بند گلی اُسے اپنے آپ سے بھاگنے پر مجبور کر دیتی ہے۔
بقول شاعر ؎۔
خود اپنے سے ملنے کا یارا نہ تھا مجھ میں
میں بھیڑ میں گم ہو گئی تنہائی کے ڈر سے

یہ بھی پڑھیں:   مرنا کون سا آسان کام ہے! - حافظ محمد زبیر

دن کی روشنی اگر اندھادھند بھگاتی ہے تو رات کی تاریکی نیند آنکھوں سے بھگا دیتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ نیند تو سولی پر بھی آ جاتی ہے لیکن آنکھ کھول کر سونا ایسا عذاب ہے جو اپنی شناخت، اپنے مقصدِحیات کے کھوج میں بھاگنے والے ہی جان سکتے ہیں۔ دُنیا کے کامیاب ترین انسان غیرشعوری طور پر اپنے اندر اسی ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہتے ہیں، لیکن اُن کی ذات کے گرد محنت، مشقت، ارادے اور یقین کے مضبوط خول اُنہیں کسی حد تک مایوسی سے بچاتے ہیں اور آگے بڑھنے کی توانائی عطا کرتے ہیں۔ ایک بھرپُور زندگی گُزارنے والے بھی اپنی زندگی میں کسی نہ کسی کمی یا پچھتاوے کے آسیب میں مُبتلا نظر آتے ہیں۔ ہر انسان اپنی زندگی میں کوئی نہ کوئی ایسی درز ضرور ڈھونڈ لیتا ہے جہاں سے آنے والی ناآسودگی کی لُو اُسے اپنے ٹھنڈے کمرے میں بھی کروٹیں بدلنے پر مجبُور کر دیتی ہے۔ غرض یہ کہ زندگی کے آخری سانس تک وہ خوب سے خوب تر کی تلاش کے سفرپر گامزن رہتا ہے اور اِسے ایک کامیاب زندگی کا فلسفہ بھی گردانتا ہے کہ زندگی ٹھہرے پانی کا نام نہیں بلکہ آگے بڑھنے اور ترقی کرتے رہنے سے ہی مکمل ہوتی ہے۔

گر دُنیا میں قدم رکھنے میں ہماری مرضی کا قطعاً عمل دخل نہیں تو بچپن کی کمزوری، جوانی کے لااُبالی پن اور بڑھاپے کی لاچاری کے علاوہ بھی، مکمل ہوش و حواس کے ساتھ اور خودمختار ہوتے ہوئے بھی، ہمیں اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزارنے کا حق یا موقع کبھی نہیں ملتا۔ ہماری زندگی ہمارے ساتھ جڑے رشتوں کے حصار میں اور ان کے رنگ میں رنگتی گزر جاتی ہے. ہم اپنے آپ کو تسلی دینے کے لیے تقدیر کا لکھا کہتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔ ہماری مایوسی کی انتہا بس یہی ہوتی ہے کہ روتے ہوئے آنا اگر زندگی کا پہلااحساس ہے تو تقدیر سے لڑتے چلے جانا زندگی کے آخری سانس کی داستان ہے۔ ساری عمر زندگی سے دست وگریباں تو رہتے ہیں لیکن پھر بھی اسے چھوڑنا نہیں چاہتے۔ ہم ہمیشہ جینے کی لایعنی خواہش رکھتے ہیں۔ زندگی کے لیے زندہ رہنے کی خواہش بنیادی شرط ہے۔ جب زندگی سے مزید کچھ پانے کی طلب نہ رہے اور کھونے کا خوف ختم ہو جائے تو زندگی اور زندہ رہنے کی تمام کشمکش قرار پا جاتی ہے۔ ایسا بہت کم کسی کی زندگی میں ہوتا ہے۔ ”اور اور“ کی حسرت آنکھ میں پتھرا کر رہ جاتی ہے تو دُنیاوی نعمتوں اور لذتوں کے حصار پاؤں میں بیڑیاں ڈال کر زندگی کے آخری لمحے تک رقصِ لاحاصل میں اُلجھائے رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی

حرفِ آخر
زندگی ایک میراتھن دوڑ ہے جس میں ہر شخص اپنی اپنی صلاحیت، اپنی اپنی قسمت، اپنی اپنی خواہش، اپنی اپنی ہوس کی رفتار سے بھاگ رہا ہے، دیکھنے والی آنکھ جس کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کرتی ہے وہ حرف ِآخر ہرگز نہیں، فیصلہ آخری انسان کی آخری سانس سے پہلے ممکن ہی نہیں. ہمیں ملنے والی محبتیں، شفقتیں، راستے میں آنے والے سنگ ِمیل اور حوصلہ افزائی کرتے مہربان اجنبیوں کی طرح ہوتی ہیں جو کبھی پانی کی بوتل پکڑاتے کبھی تھپکی دیتے ملتے ہیں، ایک پل کا ساتھ نئی توانائی دے جاتا ہے اور ہم پھر رواں دواں ہو جاتے ہیں. فاصلوں کی دوڑ میں لمحہ لمحہ اہم ہوتا ہے. قیام اتنا ہی کرنا چاہیے کہ دوڑ میں شامل بھی رہیں اور پیچھے بھی نہ رہ جائیں. خواہشوں کی پیاس حاوی ہو جائے تو رفتار سُست پڑ جاتی ہے اور اگر خواہشوں سے کسی طرح فرار حاصل کر کے بھاگا جائے تو شاید دوڑ تو جیتی جا سکتی ہے لیکن دلی اطمینان نہیں مل سکتا۔

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں