غلطی، ہوگئی - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ان وارداتوں کا ایک بڑا مقصد ہی سراسیمگی پھیلانا ہوتا ہے۔ عوام کو خوف زدہ کرنا اور مقتدرہ سے غلط فیصلے کروانا تاکہ ایک ایسے گرداب کو جنم دیا جاسکے جس میں عوام اور مقتدرہ دونوں کی مشکلات میں اضافہ ہوتاچلا جائے۔

اعصاب شکن ماحول کے باوجود الفاظ کا چناؤ اور اعلانات جس قدر مدبرانہ ہوں گے معاملات کا رخ بہتری کی جانب موڑنا اتنا ہی آسان ثابت ہوگا۔ جب بھی آپ بڑا اعلان کر دیتے ہیں جیسا کہ کل آرمی چیف کی طرف سے آیا : ”خون کے ایک ایک قطرہ کا فوری بدلہ لیا جائے گا“ تو اچانک سے تین مسائل سامنے آن کھڑے ہوں گے:
1۔ آپ اپنی بات باعث اطمینان بننے کے ساتھ ساتھ توقعات میں غیر معمولی اضافہ کا موجب بنے گی۔ مسئلہ یہ جنم لے گا کہ کل آپ اس بات کو کس قدر پورا کر پائیں گے اور آیا وہ بڑھی ہوئی عوامی توقعات پر پورا بھی اترے گا ؟
2۔ اس طرح کی بات اس قدر اعلی سطح سے آنے کا مطلب ہے کہ یہ ایک پالیسی بیان ہے۔ اب افغانستان یا بھارت میں کوئی بھی تخریبی کارروائی ہو، وہ اسے بآسانی اس بیان سے جوڑ کر پاکستان کو کٹہرے میں کھڑا کر دیں گے۔
3۔ پاکستان کے ساتھ ایک خاص صورتحال یہ درپیش ہے کہ یہاں ایک عنصر ایسا بھی ہے جو فوج کو سینگوں پر لیے رکھنا اپنا وتیرہ بنائے ہوئے ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ اس کی افرادی قوت دائیں اور بائیں کی تقسیم کے دونوں اطراف پر مشتمل ہے۔ وجوہات مختلف ہیں لیکن ہدف ایک ہی ہے، فوج کو کٹہرے میں کھڑا رکھنا۔ جب بھی کوئی بڑا اعلان ہوتا ہے تو ان کے ہاتھ بھد اڑانے کو ایک نئی بات آ جاتی ہے۔ دنیا کی نمبر ون انٹیلی جنس ایجنسی، دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی، دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے وغیرہ، کی بازگشت سوشل میڈیا پر ہر وقت دیکھی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   سپر پاور امریکہ افغانستان میں ڈھیر- نسیم الحق زاہدی

یہ جنگ ذہنی مشق اور زمینی عمل سے عبارت ہے۔ اس میں الفاظ کا کہیں کوئی کام نہیں۔ آپ نے جو کرنا ہے کریں، پوری طاقت سے کریں لیکن اس بات کا خیال کریں کہ اس کے آس پاس آپ کا سایہ تک نظر نہ آئے چہ جائیکہ مقدمہ خود چل کر آپ کی دہلیز تک آ جائے۔

دوسری بات کا تعلق بھی اسی سے ہے۔ بیانات جاری کرنے اور سفارتی کاروائی کا حق صرف حکومت اور دفتر خارجہ کا ہے۔ اس ضمن جو کرنا ہے انھی کو کرنا چاہیے۔ ورنہ کہیں نہ کہیں miscalculation ہو جائے گی۔ افغان سفارتی حکام کو جی ایچ کیو بلانا ایک ایسی ہی ”مس کیلکولیشن“ کہی جا سکتی ہے۔ یاد رہے کہ بھارت افغانستان کا کاندھا استعمال کر رہا ہے۔ ہمیں اس کے لیے اس کاندھے کو عدم دستیاب کرنا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان سے گڈول بڑھائی جائے۔ کسی بھی طرح۔ افغانستان کو دشمن کی طرح ٹریٹ کرنا اسے درحقیقت دشمن کے کیمپ کی جانب دھکیلنے کے مترادف ہے۔ مشیرخارجہ کو وہاں بھیجیے ساتھ کچھ ایسا لوگ بھی جو افغان حلقوں میں اثر و سوخ رکھتے ہیں۔ کم از کم افغان عوام تک تو یہ پیغام پہنچے کہ پاکستان ان کے اقتدارِ اعلی کا احترام بھی کرتا ہے اور مشترکہ امن کے لیے ان کے تعاون کا خواہاں ہے۔ یکطرفہ اقدامات کی اثر پذیری اور زندگی دونوں ہی محدود ہوتے ہیں۔ اس معاملے کو زیادہ سے زیادہ باہمی بنائیے تاکہ پاکستان کا امیج بھی بہتر ہو اور اس پراپیگنڈہ کا توڑ بھی ہو سکے جو پاکستان کے خلاف وہاں کی چند لابیاں کرتی ہیں۔ لیکن یہ کام صرف اور صرف سیاسی سطح پر ممکن ہے۔ یہ صرف سیاسی حلقے اور حکومت ہی کر سکتے ہیں، اور کوئی نہیں۔ غیر معمولی طور دباؤ بڑھانے سے محض تلخی بڑھے گی۔

یہ عمل کا میدان ہے۔ ٹیم ورک عمل کا سب سے سیر حاصل طریقہ ہے۔ اگر دشمن کو پیغام دینا ہے تو اس کا راستہ صرف باہمی نظم اور قومی تنظیم ہے۔

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.