بات چیت میں مہارت - سید قاسم علی شاہ

بات چیت میں مہارت کے بغیر آگے نہیں بڑھا جا سکتا، کامیاب ہونے کے لیے بات چیت میں مہارت بہت ضروری ہے۔ اس کے لیے چار چیزوں کاہونا ضرور ی ہے:
1۔ لکھنا
2۔ پڑھنا
3۔ بولنا
4۔ سننا

زبان بات چیت کا ذریعہ ہے، اہم بات یہ ہوتی ہے کہ جو سن رہا ہے، اس کو بات سمجھ آئے۔ ہمارے ہاں یہ مزاج بن چکا ہے کہ متاثر کرنے کے لیے انگلش کا بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے، لیکن اکثریت کو اس کی سمجھ نہیں آتی۔ سمجھ کے لیے آسان زبان کا ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق الفاظ کے انتخاب کا کردار صرف 3 فیصد جبکہ باقی 97 فیصد کردار باڈی لینگویج اور فیس کیمسٹری کا ہوتا ہے۔

بات چیت میں مہارت کے حوالے سے تعلیمی اداروں کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ بعض تعلیمی ادارے مہارت تو نہیں پیدا کراتے مگر خود اعتمادی پیدا کر دیتے ہیں جس سے مدد ملتی ہے۔ وہ بچے جن کی گھرمیں اچھی تربیت ہوئی ہوتی ہے، ان میں زیادہ اعتماد ہوتا ہے، یہی اعتماد ان کی بات میں مہارت پیدا کرتا ہے۔ آج کل مہارت کے حوالے سے بہت سے سافٹ وئیرز، بہت سا میٹریل، بہت سی ویڈیوز نیٹ پر موجود ہیں جن کوگھر میں بیٹھ کے استعمال کر کے مہارت حاصل کی جا سکتی ہے۔

بات چیت میں مہارت کے لیے سب سے بہتری ٹول سننا ہے، اگر لوگوں کے جملوں، لفظوں اور باڈی لینگویج پر غور کیا جائے تو بڑے آرام سے ان کو کاپی کر کے بہتری لائی جا سکتی ہے، کیونکہ انسان میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ سننے اور دیکھنے سے کاپی کرتا ہے، پھر اسی سٹائل سے بولنے کی کوشش کرتا ہے۔ جو اچھا سننےوالا ہے وہ اچھا بولنے والا بھی بن سکتا ہے۔ لوگوں کی بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو ریڈیو پروگرام بہت اچھا کرتے ہیں، جب ان سے وجہ پوچھی جاتی ہے تو وہ جواب دیتے ہیں کہ طویل عرصہ ہم نے ریڈیو سنا جس وجہ سےالفاظ کی ادائیگی ٹھیک ہوگئی۔ ایک بہت بڑی غلط فہمی یہ پائی جاتی ہے کہ بات چیت میں مہارت کے لیے وکیبلری کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے، اگر الفاظ تھوڑے بھی ہوں لیکن بات سمجھانی آتی ہو، انداز اچھا ہو تو بات بن جاتی ہے۔ اگر آکسفورڈ کی پوری ڈکشنری زبانی بھی یاد ہو لیکن الفاظ کا چناؤ ٹھیک نہ ہو اور لہجہ اچھا نہ ہو تو پھر بات سمجھانی مشکل ہو جاتی ہے۔ جس چیز کو بہترکرنا ہے، اس پرسرخ لائن لگائیں، اس سے یاد رہے گا کہ کون کون سی چیز ہے جس کو بہترکرنا ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق بات چیت کی مہارت میں باڈی لینگویج کا 50 سے 60 فیصد کردار ہوتا ہے کیونکہ زبان کے ہلنے سے پہلے جسم بولتا ہے۔ انسان واحد مخلوق ہے جو سر سے پاؤں تک بولتی ہے، ہاتھ ہلیں تب بات ہوتی ہے، سر ہلےتب بات ہوتی ہے، کندھےاٹھیں تب بات ہوتی ہے، کندھے جھکیں تب بات ہوتی ہے، غرض جسم کی کوئی بھی صورت بن جائے وہ بات چیت ہی ہوتی ہے۔ انسان واحد مخلوق ہے جس کے جذبات اور نیت کو بھانپنا کسی کے بس میں نہیں ہے۔ بندہ جو بات سمجھانا چاہ رہا ہوتا ہے، اس میں الفاظ نہ صرف زبان سے ادا ہوتے ہیں بلکہ اس میں جسم بھی شامل ہوتا ہے، جیسے بعض اساتذہ کی باتوں کی بچوں کو جلد سمجھ آجاتی ہے جبکہ بعض کی نہیں آتی، جن کی بات جلد سمجھ آتی ہے ان کی باڈی لینگویج مضبوط ہوتی ہے اور جن کی بات جلد سمجھ نہیں آتی، ان کی باڈی لینگویج کمزور ہوتی ہے۔

باڈی لینگویج کو بہتر کرنے کےتین طریقے ہیں:

1۔ شیشے کے سامنے بات کرنا
شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر بات کریں، اس سے دو فائدے ہوں گے، ایک تو خود اعتمادی آئے گی، اور دوسرا جسم کی حرکات و سکنا ت کو بہتر طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔حرکات و سکنات میں سر کی جنبش، آنکھوں کا کھلنا اور بند ہونا دیکھ سکیں گے، اور ہاتھوں کا ہلنا نظر آئے گا۔ اس سے یہ پتا چلے گا کہ باڈی لینگویج میں اعتماد کتنا ہے۔ بار بار کی مشق سے باڈی لینگویج میں بہتری آنا شروع ہو جائے گی۔

2۔ اپنی ویڈیوبنائیں
آج جدید دور ہے، ہر کسی کے پاس موبائل موجود ہے۔ موبائل سے اپنی ویڈیو بنائیں، پھر اس کو بعد میں دیکھیں، اس میں غلطیاں نظرآئیں گی، یہ پتہ چلے گا کہ باڈی لینگویج کہاں کہاں بہتر ہو سکتی ہے۔ اس طریق کار سےکچھ ہی عرصہ میں باڈی لینگویج میں بہتر ہونا شروع ہو جائے گی۔

3۔ نیورو لینگویسٹک پروگرامنگ NLP
نیورولینگویسٹک کا مطلب ہے کہ جس کا انداز آپ کو اچھا لگتا ہے، اس کے انداز کو اپنے اوپر طاری کرنا۔ اگر کسی کے انداز کو اپنے اوپر طاری کر لیا جائے تو کچھ عرصہ بعد اس بندے کا انداز اور خود کا انداز ملنے کے بعد ایک نیا انداز بن جاتا ہے، اس سے باڈی لینگویج بہتر ہوگی، اور ساتھ ہی ساتھ بات چیت میں بھی بہتری آ ئے گی۔

انسان کے پیدا ہونے سے ہی اس کی بات چیت شروع ہو جاتی ہے، بچپن میں یہ زیادہ ہوتی ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بات چیت میں گیپ آنا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ والدین کے ساتھ ہوتا ہے، یہ اساتذہ کرام سے ہوتا ہے، یہ عزیز رشتےداروں کے ساتھ ہوتا ہے، یہ دوستوں کے ساتھ ہوتا ہے اور یہ معاشرے کے ساتھ ہوتا ہے، یہ ایک وائرس ہے۔ دنیا کی سب سے سخت سزا قید تنہائی ہے، اس میں بندے کی بندوں کے ساتھ بات چیت ختم ہو جاتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق اگر کسی کو پاگل کرنا ہو تو اس کو قید تنہائی دے دو۔گھر سے بات چیت کا جوگیپ پیدا ہوا ہوتا ہے، اس کو ختم کرنا چاہیے، اور اس کو ختم کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ بچوں کے ساتھ بات چیت کی جائے، وہ جو محسوس کر تے ہیں، جو دیکھتے ہیں ان سے ان کے بارے میں پوچھا جائے۔ بچوں سے بات چیت کے حوالے سے ان ٹپس پرعمل کرکے بہتری لائی جا سکتی ہے:

1۔ بچہ سکول میں جو کچھ پڑھتا ہے، اس سےاس کے بارے میں روزانہ پوچھا جائے، اس سے یہ پوچھا جائے کہ آپ کے دوست کیسے ہیں، آپ کی پڑھائی کیسی چل رہی ہے، آج آپ کے ٹیچر نے کون سا ڈریس پہنا ہوا تھا، ٹیچر نے کس کو شاباش دی، کس کے نمبر اچھے آئے، آج کیا کھایا، بریک میں کیا کیا، آپ کا سب سے اچھا دوست کون ہے۔ دنیا میں ہر بندے کی سب سے زیادہ انٹرسٹ اپنی ذات میں ہوتی ہے جب بچوں کو ان کی ذات کے بارے میں سوال پوچھے جاتے ہیں، ان سے چھوٹی چھوٹی باتیں پوچھی جاتی ہیں تو ان کی انٹرسٹ بڑھ جاتی ہے، جب ان کی انٹرسٹ بڑھتی ہے تو ان کی بات چیت میں بہتری آتی ہے۔

2۔ بچوں کی ایسے لوگوں سے بات چیت کروائیں، جن کی بات چیت میں مہارت ہے، جب بچےایسے لوگوں سے بات کریں گے تو وہ ان سے انسپائر ہوں گے اور یہی انسپائریشن ان کی بات چیت میں مہارت پیدا کرے گی۔

3۔ بچے کا کم از کم ایک ایسا استاد ضرور ہونا چاہیے جس کی بات چیت بہت بہتر ہو، جب ایسا استاد ہوگا تو پھر بچے کی بات چیت میں مہارت بہتر ہوجائے گی۔ بندہ جس سے انسپائر ہوتا ہے، لاشعوری طور پر اس کے انداز کو اپنانے کی کوشش کرتا ہے، اگر بچہ اپنےاستاد سے انسپائر ہوگا تو اس کی بات چیت میں مہارت پیدا ہوگی۔ نوجوانوں میں مہارت اس لیے بھی ضروری ہے کہ زندگی کا جو اصل امتحان ہے، اس کی جو ذمہ داریاں ہیں وہ ان کا انتظار کر رہی ہیں، ان کے لیے بات چیت میں مہارت ہونا بہت ضروری ہوتا ہے، اس لیے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ بات چیت میں مہارت حاصل کریں۔ بےشمار جگہیں اور مواقع ایسے ہوتے ہیں جہاں پر نوجوان بات چیت میں مہارت حاصل کر سکتے ہیں۔ کچھ جرنل ٹپس ہیں جن پر عمل کر کے بات چیت کو بہتر کیا جا سکتا ہے:

1۔ کالج میں جتنی سرگرمیاں ہوتی ہیں اس میں ضرور حصہ لیں، ممکن ہے ان کا تعلق لکھنے سے ہو، اگر کسی کو لکھنا اچھا لگتا ہے، تو لکھنے میں مہارت حاصل ہو جائے گی۔ اگر کوئی ڈرامہ ایکٹ ہوتا ہے، اس میں ضرور حصہ لیں، اس سے ایکٹ کرنا آ جائے گا، اور بات چیت میں بھی بہتری آئے گی، باڈی لینگویج بھی بہتر ہوگی، اور جذبات بھی کام میں آنے لگ پڑیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ تقاریر کے جتنے بھی مقابلے ہوں، ان میں ضرور حصہ لیں، اس سے آپ کو زیادہ لوگوں کے سامنے بات چیت کرنا آ جائے گا۔

کسی ریڈیو کو جوائن کریں، بغیر چارجز کے وہاں پرگزاریں کیونکہ ریڈیو آواز اور بات چیت بہتر کرنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے، وہاں پر باڈی لینگویج کو کسی نے دیکھنا ہوتا ہے نہ ہی چہرہ سامنے آنا ہوتا ہے، بس آواز، جملوں اور الفاظ کو سنا جاتا ہے، پوری بات صرف آواز کے سہارے پر ہوتی ہے اور جب صرف ایک ہی سہارا استعمال ہوتا ہے تو ساری توانائی آواز کے ذریعے بات چیت میں منتقل ہوتی ہے ۔کوشش کریں کہ کہیں پر بھی کوئی رول پلے کرنا پڑتا ہے، اس موقع کو ضائع نہ کریں۔ آپ کےادارے میں کوئی شخصیت آ رہی ہو، اس کو رسیو کریں، اس سے بات کریں، اس سے لوگوں کے ساتھ بات کرنا آ جائے گا۔ لوگوں سے چھوٹے چھوٹے انٹرویو لیا کریں، ان کے ساتھ ادب اور شائستگی کے ساتھ بات کریں، ان کے کام کے متعلق جانیے، ان سے پوچھیں کہ وہ کامیاب کیسے ہوئے اور مزید کتنا کامیاب ہونا چاہتے ہیں، اس سے اعتماد آئے گا اور بات چیت بہتر ہوگی۔ دوستوں کا گروپ بنائیں اوپر دی گئی باتوں پرعمل کریں اور پھر ایک وقت طے کر یں اور اس وقت مشق کریں اور ایک دوسرے کی بات چیت کو چیک کریں، اس سے بہت جلدی بات چیت بہتر ہونا شروع جائے گی۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com