اب تو پہلی سی محبتیں نہ رہیں - عابد محمود عزام

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ آج کا دور ماضی کے مقابلے میں کتنا بدل گیا ہے۔ جب رابطے کے مواقع آج کی طرح بہت زیادہ میسر نہ تھے تو دنیا آج سے بہت مختلف تھی۔ عزیز و اقارب میں فاصلے اگرچہ بہت زیادہ ہوتے تھے، لیکن دلوں میں فاصلے نہ ہونے کے برابر ہوتے تھے۔ رشتہ داروں میں رابطے تو کبھی کبھی ہوا کرتے تھے، لیکن محبتوں میں کبھی کمی نہیں آتی تھی۔ کسی دوسرے شہر سے گاﺅں آتے ہوئے کوئی کسی عزیز کا پیغام لاتا تو بے انتہا خوشی ہوتی تھی، کیونکہ آج کی طرح رابطے کے آسان مواقع میسر نہ ہونے کی وجہ سے بہت دنوں بعد ہی کوئی پیغام ملا کرتا تھا۔ عزیز و اقارب کا خط تو کئی ماہ کے بعد ہی آتا، لیکن گھر کا ہر فرد خط کا بے چینی سے منتظر ہوتا تھا۔ بار بار ڈاکیے سے کہا جاتا کہ ہمارا کوئی خط آئے تو یاد سے گھر پہنچا دینا۔ گم نہ کردینا۔ سب گھر والے ایک ساتھ بیٹھ کر خط پڑھا کرتے تھے اور پھر کئی دن تک اس خط اور اپنے رشتہ داروں کا تذکرہ ہوتا رہتا تھا۔ جب میں تیسری چوتھی جماعت میں پڑھتا تھا، کوئی خط آتا تو نانی اماں مرحومہ بار بار خط پڑھوایا کرتی تھیں۔ انتظار رہتا تھا کہ کوئی خط آئے اور اسے پڑھنے کا موقع ملے اور جب خط لکھواتیں تو گھر کے ہر فرد کے لیے ڈھیروں ساری دعائیں اور بچوں کے لیے بہت سا پیار خط میں سمیٹ دیاکرتی تھیں۔ خط کی چند سطروں میں بہت سی محبتیں پنہاں ہوتی تھیں۔

پھر ٹیلی فون نیا نیا آیا تو پورے گاﺅں میں شاید ہی کسی کے گھر میں ٹیلی فون لگا ہوتا تھا، جہاں گاﺅں بھر کے لوگوں کا کبھی کبھار فون آیا کرتا، لیکن فون پر ہونے والی چند منٹ کی گفتگو کئی دن تک گھر میں زیر بحث رہا کرتی۔ اس وقت رابطوں کے مواقع کم ہوتے تھے، لیکن محبتیں بے انتہا ہوتی تھیں۔ جوں جوں رابطوں کے مواقع زیادہ ہوگئے، آپسی محبتوں میں کمی بھی اتنی ہی تیزی کے ساتھ واقع ہونے لگی۔ موبائل فون آئے، کال پیکجز سستے ہوئے، اتنے سستے کہ چند روپے میں گھنٹوں گھنٹوں باتیں کی جاسکیں، لیکن حقیقی تعلقات میں اتنی ہی کمزوری آتی رہی۔ سوشل میڈیا کا دور آیا۔ فیس بک، ٹوئٹر، واٹس ایپ اور وائبر جیسی سماجی رابطے کی ویب سائٹس اور ایپلیکیشنز کی بہتات ہوگئی۔ لوگ گھنٹوں گھنٹوں سوشل میڈیا پر بیٹھ کر گزارنے لگے۔ سوشل میڈیا سے نئی دوستیاں ملیں، نئے تعلقات بنے اور انسان بہت زیادہ مصروف ہوگیا، اتنا مصرف کہ اس کے پاس خود کو دینے کے لیے بھی وقت نہ بچا۔ بڑے تو مصروف ہوئے ہی تھے، بچوں کے بڑوں سے سیکھنے کا وقت بھی جدید ٹیکنالوجی کی نذر ہوگیا۔ پہلے تو بچے گھر آکر بہت عمدہ سبق آموز کہانیاں پڑھا کرتے تھے، جن سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا تھا، لیکن اب گھر پہنچتے ہی موبائل پر انگلیاں رقصاں ہوتی ہیں اور پھر رات گئے تک ٹی وی اور انٹرنیٹ پر ہی وقت گزر جاتا ہے۔ صبح اٹھتے اسکول اور پھر اگلے دن وہی روٹین۔ اتوار کے دن تو رات کو سو کر اٹھتے ہی اس وقت ہیں جب آدھے سے زیادہ دن گزر چکا ہوتا ہے۔ نہ ماں باپ کے لیے وقت اور نہ ہی گھر کے بزرگوں سے کچھ سیکھنے کی طلب۔ اب تو پہلی سی محبتیں نہ رہیں۔ اب تو سب کو بدل گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   مسلمان بننے کے بعد کیا ہوا؟ جاوید چوہدری

رابطوں کے بے بہا ذرائع نے آج کی دنیا کے لوگوں کو آپس میں اتنا قریب کر دیا کہ آپ دنیا کے جس بھی کونے میں ہوں، اپنے تعلق والوں کے ہر وقت ساتھ ہوتے ہیں، لیکن اس سہولت کے ہوتے ہوئے بہت سے قریبی افراد، قریبی دوست، رشتہ دار اور بہت سے عزیز و اقارب اتنے دور ہوگئے کہ ان کے ساتھ ان کی خوشیاں بانٹنے کا وقت ہی نہیں رہا۔ اب رابطہ کرنے کے مواقع بہت زیادہ اور وسائل بھی میسر، لیکن اپنوں سے کرتا کوئی اس لیے نہیں کہ پہلے میں رابطہ کروں گا تو میری شان گھٹ جائے گی۔ یہ انہی سائنسی ایجادات کی کرشمہ سازی ہے کہ دور والے قریب ہیں اور قریب والے بیگانہ، اجنبی بنتے جارہے ہیں۔ فاصلے سمٹ رہے ہیں، لیکن محبتیں ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ اب تو اکثر تعلقات مفادات کے گرد گھومتے ہیں۔ بے لوث تعلقات کا دور شاید ختم ہوگیا ہے۔ ہر شخص کی کوشش ہوتی ہے کہ ایسے شخص سے تعلقات بنائے جائیں جس سے مفادات حاصل کیے جاسکیں۔ لوگ سلام اور ملاقات کرتے ہوئے بھی پرکھتے ہیں کہ فلاں سے ملاقات کر کے کیا حاصل ہوگا اور جب ملاقات کر کے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ حاصل نہیں ہوگا تو پہلے کی طرح اجنبی بن جاتے ہیں۔ اب تو سب کچھ ہی مفادات کی نذر ہوگیا۔

آج کے ٹیکنالوجی کے دور میں تعلقات بنتے بھی بہت جلدی ہیں اور ٹوٹتے بھی پتا نہیں چلتا۔ جب مفاد حاصل کیا تو تعلقات ختم۔ میں یہ نہیں کہتا کہ سوشل میڈیا کے تعلقات دیرپا یا مفادات سے خالی نہیں ہوسکتے، ہوسکتے ہیں، بلکہ بہت سے ایسے دوست بھی مل جاتے ہیں جو حقیقی دوستوں سے بھی زیاہ آپ کے قریب ہوجاتے ہیں اور بچھڑ بھی جائیں تو بھی ہمیشہ آپ کے ساتھ رہتے ہیں، لیکن ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا۔ سوشل میڈیا کی اکثر دوستیاں وقتی اور مصنوعی ہوتی ہیں۔ آج کے دور میں سوشل میڈیا نے مصنوعی دوستیاں تو بہت دی ہیں، لیکن حقیقی دوستیوں اور رشتوں کو بہت کمزور کردیا ہے۔ زندگی کے حقیقی دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ بتانے کا وقت بھی سوشل میڈیا کی مصنوعی دوستیوں نے چھین لیا ہے، حالانکہ سوشل میڈیا کے وہ مصنوعی دوست جن کے ساتھ کبھی ملاقات تک نہ ہوئی ہو، وہ کسی طور بھی شب و روز کے حقیقی دوستوں اور رشتہ داروں کے برابر نہیں ہوسکتے، لیکن سوشل میڈیا نے زندگی کے پہیے کو الٹا گھما کر رکھ دیا ہے اور انسان بھی اس پہیے کے ساتھ گھوم کر رہ گیا ہے۔ گھنٹوں گھنٹوں سوشل میڈیا پر بیٹھے موبائل یا کمپیوٹر کے ڈبے میں بند دنیائے فیس بک یا واٹس ایپ کے دوستوں کے ساتھ تو گپ شپ لگاتے گزار دیتے ہیں، لیکن دیرینہ دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ کچھ دیر کی ملاقات بھی گراں گزرتی ہے، بلکہ ان سے مختصر سی ملاقات کے دوران بھی انگلیاں موبائل پر ناچ رہی ہوتی ہے۔ ایسی صورتحال میں حقیقی دوستیوں اور خونی رشتوں میں دراڑیں پڑنا فطری امر ہے۔ ایک مصنوعی سی دنیا کی خاطر اپنے حقیقی رشتوں میں دراڑیں ڈالنا اگرچہ بالکل غیر معقول سی بات ہے، لیکن بہرحال ایسے رویوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے، جو حقیقی دوستیوں اور رشتوں میں دراڑیں ڈالنے کا سبب بنتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   حقیقی محبت اتباع رسولﷺ ہے ‎ - شہلا خضر

اگرچہ سوشل میڈیا ایک اوپن پلیٹ فارم ہے، جہاں سب کے ساتھ دوستی رکھنا پڑتی ہے اور دوستی رکھنے میں کوئی قباحت بھی نہیں ہے، لیکن پھر بھی حقیقی دوستوں اور رشتہ داروں کا حق مصنوعی دنیا کی مصنوعی دوستیوں سے سے کہیں زیادہ ہے۔ فیس بک کی دوستی تو صرف ایک کمنٹ اور لائک کے بندھن میں بندھی ہوئی ہیں، یہ بندھن کسی وقت بھی ٹوٹ سکتا ہے، جبکہ حقیقی دوست اور رشتہ دار اس ”ڈبے“ سے باہر بھی آپ سے محبت کرتے ہیں اور آپ کے کام آتے ہیں۔ ان کو جوڑنے کی کوشش کریں۔ ان کو ان کا حق ادا کیجیے۔ ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیے۔ اگر وہ بچھڑ جائیں تب بھی ان کو یاد رکھیے۔ سوشل میڈیا کی دوستیوں کے ساتھ ساتھ حقیقی دوستیاں اور رشتہ داریوں کو بھی مضبوط کیجیے۔ اگر ہم نے اپنے رویوں پر نظر ثانی نہ کی اور اسی طرح حقیقی دنیا کو خیرباد کہہ کر مصنوعی دنیا میں مگن رہے تو ایک ایک کرکے اپنے بہت سے قریبی لوگوں کو کھو دیں گے۔

Comments

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام 2011ء سے شعبہ صحافت میں میگزین رپورٹر، فیچر رائٹر اور کالم نویس کی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔ روزنامہ ایکسپریس اور اسلام میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ معاشرے میں تعمیری اور مثبت سوچ کا فروغ ان کا مشن ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.