نگر پارکر کے آوارہ اور بے مقصد بچے - ونود ولاسائی

یہ اُس خانہ بدوش قبیلے کے لوگ ہیں جن کا یہ ہی مقصد ہے کہ دنیا میں آؤ، چھوٹی سی عمر میں ہاتھوں پر رنگ حنا سجاؤ، اور بچے پیدا کرنے کی مشین بن جاؤ، ایک ایک بندے کے بارہ بچے اور عمر ابھی تک قریبً بتیس برس مشکل سے ہوتی ہے. ایک بچہ چھاتی سے اُترتا نہیں ہے تو دوسرا لپک پڑتا ہے، ایک نگر پارکر کے دور دراز گاؤں کے رہنے والے کھانے کو مشکل سے دو وقت کی روٹی ملتی، کام دھندہ ہے نہیں، تبھی تو لائنیں لگی ہیں.

یہ ایسے بچے ہیں جن کے تن پر کپڑا تو کیا کپُڑوں کے نام پر دھبہ ہے، جب سے پیدا ہوئے ہیں انہیں ابھی تک نہیں پتا کہ پاؤں میں جوتی بھی پہنی جاتی ہے، ان کے والدین سادہ اتنے ہیں کہ شام کے وقت اپنے بچے ڈھونڈنے میں انھیں تین گھنٹے لگتے ہیں، یہ کیوں پیدا ہوئے ہیں، ان کی کیا ضروت تھی اس خوبصورت اور حسیں دنیا میں جہاں ننگے پاؤں اور ننگے جسموں کو صرف بند دیواروں میں ہی عزت ملتی ہے. یہ جہاں جی رہے ہیں وہاں تو بھیا ابھی تک اُنیسویں صدی چل رہی ہے، کہیں دور تک کوئی اسکول نہ مرکز فلاح و بہبود، اور نہ صحت کی مؤثر سہولیات، پینے کے پانی تک کا مسئلہ ہے تو باقی آسائشیں کیا خاک ملیں گی.

کسی گاؤں میں اسکول کی سہولت میسر ہو جائے تو وہاں ہمارے قابل احترام اساتذہ صاحباں پندرہ دن سکول کے کمرے میں آرام کر کے ڈیوٹی کرتے ہیں اور باقی پندرہ دن اپنے گھر پر چھُٹیاں مناتے ہیں. یہ وہ مخلوق ہے جن کے قبیلے کا ایک روپلو کولھی نامی جوشیلا نوجوان انگریزوں سے بغاوت کر کے پھانسی کے پھندے کو چُوم کے امر ہوگیا، اور آج یہ مخلوق صرف اور صرف بچے پیدا کرنے میں مگن ہے. وقت کی ستم ظریفی ہے یا تاریخ کی، یا پھر یہ اس مشن پر رواں ہیں کہ ہمیں خود کو اکثریت میں دکھنا ہے، اس لیے لازمی ہے کہ زیادہ سے زیادہ بچے پیدا ہوں، اور فیملی پلاننگ جائے بھاڑ میں.

یہ بھی پڑھیں:   ہندو لڑکیوں کی پسند کی شادی پر وزیراعظم کا نوٹس - محمد عاصم حفیظ

یہ قوم ہے بہت غریب، ستائی ہوئی اور آج تک معاش و کلاس کے لحاظ سے بڑے لوگوں کی غلامی میں بندھی ہوئی. یہ تھر کے باقی اجتماعی رہنے والوں کی سوچ سے سہمت ہوتے ہوئے اس نکتے پر گزر بسر کرتے ہیں کہ گاؤں کی طرف آتی ہوئی ہر گاڑی ہمارے لیے کچھ نہ کچھ لے کر آئی ہوگی، کیا تھر کے ایسے حالات ہیں کہ کوئی دے تو کھائیں، ورنہ بھوک پر بیٹھے رہیں اور بس فرصت میں بچے پیدا کرتے رہیں.

وہ دور کہاں گیا جب ہر گُزرتے مسافر کو بلا بلا کر خاطر تواضع کی جاتی تھی، جب کوئی نہیں آتا تھا، تو ایسے آلاپ نکلتے تھے جو سُنتے ہی من سانت ہو جاتا تھا.
کبھی آؤ نا راسوڑا مارے دیس
جوؤاں تھارے واٹڑلیں
کیا تھریوں نے پارکر واسیوں نے اداروں کے آنے سے اپنی تہذیب ترک کر دی ہے؟

کیا انھوں نے یہ طے کر لیا ہے کہ روپلو انہیں نہیں بننا، انہیں بچے پیدا کرنے ہیں اور گنیز بک آف ورلڈ میں نام لکھانا ہے. روپلو کولھی اور رنگو بائی بھی ایک جواں جوڑا تھا، وہ بھی اُن آقائوں سے لے دے کر اچھی زندگی میں محو ہو سکتے تھے لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا.

بات یہ نہیں ہے کہ آپ بھی کسی سے لڑو اور دار پر لٹک جاؤ، بات یہ ہے کہ اس بھاگ دوڑ والے دور میں جہاں آپ خود دو وقت کی روٹی کے لیے ننگے پاؤں بھٹک رہے ہو، وہاں درجنوں بچے کیوں پیدا کرتے ہو؟ کیوں ان کو بھی سزا دے کر زمانے میں لاتے ہو جن کو سنبھال نہ سکو، جن کو روٹی نہ کھلا سکو، جن کو اچھی پرورش، اچھی تعلیم، اچھی صحت نہ دے سکو، ارے آپ تو ان بچوں کو ایک جوڑا کپڑوں کا اور جوتوں کا تک نہیں لے دے سکتے، کیوں کرتے ہو ظلم؟

یہ بھی پڑھیں:   ہماری "بعض" این جی اوز اور تبدیلی مذہب کا مسئلہ - ابوبکر قدوسی

میں نے نگر پارکر کے گاؤں گُھومے ہیں، اگر پاپولیشن کا ریشو لگایا جائے تو دس سے پندرہ تک کا ہے، دل نہیں مانتا، لیکن یہ حقیقت ہے، ایک بڑے گاؤں میں ڈھائی سو بچے کوئی مذاق کی بات نہیں ہے.

یہ بچے قوموں کا معیار بدل سکتے ہیں، یہ آرٹ اور لٹریچر سے خود کو اُبھار سکتے ہیں، یہاں سے بھی کوئی سی ایس ایس کر سکتا، کوئی اسمبلی کے فلور پر ماحول کو گرما سکتا ہے، اپنے حقوق خود مانگ سکتا ہے، پر کیا کریں یہ سب نہیں ہو سکتا کیوں کہ انہوں نے آج تک اسکول دیکھا ہے نہ کسی کتاب کا کلر.

Comments

ونود ولاسائی

ونود ولاسائی

ونود ولاسائی نوکوٹ تھرپارکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ سندھ یونیورسٹی جامشورو میں ایم فل سماجیات کے طالِب علم ، اور سماجی و ہیومن رائٹ کارکن ہیں۔ اسٹوری رائٹر کے طور پر شناخت بنانا چاہتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.