ویلنٹائن ڈے اور حزب الشیطان - شازیہ طاہر

ویلنٹائن ڈے کے جائز یا ناجائز ہونے کے حوالے سے دلائل دیے جا رہے ہیں، اور سب لوگ اس کی تاریخ سے بھی واقف ہیں۔ آج ہم اس موضوع پر ذرا مختلف انداز سے بات کریں گے۔

بحیثیت مسلمان ہمارے ہر عمل کا معیار صرف اور صرف قرآن و سنت ہے۔ قرآنی رہنمائی اور احادیث کے ہوتے ہوئے ہمیں کسی بھی دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔ اعمال اور کردار کے حوالے سے دنیا میں بنیادی طور پر دو ہی قسم کے انسان ہوتے ہیں۔ حزب اللہ اور حز ب الشیطان۔ حزب کے معنی ہیں لوگوں کی جماعت، فریق یاگروہ نیز وہ لوگ جن کے اعمال اور دل ایک دوسرے سے ملتے ہوں، یعنی ایک اللہ اور اس کے رسولﷺ کےتابعداروں کی جماعت ہے جس کو قرآن کریم میں حزب اللہ قرار دیا گیا ہے، اور دوسری اللہ اور اس کے رسولﷺ کے نافرمانوں کی جماعت جسے حزب الشیطان کا نام دیا گیا ہے۔

وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے رستے پر چلتے ہیں، اور اپنے ہر قول و فعل میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کی رضا اور خوشنودی کو مقدم سمجھتے ہیں، ایسے لوگوں کو قرآن میں مؤمن اور حزب اللہ یعنی اللہ کاگروہ یا جماعت کہا گیا ہے. جو اللہ ہی کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ یہ لوگ اللہ کو محبوب رکھتے ہیں اور اللہ ان کو محبوب رکھتا ہے۔ ان کی سعی، ان کی جدوجہد، ان کا اٹھنا بیٹھنا، زمین پر چلنا پھرنا، غرض ہر ہر عمل صرف اور صرف اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری ہوتا ہے، وہ گناہ و معصیت کے کاموں، موسیقی، فحاشی، زنا اور بےحیائی سے دور بھاگتے ہیں. شیطان کو اپنا کھلا دشمن سمجھتے ہوئے اس کے پھیلائے ہوئے طاغوتی شکنجے سے اپنے آپ کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں. مؤمن مرد اور عورتیں دونوں غضِ بصر پر یقین رکھتے ہیں اور غیر محرم کے ساتھ کسی بھی قسم کے اختلاط کو حرام سمجھتے ہیں، اور یہی جماعت اللہ کی پسندیدہ جماعت ہے جس کے لیے انعام کے طور پر اخروی فلاح اور کامیابی رکھی گئی ہے.

اس کے بر عکس دوسرے گروہ یا جماعت کو یعنی بےحیائی، فحاشی، زنا کاری اور برے کام کرنے والوں اور دوسرے لوگوں کو برائی پر ابھارنے والوں کو حزب الشیطان یعنی شیطان کی جماعت کہا گیا ہے. ان لوگوں کی نشانی قرآن کریم میں کچھ یوں بیان کی گئی ہے کہ:
”شیطان نے ان کو قابو میں کر لیا ہے اور اللہ کی یاد ان کو بھلا دی ہے۔ یہ لوگ شیطان کا ٹولہ (گروہ) ہیں اور سن رکھو کہ شیطان کا ٹولہ ہی نقصان اٹھانے والا ہے۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں وہ نہایت ذلیل ہوں گے. ( سورہ مجادلہ 19.20)“
حزب الشیطن کی ایک اور پہچان یہ بھی ہے کہ وہ خود تو بےحیائی اور برے کاموں کا ارتکاب کرتے ہی ہیں لیکن کمزور ایمان والوں کو بھی اپنے رستے پر چلانے کے لیے ہر وقت کوشش کرتے رہتے ہیں، ایسے گروہ کے بارے میں اللہ پاک سورہ النور میں فرماتا ہے:
”بےشک جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بدکاری کا چرچا ہو، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے، اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ (سورہ النور: 19)“

ابلیس مردود یعنی شیطان نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ انسان کو قیامت برپا ہونے یعنی آخری دم تک گمراہ کرنے کی کوششں کرے گا۔ نفس امارہ جو ہر انسان کے اندر موجود ہے، وہ بھی دراصل شیطانی وساوس ہی ہیں، شیطان انسان کے سامنے اس دنیا کو ہی جنت بنا کر پیش کرتا ہے اور اسے نئی نئی امیدیں دلاتا وعیدیں سناتا ہے، وقتی لذت اور مادیت سے بھرپور جسمانی و نفسانی خواہشوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شیطانی چالوں کے ذریعے بڑھتا رہتا ہے اور گمراہ انسان ان وساوس کے ہتھے چڑھ کر صراط مستقیم سے دور ہوتا چلا جاتا ہے، اور پھر جہالت اور کفر کی اتھاہ گہرائیوں میں گم ہو کر حزب الشیطان کا رکن بن جاتا ہے اور اپنا کام شروع کر دیتا ہے. مسلمانوں میں اغیار کی تقلید میں ان کے نقش قدم پر چلنے کی تاکید، ویلنٹائن ڈے یا یومِ تجدید محبت منانے کے نام پر کھلم کھلا بےراہ روی کی ترغیب، اور اسلامی معاشرے میں ان غیر مسلموں کے تہواروں کو محبت، روشن خیالی اور شخصی آزادی کے نام پر اخبارات اور مادہ پرست میڈیا کے ذریعے تشہیر تاکہ مسلمان اپنے مبارک اور پاک تہوار چھوڑ کر غیر اسلامی تہوار منا کر اسلام سے دور ہو جائیں۔ یہ سب حزب الشیطان کے کارکنان کی ذمہ داری ہے اور اس کے لیے انہیں عزت، غیرت اور ایمان سب کچھ گروی رکھنا پڑتا ہے.

کسی بھی قوم کی پہچان اپنی اخلاقی، تہذیبی اور مذہبی اقدار کے تحفظ سے قائم ہے. اگر کوئی قوم اپنی تہذیب و روایات اور اقدار کا خود اپنے ہاتھوں گلا گھونٹنے پر آمادہ ہوگئی ہو تو اغیار کے گھناؤنے عزائم اور ناپاک سازشیں اس قوم کو ہمیشہ زوال کی طرف لے جاتی ہیں۔ اسی طرح اگر کسی قوم کی نوجوان نسل کے دل میں اس کے اپنے مذہب، عقائد، روایات اور تہذیب کے بارے میں نفرت کے جذبات پیدا کر دیے جائیں تو یہی نسل لہو و لعب میں مشغول ہو کر دوسروں قوموں کی غلامی اور نقالی پر راضی ہو جاتی ہے۔

پیارے نبی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے جس قوم کی مشابہت اختیار کی، وہ انھی میں سے ہے۔ ( أبوداؤد) قرآن کریم میں شیطان کے ساتھ یہود و نصاری کو بھی اہلِ ایمان کا دشمن کہا گیا ہے اور ایمان والوں کو ان سے دور رہنے اور ان سے دوستی نہ کرنے کی واضح تنبیہہ کی گئی ہے۔
”اے ایمان والو! شیطان کے قدموں پر نہ چلو، اور جو کوئی شیطان کے قدموں پر چلے گا سو وہ تو اسے بے حیائی اور بری باتیں ہی بتائے گا، اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی کبھی بھی پاک صاف نہ ہوتا اور لیکن اللہ جسے چاہتا ہے پاک کر دیتا ہے، اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔ (سورہ النور :20)“
لیکن کیا کہا جائے کہ مغربی تہذیب نے لبرلز کو اپنا اس قدر گرویدہ بنا لیا ہے کہ وہ اپنے مذہب اور تہذیب سے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے اغیار کی تہذیب کو اپنے گلے کا طوق بنا کر فخر محسوس کر رہے ہیں۔ ان کے ہر دن اور تہوار کو بھلے وہ اسلامی تعلیمات سے ہی کیوں نہ ٹکراتا ہو، بڑے فخر اور جوش و خروش سے مناتے ہیں۔ انہوں نے اس ازلی حقیقت کو فراموش کر دیا ہے کہ جب مسلمان قوم حزب الشیطان کے نقشِ قدم پر چل نکلتی ہے اور اسلامی تعلیمات سے اپنا رشتہ توڑ کر فحاشی و عریانی، بےحیائی، بے راہروی، بدکاری اور زنا کاری کی روش اختیار کرتی ہے تو جلد یا بدیر ذلت و رسوائی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ اسی مسلمان کے بارے میں عابی مکھنوی نے کہا ہے
؏ خودی کو بیچ کر ڈُوبا ہے مَستی میں ترا مومن
جُنوں کو تابع عِشرت ممولہ کر گیا تیرا
اسیرِ زُلف و رُخسار و لَبِ جاناں ہوا مُسلم
کوئی اِقبال سے کہہ دے کہ شاہیں مر گیا تیرا

بحیثیت مسلمان ہمارےطور طریقے، رہن سہن، رسم و رواج اور نصب العین اسلام کے مطابق ہونےچاہییں۔ اگر ہم دوسری قوموں کی نقالی میں حدود اللہ سے تجاوز کر رہے ہیں، حلال و حرام کی قیود سے آزاد ہو رہے ہیں اور اسی میں خوشی اور اطمینان محسوس کرتے ہیں تو پھر ہمارا تعلق حزب اللہ کی بجائے حزب الشیطان سے ہے۔ چونکہ بات ہو رہی تھی ویلنٹائن ڈے کی تو اب اس کو منانے والے اور اس کے حق میں بودی دلیلیں دینے والے خود ہی اس بات کا تعین کر لیں کہ ان کا تعلق کس گروہ سے ہے حزب اللہ سے یا حزب الشیطان سے؟
حضرت علاّمہ اقبال نے کہا تھا
کون ہے تارک آئین رسولِ مختارؐ
مصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیار
کس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعار اغیار
ہو گئی کس کی نگہ طرز ِسلف سے بیزار
قلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیں
کچھ بھی پیغام محمد کا تمھیں پاس نہیں
وضع میں تم ہو نصاری تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنھیں دیکھ کے شرمائے یہود
مثلِ انجم افق پہ روشن بھی ہوئے
بتِ ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئے