شہلارضا صاحبہ، ہم تارکین وطن نہیں! ناصر فاروق

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سندھ اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکرشہلا رضا نے فرمایا کہ ہندوستان سے گھربار، جائیداد اور آباؤ اجداد کا مسکن چھوڑ کر جو لوگ یہاں آئے، وہ مہاجر نہیں تارکین وطن تھے۔ یعنی یہ ہجرت نہیں ترک وطن تھا۔ صدافسوس کہ شہلا رضا نے پاکستان کے لیے عظیم ترین ہجرت کی برملا توہین کی، اور ہندوستان کو ہجرت کرنے والوں کا اصل وطن قرار دیا۔ شہلا رضا کا یہ نظریہ و طرز فکر ایک خاص پس منظر رکھتا ہے، وہ ایسا کہہ سکتی ہیں۔

سچ مگریہ ہے، کہ ارض پاک کی خاطر ہجرت کرنے والے پرعزم تھے، پراعتماد تھے۔ جو سمجھتے تھے وہی کہتے تھے، اورجو کہتے تھے وہی کرتے تھے۔ ہندوستان کی حالیہ تاریخ میں سرسید احمد خان نے سب سے پہلے یہ جانا کہ ہندو مسلمان دو مختلف تہذیبیں ہیں۔ علامہ محمد اقبال نے مسلمانوں کی اسلامی ریاست کا تصور دیا۔ کانگریس میں مسلمانوں کی فلاح کا امکان نہ پا کر محمد علی جناح نے مسلم لیگ کا پلیٹ فارم اختیار کیا اور بتایا کہ ہندو اور مسلمان دو مختلف قومیں اور تہذیبیں ہیں۔ مسلم لیگ بالاتفاق مسلمان ریاست پاکستان قائم کرنے جا رہی تھی۔ یہاں یہ کہنا برمحل ہوگا کہ ہندوستان کی تاریخ و ثقافت کے مستند ماہر، اور معروف سائنسدان ابو ریحان البیرونی (973-1048) نے سب سے پہلے گیارھویں صدی کے اوائل میں یہ مشاہدہ کر لیا تھا کہ ہندو اور مسلمان تمام معاملات میں ایک دوسرے سے یکسر جدا فلسفہ حیات کے حامل ہیں۔ البیرونی کا یہی مشاہدہ تھا جو 22 مارچ 1940ء کو محمد علی جناح کے الفاظ اور لب و لہجہ میں عود آیا تھا۔ قائداعظم نے کہا تھا کہ ہندو اور مسلمان دو مختلف مذہبی فلسفوں کے حامل ہیں، مخلتف معاشرتی رسوم اور آداب رکھتے ہیں، متصادم نظریات اور تصورات رکھتے ہیں، دونوں کے طرز زندگی الگ الگ ہیں اور ہزار سال تک ساتھ رہنے کے باجود دونوں کے تعلقات خوشگوار نہ ہوسکے۔

اسی قائد کے تصور پاکستان سے بندھے مہاجروں کے وہ قافلے عجیب تھے، جو صدیوں کے مسکن چھوڑ کر نامعلوم حالات سے ٹکرانے کے لیے نکل پڑے تھے۔ کوئی خاندان کوئی وجود مکمل نہ تھا۔ بکھرے ہوئے خواب اور بچھڑے ہوئے ساتھ تھے۔ عزتیں کنوئیں نگل رہے تھے، بچے نیزوں پر اُچھالے جا رہے تھے۔ وہاں کروڑوں ہندوؤں اور سکھوں کے حصارمیں پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کی سزا پا رہے تھے، یہاں لاکھوں بیل گاڑیوں اور تھکے قدموں اور پھٹے ہوئے تلووں پر ارض پاک کی مٹی پر مرمٹنے کے لیے چلے جا رہے تھے۔ گو اسلامی ریاست کا درست فہم موجود نہ تھا۔ گو راست باز منتظمین کا ساتھ میسر نہ تھا۔ گو حالات گرفت میں نہ تھے۔ گو خامیوں کے بار سے ناتواں کاندھے بوجھل تھے۔ مگر مشیت نے فیصلہ مقدر فرما دیا تھا، اس سے مفر ممکن نہ رہا تھا۔ ہندوستان کے طول و عرض میں لاکھوں لٹیروں، زانیوں، اور کمینہ صفت ظالموں نے مسلمان آبادیوں پر دھاوا بول دیا تھا، سیکولرزم کے پیامبرگاندھی اور ابوالکلام آزاد تماشائے اہل ستم دیکھتے رہ گئے تھے۔ تہذیبی تفریق و منافرت زمینی حقیقت بن کر سیکولرزم کے دعووں پر مونگ دل رہی تھی۔ مشرقی پنجاب، دلی، اور آس پاس کے مسلمانوں پرظلم کے پہاڑ یکایک ٹوٹ پڑے تھے۔ غرض وہ آزمائشوں کے کیسے کیسے پہاڑ نہ تھے، جو اس پاکستان کے لیے اٹھائے نہ گئے تھے۔ لوگ آبائی مکانات پیچھے چھوڑ آئے تھے، مستقبل کے امکانات نگاہوں سے اوجھل تھے۔ ہزاروں المناک کہانیاں ان کہی ہوچکی تھیں۔ نیم شب کے ان گنت نالے ان سنے رہ گئے تھے۔ مگر ہجرت کی شب ہجراں پر آزادی کا سورج طلوع ہو رہا تھا۔ گو عالم اسلام پُرآشوب دور سے گزر رہا تھا۔ گو خلافت عثمانیہ اب قصہ پارینہ تھا۔ گو عالم عرب پر نزاع طاری تھا۔ گو صہیونی گدھ بیت المقدس پر جھپٹنے کو تھے، مگر یہ عجیب قافلے باد مخالف کو چیرتے ہوئے ہر طرف سے رواں دواں تھے۔

برصغیرسے عالمگیر سطح پر پاکستان کا مطلب ابھر رہا تھا۔ حالت مرگ میں مسلم امہ کی دھڑکنوں سے صدائے لا الہ آ رہی تھی۔ ہندوستان کے گلی کوچوں سے لہو کی لکیریں ارض الہی تک تقدیر نقش کر رہی تھیں۔ پاکستان کا مطلب اور تخلیق تاریخ پر گزر جانے والا یوں ہی کا واقعہ نہ تھا۔ یہ وہ منشائے الٰہی تھی، جو تمام تر بےسروسامانی کے باوجود، باوسائل اور منظم شیطانی چال پر بازی لے چکی تھی۔ اسلامی ریاست پاکستان، شیطانی ریاست اسرائیل سے پہلے شہادتوں کی منزلیں طے کرچکی تھی۔ 14 اگست 1947ء کو کلمہ لا الہ کا مطلب منصہ شہود پر آچکا تھا۔

پاکستان کے محرکات اور مقاصد میں سے جو کچھ اوپر بیان ہوا ہے، کیا حقیقت اس سے کچھ بھی مختلف تھی؟ ہرگز نہیں! بلاشبہ، اپنے نام کے ساتھ مسلم شناخت اختیار کرنے والی مسلم لیگ کی تمام تگ و دو صرف اور صرف مسلمان ریاست پاکستان کے قیام کے لیے تھی۔ قائد اعظم نے 1948ء کی ایک تقریرمیں کہا، 'اسلام نے ہمیں یہ سکھایا ہے، آپ (نسلا) جو کوئی بھی ہیں اور جہاں بھی ہیں، آپ کی شناخت مسلمان کی ہے۔ آپ ایک (مسلمان) قوم سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ نے ایک خطہ زمین حاصل کیا ہے، جو صرف آپ (مسلمانوں) کا ہے، نہ یہ پنجابی کا ہے نہ سندھی کا نہ پٹھان اور نہ ہی بنگالی کا، یہ صرف آپ (مسلمانوں) کا ہے۔