نپولین کا انوکھا عشق - محمود خارانی

فرانس کے نامور سپہ سالار نپولین بونا پارٹ 15اگست 1769ء کو ایک اطالوی وکیل چارلس بونا پارٹ کے گھر میں پیدا ہوئے، جس نے کارسیکا میں مقیم ایک اونچے خاندان کی لیتی ستیا نامی خوبصورت دوشیزہ سے شادی کرلی تھی. جب وہ مرا تو نپولین کی والدہ مادام بونا پارٹ اپنے خاوند کی وفات کے بعد اپنے کارسیکا والے گھر میں رہائش پذیر ہوگئی، جہاں اس نے نپولین کی تعلیم و تربیت پر یکسوئی سے توجہ مرکوز کی.

نپولین کی عمومی شہرت ایک عظیم فاتح کی حیثیت سے ہے، مگر ان کی زندگی کا مفصل مطالعہ کرنے کے بعد دیگر حکمرانوں اور جنگجوؤں کے برعکس یہ مسرت انگیز انکشاف سامنے آتا ہے کہ ان کی بےمثال عروج و کامیابی اس کی انتھک محنتوں، وسیع مطالعہ اور گہرے غور و فکر کا نتیجہ ہے، بچپن اور زمانہ طالب علمی سے انہیں مطالعہ اور کتب بینی سے خصوصی لگاؤ تھا.

نپولین برائن نامی ملٹری اسکول میں زیر تعلیم تھا، اسکول میں ہر طالب علم کو زمین کا کچھ حصہ ملا ہوا تھا، جہاں اپنی مرضی سے وہ کچھ بھی کرسکتا تھا. نپولین نے اپنے حصے کی زمین پر پودوں کی باڑھ لگائی، درمیان میں درخت لگائے اور عین وسط میں پھولوں اور پتوں سے ڈھکی ہوئی ایک نشست گاہ بنائی، جہاں پر بیٹھ کر وہ اپنے مطالعے اور سوچوں میں غرق ہوجایا کرتا تھا. بالکل ایسے ہی جیسے کہ وہ کارسیکا میں چٹان کی گہرائی میں ہوا کرتا تھا. شاید یہ جگہ اس چٹان کا قائم مقام محسوس ہو رہی تھی.

دلچسپ بات یہ ہے کہ خوبرو اور نہایت حسین ہونے کے باوجود نپولین نے جب عشق کا ارادہ کیا تو کسی دوشیزہ کی بجائے اس نے کتاب سے عشق کی ٹھانی. کتاب کے اوراق کو دواران مطالعہ الٹنا پلٹنا اسے زلف محبوبہ سے کھیلنے سے زیادہ پسند آیا. چنانچہ جس زمانے میں نپولین کا تقرر آکسوں (Auxonne) نامی مقام پر اپنی رجمنٹ کے ساتھ ہوا، اس جگہ پر اسے چند ماتحت افسروں کے ساتھ ایک حجام کے گھر میں ٹھہرنا پڑا. اس قیام کے دوران نپولین نے اپنے آپ کو اپنے کمرے میں محدود کرلیا، جہاں اس کا مشغلہ صرف مطالعہ ہی تھا، جبکہ دوسرے افسر اس حجام کی بیوی کے ساتھ سارا دن خوش گپیوں میں مصروف رہتے تھے، اور حجام کی بیوی نپولین کی طرف سے کوئی توجہ نہ پانے پر اس سے نفرت کرنے لگی تھی.

چند سال بعد جب نپولین اطالوی فوج کے کمانڈر کی حیثیت سے مارینگو (Marengo) کی طرف پیش قدمی کر رہا تھا، اس کا گزر آکسوں (Auxonne) میں سے ہوا. نپولین نے اسی حجام کی دکان پر ٹھہر کر کر اس کی بیوی سے پوچھا کہ کیا وہ نپولین بونا پارٹ نامی ایک ایسے افسر سے واقف ہے جس نے چند سال پہلے اس کے گھر میں قیام کیا تھا؟ اس پر اس نے جواب دیا کہ کیوں نہیں. میں اس سے واقف ہوں، وہ یا تو اپنے کمرے میں بیٹھا کتابیں پڑھتا رہتا تھا یا کتاب کے بغیر سوچ میں ایسا ڈوبا ہوا رہتا تھا کہ جب کبھی کوئی اس کے پاس سے گزرتا تو کسی سے بات کرنا پسند نہ کرتا تھا.
نپولین نے اس پر جواب دیا:
”اے خاتون! اگر وہ تمھاری خواہش کے مطابق اپنا وقت گزارتا تو اس وقت وہ اطالوی فوج کا سربراہ نہ ہوتا.“

معلوم ہوا کہ کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے، اور سمجھدار آدمی اپنے روشن مستقبل کے لیے اس طرح کی وقتی خواہشات کی قربانی سے نہیں ہچکچاتا.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */