ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی ایک خط کے فاصلے پر - محمد بلال خان

بارک اوبامہ نے اپنے دور اقتدار کے اختتام پر امریکہ میں قید انتہائی سزا یافتہ قیدیوں کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جن میں بڑے بڑے جرائم کے مرتکب کئی افراد کو رہائی مل چکی ہے. امریکی جیلوں میں قید ہائی پروفائل قیدیوں میں ایک نام دخترِ ملت اسلامیہ، فخرِ پاکستان، دنیا کے عظیم ترین دماغوں میں سے ایک اور پیکرِ عصمت و حیاء ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا بھی ہے۔ اوبامہ اقتدار سے سبکدوشی سے قبل قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے سنجیدہ ہیں،. مگر شرط یہ رکھی گئی ہے کہ ڈاکٹر عافیہ سمیت دیگر غیر ملکی قیدیوں کی رہائی کے لیے ان کی حکومت کی جانب سے ایک خط ضروری ہے، جو رہائی کا مطالبہ کرے۔

رہائی کے لیے نامزد قیدیوں میں سے چند نام مسترد کیے گئے ہیں، جن میں عافیہ صدیقی کا نام شامل نہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ رہائی صرف ایک خط کے فاصلے پر ہے. امت کی عظیم بیٹی اپنی رہائی کے لیے حکومتِ پاکستان کی فقط ایک درخواست کی منتظر ہے، امریکہ میں ڈاکٹر عافیہ کا کیس لڑنے والی وکیل کے بقول امریکی حکام خود بھی عافیہ کو رہا کرنا چاہتے ہیں، لیکن اس کے لیے انہیں بھی حکومتِ پاکستان کے ایک خط کا انتظار ہے، جو تاحال انتظار ہی ہے۔

رہائی کے حوالے سے عافیہ موومنٹ کی چئیر پرسن اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی ہمشیرہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے بھی تصدیق کی ہے کہ اب یہ سنہری موقع اور اوبامہ حکومت کے چند آخری لمحات باقی ہیں، جن میں حکومت کا ایک خط پورے ملک و ملت کا فرض ادا کرسکتا ہے، امت کی فراموش کردہ بیٹی کو اپنے دیس کی آغوش میں لے سکتا ہے، لیکن تاحال وزارت داخلہ، وزیراعظم ہاؤس، پارلیمنٹ یا کسی بھی سرکاری مقام پر عافیہ کی رہائی کے متعلق لب کشائی کی زحمت نہیں کی جا رہی۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی والدہ ڈاکٹر عصمت صدیقی نے عافیہ صدیقی کی رہائی حالیہ صورتحال کے متعلق سوشل میڈیا پر اپنے ایک انٹرویو میں حکومت کی خاموشی پر انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں اور میری بیٹی امتحان مکمل کرچکے، لیکن اب یہ قوم اور پاکستانی حکومت کا امتحان ہے کہ وہ اس میں کس حد تک کامیاب رہتے ہیں۔

ڈاکٹر عصمت صدیقی نے وزیراعظم نوازشریف کے متعلق کہا کہ نواز شریف نے مجھ سے پکا عہد کیا تھا کہ وہ عافیہ کو ضرور واپس لائیں گے، مجھے امید ہے کہ نوازشریف میری بیٹی اور قومی سرمایہ عافیہ صدیقی کی واپسی کےلیے کردار ادا کریں گے، ڈاکٹر عصمت صدیقی نے حکومتی کارکردگی کے سوال پر کہا کہ اب تک کسی بھی حکومتی فرد نے ان سے اس متعلق رابطہ نہیں کیا، جس پر انہیں انتہائی دکھ ہے۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی پاکستانی حکومت اور عوام پر قرض ہے، عافیہ کی رہائی ہر اس امیدوار، سیاستدان اور رہنما پر قرض ہے، جس نے عافیہ کے نام پر ووٹ حاصل کیے، حکمران جماعت مسلم لیگ ن سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے عافیہ صدیقی کی رہائی سے مشروط لاکھوں ووٹ حاصل کیے، اور اب موجودہ حکومت کے آخری سال اور اوبامہ حکومت کے آخری چندگھڑیوں میں یہ حکومت اور پاکستانی قوم یہ سنہری موقع اپنے ہاتھوں سے کھو دیتی ہے، اور ایک قانون شکن صدر کی شرمناک غلطی کا ازالہ نہیں کرپاتی تو یہ تاریخ کا سیاہ ترین باب ہوگا. پارلیمنٹ میں موجود تمام مذہبی سیاسی جماعتیں، غیرپارلیمانی مذہبی جماعتیں اور بالخصوص عوام الناس کو اب عافیہ کے لیے کھڑے ہونے کی اشد ضرورت ہے، اب بھی اپنی عزت و ناموس کی خاطر نہ اٹھے تو اس قوم کے ضمیر کے ساتھ ساتھ احساس کی آخری چنگاری بھی دفن ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔

Comments

محمد بلال خان

محمد بلال خان

محمد بلال خان نوجوان شاعر و قلم کار اور سیاسیات کے طالب علم ہیں، مختلف اخبارات میں لکھنے کے ساتھ ریڈیو پاکستان ایبٹ آباد میں بچوں کے پروگرام کا حصہ رہے، مقامی چینلز میں بطور سکرپٹ رائٹر کام کیا، آج کل عالمی ابلاغی ادارے سے بطور ریسرچر، سکرپٹ رائٹر وابستگی رکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */