دہشت گردی ایک فکری مطالعہ - داؤد ظفر ندیم

سلمان عابد ایک تحقیقی اور تجزیاتی ذہن کا مالک ہے، اس کی نئی کتاب ”دہشت گردی ایک فکری مطالعہ“ اس کے اسی مزاج کی عکاسی کرتی ہے۔ سلمان عابد اس سے پہلے بھی سیاسی اور سماجی موضوعات پر کافی کتابیں لکھ چکا ہے۔ وہ معاملے کو اس کی گہرائی اور اس کے مختلف پہلوؤں سے دیکھتا ہے اور اس کے ممکنہ حل کے لیے تجاویز دیتا ہے۔
اس کتاب میں بھی سلمان عابد نے دہشت گردی کی وجوہات اور اس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا ہے اور ان کے ممکنہ حل بھی بتائے ہیں۔ سلمان عابد کے نزدیک اس مسئلے کا صرف فوجی حل ممکن نہیں بلکہ مسئلے کو فکری سطح پر دیکھنا اور اس کا فکری حل تلاش کرنا بھی بہت ضروری ہے.یہ سوچ کہ طاقت کا استعمال جائز ہے، اس کی نفی کرنی ہوگی اور باور کرانا ہوگا کہ ہمیں رواداری، مکالمہ اور گفتگو سمیت پرامن سیاسی جدوجہد کو بنیاد بنا کر اپنی بقا کی جنگ لڑنی ہے.

سلمان عابد نے بتایا کہ غیر ملکی افواج کے خلاف مسلح مزاحمت اور کسی ملکی حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کرنا فرق معاملہ ہے۔ جب تک فکری سطح پر اس معاملے کو حل نہیں کیا جائے گا تب تک دہشت گردی کے خلاف ذہن سازی کے سلسلے کو نہیں روکا جا سکتا۔ اس سلسلے میں تمام دینی جماعتوں اور سماجی اور سیاسی گروپوں کو ملا کر پورے عالم اسلام کی سطح پر ایک اتفاق رائے کی ضرورت ہے کہ نجی جہاد اور مسلح پرائیویٹ جتھوں کو کم از کم کسی اسلامی ملک میں مقامی لوگوں کی حکومت کے خلاف کسی طرح قبول نہیں کیا جائے گا اور نہ ان کی کسی بھی طریقے سے حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

کسی بھی فرقہ وارانہ، سیاسی اور مسلکی اختلاف کو مسلح طریقے سے ختم کرنے کی کوششوں کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ سلمان عابد کا تجزیہ ہے کہ جب تک عالم اسلام میں فکری سطح پر ان معاملات کے بارے میں اتفاق رائے نہیں پیدا کیا جائے گا۔ یہ توقع رکھنا عبث ہے کہ فوجی اور عسکری طریقے سے دہشت گردی کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکتا ہے۔
سلمان عابد پاکستان میں اسلامی سوچ کے ایک نمائندے سمجھے جاتے ہیں مگر وہ ایک توازن اور اعتدال کے ساتھ تجزیہ کرنے اور بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی طرف سے ایسی تحقیقی اور تجزیاتی کتاب پاکستان کی تمام اسلامی سیاسی اور غیر سیاسی جماعتوں اور حکومت کو دعوت فکر دیتی ہے کہ وہ مل کر دہشت گردی کو فکری سطح پر شکست دینے اور مسئلے کو فکری سطح پر طے کرنے کی کوشش کریں.

ایسی جماعتوں اور تنظیموں کے خلاف فکری اور سخت کاروائی کریں جو کسی طرح بھی دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کا باعث ہو۔ اس اتفاق رائے کی عدم موجودگی میں دہشت گردی کے خلاف کوئی بھی بڑی سے بڑی کاروائی درخت کی ٹہنیوں کو ختم کرسکتی ہے اس کی جڑوں کو قائم رہنے دے گی

Comments

دائود ظفر ندیم

دائود ظفر ندیم

دائود ظفر ندیم تاریخ، عالمی اور مقامی سیاست، صوفی فکر اور دیسی حکمت میں دلچسپی رکھتے ہیں، سیاسیات اور اسلامیات میں ماسٹر کیا ہے۔ دلیل کے لیے باقاعدہ لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.