میں ناچ کیوں نہیں سکتی؟ شازیہ طاہر

ایک سوالیہ تحریر پر نظر پڑی جس کا عنوان ہے ”میں ناچ کیوں نہیں سکتی؟“ خاتون خانہ اور عورت ہونے کے ناطے اور اپنی تفہیم کے لیے اسے ایک دفعہ نہیں تین دفعہ پڑھا مگر حاصل کچھ نہ ہوا۔ خیال آیا کہ صاحبہ تحریر نے صرف اپنے ہی خیالات کی ترجمانی کی ہے کیونکہ جنہوں نے ناچنا ہوتا ہے، وہ کسی سے پوچھ کر یا اجازت لے کر تھوڑا ہی ناچتی ہیں!

ایسے طبقہ جو ہمیں بتاتا ہے کہ پاکستان روشن خیالی کی طرف رواں دواں ہے، منزلوں پر منزلیں طے کر رہا ہے، ملک میں بڑی تیزی سے ناچنے گانے کی ”صنعت“ میں ترقی کر رہا ہے کہ بس اسی کو ترقی سمجھ لیا گیا ہے، نہیں معلوم کہ اس کو ایسا سوال کیوں کرنا پڑا؟ یا تو دعوی جھوٹا ہے، یا جی ابھی بھرا نہیں ہے. جہاں ناچنے والوں اور والیوں کو لیجنڈ اور ہیرو قرار دیا جاتا ہے، بڑے فخر سے سیلفیاں اور تصویریں بنائی جاتی ہیں، فن اور آرٹ کے نام پر پورے ملک بلکہ پوری دنیا میں ان کی بےحد پذیرائی ہوتی ہے، جہاں رقص اور ناچ کو وجود اور تہذیب کا ملاپ قرار دیا جاتا ہے، وہاں آپ کیوں نہیں ناچ سکتیں؟ وہاں آپ کو کس نے ناچنے سے روکا؟ اور کب روکا؟

جہاں سڑکوں پر دھرنوں میں قوم کی بیٹیاں سر عام ناچتی ہیں وہاں آپ بھی ناچ سکتی ہیں.
جہاں کسی ایم پی اے کے جیتنے کی خوشی میں خواتین مردوں کے ساتھ مل کر ناچ سکتی ہیں وہاں آپ بھی ناچ سکتی ہیں.
جہاں انار کلی جیسے مصروف بازار میں چھ آٹھ لڑکیاں اچانک سے اٹھ کر ناچنا شروع کر دیتی ہیں اور ارد گرد تمام مرد حضرات مفت میں تماشا دیکھنا شروع کر دیتے ہیں، وہاں کس میں جرات ہے کہ آپ کو اس کام سے منع کرے. گھر میں ناچیں یا سڑک اور گلی و بازار میں، کون منع کر رہا ہے.
جہاں کسی فلم میں آئٹم سانگ کرنے والی ملک کی نمبر 1 ”فنکارہ“ یا آپ کے لفظوں میں ناچنے والی کہلائے، وہاں آپ سمیت کوئی بھی بلاجھجک اس فیلڈ میں طبع آزمائی کر سکتا ہے اور نمبر ون کی دوڑ میں شامل ہو سکتا ہے.
جہاں شادی بیاہ کی تقریبات میں ہائی فائی سوسائٹی کے علاوہ اچھے خاصے ”معزز“ اور ”شریف“گھرانوں میں بھی کئی ماہ تک ڈانس پریکٹس کی جاتی ہے اور پھر شادی کے دنوں میں لڑکے لڑکیاں مخلوط ڈانس کرکے، اور ناچ کود کر شادی کی خوشیوں کا مزہ ”دوبالا“ کرتے ہیں، وہاں آپ بھی اپنے خاندان کی ایسی کسی تقریب میں اپنا شوق پورا کر سکتی ہیں، جہاں کوئی بھی کسی کو ”کنجر“ نہیں کہتا کیونکہ وہ کوئی باہر سے بلائی ہوئی پیشہ ور کنجریاں تھوڑی ہوتی ہیں، بلکہ وہ تو خاندانی اور باعزت بچیاں ہوتی ہیں۔
جہاں تھیٹر اور سٹیج ڈراموں میں نیم عریاں بلکہ تقریبا عریاں لباس (یعنی لباس پہن کر بھی ننگی ہوں) میں سینکڑوں لوگوں کے سامنے ”نامور“ فنکارائیں ناچ سکتی ہیں، وہاں آپ کیا کوئی بھی ناچ سکتا ہے.

نہایت دکھ کے ساتھ کہا کہ شاید غلط جگہ پیدا ہوگئی ہیں۔ ہاں شاید پیدا تو غلط جگہ ہوئیں لیکن آپ کی ”خوش قسمتی“ کہ آپ ایک بہت ہی مردم خیز بلکہ عورت خیز معاشرے میں پروان چڑھی ہیں جہاں دو تین عشروں کے اندر اندر ہی عورت کو گھر کی عزت اور چار دیواری کی ”قید“ سے نکال کر شخصی آزادی اور آزادی نسواں کے نام پر دھرنوں، سینماؤں، بل بورڈز، بڑے بڑے ہورڈنگز اور اشتہارات کی زینت بنا دیا گیا ہے۔ آخر عورت بھی انسان ہے اور اسے بھی کھلی ڈلی ہوا میں سانس لینے کی اتنی ہی آ زادی ہونی چاہیے جتنی مرد کو ہے۔ حیرانی ہوئی کہ ایسے آزاد خیال ملک میں پیدا ہونے پر کوئی کیسے افسوس کر سکتا ہے۔

یہ کہنا کہ روح تو آزاد ہے لیکن جسم ان دیکھی بیڑیوں اور گھٹن زدہ رواجوں میں محصور ہے تو یہ بات بھی درست نہیں ہے۔ ایک آزاد ملک کی آزاد شہری ہونے کی حیثیت سے ذہنی خیالات کا اظہار یوں کھلم کھلا اظہار کیا جا سکتا ہے تو جسمانی آزادی بھی حاصل ہے جس کی اوپر مثالیں دی گئی ہیں۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ کسی کو اپنے خاندان کی سپورٹ حاصل نہ ہو، یا شاید کسی والد کی سوچ اور ظرف اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ایک حاضر سروس وفاقی وزیر کی طرح اعلی نہ ہو، جو اپنی بیٹی کو سکول میں ناچتے ہوئے دیکھ کر اپنا سر فخر سے اونچا کر لیتے ہیں کہ ان کی بیٹی کتنی اچھی ڈانسر (ناچنے والی) ہے۔ ایک خاندان یا کسی ایک فرد کی ”تنگ نظری“ کا الزام پورے معاشرے کو نہیں دیا جا سکتا.

یہ بات بھی درست نہیں کہ معاشرے میں ناچنے والے مردوں کو تو بےحد پذیرائی ملتی ہے جبکہ ایسی عورتوں کے بارے میں لوگ واہیات باتیں کرتے ہیں، حالانکہ اصل پذیرائی تو خواتین کو ہی اس فیلڈ میں مل رہی ہے، مردوں کو تو کوئی پوچھتا بھی نہیں۔ یہ اعتراض کہ ناچنے گانے والی لڑکیوں کو ”کنجریاں یا مراثن“ کا نام دیا جاتا ہے، اس لیے لوگ اس فیلڈ کو برا سمجھتے ہیں تو اطلاعا عرض ہے کہ اس فیلڈ کے لڑکوں کو بھی حاجی ثناء اللہ نہیں کہا جاتا، انھیں بھی عرف عام میں کنجر اور مراثی ہی کہا جاتا ہے۔ اسی مناسبت سے ایک مشہور لطیفہ یاد آیا کہ لڑکے والے رشتہ لے کر ایک لڑکی کے گھر گئے۔ لڑکی کے متعلق پوری تفتیش ہو چکی تو لڑکی کے والد نے پوچھا کہ آپ کا بیٹا کرتا کیا ہے۔ ماں نے بڑے فخر سے کہا کہ جی میرا بیٹا ملک کا مشہور سنگر ہے۔ یہ سنتے ہی لڑکی کے والد بےانتہا غصے میں بولے تو یوں کہیے نا کہ آپ کا بیٹا کنجر ہے۔ اور فوراً انھیں باہر کا راستہ دکھا دیا۔

اِسی طرح کا ایک سچا واقعہ ایک مشہور و معروف سنگر کے ساتھ بھی پیش آیا جو انھوں نے خود ایک انٹرویو کے دوران سنایا کہ پنجاب کے ایک بڑے زمیندار نے اپنے بیٹے کی شادی پر گانے بجانے کے لیے تین دن کے لیے انھیں بک کیا اور ایڈوانس رقم بھی ادا کر دی۔ جب وہ اپنے ساتھی سِنگر کے ہمراہ ان کی حویلی پہنچے تو زمیندار نے اپنے ملازم سے کہا کہ ان کو کمرہ دکھا دو۔ ابھی وہ اپنے کمرے میں داخل ہی ہوئے تھے کہ انھیں چوہدری صاحب کی رعب دار آواز دوبارہ سنائی دی جو اپنے دوسرے ملازم سے کہہ رہے تھے کہ اوئے شیدے ان کنجروں کے کھانے پینے میں کوئی کمی نہیں آنی چاہیے، آخر کو وہ ہمارے مہمان ہیں۔

یہ تو تھا ایک پہلو۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہم مسلمان ہیں اور ابھی ہمارے اندر ایمان کا وہ کمزور ترین درجہ موجود ہے جس میں برائی کو کم از کم دل میں ہی برا سمجھا جاتا ہے، یعنی ابھی ایمان کی چنگاری مکمل طور پر نہیں بجھی۔ اسی لیے یہ سوال اٹھایا گیا، ممکن ہے سوال کرنے والا بھی اس کام کو برا ہی سمجھتا ہو، چاہے معاشرے یا خاندان کے ڈر سے یا خوفِ خدا کی وجہ سے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ہر بچہ (اسلامی) فطرت پر ہی پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی، یا مجوسی بنا لیتے ہیں۔ شارحین حدیث لکھتے ہیں کہ فطرت سے مراد دین اسلام ہے۔ ہر انسان اسلامی فطرت پر پیدا ہوتا ہے اور اللہ یعنی خالق حقیقی پر اس کا ایمان ہوتا ہے اور اس کے فکر و اعتقاد اور اس کی سوچ میں شرک و کفر نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی، لیکن اس پر رفتہ رفتہ اس ماحول کا اثر ہوتا ہے جس میں اس کی پرورش ہوتی ہے اور اس خارجی اثر کی وجہ سے اس کے فطری اور طبعی فکر و اعتقاد میں تبدیلی ہوتی ہے اور پھر وہ ماحول کے مطابق کافر، مشرک، یہودی، نصرانی وغیرہ بن جاتا ہے۔ ماحول کے اثرات ہماری نسل پر کس طرح مرتب ہو رہے ہیں، اس کا اندازہ خود اس سوال سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

مذہب و دین انسان کی بنیادی ضرورت ہے، اور انسانی زندگی سے اس کا گہرا تعلق ہے کہ انسان دیگر چیزوں سے بعد میں متعارف اور وابستہ ہوتا ہے، لیکن اس کی تخلیق مذہب سے وابستگی کے ساتھ ہوتی ہے، مذہب سے انسانی زندگی کے گہرے تعلق کی یہ بھی ایک دلیل ہے کہ انسان جب کبھی بھی سخت ترین مصائب، غم اور تکالیف سے ہمکنار ہوتا ہے تو عبادت و ریاضت کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اسی راستہ سے اپنی مصیبتوں کے خاتمہ کی راہ تلاش کرتاہے نہ کہ ناچ کود یا گانے گا کر۔ کیا بسترِ مرگ پر پڑے اپنے کسی پیارے کو اس دنیا سے ہمیشہ کے لیے جاتے دیکھ کر ہم ناچنےگانے لگ جاتے ہیں یا تسبیح اور دُعا میں مصروف ہو جاتے ہیں؟؟ اگر رقص اور ناچ کے ذریعے جسم کو سکون ملتا ہے اور موسیقی روح کی غذا ہے، تو انسان دکھ اور مصیبت کی گھڑی میں گانے کیوں نہیں گاتا، غم کے اظہار کے لیے ناچنا کیوں نہیں شروع کر دیتا؟