بچوں کے لاشے ہم نہیں بھولیں گے! عابد محمود عزام

انسان کتنا کٹھور اور سخت قلب واقع ہوا ہے کہ اپنی آنکھوں سے نجانے کیسے کیسے سانحات کو ہوتا دیکھتا ہے اور سب کچھ نہ صرف برداشت کرتا ہے، بلکہ بہت جلد بھول بھی جاتا ہے۔ دنیا میں آنکھ کھولنے سے لے کر بند کرنے تک بہت سے ایسے دل دوز مواقع آتے ہیں، جن کو دیکھ کر انسان کی روح تک کانپ جاتی ہے، لیکن کچھ ہی عرصہ بعد سب کچھ اس کے ذہن سے محو ہوجاتا ہے، مگر کچھ واقعات اس قدر المناک ہوتے ہیں، جن کو بھلانا انسان کے بس میں ہوتا ہی نہیں ہے۔ یہ واقعات ایسے انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں کہ انسان انہیں اپنی سوچ سے کھرچنے کی لاکھ کوشش کرے بھی تو ناکام ٹھہرتا ہے۔ ایک لمحے کے لیے بھی ان دلخراش واقعات کی یاد آنکھیں نم اور دل رنجیدہ کرنے کو کافی ہوتی ہے۔ انسان انتہائی خوشگوار موڈ میں بھی بیٹھا ہو تو ان واقعات کا ہلکا سا خیال ہی انسان کی ساری خوشیوں کو اداسیوں میں تبدیل کردیتا ہے۔ دو سال قبل پشاور میں پیش آنے والا بچوں کی خونریزی کا بدترین سانحہ بھی اسی نوع کا ایک واقعہ ہے، جو دو سال گزرنے کے باوجود سوچ میں کانٹے کی طرح پیوست ہے۔ بھلانے کی تمام تگ و دو کے باوجود بھی تاریخ انسانیت میں پیش آنے والے اس بدترین واقعہ کی ہولناکی ذہن میں سانپ کی طرح کنڈلی مارے بیٹھی ہے۔ اگرچہ اس سانحے کے کئی ذمہ داران انجام کو پہنچ چکے، لیکن سینے میں دھڑکتا دل رکھنے والے انسانوں کے زخم ابھی تک ہرے ہیں۔ دو سال بیت گئے، لیکن یوں لگتا ہے، جیسے خون کی یہ ہولی کل ہی کھیلی گئی ہے۔ جب جب بچوں کی لاشوں کی تصاویر نظروں کے سامنے آئیں، تب تب آنکھیں بہہ پڑیں۔ واقعہ ہی کچھ ایسا تھا۔ پشاور میں بے گناہ و معصوم بچوں کو بلا وجہ بیہمانہ قتل کر کے بدترین درندگی کی مثال قائم کی گئی۔ جو کچھ بچوں کے ساتھ ہوا، وہ انسانی عقل سے ماورا ہے، جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ انسانیت کی روح کو بے چین اور شرمندہ کردیا۔ خون میں لت پت بچوں کی کتابوں، جوتوں اور ان کی اسکول یونیفارم کے مناظر نے پاکستان تو کیا پوری دنیا میں تمام والدین کو تڑپا دیا۔ بقول شاعر \r\nزندگی اتنی بے رحم بھی ہوسکتی ہے کبھی\r\nاجڑی ماﺅں کی آہ و بکا دیکھ رہا ہوں.

دسمبر کو پشاور میں برپا ہونے والی قیامت صغریٰ نے ہر شخص کو دکھ، درد، تکلیف، غم اور پریشانی میں مبتلا کیا۔ سانحے کے بعد کوئی فرد بچوں کے قاتلوں پر چار حرف بھیجے بغیر نہیں رہ سکا۔ اس دہشتگردی کے سامنے جارحیت، درندگی، سفاکیت اور حیوانیت جیسے الفاظ بھی بہت چھوٹے معلوم ہوتے ہیں۔ اس قدر وحشیانہ رویہ، اس قدر شقی القلبی کہ انسان ایسے حیوان نما انسانوں کی انسانیت پر بھی حیرت آشنا ہو جائے۔ مشرق و مغرب سے لے کر شمال و جنوب تک ہر ملک، ہر مذہب اور ہر نسل کا ہر فرد حیران و پریشان ہوا کہ آخر ان بے گناہ و نہتے بچوں کا قصور کیا تھا؟ انہیں کس جرم میں قتل کیا گیا؟ اس واقعے کی دردناکی نے ہر اس شخص کو شدید صدمے سے دوچار کیا، جو دماغ میں عقل اور پہلو میں دل رکھتا ہے۔ اس سانحے کی اندوہ ناکی کسی بھی پیمانے سے ماپی نہیں جاسکتی۔ یہ ایک ایسا قومی سانحہ تھا، جس کی کوئی نظیر اور مثال ہماری تاریخ میں نہیں ملتی۔ پوری دنیا ورطہ حیرت میں ڈوب گئی کہ مسلمانوں کا ملک پاکستان کیسی دھرتی ہے، جہاں بغیر کسی جرم کے کھلنے سے پہلے ہی پھولوں کو مسل دیا گیا، جہاں اسلام کے حکم ”علم حاصل کرو“ کے مطابق الف، ب، پ پڑھنے کے ”جرم“ میں ڈیڑھ سو کے لگ بھگ بے گناہ و نہتے بچوں کو ہمیشہ کی نیند سلادیا گیا۔ کسی نے بچوں کے ساتھ اس قسم کی درندگی کے وقوع کا سوچا تک نہیں تھا۔ یہ بچے تو ابھی ان کھلی کلیوں کی مانند تھے۔ روشنی کے ننھے چراغوں کو اپنی روشنی پھیلانے سے پہلے ہی گل کردیا گیا۔ قاتل ان معصوموں کے خون کی ہولی کھیلتے رہے اور درندگی کا یہ کھیل اس وقت تک جاری رہا، جب تک قاتلوں میں درندگی کا کھیل کھیلنے کی سکت باقی رہی۔ کہتے ہیں بچے پھولوں کی مانند ہوتے ہیں۔ ان کا تعلق چاہے کسی ملک، مذہب یا نسل سے ہو، سینے میں انسانی دل رکھنے والے شخص کو ان پر پیار آیا ہی کرتا ہے، لیکن یہاں تو معاملہ ہی جدا نظر آیا۔ جو بچے قوم کا مستقبل اور اپنے والدین کی امنگوں کا محور تھے، آوروں نے اپنی بہادری کے جوہر دکھاتے ہوئے ان کو درندگی کا نشانہ بناڈالا، کیونکہ قاتل بچوں کی تعلیم سے خوفزدہ تھے، بچوں سے ڈرتے تھے، جبکہ بچے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کرتے ہوئے زبان حال سے کہہ رہے تھے:
میں ایسی قوم سے ہوں جس کے وہ بچوں سے ڈرتا ہے
بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے

یہ بھی پڑھیں:   اور پھر کا کا کی پریشانی ہی ختم ہوگئی - شبیر بونیری

پاکستان کو ایک طویل عرصے سے دہشت گردی کے انتہائی دہشت ناک عفریت کا سامنا ہے، جس سے مساجد محفوظ ہیں نہ درسگاہیں، چرچ محفوظ ہیں نہ امام بارگاہیں، بازار محفوظ ہیں نہ شاہرائیں، ہسپتال محفوظ ہیں نہ دفاتر، مشایخ محفوظ ہیں نہ علمائے کرام، عورتیں محفوظ ہیں نہ بچے، مائیں محفوظ ہیں نہ بیٹیاں، باپ محفوظ ہیں نہ بیٹے، اسکول محفوظ ہیں نہ کالج، مدارس محفوظ ہیں نہ یونیورسٹیاں۔ سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ درندگی اسلام کے نام پر کی جاتی ہے، حالانکہ اسلام تو ہر ظلم کی سختی سے مذمت کرتا ہے۔ جنگ میں بھی دشمن کے بچوں، بوڑھوں اور خواتین پر ہاتھ ا±ٹھانے، حتیٰ کہ سرسبز باغات اور ہرے بھرے کھیت بھی ا±جاڑنے کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ لوگ بے گناہ لوگوں کے قتل کو اسلام کی خدمت خیال کررہے ہیں، جبکہ اسلام کے نام پر بے گناہ لوگوں کی جان لینے اور ان کی حمایت کرنے والے جاہل و ناپختہ مسلمانوں کی وجہ سے آج دنیا اسلام اور مسلمانوں سے متنفرہونے لگی ہے۔\r\nیہ امر نہایت خوش آیند ہے کہ سانحہ¿ پشاور کے بعد ساری قوم اتحاد و اتفاق کا بے مثال مظاہرہ کرتے ہوئے ایک پلیٹ فارم پر نظر آئی۔ رہنمایانِ قوم اپنے تمام اختلافات اور جھگڑوں کو ایک طرف رکھ کر اس قومی سانحے کی مذمت پر یکسو ہوئے۔ فوج، حکومت، علمائے کرام اورعوام نے مل کر دہشتگردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ کرنے کا اعلان کیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دو سال کے بعد ملک میں دہشتگردی میں کافی حد تک کمی واقع ہوچکی ہے، لیکن ابھی مزید بہت جدوجہد کی ضرورت ہے۔ مکمل طور پر امن کے قیام اور دہشتگردی کی بیخ کنی اسی صورت میں ممکن ہے، جب پوری قوم مستقل طور پر بیدار و متحد ہوکر دہشت گردی کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جائے۔ ملک میں تعلیم کو فروغ دے کر جہالت کا خاتمہ کیا جائے، کیونکہ دہشت گردی جہالت سے جنم لیتی ہے اور جہالت کا مقابلہ تعلیم سے کیا جاسکتا ہے۔ قوم کو حالات کے اس گرداب سے نکالنے کے لیے علمائے کرام بھی کھل کر میدان میں آئیں اور قوم کے سامنے کھوٹے اور کھرے کی تمیز بالکل واضح کردیں۔ جب تک معاشرے کا ہر فرد اپنی ذمے داری ادا نہیں کرے گا، اس وقت تک قوم کا اس گرداب سے نکلنا مشکل ہے۔

Comments

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام 2011ء سے شعبہ صحافت میں میگزین رپورٹر، فیچر رائٹر اور کالم نویس کی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔ روزنامہ ایکسپریس اور اسلام میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ معاشرے میں تعمیری اور مثبت سوچ کا فروغ ان کا مشن ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.