زندگی کے تضادات - نورین تبسم

انسان کی زندگی گہرے تضادات کا مجموعہ ہے۔ عالم ارواح میں تخلیقِ وجود ِانسانی سے لے کر دُنیا میں اُس کی آخری جھلک تک سوچنے والوں،غور کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہی نشانیاں \0\0\0اور ثبوت ہی ثبوت ہر طرف بکھرے پڑے ہیں۔\r\nانسان کے دوسرے انسانوں کے ساتھ جسم کے تضادات، رویوں کے تضاد، عمل کے تضاد، سوچ کا تضاد، رشتوں کے تضاد، تعلق کے تضاد، جذبات کے مدوجزر، احساسات کے نشیب و فراز سے ہٹ کر انسان کا ظاہر و باطن بھی یکساں نہیں۔ انسان کا ظاہر اس کے باطن کا عکاس ضرور ہوتا ہے لیکن اس کے باطن کی شہادت کبھی نہیں دے سکتا۔ ہمارا ظاہر اور باطن کبھی یکساں نہیں ہوتا۔ ظاہر کے کئی روپ، بےشمار چہرے اورگرہ درگرہ رشتے ہوتے ہیں۔ ہر رشتے کا الگ مقام اور ہر روپ کا نیا انداز ظاہر کا خاصہ ہے تو ہر چہرہ وقت اور ماحول کے مطابق اپنانا ”زندگی“ اور ”زندہ“ رہنے کی اشد ضرورت بھی ہے۔ انسان کے ظاہر کی مثال دل کی طرح ہے جس میں صاف اور گندا خون ساتھ ساتھ لیکن جدا جدا خانوں میں رواں رہتے ہیں۔ ان کے باہم مل کر کام کرنے سے ہی دل کی گاڑی چلتی ہے۔ کسی پر کسی کی ذرا سی رمق بھی نہیں پڑتی۔ اگر کبھی ایسا ہونے لگے تو بہت سی خرابیاں نمودار ہوجاتی ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ ہمارے ظاہر کا یہ بہروپ زندگی کمائی ہے تو باطن اس پارہ صفت کی بےقراری سے عاجز اور تنہائی کا شکار ہونے لگتا ہے۔ اس سارے عمل میں باطن کو اس کا جائز مقام نہیں مل پاتا۔ اپنی پہچان کے لیے باطن کبھی ایک چہرے میں اپنے آپ کو تلاش کرتا ہے تو کبھی کسی ایک رشتے میں محصور ہو کر پناہ کا طالب ہوتا ہے۔ ہمارا ظاہر اگر موسمی لباس کی طرح حالات کے مطابق رنگ بدلتا ہے تو باطن جینز میں موجود ”ڈی این اے“ کا وہ کوڈ ہے جس میں ”لبیک“ سے لے کر شیطان کے بہکاوے تک کے پیغامات محفوظ ہیں۔ باطن کی مثبت اور منفی جہت ہمیشہ سے ہمارے وجود کا حصہ ہے۔ کبھی مثبت رو منفی ظاہر کے سامنے چھپ جاتی ہے تو کبھی منفی جہت کو کامیابی سے کیموفلاج کر کے ظاہر آنکھیں چندھیا بھی دیتا ہے۔ جو شخص کہتا ہے کہ اُس کا ظاہر و باطن ایک ہے، وہ دُنیا کا سب سے بڑا منافق ہے۔ پاک صاف ظاہر باطن فرشتوں کے سوا کسی کا ممکن نہیں جن کی وجۂ تخلیق ہماری محدود سوچ کی بنا پر صرف عبادت ہےاور مکمل طور پر شیطانیت کی تُہمت تو ابلیس پر بھی نہیں لگائی جاسکتی کہ نافرمانی سے پہلے وہ اللہ کے خاص مقربین میں سے تھا اور نافرمانی کے بعد بھی اس کے خالق نے اسے مہلت عطا کی۔\r\n\r\nغیب کے ان رازوں سے ہٹ کر کہ ان پر زیادہ تحقیق سے بھی منع فرمایا گیا ہے، ہم اپنی عقل کے محدود دائرے میں رہتے ہوئے سمجھنے کی اہلیت بھی نہیں رکھتے، اگر ہم اپنی زندگی، اپنے آس پاس مظاہرِقدرت سے اس تضاد کا ثبوت چاہییں تو ایک عام انسان کے لیے چاند سے بہتر مثال اور کوئی نہیں۔ \r\n\r\nسوچنے کی معمولی صلاحیت رکھنے والا چاند اور اُس کی روشنی سے واقف ہے۔ وہ چاندنی جو گھٹتی بڑھتی ہے تو اتنا احساس نہیں ہوتا لیکن جب مہینے کے آخری دنوں میں تاریک کالی رات ہر طرف سناٹے اُتار دیتی ہے تو پھرچاند کی چاندنی ”نظر“ آتی ہے، اس کی غیرموجودگی کا پتہ چلتا ہے۔ چاند ہم سب کے لیے ٹھنڈی میٹھی روشنی کا استعارہ ہے جیسے سورج کے ساتھ دوزخ کی گرمی اور قیامت کا تصور آتا ہے (قیامت کے روز سورج سوا نیزے پر ہوگا) تو چاندنی راتوں کی رومانویت کی داستانیں سانسیں اتھل پتھل کر دیتی ہیں۔ قصہ مختصر ہمارے نزدیک سورج آگ برساتا ہے اور چاندنی شبنم نچھاور کرتی ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سورج زندگی ہے، ہماری کائنات کا محور ہے۔ سورج ہے تو سب کچھ ہے، نہ ہو تو سب ختم۔ کیا پڑھا لکھا کیا جاہل ہر شخص اپنی زندگی میں سورج کے کردار سے بخوبی آگاہ ہے اور اس کی برتری تسلیم کرتا ہے۔ ہم ایشیائی ممالک میں رہنے والوں کے لیے تو سورج کا نکلنا اور ہماری زمین کے لیے زندگی بخش ہونا معمول کی بات ہے۔ سورج کی اصل قدر و قیمت یورپ اور دُنیا کے دوردراز خطوں میں رہنے والے جانتے ہیں جہاں سال کے چھ ماہ سورج نہیں نکلتا اور جہاں سورج کی شعائیں برہنہ جسم پر لینا زندگی کی سب سے بڑی لذت تصور کی جاتی ہے۔ اس ”سن باتھ“ کی خاطر اپنے اصل رنگ کو ”ٹین“ کرنا خوبصورتی کا وہ معیار ہے جس کا ہم اہل ِمشرق اپنے بارے میں تصور بھی نہیں کر سکتے۔ سورج کی کرنوں سے دوری موسم تو بدلتی ہے لیکن دھندلے دن اور برستی بارشیں مزاج بھی بدل دیتی ہیں۔ انسان کو رب نے صلاحیت دی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ماحول کے مطابق بخوبی ڈھال کرسمجھوتے بھی کر لیتا ہے۔ دُنیا کی آسائشیں اور ترقی کی چکاچوند گر وجود روشن کرتی ہے تو دھند اور بارشیں بھی لفظ کے دوستوں سے دوستی کر لیتی ہیں اور یوں ادب کے شاہکار سامنے آتے ہیں۔ چاند کی چاندنی لفظ کے ساحروں کے سامنے رقص کرتی ہے اور وہ اس کو دامنِ دل میں جذب کرکے جگ میں نمایاں کر دیتے ہیں۔\r\n\r\nسورج اور چاند کے ظاہری اسرار سے قطع نظر بات چاند کے تضاد کی ہے۔ چاند کی چاندنی اگر ضرب المثل ہے تو تحقیق کرنے والوں نے اِس کی اصلیت کا پردہ بھی چاک کر دیا۔ سائنس دانوں کی رو سے چاند کی اپنی کوئی روشنی نہیں، وہ سورج کی روشنی منعکس کر کے آسمانِ دُنیا پر نچھاور کرتا ہے۔ چاند پر قدم رکھنے کا ”دعوٰی“ کرنے والوں کے مطابق چاند ایک بےآب وگیاہ سرزمین ہے جہاں نہ سانس کے لیے آکسیجن ہے نہ زندگی کی بقا کے لیے پانی اور نہ ہی قدم رکھنے کو کششِ ثقل جیسی کوئی کشش موجود ہے۔ یعنی چاند کی قربت زندگی کے لیے بےفیض ٹھہری۔ یہ تو آج کے دور اور آج کے انسان کی تحقیق و جستجو کا حاصل ہے جس پر ہمیں یقین رکھنا پڑتا ہے۔ لیکن چاند کے حوالے سے ایک واقعہ بحیثیت مسلمان ہمارا ایمان ہے۔ وہ ایمان جس کی تصدیق چودہ سو سال بعد آنے والےغیرمسلم اپنی تحقیق سے کرتے ہیں۔ ”شق القمر“ ہجرت سے چند سال پہلے کا معجزہ نبویﷺ ہے۔ قرآن پاک کی (54) سورۂ قمر کی پہلی آیت میں شق القمر کا بیان ہے اور اگلی ہی آیت میں اس پر شک کرنے والوں کو جواب بھی دیا گیا ہے۔\r\n”قیامت آ پہنچی اور چاند شق ہو گیا ۔اور اگر (کافر) کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں یہ ایک ہمیشہ کا جادو ہے۔“\r\n \r\nحرفِ آخر\r\nبات انسان کے تضاد سے شروع ہوئی تھی اور حقائقِ قدرت سورج چاند کی مثالوں تک جا پہنچی۔ انسان کی فطرت یا کمزوری ہے کہ وہ بسااوقات آنکھوں دیکھی حقیقت پر یقین نہیں کرتا جب تک دلیل سے بات نہ کی جائے۔ سب سے بڑھ کر ربِ کائنات کا حکم بھی یہی ہے کہ ”غور کرو“۔ بےشک ماننے کا حکم پہلے ہے لیکن یہ بھی کہا گیا کہ ایسے اندھے بھی ہیں جو دیکھتے ہیں اور ایسے بہرے بھی ہیں جو سنتے ہیں۔ یہ انسان کا بہت بڑا خسارا ہے کہ دیکھ کر بھی نہ دیکھے، سُن کر بھی نہ سُنے اور چھو کر بھی کچھ محسوس نہ کرے۔ انسان بذات خود کائنات ہے۔ اپنے آپ کو پہچانیں گے تو کائنات کے سربستہ راز کھلتے چلے جائیں گے۔\r\n

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں