سوال کی حرمت یا حرمت کا سوال - حسیب احمد حسیب

.تعلیم اور تحقیق کے میادین سے تعلق رکھنے والے اس فرق سے بخوبی واقف ہیں کہ جو امتحان {exam} اور جائزے {survey} میں ہوتا ہے .\n\nامتحان کا مقصود ہے طالب کی استعداد کو جانچنا ہوتا ہے. امتحان سال بھر جاری رہنے والے تعلیمی عمل کی وہ آخری انتہا ہے کہ جس کے بعد امتحان میں شامل ہونے والوں کی استعداد کو جانچ کر انہیں اگلے درجات میں ترقی دی جاتی ہے. امتحان چاہے نفسی {subjective} ہو، یا پھر ہدفی {objective}، ہر دو ایک مخصوص تدریسی نصاب سے متعلق ہوتے ہیں کہ جسے طلبہ کی ذہنی استعداد کے پیش نظر تشکیل دیا جاتا ہے. طالب علم ہر اس سوال سے متعلق سوال کرنے کا حق رکھنے ہیں کہ جو ان کے موجودہ نصاب میں نہ بو بلکہ اس کی تدریس کے بغیر ان سے وہ سوال پوچھ لیا جائے.\n\nدوسری جانب سروے کا مقصود کسی بھی معاملے سے متعلق آراء افکار معروضی حقائق یا پھر معاشرتی رویوں سے متعلق معلومات کا جمع کرنا ہوتا ہے . سوشل سائنسز میں سروے ایک انتہائی اہم اوزار ہے اور اس کے بغیر حتمی نتائج یا حقائق تک پہنچنا ممکن نہیں.\n\nیہاں تک تو اس بات کی وضاحت ہو جاتی ہے کہ امتحان اور سروے دو مختلف مشقیں {practices} ہیں کہ جن کا مقصود مختلف مقاصد کا حصول ہے. اب ہم آتے ہیں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے متنازع سوالات کی جانب، غور فرمائیں کہ کیا یہ امتحانی سوالات ہیں یا ایک سوشل سروے.\nسوال : اپنی بڑی بہن کی شخصیت بیان کیجیے درج ذیل امور کو مد نظر رکھتے ہوئے .\nالف: عمر\nب: جسمانی ہیئت\nج: قد\nد: ظاہری کشش\nاور سب سے آخر میں مزاج اور رویہ\n\nملک کے سب سے بڑے تعلیمی بورڈ کے ماتحت ہونے والے امتحانات میں کہ جو ثانوی درجات سے اعلیٰ درجات تک امتحان لیتا ہے، ایسے سوالات کی کیا گنجائش ہے؟\nدوسری جانب کیا یہ امتحانی سوالات ہیں یا پھر یہ سروے سے متعلق سوالات ہیں غور کیجیے.\n\nاب ہم آگے بڑھتے ہیں اور سروے کی اخلاقیات خاص کر سماجی مسائل سے متعلق گفتگو کرتے ہیں .\nفریب {deception} کسی بھی سروے کی ایک خاص اصطلاح ہے، محققین کے نزدیک اس حوالے سے شدید اختلاف پایا جاتا ہے کہ کسی بھی سروے کے دوران اس ہتھیار کو استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟\nاب ہم ایک مثال پیش کرتے ہیں .\nسٹینفورڈ پریزن ایکسپیریمنٹ ..\nاگست ١٤ –٢٠ , ١٩٧١\nڈاکٹر فلپ زمبارڈو کی نگرانی میں {Stanford University} کلیفورنیا میں ایک تجربہ منعقد کیا گیا، اس تجربے کو بی بی سی کی زیر نگرانی منعقد کروایا گیا، تجربے کا مقصود تھا کہ قید کس انداز میں قیدیوں کے انسانی رویوں پر اثر انداز ہوتی ہے، اس حوالے سے لوگوں کو پیسے کی آفر دے کر اس تجربے کے لیے تیار کیا گیا مگر کسی کو یہ معلوم نہ تھا کہ دراصل اس تجربے کے دوران انہیں اصل حالات سے گزارا جائے گا. یہ تجزیاتی فریب کی ایک بدترین مثال تھی، یہ تجربہ بری طرح ناکام ہوا اور اسے شدید ترین تنقید کا سامنا کرنا پڑا.\nلوگوں کو مخصوص حالات سے گزار کر اپنے مطلوبہ نتائج کا حصول .. اس حوالے سے ڈائرکٹر کائل پٹرک الواریز نے 2015ء میں ایک فلم بھی بنائی .. The Stanford Prison Experiment\n\nاب ہم آگے بڑھتے ہیں تحقیق اور تجزیے یا سروے میں کچھ پوشیدہ مقاصد بھی ہوتے ہیں کہ جنہیں اصطلاح میں {hidden agenda} کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے . سوالات کا اس انداز میں کھڑا کیا جانا کہ مسؤول اس مخصوص طرز پر سوچنا شروع کر دے تاکہ معاشرتی سطح پر کسی خاص رویے کو بیدار کیا جا سکے. اب غور فرمائیں ان سوالات پر کہ جو امتحان میں اٹھاۓ گئے لیکن ان کا امتحان سے کوئی تعلق نہ تھا یعنی امتحان کی آڑ میں کیا جانے والا ایک سروے .\nپندرہ نشانات کا سوال {15 marks question}\nسوال نمبر : پانچ \nپیپر فنکشنل انگلش {functional english }\nکلاس : دسویں جماعت .\nدسویں جماعت میں چودہ سے سترہ سال کی عمر تک کے بچے زیر تعلیم ہوا کرتے ہیں، یہ بلوغت کی ابتداء سے اس کے عروج تک کا دور ہے یعنی کہ ٹین ایج. بچہ آہستہ آہستہ جنسی معاملات کو سمجھ رہا ہے اور اس کی دلچسپی اس حوالے سے بڑھتی جا رہی ہے. اب اس عمر کے بچے سے کہا جاتا ہے کہ اپنی بڑی بہن کی جسمانی ہیئت، اس کے مزاج، اس کی شخصیت سے متعلق، غور فرمائیں ایک نا پختہ شعور کے سامنے یہ انداز یہ سوال رکھا جا رہا ہے.. بڑی بہن بیس سے تیس کے درمیان کی عمر میں ہو سکتی ہے یعنی صنفی اعتبار سے بلوغ کا دور اور جسمانی اعتبار سے مکمل جوبن کا دور.\n\nاب ہم آپ کو اس مسئلے کی جانب متوجہ کرتے ہیں کہ جو یور،پ امریکہ اور جدید ممالک کا ایک مشترکہ مسئلہ بنتا جا رہا ہے.\nیعنی محرمات کی جانب جنسی میلان ..\nمغرب اس شدید مسئلے کا شکار ہو چلا ہے کہ محرمات کے درمیان جنسی بےراہ روی، آزاد مزاجی اور جنسی معاملات کی تشہیر کی وجہ سے ہم جنس پرستی کے بعد محرمات کے درمیان جنسی تعلقات کی مثالیں بھی سامنے آ رہی ہیں. مزید اس بےہودہ تفصیل میں جائے بغیر غور کیجیے کہ کس انداز میں نوجوانوں کو کس جانب متوجہ کیا جا رہا ہے یا وہ متوجہ ہو سکتے ہیں، کون سے عناصر اس کے پیچھے ہیں اور اس کا مقصود آخر کیا ہے؟\n\nاب کچھ گفتگو سوال کی حرمت پر؟\nجتنا بے جا استعمال اس اصطلاح کا قریب میں ہوا ہے اس کی دوسری مثال ڈھونڈنا انتہائی مشکل ہے. معاملہ تو در حقیقت یہ ہے کہ اس کا مطلب ہی کیا ہے، اس سے لوگ ابھی تک ناواقف ہیں .\nسوال کی حدود کیا ہیں؟\nسوال پوچھنے کا حق کون رکھتا ہے؟\nسوال کس سے پوچھا جا سکتا ہے؟\nسوال پوچھنے کے مقاصد کیا ہیں؟\nسوال سے کیا نتیجہ برآمد کیا جاتا ہے؟ \nسوال اپنی اصل میں ہے کیا؟\n\nاب اگر دینی اعتبار سے غور فرمائیں تو قرآن و سنت ہمیں سوال کو دو بنیادی اقسام کی جانب رہنمائی دیتے ہیں. وہ سوالات کہ جن کا مقصود تعلیم و تعلم ہو ..\nحدیث جبریل علیہ السلام اس حوالے سے بہت واضح ہے. حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ ہم ایک روز حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ اچانک ہمارے روبرو ایک شخص ظاہر ہوا، جس کے کپڑے بےحد سفید اور بال نہایت سیاہ تھے، نہ تو اس پر سفر کے آثار تھے اور نہ ہم میں کوئی اس سے واقف تھا، وہ (شخص) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے روبرو بیٹھ گیا اور اپنے دونوں زانوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زانوئے مبارک سے لگا دیا اور اپنے ہاتھوں کو اپنے دونوں زانوؤں پر رکھ لیا اور عرض کیا: اے محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) مجھے بتلائیے کہ اسلام کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام یہ ہے کہ توگواہی دے کہ اللہ کے سواکوئی معبود نہیں، اور یہ کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں، اور نماز کو اچھی طرح پابندی سے ادا کرے، اور زکوۃ دے اور رمضان کے روزے رکھے اور خانہ کعبہ کاحج کرے بشرطیکہ وہاں تک پہنچنے پر قادر ہو، اس شخص نے (یہ سن کر) کہا کہ آپ نے سچ فرمایا۔ ہم سب کو اس پر حیرت ہوئی کہ آپ سے پوچھتا ہے اور ساتھ ہی تصدیق بھی کر دیتا ہے، اس شخص نے کہا کہ مجھے ایمان سے آگاہ کیجیے، آپ نے ارشاد فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تو اللہ پر ایمان لائے اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر، اور اس کے رسولوں پر، اور روز قیامت پر، اور یقین رکھے خیر و شر پر کہ وہ قضاء و قدر سے ہیں، اس شخص نے کہا کہ آپ نے سچ فرمایا۔ پھراس شخص نے پوچھا کہ مجھے بتائیے کہ احسان کیا ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ تو اللہ تعالی کی (دل لگاکر) اس طرح عبادت کرے گویا کہ تو اس کو دیکھ رہا ہے، اگر تو اس کو اس طرح نہ دیکھ سکے تو (خیر اتنا تو خیال رکھ) کہ وہ تجھ کو دیکھ رہا ہے، پھراس شخص نے پوچھا مجھے قیامت کے بارے میں خبردیجیے؟ آپ نے فرمایا کہ جس سے تم دریافت کر رہے ہو، وہ بھی پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا، پھر اس نے پوچھا کہ قیامت کی نشانیاں کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: جب لونڈی مالک کو جنے اور یہ کہ ننگے پیر چلنے والے، ننگے بدن، تنگدست اور بکریاں چرانے والوں کو تو دیکھے کہ وہ بلند عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے پر فخرکریں گے، راوی یعنی عمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ شخص چلاگیا اور میں دیر تک ٹھہرا رہا، پھر آپ نے مجھ سے فرمایا کہ اے عمر کیا تم جانتے ہو کہ سائل کون تھا؟ میں نے جواب دیا کہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ جاننے والے ہیں، آپ نے فرمایا: وہ تو جبرئیل تھے، تمہارے پاس اس غرض سے آئے تھے کہ تم کوتمہارا دین سکھا دیں۔\nیہ حدیث سند کے اعتبار سے انتہائی درست ہے اور بخاری و مسلم جیسی معتبر کتب حدیث میں موجود ہے.\n\nاب غور کیجیے کچھ دوسرے انداز کے سوالات پر .\nاور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ خدا تم کو حکم دیتا ہے کہ ایک گائے ذبح کرو، وہ بولے کیا تم ہم سے ہنسی کرتے ہو؟ (موسیٰ نے) کہا کہ میں خدا کی پناہ مانگتا ہوں کہ نادان بنوں۔ انہوں نے کہا اپنے پروردگار سے التجا کیجیے کہ وہ ہمیں یہ بتائے کہ وہ گائے کس طرح کی ہو، (موسیٰ نے) کہا کہ پروردگار فرماتا ہے کہ وہ گائے نہ تو بوڑھی ہو اور نہ بچا بلکہ ان کے درمیان (یعنی جوان) ہو سو جیسا تم کو حکم دیا گیا ہے ویسا کرو، انہوں نے کہا کہ اپنے پروردگار سے درخواست کیجیے کہ ہم کو یہ بھی بتائے کہ اس کا رنگ کیسا ہو، موسیٰ نے کہا کہ پروردگار فرماتا ہے کہ اس کا رنگ گہرا زرد ہو کہ دیکھنے والوں (کے دل) کو خوش کر دیتا ہو، انہوں نے کہا کہ (اب کے) پروردگار سے پھر درخواست کیجیے کہ ہم کو بتادے کہ وہ اور کس کس طرح کا ہو کیونکہ بہت سی گائیں ہمیں ایک دوسرے کے مشابہ معلوم ہوتی ہیں، پھر خدا نے چاہا تو ہمیں ٹھیک بات معلوم ہو جائے گی، موسیٰ نے کہا خدا فرماتا ہے کہ وہ گائے کام میں لگی ہوئی نہ ہو، نہ تو زمین جوتتی ہو اور نہ کھیتی کو پانی دیتی ہو، اس میں کسی طرح کا داغ نہ ہو، کہنے لگے اب تم نے سب باتیں درست بتا دیں، غرض (بڑی مشکل سے) انہوں نے اس گائے کو ذبح کیا اور وہ ایسا کرنے والے تھے نہیں۔ (البقرہ ۲: ۷۳-۶۷)\n\nحدیث شریف میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، سب سے بڑا مجرم وہ مسلمان ہے جس نے کسی ایسی چیز کے متلعق پوچھا جو حرام نہیں تھی اور اس کے سوال کی وجہ سے وہ حرام کر دی گئی۔\n\nاب سوال کی حرمت والوں کی خدمت میں حضرت عمر فاروق رض کا طرز عمل کہ جب حرمت کا سوال پیدا ہوتا تھا .\nملاحظہ کیجیے.\nقبیلہ بنی تمیم کا ایک شخص جس کو صبیغ بن عسل کہا جاتا تھا، مدینہ منورہ آیا، اس کے پاس کچھ کتابیں تھیں، اور قرآن مجید کے متشابہات کے بارے میں پوچھتا تھا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ تک یہ بات پہنچی تو آپ نے ایک آدمی بھیج کر اسے اپنے ہاں بلالیا اور اس کے لیے کھجوروں کی چند بڑی ٹہنیاں تیار رکھیں. جب وہ امیر المومنین کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا: تم کون ہو؟ اس نے جواب دیا، میں عبداللہ صبیغ ہوں، حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا: میں اللہ تعالٰی کا بندہ عمر ہوں، پھر اس کی طرف بڑھے اور ان ٹہنیوں سے اسے مارنے لگے، اسے مسلسل مارتے رہے یہاں تک کہ وہ زخمی ہوگیا اور اس کے چہرے پر خون بہنے لگا، اس نے کہا بس بھی کریں کافی ہوگیا ہے. امیر المومنین ! خدا کی قسم میں اپنے دماغ میں جو کچھ پاتا تھا، وہ نکل گیا ہے یعنی ختم ہوگیا ہے. نصر مقدسی اور ابن عساکر نے ابوعثمان نہدی کے حوالے سے صبیغ سے روایت کی، امیر المؤمنین نے اہل بصرہ کو لکھا کہ وہ صبیغ کے پاس نہ بیٹھاکریں، چنانچہ ابو عثمان نے بیان کیا (کہ اس حکم کے بعد لوگوں کی یہ حالت ہوگئی کہ) اگر وہ شخص آتا اور ہم ایک سو کی تعداد میں موجود ہوتے تو ہم ادھر ادھر بکھر جاتے.

ٹیگز