مقدس چِٹھی - ونود ولاسائی

یہ کلی دعویٰ ہرگز نہیں کرسکتے کہ ہم ایک آئیڈیل معاشرے کا حصہ ہیں۔ یہاں انسانوں کے روپ میں بھیڑیے مل جائیں گے، مگر اسی معاشرے میں ایسے بھی لاتعداد ہیں جن کے دم خم سے یہ سب آباد ہے۔ ”ونود ولاسائی“ نے دلیل کے لیے لکھی ہوئی اپنی اس کہانی کے ذریعے معاشرے کے ایک سیاہ کردار کو متعارف کرانے کی کوشش کی ہے۔ بعض جگہوں پر آپ کو الفاظ کے چناؤ سے اختلاف ہوسکتا ہے اور ممکن ہے اس کا اختتام بھی گراں گزرے، مگر والدین اور سوچنے سمجھنے والے اپنے لیے، اپنی آنے والی نسل کے لیے اس سے بہت کچھ اخذ بھی کرسکتے ہیں۔

آج صبح کا سورج نکلتے ہی قاسم کے گھر پر دستک ہوئی۔ قاسم جلدی سے اٹھا اور جاکر دروازہ کھولا۔ سامنے ایک آدھی بوڑھی عورت کھڑی تھی...
”آپ کومل کے والد ہو؟“
قاسم: ”ہ....ہا...ہاں ... ہاں... کیوں؟“
”آپ کو میرے ساتھ چلنا ہوگا، ابھی اسی وقت....“
قاسم: ”ہاں! مگر بات کیا ہے مجھے بتاؤ تو سہی....“
”بتانے کا وقت نہیں ہے...“
قاسم جلدی سے نکلا اور اس بوڑھی خاتون کے ساتھ آکر بازار حسن پہنچا...
کمرے کا دروازہ کھولا گیا۔ سامنے کومل کا سرد وجود زمین پر تھا۔ ایک چٹھی جو کہ کومل کے ہاتھ میں کس کے پکڑی ہوئی تھی۔ قاسم بھاری قدموں سے کمرے کے اندر گیا اور روتے ہوئے کومل کے ماتھے پر بوسا دیا اور ہاتھ سے چٹھی نکالے پڑھنے لگا....

”پیارے ابو جان....
سلام، آداب
امید ہے کہ سب خیریت ہوگی۔ مجھے یہ سُنتے ہوئے بہت اچھا لگا کہ آپ نے مجھے معاف کردیا ہے۔ میں آپ سے اور امی سے ملنے کے لیے بےقرار ہوں... لیکن.... لیکن، ابو میں نہیں آسکتی۔ میری زندگی بہت عجیب ہوگئی ہے۔ میں اب کسی کے قابل نہیں رہی.... اس رات میں بہت روئی تھی۔ چیخی تھی، چلائی تھی، اپنا سر گُھٹنوں میں دے کر اپنے بہتے آنسوؤں کو خود سے چھُپانے کی کوشش کرتی رہی۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ میں یہاں سے جاؤں۔ میں نے اس بند دیوار کی دنیا کو اتنی گہرائی سے دیکھا ہے جس کا مجھے کبھی انومان بھی نہیں تھا۔ مجھے یاد ہے وہ دن جب میں چھوٹی تھی۔ قریباً آٹھ سال کی۔ تب ہمارے گھر آپ کا دوست سلیم آیا کرتا تھا، جسے میں چچا بُلاتی تھی۔ وہ مجھ سے اتنا پیار کرتا تھا، اتنا پیار کرتا تھا جتنا شاید آپ اور امی نے بھی نہیں کیا ہوگا۔ بھائی تو میرا کوئی تھا نہیں۔ چچا سلیم جب بھی آتا تھا میرے لیے نیا کپڑوں کا جوڑا لے آتا تھا اور امی کو کہتا تھا بھابی جان! کوُمو کو یہی جوڑا پہناؤ۔ میں اس کو گھُمانے لے جاتا ہوں۔ امی بھی بنا دیر کیے مجھے تیار کرتی تھی اور پھر چچا سلیم مجھے اپنی گاڑی میں بٹھاکر، رام باغ لے جاتا تھا۔ مجھے اپنی گود میں لے کر چُمیاں دیتا تھا، اور ایک دن ہمیشہ کی طرح گھر لے جانے کے بجائے چچا سلیم مجھے صدر میں لے آیا تھا۔ چچا کہہ رہے تھے کہ بیٹا کومُو یہ ہمارا ہی گھر ہے.. لیکن مجھے گھر کوئی نظر نہیں آیا۔ میں نے پوچھا چچا اور کوئی نہیں ہے کیوں؟ وہ کیا ہے کہ بیٹا تیری چاچی اور چھوٹو حیدرآباد گئے ہیں، کل واپس آجائیں گے.. لیکن مجھے عجیب لگا تھا۔ گھر نہیں تھا جیسے کوئی کباڑ خانہ ہو۔ مجھے ڈر بھی لگ رہا تھا لیکن پھر دل کو تسلی دی کہ چچا سلیم ہے نا میرے ساتھ، تو کیا ڈرنا.

چچا سلیم نے اندر کمرے سے مجھے آواز دی: ”کمُو اندر آؤ۔“ میں چچا کی آواز سُنتے ہی جلدی اندر چلی گئی۔ دروازہ کھولتے ہی میری بدلی سی کیفیت ہوگئی تھی۔ چچا سلیم ٹوٹے ہوئے بیڈ پر لیٹا ہوا تھا۔ اپنے سر کے نیچے ہاتھ کا سہارا دیا ہوا تھا۔ دوسرے ہاتھ سے مجھے اشارہ کر رہے تھے: آؤ آؤ چچا کے پاس آؤ..... میں ڈر تو گئی تھی، لیکن پھر بھی چلی گئی۔ چچا نے مجھے اپنے گھُٹنوں پر بٹھایا اور میرے ٹانگوں پر ہاتھ گھُمانے لگا۔ میرے جسم میں کرنٹ لگنے لگا تھا۔ میں بُت بن گئی تھی۔ چچا سلیم اپنے ہونٹوں سے میرے ہونٹوں کو چومنے لگا تھا۔ ہاتھ اب میری چھاتی تک آگئے تھے۔ اب میں بالکل ہل نہیں پا رہی تھی۔ چچا نے میرے کپڑے ایک ایک کرکے اُتارے مجھے بالکل بُرا نہیں لگا تھا، کیونکہ وہ کپڑے بھی چچا سلیم ہی لے کر آیا تھا۔

اس دن میں بہت چیخی تھی، چلائی تھی۔ چچا سلیم کی ٹافیاں میری آنکھوں کے سامنے گھومنے لگی تھی۔ چچا کی گود میں بیٹھنے کا سکون تو روز ملتا تھا، لیکن اس دن کچھ الگ تھا۔ اس دن مجھے رشتے بندوق کی گولی لگ رہے تھے۔ زندگی کی جستجو میں ہر فرد خون بہاتا ہے، لیکن میں نے جو اس دن بہایا، وہ آج تک میری آنکھوں کے سامنے چھوٹی آٹھ سال کی بچی بن کر آتا ہے.. اس دن مجھے ہوش نہیں تھا، میں جب اُٹھی تو میرے پاس امی اور آپ بیٹھے تھے۔ ان کو اور ایک ڈاکٹر بھی کونے میں کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ میری آنکھ کھُلتے ہی سب کے چہرے بہک گئے تھے۔ امی کے تو خوشی سے آنسو ڈھلک گئے تھے۔ اس نے اپنے ممتا بھرے ہاتھوں سے میرے گالوں پر پیار کیا اور ماتھے پر بوسا دیتے ہوئے کہنے لگی تھی میری بچی! میری جان! تجھے کچھ نہیں ہوگا۔ اللہ پاک اس ظالم انسان کو برے سے بری سزا دے جس نے میری بچی کا یہ حال کیا ہے۔ میں امی کو بتانے والی تھی کہ اچانک چچا سلیم آگئے۔ اس نے اندر آتے ہوئے کہا کہ میری کومو کو ہوش آگیا، مالک تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے... اور کہنے لگی بیٹا تم کل کہیں کھوگئی تھی، وہاں سے کسی نے اٹھا لیا تھا، ہم نے تمہیں کتنا ڈھونڈا بیٹا لیکن تو نہیں ملی۔ پھر رات کو دیر سے تمہارے چچا سلیم کو تم فٹ پاتھ پر بےہوشی کی حالت میں ملی تھی۔ پتا ہے بیٹا ہماری سانسیں تم میں ہیں....“ ماں نے پھر سے ماتھے پر بوسا دیا....

میں سوچنے لگی کہ چچا سلیم نے کیا کیا نا جھوٹ بولا ہے ان لوگوں کو، میں امی کو حقیقت بتانا چاہ رہی تھی لیکن ابو اور امی کی عزت کا سوچ کر درگذر کیا..... لیکن معاملہ تھم نہیں پایا، موقع ملتے ہی چچا سلیم اپنے ہوس کی بھوک مٹانے چلا آتا تھا۔ کچھ سالوں کے بعد میں عادی ہو گئی۔ سولہ سال کی عمر تک میں تین بار ایبارشن کرا چُکی تھی۔ اب میں اپنی زندگی سے بھی تنگ آگئی تھی۔ اس لیے ایک دن رات کو بغیر سوچے سمجھے، بغیر کسی کو بتائے میں گھر سے نکل پڑی تھی۔ رات کی تاریکی میں اکیلی لڑکی کو پاکر کچھ معاشرے کے لفنگوں نے بہت لُطف لیا اور پھینک دیا ایک سنسان گلی میں.... جب آنکھ کھُلی تو لاتعداد ان پریوں کو دیکھا جو اپنے جسم سے سفید پوش معاشرے کے فردوں کو بھلاتی ہیں.. مجھے بالکل بھی عجیب نہیں لگا، کیوں کہ یہاں پر جو کام کیا جاتا ہے، وہ تو میں نے پہلے سے کیا ہوا تھا.. یہاں پر رہتے ہوئے مجھے دیکھنے کو معاشرے کا اصل چہرہ ملا۔ ننگے جسموں کو ناچتے ہوئے دیکھا اور کیا کیا دیکھا جو شاید میرے ذہن سے کہیں زیادہ وسیع ہے... یہاں پر رہتے میں نے اپنے آپ کو آزاد پایا، اپنی روح کو، اپنے سانس کو، اپنے جسم کو، اپنی سوچ کو، اپنی طاقت کو، اپنے خیالات کو اور اپنی پسند کو..

کل میں چلی جاؤں گی۔ واپس اس معاشرے میں جہاں رشتے ہوس مانگتے ہیں. سنا ہے آپ میری اصلیت معلوم ہونے کے باوجود مجھے اپنانا چاہتے ہو۔ سب میری رفیقوں نے مجھ پر دباؤ ڈالا ہے، تم چلی جاؤ واپس، وہ تمہیں بہت پیار دیں گے... تو بالآخر میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ مجھے جانا چاہیے.... کیا ہوگا وہاں؟ میں جاؤں گی اس معاشرے میں جہاں غیرت میں بیٹیاں، بیویاں، اور بہنیں بےموت ماری جاتی ہیں۔ جہاں سب ہم جیسے ہیں، لیکن خود کو پردوں میں قید رکھتے ہیں۔ جہاں جائیداد کے بدلے بیٹیاں پیچی جاتی ہیں۔ جہاں گھُٹ گھُٹ کے جیتے ہیں۔ جہاں عورت ذات کو سات کپڑوں میں ملبوس ہونے کے باوجود جھانکا جاتا ہے۔ جہاں بیٹی اپنی تکلیف باپ کو کہنے سے ڈرتی ہے۔ جہاں گرل فرینڈ سب کی ضرورت بن گئی ہے لیکن خود کی بہن کو گھر سے باہر نہیں نکالتے۔ جہاں بہو پڑھی لکھی چاہیے، لیکن خود کی بیٹی کو نہیں پڑھاتے. جہاں پر لڑکی کی تھوڑی سی بھی غلطی پر باپ کو سارا سماج رُسوا کرتا ہے.... کیا میں جاؤں گی واپس تو باپ کے علاوہ سارا سماج مجھے قبول کرے گا.... نہیں.... مجھے.... مجھے معاف کردینا ابو! میں آپ کے ”نارمل“ معاشرے کا حصہ اب نہیں بن سکتی۔
امید ہے کہ مجھے آپ معاف کردوگے....
آداب
فقط آپ کی کومل.

Comments

ونود ولاسائی

ونود ولاسائی

ونود ولاسائی نوکوٹ تھرپارکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ سندھ یونیورسٹی جامشورو میں ایم فل سماجیات کے طالِب علم ، اور سماجی و ہیومن رائٹ کارکن ہیں۔ اسٹوری رائٹر کے طور پر شناخت بنانا چاہتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.