قائداعظمؒ کے نظریات کو مسخ کرنے کی چند مثالیں-ڈاکٹر صفدر محمود

dr-safdar-mehmood\n\nمیں آج کسی چٹ پٹے موضوع کی بجائے ایک سنجیدہ موضوع پرلکھنا چاہتاہوں جس کا ذکرمیں نے گزشتہ سے پیوستہ کالموں میں کیا تھا۔موضوع تفصیلی بحث کا متقاضی ہے لیکن کالم کا دامن محدود ہے، اس لئے شایدآج کے کالم میں سارے پہلوئوں پر اظہار نہ کرسکوں۔ اس کالم میں نمونے کے طور پر چند ایک تحریروں کے حوالے دوں گا جن سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ ہمارے روشن خیال سیکولر لکھاری کس طرح قائداعظمؒ کےتصور ِپاکستان کو مسخ کر رہے ہیں اور کس طرح اپنی خواہشات کےالفاظ قائداعظمؒ کی تقریروں میں ڈال کر یا غلط ترجمہ کرکے یا بے بنیاد باتیں لکھ کر قائداعظمؒ سے منسوب کر رہے ہیں۔ وضاحت کرتا چلوں کہ میں صرف تین چار اخبارات دیکھتا ہوں اس لئے بہت سی اخباری اور کتابی تحریریں میرے نوٹس میں نہیں آتیں۔ میں صرف وہ چندایک نمونےپیش کررہا ہوں جو میری محدود نظرسے گزرے۔ گویا یہ دیگ کے چند دانے ہیں۔ میں عام طور پر لایعنی نکتہ طرازیوں اوربحث برائے بحث کی موشگافیوںکا جواب دینےسے گریز کرتا ہو ں کیونکہ میرا تجربہ شاہد ہے کہ جنہوں نے کھلے دل سے نہیں سمجھنا، ان سے بحث لاحاصل ہوتی ہے۔\n\nتحقیق کا اصول یہ ہے کہ ثانوی درجے کے حوالے کی اہمیت تب ہوتی ہے جب اصلی اور بنیادی حوالہ موجود نہ ہو۔ جب قائداعظمؒ نے خود بحیثیت گورنر جنرل پاکستان فروری 1948میں امریکی عوام کے نام براڈ کاسٹ میں پاکستان کو پریمیئر اسلامی ریاست قرار دے دیا تو پھر سری لنکا یا ہندوستانی سفیروں کی یادداشتوں کی کیا اہمیت؟ قائداعظمؒ نے پاکستان کو اسلام کا قلعہ قرار دیا، اسلام کی تجربہ گاہ کہا اور بار بارکہا کہ پاکستان کے آئین کی بنیاداسلامی اصولوں پر رکھی جائے تو پھر قائداعظمؒ کے تصور پر سیکولرازم کا غلاف چڑھانے کی کوششیں یا تو خبث باطن ہوسکتی ہیں یا کسی ایجنڈے کی تکمیل.... . انہوں نے کئی بار وضاحت کی کہ پاکستان مذہبی ریاست نہیں ہوگی، اقلیتوں اور دوسرے شہریوں کو برابر کے حقوق حاصل ہوں گے، تو پھرگیارہ اگست کی تقریر کی غلط توضیح کیوں؟.....\n\nمیں گیارہ اگست کی تقریر پر ان شاء اللہ تفصیل سے لکھوں گا کیونکہ سیکولر حضرات ساری تقریر سے ایک فقرہ منتخب کرتے ہیں اور اس کے الفاظ پر کھلے دل سے غور نہیں کرتے۔ پورا فقرہ یہ ہے ’’آپ جس بھی مذہب، ذات یاعقیدے سے تعلق رکھتے ہیں اس کا کاروبارِ سیاست سے تعلق نہیں‘‘ سوال یہ ہے کہ کاروبار ِ سیاست کیا ہوتاہے؟ امن عامہ، تحفظ، دفاع، صحت، تعلیم، انصاف، قانون کی عملداری، فلاح و بہبود وغیرہ وغیرہ.... سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ اس حوالے سےشہریوں سے ’’امتیاز‘‘ نہیں برتا جائے گا اور انہیں برابری حاصل ہوگی۔ اگر یہ سیکولرازم ہے تو یہ اسلامی ریاست کا طرۂ امتیاز ہے۔ کچھ لکھاری اس کنفیوژن کاشکار بھی ہیں کہ مذہب اور سیاست کاآپس میں کوئی تعلق نہیں۔علامہ اقبالؒ نے خطبہ الٰہ آباد میں تفصیل سے وضاحت کی ہے کہ یہ دراصل عیسائیت کا اصول ہے۔ اسلام میں مذہب اور سیاست ایک ہی ’’کل‘‘ کے دو جزو ہیں اور اسلامی ریاست میں سیاست مذہبی اصولوں کے تابع ہوتی ہے۔قائداعظمؒ کی تقاریر کو پڑھیں تو ان میں ارتقائی عمل کارفرما نظرآتا ہےاور ذہنی ارتقا پرزندہ و بیدار ذہن شخصیت کاخاصا ہوتاہے۔ سیکولر لکھاری قائداعظمؒ کے اولین زمانےکی تقریروں کے حوالے دے کر ثابت کرتے ہیں کہ وہ مذہب اور سیاست کو الگ الگ رکھتے تھے لیکن وہ ان کی قیام پاکستان سے چند برس قبل اور قیام پاکستان کے بعد کی تقاریر کو درخور اعتنا نہیں سمجھتے۔ جب انہوں نےکہا کہ پاکستان کے آئین کی بنیاد اسلامی اصولوں پر استوار کی جائے گی اور عیدمیلاد النبیﷺ کے موقع پرشریعت کے نفاذکی بات کی تو کیایہ سیاسی عمل نہیں تھا؟ کیا شریعت اسلامی کا اطلاق اور اسلامی اصولوں پرآئین سازی بیک وقت مذہبی اور سیاسی معاملہ نہیں تھا؟تو پھروہ مذہب کو سیاست سے الگ کیسے سمجھتے تھے؟\n\nاب چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں جن سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ سیکولر حضرات قائداعظمؒ پر سیکولرازم تھوپنے کے لئے کیا حربے استعمال کرتے ہیں اور کس طرح حقائق کو مسخ کرتے ہیں۔ میرے ایک عزیز دوست نے قائداعظمؒ کو سیکولر ثابت کرنےکے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہوئے ایک معاصر اخبار میں لکھا ’’قائداعظمؒ نے سرکاری دفاتر کے لئے جس پورٹریٹ کا انتخاب کیا وہ تھری پیس سوٹ اور ہاتھ میں سگار والی تصویر تھی۔‘‘کئی حوالوں سے مجھے یہ بات انہونی لگی چنانچہ میں نے قائداعظمؒ پیپرز اور نیشنل ڈاکومینٹیشن سینٹر سے تحقیق کی تو پتہ چلا کہ قائداعظمؒ نے سرکاری دفاتر کے لئے کوئی پورٹریٹ منظو رنہیںکیا تھا۔ ان کے انتقال کے بعد کابینہ نے اس مقصد کے لئے جو تصویر منظور کی وہ سوٹ ٹائی والی تھی۔ آپ قائداعظمؒ کی تصویروں کا البم دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ قائداعظمؒ نےاپنی زندگی کے آخری چندسالوں میں زیادہ تر شیروانی زیب تن کی اورکبھی کبھی تھری پیس سوٹ بھی پہنا۔\n\nمیرے دوست نےایک ایسا فقرہ لکھا جسے پڑھ کر میں ٹھٹک کر رہ گیااورتحقیق پر مجبور ہو گیا۔ گاندھی قائداعظمؒ خط و کتابت کا حوالہ دے کر انہوں نے لکھا ’’گاندھی نے سوال اٹھایا اگر ہندوستان کے سارے لوگ اسلام قبول کرلیں تو کیا وہ ایک قوم بن جائیں گے؟‘‘ قائداعظمؒ کا جواب تھا کہ ’’مسلمان مذہب سے زیادہ تہذیب و ثقافت، رسم اور رواج کی بنیاد پر ایک قوم ہیں‘‘ اس فقرے میں جن الفاظ نےمجھے شک میں مبتلا کیا وہ تھے کہ ’’مسلمان مذہب سے زیادہ‘‘..... سچ یہ ہے کہ مسلمان بنتا ہی مذہب سے ہے اور تہذیب و ثقافت کے سوتے مذہب سے پھوٹتے ہیں اس لئے میں سوچنے لگا کہ کیا قائداعظمؒ ایسی بات لکھ سکتے ہیں! گاندھی جناح خط و کتابت کا اصل مسودہ ڈھونڈنے میں مجھے کئی ہفتے لگ گئے۔ یہ جناح پیپرز میں محفوظ ہے۔ میرے پاس فوٹو کاپی ہے۔ ملاحظہ فرمایئے کہ اس سوال کے جواب میں قائداعظمؒ کے اصل لفظ کیا تھے ۔ "We are a nation of hundred million, and what is more. We are a nation with our own distinctive culture and civilization....."(ترجمہ) ’’ہم دس کروڑ پر مشتمل ایک قوم ہیں اورمزید برآں ہماری اپنی ثقافت اور تہذیب ہے‘‘ ذرا غور کیجئے قائداعظمؒ نے بالکل نہیں کہا کہ مسلمان مذہب سے زیادہ تہذیب و ثقافت کی بنیاد پر ایک قوم ہیں۔ مذہب سے زیادہ کے الفاظ قائداعظمؒ کے منہ میں ڈال کر مفہوم بدل دیا گیا۔\n\nدرجن بھر ایسی مثالوں سے ایک مثال اور ملاحظہ فرمائیں۔ میرے دوست نے ایک معاصر اخبار میں لکھا کہ چوہدری محمد علی نےاپنی کتاب میں لکھا ہے ’’قائداعظمؒ مذہب کو سیاست میں شامل کرنے کے خلاف تھے‘‘میں نے چوہدری صاحب کی کتاب پڑھی تو تضاد دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ چوہدری صاحب کے اصل الفاظ یہ ہیں جو مصنف نےاپنی کتاب میں بھی کوٹ کئے ہیں لیکن اپنے کالم میںان کا مفہوم سے ہٹ کر ترجمہ لکھا ہے۔"He never posed as a man of religion and was totally averse to any form of self-exhibitionism or exploitation of religious sentiments." اس فقرے کا چوہدری محمد علی کی کتاب کے اردو ترجمے میں منظور شدہ ترجمہ یہ ہے ’’انہوں نےکبھی مذہبی آدمی ہونے کا ڈھونگ نہ رچایا۔ وہ شخصی نمائش یا مذہبی دکھاوے سے کام نکالنے کے ہر ڈھب سے متنفر تھے‘‘ بلاشبہ قائداعظمؒ ایسے ہی تھے لیکن حیرت ہے کہ کالم نگار نے اس کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ قائداعظمؒ مذہب کو سیاست میں شامل کرنے کے خلاف تھے۔ دیگ سے چند دانے پیش کئے تاکہ آپ کو اندازہ ہو کہ سیکولر حضرات کس طرح قائداعظمؒ کے الفاظ کو اپنے سانچے میں ڈھالتے ہیں باقی مثالیں ان شاء اللہ پھر کبھی۔