عصر حاضر میں لفظ ”معجزہ“ کے استعمال کی بحث - ڈاکٹر محمد شہباز منج

Exif_JPEG_420 بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ”معجزہ“ تو اسلام میں پیغمبروں سے نسبت رکھتا ہے۔ یہ جو لوگ آج کل کسی عجیب و غریب یا ناقابلِ یقین واقعے کو معجزہ کہہ دیتے ہیں، غلط ہے۔ کیوں کہ آج کل کے ایسے واقعات کا معجزے کے تصور سے کچھ لینا دینا نہیں۔\n\nان حضرات کو شاید غور کا موقع نہیں ملا، کہ الفاظ بہت دفعہ اپنے استعمال کے تناظر میں مختلف مفہوم پہنتے رہتے ہیں۔ ایک لفظ ایک پس منظر، ایک ماحول یا ایک شعبۂ علم میں ایک معنی دیتا ہے اور دوسرے میں اس سے مختلف۔ تناظر، کلچر، ماحول وغیرہ کے بدلنے سے مفہوم کے مختلف ہونے کی ہزاروں مثالیں ہیں۔ فی الواقع آج کے احوال میں جب کسی حیرت انگیز یا غیر متوقع واقعے کے لیے کہا جاتا ہے کہ معجزہ ہوگیا، تو وہ کسی اصطلاحی مفہوم میں نہیں ہوتا، بلکہ اس سے مراد کبھی تو اللہ کی قدرت کے عجائب اور ان کے وقوع کے تسلسل کا اظہار ہوتا ہے اور کبھی کسی انہونی اور غیر متوقع واقعے پر تعجب کا اظہار۔ مثلاً: ”فلاں کا الیکشن جیت جانا معجزہ ہی ہے۔“ کے الفاظ میں معجزے سے کوئی اَن پڑھ بھی وہ معجزہ مراد نہیں لے رہا ہوتا، جس کا تعلق انبیاء سے ہے۔\n\nاس کو ایک اور مثال سے سمجھیے: ہم بعض اوقات کسی سخت غیر متوقع واقعے وغیرہ کے حوالے سے کہتے ہیں: یار یہ تو قیامت کی نشانی ہے! اب ظاہر ہے کہ یہاں قیامت کی نشانی سے کوئی اصطلاحی علامتِ قیامت مراد نہیں ہوتی، بلکہ ایک عجیب بات پرحیرت کا اظہار کیا جارہا ہوتا ہے۔ مختلف پس منظر میں مفہوم مختلف ہوتا ہے، لیکن حیرت و استعجاب اور غیر معمولی پن کا مفہوم ہر جگہ موجود ہوتا ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ الفاظ کے مختلف مواقع کے لیے استعمال سے مفہوم بدلنے کے باوجود لغوی مفہوم کسی نہ کسی شکل میں ان کے اندر عموماً ملفوف ہوتا ہے۔\n\nبعض احباب کا خیال ہے کہ کثرتِ استعمال سے اس لفظ کا اصل مفہوم گم ہوجانے کا اندیشہ ہے، اس لیے اس سے گریز کرنا چاہیے۔ لیکن یہ بھی ایک سطحی خیال ہے۔ استعمال کا تناظر اس کا مفہوم واضح کر دیتا ہے۔مزید برآں ایسے مواقع پر بھی معجزے کا اصل مفہوم اس میں داخل ہوتا ہے، یعنی عام متبادر اسباب کے برعکس ہوجانے والا واقعہ۔ اس سے بجائے اصلی مفہوم کے متاثر ہونے کے اس کی تایید ہوتی ہے۔ پھر اس کے استعمال کے جوازپر اس استدلا ل کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اٹھتے بیٹھتے یہ لفظ استعمال کیے جانے کی ترغیب دی جا رہی ہے، نہ ایسا کوئی عام طور پر کرتاہی ہے۔ یہ کسی حیرت انگیز یا مافوق الاسباب واقعے کے لیے ہی عام طور پر استعما ل ہوتا ہے۔ ہاں اگر کوئی اس تناظر کے بغیر استعمال کرتا ہو، تو غلط ہو گا ، لیکن میرے علم میں نہیں کہ کم ازکم ہماری سوسائٹی میں کچھ لوگ اس سے ہٹ کر استعمال کرتے ہیں، اس لیے کہ ہمارے یہاں یہ لفظ مستعمل ہی اس تناظر میں ہوا ہے، جو مافوق الاسباب اور معمول سے ہٹ کر وقوع پذیرواقعے کی تعبیر کا مذہبی پس منظر ہے۔\n\nیہاں یہ وضاحت بھی دلچسپ رہے گی کہ لفظ معجزہ ہم اسلامی تناظر میں جس طرح بہ طورِ اصطلاح استعمال کرتے ہیں، اس کا وجود کتاب وسنت یا اولین اسلامی لٹریچر میں نہیں ملتا۔ یہ بعد کے زمانے میں پیغمبروں وغیرہ سے متعلق قرآن کی آیات، بینات اور برہان وغیرہ کے مفہوم کو ظاہر کرنے کے لیے وضع کی جانے والی اصطلاح ہے۔\n\nبعض مغربی سکالرز نے معجزے کی تردید کرتے ہوئے اسلام میں اس کی موجودگی کی نفی کرنے کے لیے لکھا کہ یہ اصطلاح کتاب وسنت اور ابتدائی اسلامی لٹریچر میں نہیں پائی جاتی۔ یہ بعد کے زمانوں میں اسلامی لٹریچر میں درآئی۔ معجزات سے انکاری بعض تجدد پسند مسلم اہل تفسیر نے بھی یہ نقطۂ نظر اختیار کیا ہے۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ معجزے کا لفظ قرآن میں کہیں نہیں آیا۔ بعض جگہوں پر آیات وغیرہ کے الفاظ کوغلط طور پر معجزے سے تعبیر کیا گیا ہے، اس سے فی الواقع آیاتِ قرآنی مراد ہیں۔ اس استدلال سے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اسلام میں معجزات بعد کا تداخل ہے، اصلاً قرآن میں معجزات کو کوئی ذکر نہیں،قرآن جدید علم کے اس استدلال کے موافق ہے کہ معجز ےوعجزےبس توہمات اور افسانے ہیں۔\n\nہمارے نزدیک بعض مستشرقین اور تجدد پسند مسلم اہلِ تفسیرکا مذکورہ استدلال کا یہ جزو تو ٹھیک ہے کہ اولین اسلامی لٹریچر میں لفظ معجزہ بہ طور اصطلاح استعمال نہیں ہوا (لغوی معانی یا مشتقات کی شکل میں اس میں یہ لفظ موجود ہے، لیکن فی الوقت اس کا اس بحث سے تعلق نہیں)، مگر اس کی بنیاد پر یہ کہنا کہ قرآن یا اسلامی لٹریچر کے لیے معجزہ بہ طورِ نظریہ اور تصور ہی اجنبی ہے، بالکل غلط دعویٰ ہے، اس لیے کہ معجزے کا مفہوم قرآن کے الفاظ آیات اور برہان وغیرہ پر مبنی ہے، اور یہ جس نوع کا مفہوم دیتا ہے وہ ان الفاظ کی نہایت اہم اور درست تعبیر ہے۔بہت سے مقامات پر آیات سے آیاتِ قرآنی کسی طرح مراد نہیں لی جاسکتیں۔ عجائبات ِ قدرتِ الہیہ مراد لینے کے سوا چارہ نہیں رہتا۔ اس پر تفصیلی بحث ایک الگ مضمون میں کی جائے گی۔ان شاء اللہ ۔