عورت کس برابری کی تلاش میں ہے؟ حسن تیمور جکھڑ

بعض عورتیں کمال کی کھلاڑی ہوتی ہیں۔ حقوق نسواں کی پچ پر ان کی مہارت تو ویسے ہی قابل دید ہے۔ کوئی دن نہیں جاتا کہ ان ماہ جبینوں کے شیریں لبوں سے آزادی اور برابری کا نعرہ مستانہ بلند نہ ہو۔ ان کی شیریں گفتاری کا وصف جانے کون سی آزادی اور برابری لینے کے چکر میں بدل کر آتش فشانی بن جاتا ہے۔ اس معاملے پرگولہ باری کرتی ہیں تو خود کو ”کلسٹربم“ اور مردوں کو”تورابورا“ سمجھ لیتی ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس معاملے کواٹھانے میں پیش پیش وہ خواتین ہوتی ہیں جن کے اپنے خاوند ”حقوق مرداں“ تحریک چلانے کو پھرتے ہیں۔ ساری عمر مخلوط نظام تعلیم میں گزار کر مختلف کمپنیوں میں ملازمتیں بھی حاصل کرلیتی ہیں مگر پھر بھی برابری نہ ملنے کا گلہ نہیں جاتا۔

اس موضوع پر بات کرنے سے پہلے یہ طے کرناضروری ہے کہ یہ برابری کیا ہے؟ عورتیں آخر کس چیز کی آزادی مانگتی ہیں؟ ان پر معاشی حوالے سے کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی جو کہ فی زمانہ ایک بہت مشکل کام ہے، اسی طرح عورتوں کو پڑھائی لکھائی میں بھی برابری حاصل ہے کہ ان کو بھی وہی سہولیات اور نصاب پڑھایاجاتا ہے جو اشرف المخلوقات ”مرد“ پڑھتے ہیں۔ (بلکہ لڑکیاں اس معاملے میں زیادہ تیز بھی ہیں) گھرمیں بہن کی صورت میں یہ لاڈلی، بیوی کی صورت میں اس کو فوقیت، ماں کی صورت میں اسی کی حکمرانی ہوتی ہے۔ کام کے لیے گھر سے باہر نکلے تو اسے رعائتیں حاصل ہیں۔۔ ائن میں لگنے کا جھنجھٹ اور لوکل بس میں کھڑے ہو کر سفر کرنے سے بھی یہ مستثنیٰ ہیں۔ غرض کہ ہرشعبہ زندگی میں ان کو مراعات حاصل ہیں بلکہ مردوں کے مقابلے ان کو اول درجے کے شہری کا سٹیٹس حاصل ہے مگر پھربھی یہ گلہ چہ معنی دارد؟

یہاں ایک بہت مزے کی بات بھی کرنا چاہوں گا کہ برابری اور کچھ کر دکھانے کا شور و غوغا مچانے والی خواتین یہ الاپ تب تک ہی الاپتی ہیں جب تک بات حقوق تک رہے، جیسے ہی بات ذمہ داری کی آئی، یہ فوراً سے نازک حسینہ بن جاتی ہیں۔ (میٹھا میٹھا ہپ ہپ کڑوا کڑوا تھو تھو) مثال کے طور پر آپ کچھ خواتین ساتھیوں کے ہمراہ کہیں جا رہے ہوں اور ساتھ میں ساز و سامان بھی ہو تو یہ برابری کی علمبردار خواتین فوراً سے ہی نازک اندامی پر اتر آئیں گی اور سامان برداری کا قصور اسی مرد کو بھگتنا پڑے گا۔

یہاں میں دلچسپی کے لیے ایک ہڈبیتی بھی بیان کرنا چاہوں گا۔ یہ داستان بیان کرتے ہوئے مجھے اب بھی ان لمحات پر حیرت ہو رہی ہے۔ برابری کی علمبردار خواتین جن کی ساری زندگی مخلوط نظام تعلیم کے تحت گزری اور پھر کچھ کر دکھانے کا عزم گھروں سے نکال کر ”میدان کارزار“ میں بھی لے آیا۔ انھی باہمت خواتین کی ایک حرکت نے مجھے شدید حیرت میں مبتلا کر دیا (وہی حرکت مردوں نے کی ہوتی تو یقیناً واجب القتل قرار پاتے)۔ ہمارے دفتر میں ملازمین کے لیے کھانے کا اہتمام کیا جاتا ہے جس کے لیے ایک حصہ مختص ہے، جسے آپ کینٹین کہہ سکتے ہیں۔ وہاں ”برابری“ کی اعلی مثال کے طور پر ”محمود و ایاز“ کو ایک ہی میز پر بٹھایا جاتا ہے۔ وہاں ایک دن خادم کو بھی اپنی ایک ”برابر“ خاتون کے ساتھ (یعنی ایک ہی میز پر) کھانا کھانے کا موقع ملا۔ مردوں کے معاشرے میں اپنا آپ منوانے اور برابر کے حقوق پانے کے لیے کوشاں اس باہمت خاتون کی پہلی بات نے ہی ایسی پریشانی میں ڈالا کہ سارا موڈ ہی غارت ہو گیا۔ موصوفہ نے اپنے ساتھ بیٹھی ساتھی مہم جو خاتون کو مخاطب کر کے ان مردوں کو صلواتیں سنانا شروع کر دیں جن کو عورت کی عزت و احترام کامعلوم نہیں۔ وہ ساتھی خاتون کو بڑے چاؤ سے بتا رہی تھیں کہ کس طرح مردوں کوچاہیے کہ جہاں خواتین کھانا کھا رہی ہوں وہاں نہیں بیٹھنا چاہیے، اور کس طرح ان کے احترام میں کھانا تو چھوڑ، وہ جگہ ہی خالی کر دینی چاہیے جہاں ان کا وجود ہو۔ (اور میں ساتھ والی دوسری میز پر بیٹھے لڑکے اور لڑکی کو دیکھ دیکھ حیرت میں مبتلا ہو رہا تھا کہ شاید وہ اس اصول سے ناواقف تھے اور ہنس ہنس کر باتیں بھی کر رہے تھے)۔ خاتون یہیں تک بس نہ ہوئیں اور بات مردوں کی عادات سے لیتی ہوئی ان کے کھانے کی ”اوقات“ تک لے آئیں۔ میں شرم کا مارا اپنی جگہ بیٹھا سوچ رہا تھا کہ کاش میں اس قابل ہوتا کہ اپنی ان دو بہنوں کو (باوجود ان کے شوق کے) گھر کی چاردیواری میں بٹھا آتا، بےشک ان کے کام کے لیے فائلیں ان کےگھر پہنچانے کا انتظام ہی کیوں نہ کرنا پڑتا۔

اصل موضوع کی جانب آئیں تو یہ بات کہنے میں کوئی عارنہیں کہ عورت اس کائنات کی سب سے حسین شے ہے۔ اسی کے دم سے کائنات میں رنگ ہے اور بچوں کی پیدائش سے لے کر تریبت تک کا عمل اسے ممتاز حیثیت دلانے کے لیے کافی ہے۔ اللہ تعالی نے مذہب اسلام میں جتنے حقوق اور عزت عورت کو دی ہے، وہ کسی اور مذہب یا قوم میں نہیں ہے۔ میں تو ایسا ہی سمجھتا ہوں۔ عورت ماں ہے تو جنت، بیوی ہے توراحت، بہن ہے تو پیار، بیٹی ہے تو ٹھنڈک، پتہ نہیں کیا آزادی اور برابری مانگتی پھرتی ہیں یہ۔ کچھ علاقوں کی رسم و رواج اور کچھ مردوں کی جہالت کو یہ پوری دنیا پر لاگو کرکے خود کو مظلوم سمجھ بیٹھی ہیں شاید۔ گھریلو تشدد کے خلاف مظاہرے کرنے والی خواتین خود سوچیں اگر ایسا واقعی میں ہوتا تو کیا وہ سرخی پوڈر لگا کر یوں احتجاج کرنے کے قابل ہوتیں؟

Comments

حسن تیمور جکھڑ

حسن تیمور جکھڑ

حسن تیمور جکھڑ شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ سماجی موضوعات پہ لکھنا پسند ہے۔ میڈیا عروج کے اس دورمیں بھی سنسر پالیسی سے خائف ہیں، اس لیے سوشل میڈیا اور دلیل کو اظہار کا ذریعہ بنایا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */