تین نسلوں کے ادیب اشتیاق احمد مرحوم - عابد محمود عزام

لوگ پیدا ہوتے ہیں، جیتے ہیں اور پھر مرجاتے ہیں۔ جن لوگوں نے کوئی کارنامہ سرانجام نہ دیا ہو، وہ بھلا دیے جاتے ہیں، لیکن وہ لوگ جو دوسروں کے لیے جیتے ہوں،وہ ہمیشہ لوگوں کے خیالات اور عمل میں زندہ رہتے ہیں۔ اشتیاق احمد صاحب رحمة اللہ علیہ بھی انہیں لوگوں میں سے تھے، جو ہمیشہ دوسروں کے لیے جیے۔ انہوں نے آٹھ سو سے زاید ناول، ہزاروں کہانیاں اور سو سے زاید کتابیں تحریر کیں، جس پر انہیں کئی قومی اور بین الاقوامی ایوارڈ بھی ملے۔ اشتیاق احمد مرحوم 17 نومبر 2015ء کو اس فانی دنیا سے رخصت ہوگئے تھے، لیکن وہ ہمیشہ لاکھوں انسانوں کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔

ممتاز ادیب، اردو زبان کے سب سے زیادہ ناولوں کے تخلیق کار، جاسوسی ناول انسپکٹر جمشید، انسپکٹر کامرن اور شوکی سیریز کے خالق، ادب کی نابغہ روزگار شخصیت اور ہر دلعزیز مصنف اشتیاق احمد مرحوم ادب کے میدان میں انمٹ نقوش چھوڑکر گزشتہ سال اپنے چاہنے والوں کو داغ مفارقت دے گئے تھے۔ اردو زبان میں بچوں کے ادب کے سب سے بڑے قلمکار اشتیاق احمد کی رحلت سے اردو ادب میں جو خلا پیدا ہوا، اس کا بھرنا بے حد مشکل نظر آتا ہے۔ انہوں نے اس قوم کے لیے بہت بڑا ادبی سرمایا چھوڑا ہے۔ ابن صفی کے ہوتے ہوئے جاسوسی ناول نگاری میں اپنا نام و مقام منوایا۔ بچوں کو غیرضروری اور لغو ادب کے مقابلے میں ایک مثبت اور تعمیری سوچ میں گوندھی ہوئی تحریریں دیں، جن کو پڑھ کر ہر قاری ان کا گرویدہ ہوا۔ صرف بچے ہی نہیں، بلکہ خواتین، بوڑھے اور جوان بھی ان کی تحریریں کے مداح ہیں۔ ملک کی تین نسلیں ان کی تحریریں پڑھتے ہوئے جوان ہوئیں۔ بچپن میں ان کے ناولوں کو پڑھ کر اردو ادب سے دوستی کرنے والے ادیبوں، شاعروں، صحافیوں، کالم نگاروں، علماءاور متعدد کتابوں کے مصنفین کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ان کے چاہنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ وہ 71 سال اس فانی دنیا میں گزارنے کے بعد ایسے دیس جا بسے، جہاں سے آج تک کوئی واپس نہیں آیا، لیکن انہوں نے جو عظیم کام کیا، اس بنا پر وہ ہمیشہ لاکھوں انسانوں کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔

اشتیاق احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے صرف چار بار ہی ملاقات کا موقع ملا۔پہلی ملاقات میں ہی اشتیاق احمد صاحب مجھ ایسے طالب علم سے یوں ملے جیسے تعلق بہت پرانا ہے۔ ملاقات کافی دیر تک رہی۔ اس ملاقات میں بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ ایک بار ختم نبوت کے کام میں گہری دلچسپی کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے:” میں اسکول کا ایک طالب علم تھا، مجھے قادیانیت کے بارے میں کچھ زیادہ معلومات نہیں تھیں اور نہ ہی کبھی زیادہ دلچسپی لی، لیکن جب میں نے ”وادی مرجان“ ناول لکھا تو کچھ قادیانی مجھے ڈرانے دھمکانے لگے کہ تم نے یہ ناول ہمارے خلاف لکھا ہے۔ میں نے یہ ان کے خلاف لکھا ہی نہیں تھا، یہ تو اتفاقیہ ان پر فٹ آرہا تھا، صاف کہہ دیا کہ مجھے تو آپ لوگوں کے بارے میں کچھ معلومات ہی نہیں ہیں، تو خلاف کیسے لکھوں گا۔ قادیانیوں نے یہ کہہ کر مجھے واپس جانے دیا کہ اگر آئندہ ہمارے خلاف لکھا تو نتائج اچھے نہیںہوں گے۔“ اس کے بعد میں نے قادیانیت کے بارے میں تحقیق شروع کی، ان کی بہت سی باتیں مجھ پر منکشف ہونے لگیں۔ جوں جوں میں ان کے بارے میںجانتا گیا تو تحفظ ختم نبوت کے کام سے محبت ہوتی گئی۔ اس کے بعد میں نے تحفظ ختم نبوت کے کام کو اپنی زندگی کا مقصد بنالیا۔

اشتیاق احمد مرحوم 12 سال روزنامہ اسلام سے وابستہ رہے۔ انہوں نے 2001ء میں روزنامہ اسلام کے میگزین ”بچوں کا اسلام“ کی ادارت سنبھالی اور اپنی وفات تک میگزین کی ادارتی ذمے داریاں بہ حسن و خوبی ادا کرتے رہے۔ وہ ”بچوں کا اسلام“ کا تمام مواد ایڈٹ کرنے کے ساتھ ساتھ میگزین کے لیے عبداللہ فارانی، سرور مجذوب سمیت کئی کئی قلمی ناموں سے تاریخی اور سماجی موضوعات پر کہانیاں اور مضامین بھی لکھتے تھے۔ ”بچوں کا اسلام“ کے اجراءسے قبل وہ روزنامہ اسلام میں ”مکالمہ“ اور ہفت روزہ ضرب مومن میں ”امید“ کے مستقل عنوان سے سیاسی و دینی موضوعات پر ہلکے پھلکے کالم لکھا کرتے تھے۔ ان کے زیر ادارت ”بچوں کا اسلام“ نے مقبولیت کا ریکارڈ قائم کیا اور ملک کے گوشے گوشے میں ہر طبقے میں اشتیاق سے پڑھا جانے لگا، جس کا اعتراف ملک کی موقر ادبی تنظیموں اور اداروں نے بھی کیا۔ اس عرصے میں بچوں کا اسلام نے کئی بار دعوہ اکیڈمی سے بچوں کے بہترین میگزین کا ایوارڈ بھی جیتا۔

معروف ادیب و جاسوسی ناول نگار اشتیاق احمد نے زندگی کی 71 بہاریں دیکھیں۔ 1944ءمیں بھارتی ریاست پانی پت کے ضلع کرنال (مشرقی پنجاب) میں ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان بھارت سے ہجرت کرکے پاکستان کے شہر جھنگ میں آکر آباد ہوا اور جھنگ صدر میں سکونت اختیار کی۔ ابتدائی تعلیم شیخ لاہور پرائمری اسکول سے حاصل کی۔ اشتیاق احمد نے صرف میٹرک تک تعلیم حاصل کی تھی۔ انہوں نے زندگی کی سختیاں برداشت کیں۔ میونسپل کارپوریشن لاہور میں ایک عرصے تک محض 100روپے ماہوار پر ملازمت کی، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ چھولہ چاٹ کی ریڑھی بھی لگائی اور پان، سگریٹ کا کھوکا بھی چلایا۔ اشتیاق احمد ایک جگہ خود بتاتے ہیں: ”میونسپل کارپوریشن کی ملازمت میں رشوت کا دور دورہ تھا، متنفر ہوکر ملازمت سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔ ان دنوں میرے پاس کچھ کام نہیں تھا۔ بہت پریشان ہوا۔ ایک دن وضو کیا، دو رکعت ادا کی اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے۔ یوں گویا ہوا: ”میرے مالک: آپ کا تو وعدہ ہے، جو شخص حرام روزی چھوڑتا ہے، آپ اسے حلال راستے سے اس سے زیادہ عطا کرتے ہیں۔ آپ اپنا وعدہ پورا کریں نا۔“ یہ الفاظ میں نے بالکل ایسے انداز میں کہے جیسے سامنے بیٹھے کسی شخص سے کہے ہوں۔ آنکھوں میں آنسو تھے اور ابھی دعا ختم نہیں کی تھی کہ میری نظر کمرے کے فرش پر پڑے ایک تہہ کیے ہوئے کاغذ پر پڑی۔ پہلے تو اس کاغذ پر توجہ نہ دی۔ اٹھا کر اس کی تہہ کھولی تو شیخ غلام علی اینڈ سنز کے منیجر ملک رب نواز کا رقعہ تھا، جو دروازے کی نیچے سے فرش پر ڈال دیا گیا تھا۔ انہوں نے لکھا تھا: ”آپ سے ضروری کام ہے، فوراً ملیں“ میں نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ دوسرے دن صبح ان سے ملا تو کہنے لگے۔ ”آپ ہمیں انسپکٹر جمشید سیریز کے بارہ ناول لکھ کر دے دیں اور جگنو کی ادارت پھر سے سنبھال لیں۔“ میں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور اللہ تعالیٰ سے کہا: ”باری تعالیٰ آپ کا وعدہ سچا ہے۔“ اور یہیں سے میرے ناولوں کے دور کا آغاز ہوا۔ یہاں تک کہ اپنا پبلشنگ کا ادارہ قائم کرنے کے قابل ہوا۔ اشتیاق احمد کی پہلی کہانی 1960ءمیں ہفت روزہ قندیل میں شایع ہوئی۔

1970ءمیں میونسپل کارپوریشن میں ملازمت کے دوران کہانیاں لکھنا شروع کیں اور بہت کم عرصے میں مقبول لکھاری بن گئے۔ اشتیاق احمد کو اردو زبان کی تاریخ میں بچوں کے ادب میں سب سے زیادہ لکھنے کا اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے بچوں کے لےے ”غار کا سمندر“ کے عنوان سے 2000 صفحات پر مشتمل سب سے بڑا ناول لکھا۔ ان کے دیگر معروف ناولوں میں ”سازش کا اڑدہا“،”باطل قیامت“،”وادی مرجان“،”جابانی فتنہ“، جبکہ ”اظہر سیریز“ کے عنوان سے اسلامی تاریخ پر کئی ناول لکھے۔ ان کے شائع کردہ خاص نمبروں میں ”دنیا کے قیدی“ ،”جیل کی موت“، ”جزیرے کا سمندر“ وغیرہ نے شہرت حاصل کی۔ ”جابانی فتنہ“ کے عنوان سے منکرین ختم نبوت پر لکھے گئے ناول میں ”مرزا خاسر“ کا کردار بہت معروف ہوا۔ ان کا شہرہ آفاق ناول ”وادی مرجان“ بھی اسی موضوع کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ دو ناول دینی حلقوں میں بے حد مقبول ہوئے۔ بچوں اور بڑوں میں یکساں مقبول تھے اور انہوں نے ہزاروں کہانیاں، مختلف موضوعات پر 100 بڑی کتابیں اور 800 سے زیادہ ناول لکھے، جن میں کچھ رومانی اور بیشتر جاسوسی ناول تھے۔ ان کے 15 سے زاید ناول طباعت کے آخری مراحل میں ہیں۔

اشتیاق احمد کے جاسوسی ناولوں کو ہر حلقے میں بھرپور پذیرائی اور مقبولیت حاصل ہوئی، لیکن ان کے ”انسپکٹر جمشید سیریز“ کے جاسوسی ناولوں نے انہیں شہرتِ دوام بخشی۔ اس سیریز کے چند کردار اس قدر عام ہوگئے کہ لوگوں کی زندگی کا حصہ بن گئے۔\n\nاشتیاق احمد نے اپنا پہلا ناول صرف تین دن میں مکمل کیا۔ انہوں نے ہزاروں کہانیاں اور سیکڑوں ناول لکھے۔ ان کی پہلی بیس کہانیاں بچوں کے لیے تھیں۔ اس کے بعد انہوں نے بڑوں کے لیے لکھنا شروع کیا، اس وقت ان کی اپنی عمر سولہ سال تھی۔ ابتدا میں ان کی تحریریں رومانی ادب کا احاطہ کرتی تھیں، ان کی پہلی رومانی کہانی کا عنوان ”شمع“ تھا، جو کراچی کے ایک رسالے میںشایع ہوا۔ اس کے بعد سیارہ ڈائجسٹ میں لکھنا شروع کیا۔ سیارہ ڈائجسٹ میں تین چار کہانیاں شایع ہوگئیں تو اردو ڈائجسٹ میں لکھنے لگے۔ سیارہ ڈائجسٹ میں 100 روپے ماہوار پر بطور پروف ریڈر کام کیا۔ 1971ءمیں ایک رومانی ناول ”منزل انہیں ملی“ لکھا۔ ناول چھاپنے کے بعد پبلشر کی فرمائش پر بچوں کے لےے جاسوسی ناول لکھنے کا آغاز کیا اور پہلا ناول تین دن میںلکھا، اس ناول کے کردار محمود، فاروق، فرزانہ اور انسپکٹر جمشید تھے، جنہوں نے اشتیاق احمد کو لافانی شہرت عطائ کی۔ اشتیاق احمد کا پہلا ناول ”پیکٹ کا راز“ تھا۔ ناول نگار کے طور پر شناخت بننے کے بعد شیخ غلام علی اینڈ سنز نے اپنے ماہنامہ ”جگنو“ کی ادارت کے لیے ان کی خدمات مستعار لیں۔ اس دوران انہوں نے کہانیوں کی دو سو کتابیں لکھیں۔ 80 کے عشرے میں شراکت پر طباعتی ادارہ ”مکتبہ اشتیاق“ قائم کیا اور ہر ماہ چار ناول لکھ کر اس سے شائع کرتے رہے۔ بعدازاں ”اشتیاق پبلی کیشنز“ کے نام سے اپنا الگ ادارہ قائم کیا اور اس کے لیے ہفتے میں ایک ناول لکھتے رہے۔

ایک انٹرویو میں ہزاروں کہانیاں لکھنے والے اشتیاق احمد مرحوم خود اپنی کہانی بیان کرتے ہیں: پہلی کہانی لکھی اور چَھپ گئی۔ دوسری کہانی لکھی، وہ بھی چھپ گئی۔ تیسری کہانی لکھی، وہ بھی چھپ گئی۔ اوپر تلے پندرہ بیس کہانیاں شایع ہوگئیں تو جی میں آئی کہ بچوں کے لیے بہت کہانیاں لکھ لیں، اب بڑوں کے لیے لکھنا چاہیے، حالاں کہ خود ابھی سولہ سال کا تھا۔ رومانی کہانی لکھی۔ کراچی سے نکلنے والے ایک رسالے ”شمع“ کو افسانہ بھیج دیا۔ انہوں نے وہ شایع کردیا۔ اوپر تلے چھے سات افسانے انہیں لکھ کر ارسال کردیے، انہوں نے سب کے سب شایع کر دیے۔ ایک افسانہ سیارہ ڈائجسٹ کو بھیجا۔ شایع ہوگیا اور ساتھ ہی مدیر معاون کا خط بھی آگیا کہ اور لکھ کر ارسال کریں۔ سیارہ ڈائجسٹ میں تین چار کہانیاں شایع ہوگئیں تو اردو ڈائجسٹ بھیجنے لگا۔ اردو ڈائجسٹ نے بھی کہانیاں شایع کردیں۔ سیارہ ڈائجسٹ سے پیسے بھی ملنے لگے۔ اس کے ساتھ سیارہ ڈائجسٹ کے مدیر کو خط لکھ دیا کہ میری فلاں فلاں رسالے میں اتنی کہانیاں شایع ہو چکی ہیں، اپنے رسالے میں مجھے کوئی کام دیں۔ انہوں نے بلالیا اور سو روپے ماہوار پر پروف ریڈنگ کا کام دے دیا۔ پھر ”منزل انہیں ملی“ کے عنوان سے ایک رومانی ناول لکھا۔ یہ ناول لے کر ”مکتبہ عالیہ“ کے پاس گیا تو وہ ناول کو پڑھ کرکہنے لگے: ”یہ ناول ہم بعد میں شایع کریں گے۔ پہلے آپ بچوں کے لیے ایک ناول لکھ کر لائیں۔ ناول جاسوسی ہو اور سو صفحات سے زیادہ کا نہ ہو۔“ گھر آیا اور جاسوسی ناول لکھنے لگا۔ ناول صرف تین دن میں تیار ہوگیا اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس ناول کے کردار محمود، فاروق، فرزانہ اور انسپکٹر جمشید تھے۔ ناول کا نام ”پیکٹ کا راز“ رکھا۔ مکتبہ عالیہ نے اس کے 50 روپے دیے۔ یہ ناول 1972ءمیں شایع ہوا۔ وہ ناول لے کر فیروز سنز چلا گیا۔ ہاتھ میں ایک اور ناول ”آستین کا سانپ“ کا مسودہ تھا۔ انہوں نے پیکٹ کا راز دیکھا، آستین کا سانپ پڑھ کر اسے شایع کرنا منظور کرلیا اور اس کے 300 روپے دیے۔ تیسرا ناول شیشے کا بکس لکھا، شیخ غلام علی اینڈ سنز نے اسے شایع کرنا منظور کرلیا۔ اس کے 300 روپے دیے، ساتھ ہی کہا: ”اور ناول لکھ لائیں۔“ انہوں نے اوپر تلے بارہ ناول لکھوائے اور فیروز سنز نے بھی دو تین اور ناول خرید لیے۔ شیخ غلام علی اینڈ سنز کے منیجر نے پیغام بھیج کر بلوایا اور مجھے دو سو روپے ماہ وار پر اپنے رسالے ماہ نامہ ”جگنو“ کا مدیر بنادیا۔“ اس دوران چھوٹے سائز کی کہانیوں کی دو سو کے قریب کتابیں بھی لکھوائیں۔ مرحوم اشتیاق احمد اب اس دنیا میں نہیں رہے، لیکن اردو ادب میں ان کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Comments

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام 2011ء سے شعبہ صحافت میں میگزین رپورٹر، فیچر رائٹر اور کالم نویس کی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔ روزنامہ ایکسپریس اور اسلام میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ معاشرے میں تعمیری اور مثبت سوچ کا فروغ ان کا مشن ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • میں اشتیاق احمد کے پڑھنے والوں میں سے تھا، انسپکٹر جمشید سریز کی جتنی کتابیں انہوں نے لکھیں میں مارکیٹ آ نے کا منتظر رہتا تھا، وطن دوستی کا سبق اور جرائم سے دوری کا درس ان کی کتابوں کا نچوڑ ہوا کرتا تھا، سنہ 1982 تک میں نے ان کی کتابیں پڑھیں اور پھر لڑکپن کا دور ختم ہوا اور میں بیرون ملک چلا گیا، مرحوم اشتیاق احمد نے ضیا آمریت کے دور میں دو ایک کتابیں ایسی بھی لکھیں جنہيں پڑھ کر مجھے بے حد دکھ ہوا، فرقہ واریت کا عنصر ان میں نمایا تھا، جعلی اور من گھڑت احادیث جو فرقہ واریت پر مبنی ہوتی تھیں وہ ــ بچوں کی کتابوں میں شائع کرنے لگے جس سے ان کی جو ساکھ میرے ذہن میں بنی ہوئی تھی وہ ایک دم گرگئی ، یہ وہ کام تھا جو مرحوم نے ایجنسیوں کے کہنے پر انجام دیا اور تعصب اور فرقہ واریت کی جو آگ امریکہ ، سعودیہ اور ضیاآمریت کی منحوس مثلث کی دین تھی ، اشتیاق احمد اس کا حصہ بن گئے اور اپنے ماضی پر ایک ایسا داغ لگاگئے کہ جسے دھویا نہیں جاسکتا۔