ترک اساتذہ کی بےدخلی کیوں درست اقدام ہے؟ محمد اشفاق

محمد اشفاق پاک ترک انٹرنیشنل سکولز کے نام سے ملک بھر میں ایک ترک این جی او کے زیرِاہتمام 28 تعلیمی اداروں کا نیٹ ورک قائم ہے. پاکستان میں اس کے قیام کو 21 سال ہونے کو ہیں اور یہ نیٹ ورک پاکستان میں ایک اچھے تعلیمی ادارے کی شہرت رکھتا ہے.\n\nاگست میں ترک وزیرِ خارجہ نے پاکستان کا دورہ کیا. اس دورے میں انہوں نے وزارتِ خارجہ کے حکام سے پاک ترک سکولز کا معاملہ بھی اٹھایا. ترکی میں حالیہ ناکام بغاوت کا الزام ایردوان کی حکومت فتح اللہ گولن اور ان کی تحریک کے سر دھرتی ہے. ترک وزیرِ خارجہ کا یہ کہنا تھا کہ پاکستان میں کام کرنے والے سکولوں کی چین بھی فتح اللہ گولن کی تنظیم کی سرپرستی ہی میں کام کر رہی ہے اور یہ تنظیم جہاں بھی موجود ہے اس ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے. یاد رہے کہ ترک حکومت نے فتح اللہ گولن کی تنظیم کو دہشتگرد تنظیم قرار دے کر کالعدم کر رکھا ہے. ترک وزیرِ خارجہ کے مطالبے پر انہیں یقین دہانی کرائی گئی کہ پاکستان اس معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لے گا.\n\nبعد ازاں وزارتِ خارجہ نے یہ معاملہ وزارتِ داخلہ کے سپرد کر دیا. اس دوران پاک ترک سکولز کی انتظامیہ نے تمام کے تمام 28 سکولوں کے پرنسپلز بدل دیے، اور تدریسی عملے میں شامل ترک سٹاف میں بھی تبدیلی کی گئی، یہ کوشش تھی خود کو بدلتے ہوئے حالات سے ہم آہنگ کرنے کی. ادارے نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک پیٹیشن بھی دائر کی، جس کی سماعت کے دوران حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ سکولوں کو بند کرنے کی کوئی تجویز زیرِغور ہے نہ ہی انہیں رجب ایردوان کی حمایتی ”معارف فاؤنڈیشن“ کے سپرد کرنے کی.\n\nتاہم ترک صدر کے حالیہ دورہ پاکستان سے پہلے حکومتِ پاکستان نے حکومتِ ترکی کے مطالبے کو منظور کرنے کا فیصلہ کیا، ترک تدریسی عملے کو جو کہ 108 اساتذہ پر مشتمل ہے، اپنے خاندانوں سمیت 20 نومبر تک ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا. اس حکم کے خلاف اساتذہ اور سکول انتظامیہ نے عدالت میں جانے کا اعلان کیا ہے جو کہ ان کا قانونی حق ہے، تاہم سوشل میڈیا پر اس مسئلے پہ ایک گرما گرم بحث چھڑ چکی ہے، جس میں حکومت کو مطعون کیا جا رہا ہے کہ اس نے ترک اساتذہ کی بےدخلی کا فیصلہ کر کے بہت بزدلی اور بےحمیتی کا ثبوت دیا ہے. آئیے دیکھتے ہیں کہ ایسا کیوں کیا گیا.\n\nفتح اللہ گولن اور ان کی تنظیم خواہ کتنی ہی نیک نیت,، امن پسند اور غیرجانبدار کیوں نہ ہو، حقیقت یہ ہے کہ جس ملک سے ان کا تعلق ہے اس کی حکومت انہیں کالعدم قرار دے چکی ہے. جب آپ کا کوئی دوست ملک آپ سے اپنے ناپسندیدہ شہریوں کی بےدخلی کا مطالبہ کرتا ہے تو اس کو نہ ماننے کا کوئی جواز نہیں ہوتا. یہ سفارتی روایت بھی ہے اور سیاسی مجبوری بھی. کل کو اگر پاکستان سے کچھ شدت پسند یا علیحدگی پسند عناصر ترکی میں جا بیٹھیں تو کیا ہم ترکی سے یہ توقع کرنے میں حق بجانب نہیں ہوں گے کہ وہ انہیں بےدخل کرے؟\n\nجن دوستوں کا خیال یہ ہے کہ پاکستان کو خود تحقیقات کرنا چاہیے تھیں، ان کی خدمت میں عرض ہے کہ ایک تو داخلی سطح پر یہ تحقیقات ہوئی بھی ہیں، اسی لیے مطالبہ تین ماہ بعد مانا گیا ہے، دوسرا ہم ترکی کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ آپ بےشک فتح اللہ گولن کو دہشت گرد قرار دیں ہم ایسا نہیں مانتے. فتح اللہ گولن اور ان کی تنظیم خواہ کتنی ہی معتبر و محترم کیوں نہ ہوں، ان کا پاکستان اور ہمارے مفادات سے کچھ لینا دینا نہیں ہے، جبکہ ترکی سے ہمارے تعلقات حکومتی اور عوامی سطح پر قیامِ پاکستان سے بھی پہلے سے استوار چلے آ رہے ہیں، انہیں ایک شخص یا تنظیم کی بھینٹ نہیں چڑھایا جا سکتا.\n\nیہ بھی طے شدہ امر ہے کہ تمام اساتذہ ترک شہری ہیں اور پاکستان میں سیاسی پناہ لے کر نہیں آئے تھے، بلکہ ورک ویزا پر کام کر رہے تھے. اگر ترک حکومت کو وہ کسی بھی وجہ سے تفتیش یا پوچھ گچھ کےلیے مطلوب ہیں تو بطور ترک شہری کے ان کا اپنے ملک کی حکومت کو جوابدہ ہونا ان پر فرض ہے. نیز یہ کہ اپنے پاکستان میں قیام کے دوران وہ پاکستانی حکومت اور قوانین کے پابند ہیں. اگر پاکستان کسی بھی وجہ کے تحت کسی بھی غیر ملکی کا ویزا منسوخ کرتا ہے تو یہ اس کا مسلمہ سیاسی و سفارتی حق ہے. اس پر اعتراض کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی.\n\nیہ کہنا بھی غلط ہے کہ ترک اساتذہ کے جانے سے پاک ترک سکولز کے طالب علموں کا کیرئیر متاثر ہوگا کیونکہ اس نیٹ ورک میں 15 سو اساتذہ کام کر رہے ہیں، جن میں سے صرف ایک سو آٹھ ترک شہری تھے، نیز خود سکول انتظامیہ بھی والدین کو یقین دہانی کروا چکی ہے کہ سکول بند نہیں کیے جائیں گے.\n\nمزید یہ کہ اگر ترک شہری اس انتظامی فیصلے کے خلاف پاکستانی عدالت سے رجوع کرتے ہیں تو کم از کم کیس کا فیصلہ ہونے تک انہیں رکنے کا جواز مل جائے گا، اس لیے جو دوست ان کو تین دن کا نوٹس ملنے پر دکھی ہو رہے ہیں انہیں خاطر جمع رکھنی چاہیے.\n\nآخری بات یہ کہ ہر معاملے پر اپنی حکومت اور انتظامیہ کو مطعون کرنے کی روش ہمیں ترک کر دینی چاہیے. خارجہ تعلقات کی نزاکتیں بہرحال حکومتیں ہی بہتر جانتی ہیں. ہمارا یہ حق ہے کہ ہم کسی اہم تبدیلی یا فیصلے کی حمایت یا مخالفت کریں مگر ان معمولی باتوں پر لٹھ لے کر حکومت کے پیچھے پڑ جانا قطعی دانشمندی نہیں ہے.