اور کیا لکھوں - محمد اعجاز

بچپن سے میرا مسلم معاشرے سے ایک تعلق \0ہے، اس لیے مسلمان کہلانے میں فخر محسوس کرتا ہوں. جب مسلم ممالک پر نظر دوڑاتا ہوں تو وہاں کے حالات دیکھ کر چبھن سی محسوس ہوتی ہے یا دماغ کی کھڑکی کھلتی ہے. پھر کچھ نہ کچھ لکھ لیتا ہوں، اس بار بھی سوچ رہا ہوں کہ کیا لکھوں. ان این جی اوز پر لکھوں جنھوں نے پسماندہ مسلم ممالک کی غربت کو مذاق بنا کر وہاں اپنا جال بچھا رکھا ہے. جو نام نہاد امدادی سرگرمیوں کی آڑ میں سادہ لوح مسلمانوں کے مذہب پر ڈاکہ ڈال رہی ہیں. یا اس پر لکھوں کہ یہاں کے کٹھ پتلی حکمرانوں نے غلامی قبول نہ کرنے پر صدیوں سے آباد لوگوں کو ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا ہے. نسلوں سے آباد ان لوگوں کو زمین کے کسی ٹکڑے پر دعوے کا حق حاصل نہیں. اس پر لکھوں کہ مظلوم مسلمانوں کی عورتوں کو مظلومیت کی آڑ میں نشانہ بنایا جاتا ہے، بلکہ کچھ عورتیں کھیل بنائی جاتی ہیں. ان مجبور لوگوں پر لکھوں جو دور خیموں میں آباد ہیں، جنھیں کھانے پینے کا سامان میسر نھیں. جس کی وجہ سے وہ خوردونوش کی اشیاء حاصل کرنے کے لیے شیطانی جال بچھائے عالمی تنظیموں کے در در کی ٹھوکریں کھاتے رہتے ہیں. شام کے غریب مسلمانوں پر لکھوں جو میلے کپڑوں، غمگین آنکھوں سے امداد کے لیے راہیں تکتے رہتے ہیں.\n\nان افریقی مسلم علاقوں پر لکھوں جہاں کوئی مکتب نہ ہسپتال، کئی راستے میں آتے ہوۓ مر جاتے ہیں اور کئی علم کی روشنی سے محروم رہتے ہیں. ان ظلم کا شکار برمی ماؤں، بہنوں کے چہروں پر موجود ریکھاؤں پر لکھوں جن پر جوانی آنے سے پھلے ڈھل جاتی ہے، جن کی چھاتی میں دودھ کیا خون بھی نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے اکثر شیرخواں بچے یہ دنیا دیکھنے سے پہلے ہی ہمیشہ کے لیے ابدی نیند سو جاتے ہیں. ان عراقی بچوں پر لکھوں جو راستے سے گزرتے کسی اجنبی کو دیکھ کر ایک درہم کی بھیک مانگتے ہیں اور ایک درہم ملنے پر دنیا جہاں کی خوشیاں اپنی جھولی میں آتی محسوس کرتے ہیں. ان پاکستانی علماء و طلبہ پر لکھوں جو پرفتن دور میں قال اللہ قال الرسول کے نغموں سے ہدایت کی روشنی عام کر رہے ہیں. کبھی مدارس کو جھالت کے اڈے کہہ کر ان کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے تو کبھی دہشت گردی کا الزام لگا کر بےجا ہراساں کیا جاتا ہے.\n\nاس عافیہ پر لکھوں جو امریکہ کے جیل خانے میں بند پھر کسی ابن قاسم کی راہ دیکھ رہی ہے. تڑپتی ہوئی فلسطینی بہن پر لکھوں جو کئی ساعتیں بے جان سانسیں لیتی ہوئی صہیونی فوجیوں کی گولیوں کی بوچھاڑ میں دم توڑ گئی. اس کی بےگوروکفن لاش پھر کسی صلاح الدین ایوبی کا انتظار کرتی رہی. منصور پر لکھوں جو انڈین پیلٹ گنوں کا نشانہ بن گیا. اس کا جرم صرف مسلم گھرانے میں آنکھ کھولنا تھا. نہ جانے روزانہ کتنے منصور کفریہ طاقتوں کی وحشت کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں. مگر کسی انسانی حقوق کے علمبردار کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی.\n\nاس تاریخی مسجد اقصی پر لکھوں جس کو معراج کی رات ساقی کوثر کی قدم بوسی کا شرف حاصل ہوا. یہودی گماشتے مسلسل سرنگیں کھود کر اسے منہدم کرنے کے درپے ہیں جس کی اینٹیں اکھڑ کر زمین دوز ہو رہی ہیں لیکن کوئی بھی کان نہیں دھرتا. پورا سماج بےحس ہو چکا ہے. میں کیا لکھوں مظلوم بہنوں کی آہ و پکار، تڑپتے لاشے،گرتی مساجد، تباہ شدہ مکانات، ٹارچر سیلوں میں مقفل برہنہ قیدی اور مسلسل انسانی حقوق کی پامالی پر لکھنے بیٹھوں تو قلم ٹوٹ جائے گا. انگلیوں سے خون نکل آئے گا. لیکن میں یہ فرض ادا نہیں کر سکتا.\n\nہاں! البتہ اگر چند الفاظ لکھنے بیٹھوں تو وہ یہ ہیں کہ اٹھاون اسلامی ممالک ایک فطرتی میوزیم ہیں جہاں خوبصورت جنگلات، میٹھے پانی کے صاف چشمے، معدنیات سے لبریز پہاڑ اور گھومتے پھرتے جانور انسانوں سے بھی زیادہ آزاد ہوتے ہیں. جہاں طویل و عریض صحرا، بلند و بالا کوہسار اور زرخیز میدانی علاقہ جات قدرتی خوبصورتی کا شاہکار ہیں. یہ ممالک بھرپور وسائل اور افرادی قوت سے مالامال ہیں. اور بھی بہت کچھ ہے لیکن کیا لکھوں؟ یہاں انسانیت کا قتل عام دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے.\nبس اور کیا لکھوں.....!\nپھول بے پرواہیں! توگرم نوا ہو یا نہ ہو\nکارواں بے حس ہے، آوازدرا ہو یا نہ ہو