شعبہ طب کی آسمانی مخلوق - مرزا صہیب اکرام

کہنے لگے ایک پہچان کے آدمی جو پیشہ ورڈاکٹر ہیں، جی جی صحیح سمجھا، ڈاکٹری ان کا دھندہ ہی ہے. خیر! فرمانے لگے کہ ہم مریضوں کی جان بچاتے ہیں.\nہیں جی؟ آپ؟ آپ اللہ ہیں؟ میری قسمت! کیا دیکھ لیا!\nنہیں نہیں، ہم علاج کرتے ہیں، پیغمبری پیشہ ہے ہمارا.\nاچھا اچھا، تو کیا پیغمبر بھی مریضوں کو پیسوں اور مراعات کی خاطر مار دیتے تھے؟ وہ بھی ہڑتال کے نام پر جان لیتے تھے؟ (العیاذباللہ)\nاسی سوچ میں گم بدقسمتی سے ہسپتال جانا پڑا، \nارے یہ کون ہیں؟ سفید کفن نما سوٹ میں ملبوس! اور یہ کیا؟ یہ ہرآنے والے بیمار، جن میں کوئی فالج، کوئی دل، کوئی گردے، کوئی جگر کا مریض ہے، کو سنبھال رہی ہیں.\nیہ ہیں کون جی؟ کیا بولا نرسیں؟؟\nاچھا اچھا، ان کا تو کام ہی یہ ہے نا،\nتنخواہ بھی تواسی کام کی لیتی ہیں!\nکیا کہا؟ پہلے چار سال نرسنگ کی کلاسوں کے ساتھ ہسپتال میں کام بھی کرتی ہیں.\nپیسے ملتے ہوں گے نا، ہیں جی؟ کوئی پیسہ نہیں؟ \nاور کیا؟ اس کے بعد ایک سال ہاؤس جاب بھی چھ ھزار مہینہ لے کر کرتی ہیں، اس کے بعد تو نوکری پکی نا جی؟\nکیا؟ تب اپلائی کرنا پڑتا ہے ان کو!\nخیر اتنا بھی مشکل کام نہیں ان کا، یہ ہیں بھی تو صرف نرسیں ہی.\nوہ کون آرہاہے؟ ارے ڈاکٹر آ رہے ہیں.\nہر چکر کے ہزار روپے لیتے ہیں جی، دن میں دو دفعہ دیدار کراتے ہیں وہ،\nنرسیں مریض کو مسکراہٹ کے ساتھ خوش آمدید کہتی ہیں، پھر بستر دیتی ہیں، دن میں کئی دفعہ ای سی جی، بخار، نبض، اور دل کی کمزور دھڑکن دیکھتی ہیں، چادریں بھی یہی تبدیل کرتی ہیں، مریضوں کو میڈیسن بھی یہی دیتی ہیں، اور تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد حال احوال بھی پوچھتی ہیں.\nعجیب مخلوق ہیں یہ بھی!\nکیا؟ ان کی عمر؟ یہی کوئی پندرہ سے اکیس سال تک عمومی طور پر، \nبیٹا! آپ کیوں آئیں اس شعبے میں؟\nمجھے امی نے بھیجا تھا، پر اب بہت اچھا لگتا ہے، جب لوگ دعا دیتے ہیں سر پر ہاتھ رکھتے ہی، مجھے اب یہیں رہنا ہے. آپ کی تنخواہ کتنی ہے بیٹا؟ جی میں ابھی ٹریننگ پر ہوں، مجھے پانچ سال مکمل ہونے والے ہیں، تب نوکری کے لیے اپلائی کرنا ہے.\nمیں سوچنے لگا کہ ان معصوم چھوٹی چھوٹی عمر کی بچیوں کو آخر اس کفن نما سفید لباس سے، جس میں بظاہر زندگی کا کوئی رنگ نہیں، کیونکر محبت ہوگئی ہے، ان کے سینے میں جوان امنگیں کہاں سوگئی ہیں؟ یہ کس طرح سارا دن موت سے لڑتے ہْوئے مریضوں کے لیے رحمت بن کر کام کرتی ہیں؟ اور ہمارے ڈاکٹر کیسے ہیں جو ڈیمانڈ پر ڈیمانڈ کرتے نظر آتے ہیں۔ ہر مرتے ہوئے انسان کی دم توڑتی ہوئی سسکیوں کے اوپر اپنی خواہشات کے محل تعمیر کرتے ہیں. دوسری طرف یہ مخلوق جس کو نرس کہا جاتا ہے، یہ کیوں ہوس و لالچ سے بےنیاز ہے؟ میں نے ان کو غور سے دیکھا تو مجھے نظر آیا کہ یہ کوئی زمینی مخلوق ہیں ہی نہیں، یہ سفید کپڑوں میں ملبوس پریاں ہیں، کوئی پندرہ سال کی، کوئی سولہ سال کی، اور ان کو کسی فقیر سے اجرت نہیں چاہیے، یہ تو اجرلیں گی، وہ بھی رب کی ذات سے. ہسپتالوں میں آنے والے وہ امراء ان کو کیا دیں گے جو خود صحت کی بھیک مانگ رہے ہوتے ہیں، اور چند کاغذ کے ٹکڑوں کے ذریعے بھلا کون ان کو خرید سکتا ہے؟ یہ تو شاید خود کو کسی بڑے بیوپاری کو بیچ چکی ہیں، اور وہی ذات ان کا حق ادا کر سکتی ہے. اور ان کا واسطہ بھی تو اب اس سے ہی ہے نا!\nان کے پاس اے سی والے کمرے نہیں جہاں سے ڈاکٹر نکل کر وارڈ میں آتے ہیں. ان کے لیے تو وہی گرمی ہے، وہی موسم ہے جو ہر عام انسان کا مقدر ہے، پر ان کی لگن، محنت، شوق، جنون، سب کچھ عطا کیا ہوا ہے کسی کا. اور یہ مشینیں جو زمینی فرشتے ہیں بنا کسی سوچ کے، کسی رکاوٹ کے ہر لمحہ صرف خدمت، خدمت اور خدمت کرتی نظر آتی ہیں.\nمیں ان کے لیے مراعات نہیں مانگوں گا، نہ پرکشش تنخواہ، نہ اے سی والا کمرہ، کوئی بھلا ان کو کیا دے سکتا ہے، بس اس ارباب اختیار اور ہم میں سے ہر کوئی اس وقت کا انتظار کرے جب اس کے بستر اور پیشاب کی تھیلی کو گھر میں کوئی خالی کرنے والا نہ ہو اور اچانک ایک سولہ، سترہ سال کی پیاری سی بیٹی جس کو معاشرہ گندی نگاہ سے دیکھتا اور نرس کہہ کر پکارتا ہے، وہ مسکراتی ہوئی آئے اور حال پوچھتے پوچھتے تھیلی خالی بھی کر جائے، اور جاتے ہوئے یہ بھی کہے جلدی ٹھیک ہوجائیں آپ، اور دوبارہ ہسپتال نہ آئیے گا. بیمار کوئی اچھا نہیں لگتا! اور ہم صرف ان کو دعا دے پائیں جو فرش سے عرش تک بنا کسی رکاوٹ کے جائے، کیونکہ اثر دعا میں ہو نہ ہو، جن کے لیے دعا ہے، وہ خود اپنی دعا کو اس بارگاہ میں لے جاتی ہوں گی.