پاکستان، غم کے دِن ختم ہونے والے ہیں - احسان کوہاٹی

”سوبلین ڈالر۔۔۔“ سیلانی کے لہجے میں حیرت پر ڈاکٹر صاحب لمحہ بھر کے لیے رکے اور کہنے لگے ’’جی سیلانی بھائی! 100 بلین ڈالر۔ نواز شریف پچھلے برس پوری دنیا میں گھوم پھر کر 500 ملین ڈالر کا قرضہ ہی لے سکے تھے جس پر حکومت نے بڑی بغلیں بجائی تھیں۔ یہ پانچ سو ملین ایک بلین کا نصف ہوتا ہے۔‘‘\n’’یعنی 1000 ملین کا ایک بلین!!!‘‘ سیلانی کے ہونٹ سیٹی کے انداز میں سکڑ گئے۔\n\n’’جی سیلانی بھائی، اور یہ صرف اندازہ ہے کہ اس سے سو بلین ڈالر کی آمدنی ہوگی۔ ہوسکتا ہے بات اس سے بھی آگے کی ہو اور یہ سب ہمیں کچھ کیے بغیر ہی مل رہا ہے، یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے انعام سمجھ لیں۔ پاکستان واقعتاً اللہ تبارک و تعالیٰ کا انعام ہے۔‘‘\n\nلاہور کے ڈاکٹر ابووقاص سے بات کرتے ہوئے جہاں سیلانی پر خوشگوار حیرت پرت پرت کرکے کھل رہی تھی، وہیں اسے بھارت کی تکلیف کابھی اندازہ ہورہا تھا۔ اسے احساس ہورہا تھاکہ واہگہ پار کا پڑوسی کیوں تلملا رہا ہے۔ ایران کیوں ٹھنڈی آہیں بھر رہا ہے اور امریکا کی پیشانی پر کیوں بل پڑے ہوئے ہیں۔ یہ محض ایک سڑک ہی نہیں، جوبحیرہ عرب کے ساحل سے اٹھنے والے قدم کاشغر کے برف پوش پہاڑوں تک لے جا ئے گی بلکہ یہ ساحلوں، میدانوں، جنگلوں سے گزرتی پہاڑوں سے لپٹی خوشحالی اور ترقی کے وہ بازو ہیں جو پاکستان کی کمزور معیشت کو زمین سے اٹھاکر سینے سے لگالیں گے۔\n\nسیلانی نے کبھی کامرس رپورٹنگ نہیں کی، اسے اکنامکس سے بھی کبھی دلچسپی نہیں رہی۔ زمانہ طالب علمی میں اس نے دوستوں کے مشورے سے بی اے آنرز میں اکنامکس کا مضمون پڑھنے کی کوشش کی تھی، لیکن چند لیکچروں کے بعد ہی اس نے دہلیز چوم کر چھوڑ دی کہ یہاں پڑا پتھر بھاری ہے، پھر بھلا کیسے وہ ’’سی پیک‘‘ سے وابستہ اقتصادیات کے اشارے اور ان اشاروں کی روشنی میں ملین بلین تک پہنچتا۔\n\nیہ سب سمجھنے کی ضرورت اسے گوادرکی بندرگاہ سے پہلے تجارتی قافلے کی روانگی پر ہوئی۔ وہ ایک عرصے سے سی پیک، سی پیک اورپاک چائنا اکنامک کوریڈور سنتے پڑھتے ّآرہا تھا۔ ٹیلی ویژن کے ٹاک شو میں سفید کنپٹیوں والے ماہرین اقتصادیات موٹی موٹی اصطلاحات کے ساتھ جانے کیا کیا کہتے رہتے تھے، اسے تو بس اتنی سمجھ آتی تھی کہ یہ ایک ایسی سڑک ہے جس پر ملکی معیشت کی کھٹارا کار فراٹے بھرتے نظر آئے گی۔ پاکستان کے سارے دلدر دور ہوجائیں گے ۔\n\nتیرہ نومبر 2016ء کے چمکتی دھوپ والے روشن دن پہلی تجارتی کھیپ اس طرح روانہ ہوئی کہ سانحہ نورانی کے زخمیوں کی کراہوں اور جان سے جانے والوں کے پیاروں کی آہیں، سسکیاں ہمیں اپنے گھروں میں سنائی دے رہی تھیں۔ ٹیلی ویژن کی اسکرین پر دکھائی دینے والے مناظر آنکھوں کو نم اور دل بوجھل کررہے تھے۔ یہ محض اتفاق نہیں تھا کہ صبح ملکی ہی نہیں، دنیا کی تاریخ کے ایک بڑے اقتصادی منصوبے کا آغاز ہونے جارہا تھا اور اس سے ایک روز قبل دہشت گرد شب خون مار کر پچاس سے زائد لاشوں کا تحفہ دے دیتے ہیں۔ سیلانی کا ایک باخبر دوست سی پیک سے پہلی تجارتی کھیپ کی روانگی اورسانحہ نورانی کی ٹائمنگ کو محض اتفاق قرار دینے پر رضامند نہیں تھا۔ سیلانی سے رابطہ ہونے پر بے حد مصروف رہنے والے دوست کا کہنا تھا:\n\n’’سیلانی بھائی! ہم تو پہلے ہی بھارت کو کھٹکتے تھے اور اب تو اس کی نیندیں اڑی ہوئی ہیں۔ سی پیک نے برہمنوں کے لیے زمین انگارہ بنادی ہے۔ اس کے کلبھوشن پہلے بھی یہاں اپنے دھندوں میں لگے ہوئے تھے اور اب تو سی پیک ناکام بنانے کے لیے بہت ضروری ہے کہ چائنا کے تاجروں کو خوفزدہ کردیا جائے کہ اس ملک میں تو خودکش دندناتے پھرتے ہیں۔ تمہارا مال اور لوگ کیسے محفوظ ہوں گے۔‘‘\n\nسیلانی نے ہنکارا بھرکر اپنے دوست کی ہاں میں ہاں ملائی، لیکن یہ سوچے بنا نہ رہ سکا یہ سی پیک ہے کیا اور یہی الجھن اسے لاہور کے ڈاکٹر ابووقاص کے پاس لے گئی۔ ڈاکٹر ابو وقاص بڑے باکمال شخص ہیں۔ وہ ان جوانوں میں سے ہیں جن کے لیے اقبال خرد کو غلامی سے آزاد کرکے جوانوں کو پیروں کا استاد کر نے کی دعا کرتے ہیں۔ سیلانی نے ڈاکٹر صاحب کو فون کیا۔ خلاف توقع نمبر بند تھا۔ سیلانی نے گھڑی کی طرف نگاہ دوڑائی۔ نماز کا وقت تو نہیں تھا شاید وہ کسی میٹنگ میں تھے۔ سیلانی نے ان کے دونوں سیل نمبروں پر ایس ایم ایس کردیا۔ گھنٹہ بھر بعد ڈاکٹر صاحب کی کال سیلانی کے سیل فون پر تھی۔\n\n’’السلام علیکم سیلانی بھائی‘‘\n’’وعلیکم السلام ڈاکٹر صاحب کیسے ہیں آپ؟ اگر فرصت ہے تو کچھ وقت چاہیے۔‘‘\n’’جی جی سیلانی صاحب اس وقت میں فارغ ہی ہوں۔‘‘\n\n’’ڈاکٹر صاحب! یہ سی پیک کیا ہے، اس سے وابستہ باتوں میں سچ کتنا اور افسانے کیا ہیں؟‘‘\n’’سیلانی بھائی! یہ دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی اقتصادی موومنٹ ہے۔ دنیا کی معلوم تاریخ میں اتنا بڑا پروجیکٹ کبھی نہیں بنا۔ فرعون سے لے کر نمرود اور نمرود سے لے کر نپولین تک کسی نے اتنا بڑا منصوبہ نہیں بنایا۔ یہ سی پیک پاکستان کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دے گا، ہونے کیا جارہا ہے یہ بتانے سے پہلے آپ بتائیں کہ چین کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟‘‘\n\n’’ڈاکٹر صاحب! ہمارے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ چین ہمارا دوست ملک ہے اور مشکل وقت میں ہمیشہ کام آتا ہے۔‘‘\n\n’’یہ سب تو اپنی جگہ لیکن چین دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی قوت ہے۔ ایک سو اڑتیس کروڑ کی آبادی کا ملک ہے۔ یہاں کی صنعتیں ہر وقت مصنوعات اگلتی رہتی ہیں۔ آپ چین کی پروڈکشن پاور کے بارے میں اندازہ ہی نہیں لگاسکتے اب اتنی بڑی اندسٹریل پاور کو بجلی گیس بھی بڑی مقدار میں چاہیے۔ چین سب سے زیادہ تیل درآمد کرنے والا ملک ہے۔ شاید آپ کو علم نہ ہو کہ چین کو یومیہ ایک کروڑ بیرل یومیہ تیل چاہیے ہوتا ہے ایک کروڑ بیرل یومیہ۔۔۔‘‘ سیلانی نے ناقابل یقین انداز میں دہرایا۔\n\n’’جی سیلانی بھائی! ایک کروڑ بیرل یومیہ، چالیس لاکھ بیرل تیل تو وہ خود پیدا کرتا ہے اور ساٹھ لاکھ بیرل اسے منگوانا پڑتا ہے۔ یہ تیل اسے بحری جہازوںکے ذریعے پہنچتا ہے اور ایک آئل شپ ٹینکر کا اوسط یومیہ کرایہ 6700ڈالر پڑتا ہے۔ 35 دن کے بعد یہ تیل شنگھائی پہنچتا ہے تو اس جہاز کا کرایہ لگ بھگ 35لاکھ ڈالر بن چکا ہوتا ہے۔ پھر اسی طرح چین کی مصنوعات باہرصارفین تک پہنچنے میں اسی طرح وقت اور اخراجات لیتی ہیں۔\n\nاب آجائیں سی پیک پر۔ اسے ٹھیک طور سے کوئی سمجھ ہی نہیں پایا۔ جو سمجھ گیا وہ خوشی سے جھوم رہا ہے یا خوف سے تھر تھر کانپ رہا ہے۔ یہ لاکھوں کلومیٹر کی موٹر ویز، ہائی اسپیڈ ریلویز اور درجنوں بندرگاہوں کا ایک مربوط نظام ہوگا۔ میں تو کہتا ہوں یہ بڑے بڑے برج الٹا کر رکھ دے گا۔ اس راستے سے آئل شپ گوادر پر لنگر انداز ہوگا اور یہاں سے آئل ٹینکروں کے ذریعے براستہ روڈ سات دن میں چین کے علاقے کاشغر پہنچ جائے گا۔ کہاں انہیں 35 دن لگتے تھے اور کہاں انہیں سات دن لگیں گے۔‘‘\n\n”لیکن ڈاکٹر صاحب! اس میں ہمیں کیافائدہ ہوگا؟‘‘ سیلانی نے پہلو بدلتے ہوئے تیزی سے کہا۔\n\n”سیلانی بھائی! جلدی نہ کریں۔ ذرا صبر تو کریں بتارہا ہوں۔ ایک اندازہ ہے کہ سی پیک کی سڑک پر یومیہ دس ہزار ٹرکوں کی آمدورفت ہوگی۔ آپ اگر فی ٹرک ایک ڈالر چنگی لیتے ہیں جو ظاہر ہے اتنی کم کسی صورت نہیں ہوگی، آپ کو مہینے کے تین لاکھ ڈالر مل جائیں گے۔ پھر ان ٹرکوں، گاڑیوں، ڈرائیوروں کے لیے آپ کو جگہ جگہ ہوٹل، ورکشاپ، دکانیں بھی بنانی ہوں گی۔ ساتھ ہی ساتھ گیس کی پائپ لائن بھی گزر رہی ہوگی، جس کا میٹر بھی ڈاؤں رہے گا۔ گیس پہنچتی رہے گی اور ہمیں اس کا حصہ ملتا رہے گا۔ ایک اندزے کے مطابق سو بلین سالانہ کی آمدنی متوقع ہے۔“\n\nڈاکٹر صاحب جانے اور کیا کچھ کہہ رہے تھے، سیلانی تو حیرت سے منہ کھولے کمپیوٹر کی اسکرین پرسی پیک کا افتتاح ہوتے دیکھ رہا تھا۔ یہ واقعی میں علاقے کی ہی نہیں دنیا کو تبدیل کرنے والی سڑک ہوگی۔ چین کو اپنی صنعتوں کے لیے سستا اور جلد ایندھن ملے گا اور اس کے صنعتکار اپنی مصنوعات کم قیمت اور کم وقت میں صارف تک پہنچاسکیں گے، لیکن اس سب کے لیے ہمیں سی پیک کو سیکیورٹی دینا ہوگی۔ امن ہوگا تو ٹرک، کنٹینر گزریں گے۔ اگر راستے میں ہی بارودی سرنگیں نصب ہوں یا خودکش جیکٹ پہننے بمبار منتظر ہوںتو کون جان گنوانے آئے گا؟ یہی سبب ہے کہ بھارت پاکستان میں سیاسی، اقتصادی، اخلاقی مارکٹائی جاری رکھنے کے لیے کل بھوشن بھیجتا رہے گا۔ اپنے زرخرید لیڈروں سے سیاسی انتشار پیدا کرتا رہے گا۔ سی پیک کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرتا رہے گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہم اپنی تمام بداعمالیوں، بدکرداریوں، فنکاریوں کے بعد بھی قدرت کے اس احسان سے فائدہ اٹھاپاتے ہیں؟ اپنی تقدیر بدل پاتے ہیں؟ ہاتھوں سے کشکول پھینک پاتے ہیں۔۔۔ سی پیک کے خواب کی تعبیر زیادہ دور نہیں، اس کی تعبیر دیکھنے کے لیے ہمیں پاکستانی بن کر آنکھوں پر میڈ اِن پاکستان کی عینک لگانی ہوگی۔ تھوڑ سا پاکستانی ہوکر سوچنا ہوگا کیا یہ ہم کرسکیں گے؟ سیلانی یہ سوچتے ہوئے تجارتی کھیپ کو روانہ ہوتے دیکھنے لگا اور امید بھری نظروں سے دیکھتا رہا، دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.